مذہبی تشریحات اور وبا کے دنوں کی اسلامی دنیا


مذہب انسان کو مہذب بناتا ہے اور مذہب ایک لامحدود طاقت کے تصور سے انسان کو تدبر و تفکر کی تعلیم دیتا ہے۔ وہ ذات حقیقی ہے اور تمام کائنات کی خالق بھی، لیکن اس تک رسائی ہر انسان کا بس نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ ذات اپنے نمائندوں کے توسل سے احکامات اور تعلیمات بندوں تک پہنچاتا ہے اور بندوں کو اپنے اردگرد موجود اشیا ، جو انواع میں جدا جدا، ذائقوں میں منفرد، جسامت میں مختلف ہیں، پہ غور و فکر کی تعلیم دیتا ہے اور اسے ہی کسی بھی بندے کو اپنی ذات تک رسائی کا ذریعہ بتایا ہے۔

کسی بھی مذہب کا ایک اہم پہلو وہ پیامبر، جو خدا کا پیغام بندوں تک پہنچاتا ہے اور وہ مذہبی کتاب ہے جسے بندوں کی راہنمائی کے لئے اتارا جاتا ہے۔ یہ بحث ہمیشہ ہی بڑی اہمیت کی حامل رہی ہے کہ کیا ہر فرد کو مذہب کی تشریح یا اسے خود سمجھنے کا اختیار ہے یا پھر ایک خاص طبقہ ہی یہ کام سرانجام دے گا؟ اگر مذہب ہر فرد سے عمل کا متقاضی ہے پھر ہر فرد تک اس کی مکمل رسائی کیوں ایک سوالیہ نشان ہے؟

مجھے ہمیشہ سے ہی کسی بھی شخص کی جانب سے جاری کردہ مذہبی تشریح پر عمل سے پہلے کچھ سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ آخر اسی ہی بندے کی تشریح میرے لیے اہم کیوں ہے؟ کیا کسی شخص کا مشہور ہونا، اس کی مذہب کی تشریح کو معتبر ٹھہرانے کے لئے کافی ہے؟ کیا طاقت ور کی مذہبی تشریح زیادہ اہم ہے؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ کوئی پکی عمر کا عالم کسی مسئلے کی سمجھ میں غلط ہو؟ یا نہیں بھی ہو سکتا لیکن عمل سے پہلے اس بارے میں خود جاننے میں کیا حرج ہے؟

وبا کے دنوں کے آغاز سے پوری مسلم دنیا ایک ہی جانب قبلہ رو ہو گئی۔ مصر، ایران، عراق، سعودی عرب، قطر، ملائشیا، انڈونیشیا، ترکی غرض کہ سب متفق تھے کہ یہ وبا جان لیوا ہے۔ اجتماع کسی بھی گھڑی کسی ناگہانی آفت کا سبب بن سکتا ہے لیکن احتیاط ضروری ہے اور مذہبی گھروں میں محدود کیے جائیں۔

لیکن میں یہ تشریح کیوں مانوں؟ میرے پاس قرآن ہے، احادیث کی کتب کا کثیر مجموعہ اور مجھ میں حق کی جستجو اور تلاش کی سکت بھی لیکن ڈھونڈنے سے بھی کوئی ایسے دلیل نا ملی کہ عرب کے نجدیوں، انڈونیشیا یا ملائشیا کے آزاد خیال یا ترکی کے مسلمانوں کو یہ باور کروا سکوں کہ یہ مسجدوں کو بند کرنے کی ایک سازش ہے جبکہ ہمارے مذہب میں سماج دوری کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ پانچ یا چھ فٹ کے فاصلے پہ کھڑا کر کے با جماعت نماز کے عمل کو یقینی بنایا جائے۔

میں اس وقت پوری دنیا کے مسلمانوں کو یہ بتاتے ہوئے بھی کترانے لگا کہ اللہ نے تو مسلمانوں کے لیے پوری زمین کو پاک کر دیا ہے جہاں چاہے نماز ادا کریں اور نماز با جماعت ہی اسلام کی بقا کے لیے ضروری ہے تو مذہب تو دو افراد کو بھی جماعت کی تعلیم دیتا ہے اور ان دو کو بھی جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا وہی ثواب ملے گا جو دو ہزار کی جماعت کو ملے گا۔

کیا دنیا کے سارے مسلمان نا سمجھ ہیں جو گھروں میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ باجماعت نماز کو خوش اسلوبی سے ادا کرتے ہیں؟ کیا ان کے ملک کا کرونا بالغ، تندرست اور پچاس سال سے کم عمر کے افراد کو مسجد میں آنے کی اجازت نہیں دیتا؟ یا ان کا اسلام انھیں گھر میں با جماعت نماز کے اسے ثواب کے حصول کی تعلیم دیتا ہے جو وہ مسجد میں آ کر پا سکتے ہیں؟

گزشتہ دنوں ایک عالم صاحب جو با جماعت نماز کے مسجد میں قائم کرنے پر کسی لکھاری کی اصلاح فرما رہے تھے اور ان لکھاری کی رائے کہ علما نے مساجد کو دکان بنایا ہے، جو کہ اخلاقا نا مناسب کلمات ہیں، ان عالم صاحب کے سامنے بھی کم و بیش میں نے یہی سوال رکھے تو فرمانے لگے کہ دنیا کو وبا کا سامنا ہے اس لیے وہاں مسجدوں میں آنے پر پابندی ہے اور جب میں نے ان کے سامنے پاکستان کی موجودہ صورتحال رکھی اور پھر ان کے جواب کا منتظر ہی رہا، حسن ظن یہ ہے کہ شاید وہ مصروفیت کے باعث دیکھ نا پائے ہوں لیکن یہ ناممکن ہے۔

آخر کب تک اس دیس میں مذہبی تشریحات ذوق جنوں کی آڑ میں پوری عالم اسلام سے جدا رہیں گی؟ آخر کب تک ہم بے کار سازشوں کے راگ الاپتے رہیں گے؟ آخر کب تک اس سماج میں سوچنا جرم رہے گا؟ آخر کیوں ہمیں اس ریاست میں کسی کی شناخت اپنی بقا کے لئے خطرہ معلوم ہوتی ہے؟ آخر ہم خود کسی کو اس کی اوقات بتا کر اس سے مکر کیوں جاتے ہیں؟ ان سارے سوالات کے جوابات بھی ہیں لیکن وہ سارے جوابات پھر ایک سوال ہی کیا فلٹرڈ مذہبی روایات میں پلے ان جوابات کو سن پائیں گے قطع نظر اس کے کہ وہ جوابات درست ہیں یا غلط مگر جواب تو ہیں نا۔ آخر ہم کب اپنے اندر دوسروں کے نظریات کو سننے کی ہمت پیدا کر یں گے!

Facebook Comments HS