راشد رحمان! تیرا نوحہ انہی گلیوں کی ہوا لکھے گی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے والد کے رحمان فیملی سے تقسیمِ ہند سے پہلے کے تعلقات تھے. تقسیم کے بعد میرے والد آئی اے رحمان اور اطہر رحمان صاحب کے گھر کچھ دن قیام پذیر بھی رہے اور پاکستان ہجرت کے بعد یہ تعلقات مز ید گہرے ہو گئے. آئی اے رحمان کے چھوٹے بھائی انکل اطہر رحمان ملتان میں قیام پذیر ہوئے اور میرے والد سے ان کی قربت کی وجہ دونوں کا وکالت کے شعبے سے منسلک ہونا تھا، گو کہ دونوں سیاسی طور پر ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے تھے لیکن باہمی ادب و احترام کی جو حد میں نے اپنی اور رحمان فیملی میں دیکھی اسکی مثال نہیں ہے.. میرے والد سے آئی اے رحمان کی قربت کا عالم یہ تھا کہ جب وہ والد صاحب کی رحلت کے بعد تعزیت کے لیے تشریف لائے تو انہوں نے کہا تھا کہ میرا اور نقوی صاحب کا ساٹھ سال کا تعلق ہے اتنی تو لوگوں کی کُل عمر نہیں ہوتی…

نوے کی دہائی کے آخری برسوں کی بات ہے کہ میرے بڑے بھائی سید افتخار علی نے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان جوائن کیا۔ میں اس وقت آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا جب پہلی بار میرے بڑے بھائی مجھے ایک میٹنگ میں لے کر گئے اور وہاں پہلی بار میری ملاقات راشد رحمان سے ہوئی۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب HRCP نے دو صوبائی ٹاسک فورسز بنائیں، ایک ملتان میں اور دوسری حیدرآباد میں۔ ملتان ٹاسک فورس کا کوارڈینیٹر جنابِ راشد رحمان کو بنایا گیا اور اس کا پہلا دفتر ڈیرہ اڈہ کے ساتھ بنا جو کہ بعد میں کچہری روڈ پر شفٹ ہو گیا راشد رحمان رشتے میں آئی اے رحمان کے بھتیجے اور پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے۔ پہلی ہی ملاقات میں راشد بھائی سے بے تکلفی ہو گئی اور دوسری تیسری ملاقات تک وہ میرے بڑے بھائی اور دوست بن چکے تھے۔ ملتان ٹاسک فورس چونکہ نئی نئی بنی تھی، اس لیے بہت زیادہ لوگ تو اس سے واقف نہیں تھے لیکن ملتان کے جتنے بھی پروگریسیو لوگ تھے میں اپنے سکول کے زمانے میں ان سے واقف ہوگیا تھا اور اس کی وجہ صرف HRCP  ملتان کی ہفتہ وار میٹنگز تھیں۔ راشد بھائی ہر میٹنگ میں مجھے ضرور بلاتے۔ آہستہ آہستہ میں نے کچھ کام کرنا بھی شروع کیا۔ راشد بھائی نے ہی مجھے میٹنگ کے منٹ لینے سکھائے۔ انسانی حقوق سے متعلق مسائل کا پتہ چلا۔ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس چارٹر اسی دفتر میں بیٹھ کر پڑھا۔ ہوتے ہوتے 1997 کے الیکشنز آ گئے اور HRCP نے الیکشن واچ کا کام شروع کر دیا۔

ہمیں بتایا گیا کہ الیکشن واچ کی جائے گی۔ ملتان اور گردونواح کے حلقوں کی تفصیلات جمع کی گئیں اور الیکشن کے دن راشد صاحب کے ساتھ میں، جنابِ سہیل جاوید، عمرانہ کومل صاحبہ اور محترمہ آسیہ نورین حلقہ حلقہ گھومے۔ ملتان کے تقریباً ستر فیصد پولنگ اسٹیشنز کو آنکھوں سے دیکھا اور رپورٹس بنائیں۔ میں سکول کا طالب علم تھا۔ میرے لیے سب کچھ بہت نیا اور دلچسپ تھا۔ اس سب میں سیکھنے کو بہت کچھ تھا۔ میرے آرٹیکلز جن احباب نے پڑھے ہیں وہ جانتے ہیں کہ میں نوے کی دہائی کی سیاست میں بہت دلچسپی رکھتا ہوں۔ یہ دلچسپی راشد رحمان کی دین ہے کیونکہ وہ ایک متحرک سیاسی کارکن تھے جس کو سیاست کی سمجھ بوجھ کئی سیاست دانوں سے زیادہ تھی۔ مجھے یاد ہے کہ 97 کے الیکشنز سے ڈیڑھ مہینہ پہلے ہی راشد بھائی نے ایک دن دفتر میں بیٹھے ہوئے کہا تھا کہ نواز شریف اس بار بھاری اکثریت سے جیتے گا اور یہ بات تو اسی دن واضح ہوگئی تھی جس دن بی بی کی حکومت کو چلتا کیا گیا تھا۔ پرویز مشرف کے دور میں راشد بھائی نے ضلعی نظام کی بحالی اور بلدیات کے الیکشن کرانے کے لیے ایک واک کی کال دی تو شاہ محمود قریشی، جو بعد میں ضلعی ناظم بنے، اس میں شریک ہوئے.

2005  کا زلزلہ آیا تو میں نے راشد صاحب کو ایف ایم 103 پر بلایا اور ان سے پوچھا کہ یو این ایجنسیز کہہ رہی ہیں کہ ساٹھ ہزار اموات ہو چکی ہیں جبکہ حکومت کہہ رہی ہے کہ اٹھارہ ہزار اموات ہوئی ہیں حکومت اعدادوشمار غلط کیوں بتا رہی ہے؟ راشد بھائی نے کہا کہ بریک لے لیں اس کے بعد اس پر بات کرتے ہیں۔ میں نے بریک لی تو کہنے لگے کہ اس جواب کے بعد تمہیں کال آ سکتی ہے سنبھال لو گے؟ میں تھوڑا گڑبڑایا تو کہنے لگے کہ اگر کال آجائے تو کہنا کہ یہ تو مہمان کی رائے تھی ان سے پوچھیں۔ ہم آن ایئر گئے تو میں نے سوال دہرایا تو راشد رحمان نے کہا کہ صاف سی بات ہے کہ اگر صحیح تعداد بتائیں گے تو اس ستر فیصد کا حساب دینا پڑے گا کہ جو ریاست پچھلے ساٹھ سالوں سے لے رہی ہے کہ آپ کے پاس ایک نیشنل کرائسس میں پندرہ ہیلی کاپٹر نکلے کہ جو دور دراز علاقوں میں پھنسے لوگوں کی مدد کو پہنچ سکیں جبکہ قبائلی علاقے وانا میں اس وقت ڈیڑھ سو ہیلی کاپٹر اپنے ہی لوگوں کے خلاف آپریشن میں مصروف ہیں، پروگرام ختم ہوتا ہے اور دس منٹ بعد ایف ایم کے دفتر میں گھنٹیاں بج اٹھتی ہیں باقی روداد پھر کبھی…

راشد رحمان ہی وہ پہلے آدمی تھے جو مختاراں مائی کے گھر اس وقت پہنچے کہ جب جتوئی کو پکی سڑک بھی نہیں جاتی تھی۔ HRCP  ملتان ٹاسک فورس کی رپورٹنگ نے اس معاملے کو اتنا اٹھایا کہ گورنر خالد مقبول ہیلی کاپٹر پر سوار ہو کر جتوئی پہنچنے پر مجبور ہوئے اور اس سے نہ صرف مستوئیوں کی گرفتاری عمل میں آئی بلکہ جتوئی تک پکی سڑک بھی راتوں رات بن گئی۔ اس کے بعد راشد رحمان کی دعوت پر آئی اے رحمان، عاصمہ جہانگیر، حنا جیلانی، ماروی سرمد اور کئی نامور انسانی حقوق کے کارکن اور صحافیوں سمیت ڈیڑھ دو سو لوگ کاروان کی صورت جتوئی مختاراں مائی کے گھر گئے اور مختاراں مائی کیس ایک انٹرنیشنل کیس بن گیا۔ پرویز مشرف جہاں بھی دنیا میں جاتے ان سے مختاراں مائی سے متعلق سوال کیا جاتا جس سے وہ زچ ہو چکے تھے۔ (مختاراں مائی سے زیادتی کی پرویز مشرف کو کیا پروا ہوتی۔ وہ تو خود پوری قوم کے ساتھ ایسی ہی زیادتی کر رہا تھا ۔ مدیر)

یہ راشد رحمان ہی تھا کہ جس نے پرویز الہی گورنمنٹ کو اینٹیں بنانے والے بھٹوں پر کام کرنے والے مزدوروں کے حق میں قانون سازی کرنے پر مجبور کیا۔ راشد رحمان کو بھٹہ مزدوروں سے بیحد ہمدردی تھی، ایک بار ہم راشد بھائی کے ساتھ ایک بھٹے پر پولیس ریڈ لے کر گئے۔ اطلاع یہ تھی کہ وہاں مزدوروں سے جبری مشقت کرائی جا رہی ہے۔ پولیس نے چھاپہ مار کر چالیس مزدور بازیاب کرائے۔ ان چالیس مزدوروں کی مدعیت میں کیس دائر ہوا اور راشد رحمان نے وہ کیس اکیلے لڑا۔ میں اکثر راشد رحمان سے پوچھا کرتا تھا کہ کبھی پیسوں لے کر بھی کیس لڑا ہے تو ہنس کر کہا کرتے کہ جس کی جیب میں پیسے ہوتے ہیں وہ اچھا وکیل کرتا ہے۔ میرے پاس تو وہی آتا ہے کہ جس کے پاس واپس جانے کا کرایہ بھی نہیں ہوتا۔ جو لوگ راشد صاحب کو دور سے بھی جانتے ہیں، وہ گواہی دیں گے کہ جب بھی ان کے کچہری والے یا HRCP والے دفتر گئے تو وہ مزدوروں سے بھرا ہوا ہی ملا کسی غریب کی بیٹی اغوا ہوئی تو وہ راشد رحمان کے پاس آیا، کسی کا بیٹا جھوٹے کیس میں اندر ہوا تو اس نے راشد رحمان کا دروازہ کھٹکھٹایا، کسی کا باپ، بھائی، بیٹا مارا گیا تو وہ راشد رحمان کے پاس آیا۔

سدو حسام کے علاقے کے بارے میں ایک بار راشد صاحب کو کسی نے بتایا کہ ایک مدرسے کے مولوی نے بچوں کے پیروں میں بیڑیاں ڈال کر انکو محبوس کیا ہوا ہے۔ ہوا یہ تھا کہ ایک جانباز بچہ وہاں سے بیڑیوں سمیت بھاگ کر باہر آ گیا تھا اس کو کوئی راشد رحمان کے پاس لے آیا۔ راشد صاحب اکیلے ٹوپی پہن کر اس مدرسے پہنچے، حالات دیکھے، واپس آئے اور ریڈ کروائی جس میں ساٹھ سے زیادہ بچے بازیاب ہوئے.

میں نے ان کے ساتھ بہت سفر کیا۔ ان کے ساتھ میں نے دو بار لاہور جا کر انسانی حقوق کمیشن کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی۔ اسلام آباد میں سیمنارز اٹینڈ کیے، جنوبی پنجاب کے کئی چھوٹے چھوٹے دیہاتوں میں ہم گئے۔ آپ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ کس کس طرح کا کیس راشد بھائی کے ساتھ سنا، کس کس طرح کی ظلم کی داستانیں لوگ ان کو سنایا کرتے تھے اور وہ کس تحمل سے ان کو سنتے تھے۔ یہ حوصلہ صرف اسی آدمی کا تھا۔ ایک بار ہم خانیوال کے نواحی گاؤں گئے۔ ایک آدمی کی گرفتاری کا معاملہ تھا۔ پتہ چلا کہ اس نے اپنی زندہ بیوی کا پیٹ پھاڑ کر اس کا خون پیا تھا اور اس کو تڑپتا چھوڑ کر فرار ہوگیا تھا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ میں نے جب پورا واقعہ سنا تو مجھے قے آ گئی تھی۔ راشد بھائی نے مجھے دیکھا اور کہا کہ اس پر تو خون کی الٹی کرنی چاہیے تھی۔

ایک بار ہم نشتر ہسپتال کے برن یونٹ گئے تو وہاں پر ایک مریض کو ڈاکٹروں نے چھت سے باندھ کر لٹکایا ہوا تھا، اس کو لٹایا نہیں جا سکتا تھا کیونکہ اس کو بھٹہ مالک نے بھٹے میں ڈال جلا دیا تھا لیکن معلوم یہ ہوا کہ اسی رات اس کی موت واقع ہو گئی تھی.

شانتی نگر کے واقعے سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔ فروری 1997 کی بات ہے کہ خانیوال کے پاس ایک مسیحی بستی شانتی نگر میں مسیحی برادری کے گھروں کو آگ لگا دی گئی، کئی لوگ جان سے گئے اور درجنوں جھلس کر رہ گئے۔ ہم کچھ صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے ساتھ وہاں پہنچے تو ایک دلخراش منظر دیکھنے کو ملا کہ دیواروں پر لکھا تھا کہ ”مسیحی برادری کو پاکستان کی گولڈن جوبلی پر تحفہ – شانتی نگر نذر آتش”

یہ واحد موقع تھا کہ میں نے راشد رحمان کو بے بس پایا۔ واپسی پر وہ کہتے کہ پاکستان پچاس برس میں یہاں پہنچا ہے اور جنہوں نے یہ کیا ہے، کوئی ان کا کچھ نہیں کر سکتا۔ ان کی بات حرف بہ حرف ٹھیک ثابت ہوئی کہ آج یہ واقعہ کسی کو یاد بھی نہیں. (نہیں بھائی، ایک متحد اور خوشحال پاکستان کا خواب دیکھنے والوں کے دل پر شانتی نگر کا نقشہ کھنچا ہے – مدیر)

راشد رحمان اس خطے میں مزدور، کسان اور عورتوں کے حقوق کی آواز تھے۔ انہوں نے پوری زندگی سفید پوشی میں گزاری۔ کوئی نہیں بتا سکتا کہ اس نے اپنے پسماندگان کے لیے کیا چھوڑا؟ اگر وہ چاہتے تو بہت پیسے کما سکتے تھے لیکن جیسا کہ میں نے اوپر لکھا کہ کہا کرتے تھے کہ جس کے پاس کیس لڑنے کے پیسے ہوتے ہیں وہ مجھے وکیل نہیں کرتا۔ میں اگر یہ کہوں کہ راشد رحمان وہ شخص تھا کہ جس کے دروازے صرف غریبوں کے لیے کھلے تھے تو یہ بالکل ٹھیک ہے۔ امیر لوگوں سے انہیں باقاعدہ کوفت ہوتی تھی۔ ہم نے HRCP کی میٹنگز میں بڑے سے بڑے سیاستدان، جج ، چیمبر آف کامرس کے عہدے داروں، سرکاری افسران کو آتے دیکھا۔ جاوید ہاشمی سے یوسف رضا گیلانی تک اور فخر امام سے مشاہد حسین سید تک لیکن راشد رحمان کو کبھی ان لوگوں کے آگے پیچھے ہوتے نہیں دیکھا۔ جب بھی دیکھا ان کو بھٹہ مزدوروں کے یا انسانی حقوق کے کارکنوں کے جھرمٹ میں دیکھا اور کبھی افسردہ اور مایوس نہیں پایا.

میں نے ایک بار ان سے پوچھا کہ آپ ہر روز اتنی دکھی کہانیاں سنتے ہیں مایوسی نہیں ہوتی؟ تو کہنے لگے کہ جب بھی میں ظلم دیکھتا یا ایسی کوئی کہانی سنتا ہوں تو مجھ میں اور توانائی آ جاتی ہے کہ ابھی میرے کرنے کا بہت کام باقی ہے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ میری زندگی میں حالات اچھے ہو جائیں، یہ ممکن نہیں ہے۔ نا جانے کون سی نسل اچھے حالات دیکھے گی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جدوجہد ترک کر دیں۔ ہمارا حصہ صرف یہی ہے کہ جس زمانے میں ہم ہیں، اس میں کمزور لوگوں کے حقوق کی لڑائی لڑتے رہیں اور اگر آج آپ اس آدمی کی زندگی کو دیکھیں تو وہ صرف جدوجہد سے عبارت نظر آئے گی..

2013 اپریل کے آخر کی بات ہے کہ جب میں ان سے آخری بار ملا ہم ایک کورس شروع کرنا چاہتے تھے کہ جس میں مختلف موضوعات پر ملتان کی مختلف شخصیات کے لیکچرز کا ہم نے اہتمام کرنے کا سوچا تھا میں ان کے دفتر گیا، خوب گپ لگی اور ان سے درخواست کی کہ ہمارے بچوں کو کچھ انسانی حقوق کے حوالے سے بتائیں۔ جس پر انہوں نے ہمیشہ کی طرح کہا کہ ہاں جب کہو گے، آ جاؤں گا۔

اپنی شہادت سے چند دن پہلے انہوں نے ایک کیس (جسے لڑنے کی پاداش میں ان کو شہید کیا گیا۔ یہ وہی کیس تھا جسے لڑنے کی کسی وکیل کو ہمت نہیں ہو رہی تھی اور یہ کام راشد رحمان نے اپنے ذمے لیا) کی سماعت کے حوالے سے فیس بک پر ایک سٹیٹس دیا کہ آج جیل میں سماعت کے دوران مخالف پارٹی کے وکیل نے مجھے کہا کہ آپ اگلی پیشی پر نہیں آئیں گے۔ جب میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ آپ ہوں گے تو آئیں گے نا۔ میں نے جج صاحب سے کہا کہ دیکھیں، یہ کیا کہہ رہے ہیں تو جج صاحب نے فرمایا مذاق کر رہے ہیں۔ لیکن سات مئی 2014 ء کو ٹی وی پر خبر آئی کہ مسلح افراد نے ان کے دفتر میں گھس کر ان پر گولیوں کی برسات کر دی اور وہ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ جب میں نے ان کی میت دیکھی تو انکا ماتھا پھٹ چکا تھا لیکن راشد رحمان مسکرا رہا تھا جیسے کہہ رہا ہو کہ جو بھی ہو جائے جدوجہد ترک نہ کرنا۔۔۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *