فاطمہ بھٹو بمقابلہ چمپو چماٹ وغیرہ وغیرہ

کل سما ٹی وی کے ایک پروگرام میں ٹرپل ون بریگیڈ کے دانشور, مایوسی کے محمود بوٹی, گندی گالیوں کے موجد جناب حسن نثار سے اینکر سے سوال پوچھا کہ فاطمہ بھٹو نے عمران خان کو ضیاء الحق کی سیاست کا وارث کہا جس پر چمپو چماٹ نے دانت پیس کر کہا کہ مجھے افسوس ہوتا ہے کہ فاطمہ بھٹو نے یہ بات کی ہے کیونکہ میں ان کو ایک پڑھی لکھی عورت سمجھتا تھا، اس بات کے بعد وہ

Read more

ملتان کے سقراط کے نام

تاریخ کی کتب میں سقراط یونانی کا تذکرہ کم یاب ہے، اس کے شاگرد رشید (افلاطون) کی مہربانی سے ہم تک اس کے نظریات تو پہنچے لیکن اس کے حالات زندگی کی مکمل تفصیل جاننے والوں کو آج بھی تشنگی کی پھانس چبھتی ہے، جس مقدمے کی پاداش میں اس کو زہر کا پیالہ پینا پڑا اس کے مبینہ طور پر تین مدعی تھے۔ پہلا ”لائے کن“ (مذہبی خطیب) ، ”انائیٹس“ (سیاسی رہنما) اور تیسرا لیکن اہم ”ملے ٹس“ (معمولی

Read more

شراب اور نائٹ کلبوں پر پابندی سے معاشرتی بگاڑ

جاب مارکیٹ کی ایک اصطلاح ہے Role Identification یعنی آپ اپنے یا کسی اور کے لیے یہ طے کریں کہ کسی کمپنی یا کاروبار میں کس کا کیا کردار ہو گا یعنی کون کیا کام کرے گا یہ کسی بھی کاروباری فرم کمپنی یہاں تک کہ گھروں میں بھی Role Identification ایک اہم کام ہے اسی طرح انٹرنیشنل پالیٹکس میں ملکوں کے بھی کچھ کردار ہیں جیسے کہ ماضی میں انڈیا کو Food Basket کہا جاتا تھا ایک اندازے کے

Read more

بھارتی لڑکی اور غیرت سے جڑے چند سوال

کل سے سوشل میڈیا پر ایک انڈین لڑکی کی ویڈیو نے طوفان کھڑا کیا ہوا ہے کہ جس میں چند انتہا پسند ہندوؤں پر مبنی ایک گروہ ایک کالج جاتی لڑکی کو گھیرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ اس ہجوم کو دیکھ کر نہ پریشان ہوتی نہ ہی اس کے قدم لڑکھڑاتے ہیں اور نہ ہی اس کی آواز تھراتھی ہے جو ہوتا ہے وہ یہ کہ وہ ہجوم جب ”جے شری رام“ کے نعرے لگاتا اس کے قریب

Read more

بچے کے ہاتھوں تاریخی بے عزتی اور شاہ محمود قریشی

بدھ کے روز جب قومی اسمبلی میں شاہ محمود قریشی اور بلاول بھٹو کے درمیان گھمسان کا رن پڑا اور بلاول بھٹو نے عمران خان کو کہا کہ شاہ محمود کو جتنا ہم جانتے ہیں آپ ابھی جانتے ہی نہیں ہیں، آپ کو لگ پتہ جائے گا کہ یہ کیا چیز ہے، عمران خان کو چاہیے کہ آئی ایس آئی سے شاہ محمود کا فون ٹیپ کرائیں کیونکہ جب گیلانی کی گورنمنٹ تھی تو یہ باہر ملکوں میں لابی کیا

Read more

اینکرز، سینیئر تجزیہ نگار، دانشور وغیرہ وغیرہ

1980 کی دہائی پوری دنیا میں رائٹ کے عروج کا اور لیفٹ کی سیاست کے زوال کا زمانہ ہے پاکستان میں ضیاء الحق کا زمانہ ہی وہ زمانہ ہے کہ جب یہاں رائٹ کے نظریات ریاست کا بیانیہ بن کر پوری طرح سے نافذ ہوئے (ویسے تو ہم نے 1949 میں قرار داد مقاصد منظور کر کے یہ اعلان کر دیا تھا کہ پاکستان کسی بھی اعتبار روشن خیال ریاست نہیں ہے) لیکن جس شدت کے ساتھ رائٹ ضیا الحق

Read more

کاش میں نے منٹو کو نہ پڑھا ہوتا

(11 مئی منٹو کا یوم ولادت ہے) میں نے استاد سے سنا کہ علم حاصل کرنا شاید افضل بات ہو لیکن علم کا بوجھ اٹھانا ہر انسان کے بس کی بات نہیں، علم کا بوجھ ہلکان کر دینے والا ہوتا ہے، اور اگر خدانخواستہ علم آپ کی شخصیت میں جذب ہو جائے اور جو بات آپ پڑھ رہے ہوں وہ آپکو سمجھ بھی آنا شروع ہو جائے تو یہ وہ قیامت ہے جو آپ پر مسلسل ٹوٹتی ہے، جون ایلیا

Read more

خالد سعید: میرا باغ عدن اسی شہر میں ہے

خالد سعید کی سالگرہ پر لکھا گیا ایک عقیدت نامہ ہم بچپن میں سنا کرتے تھے کہ جنت میں آپ جس شے کے بارے میں سوچیں گے وہ آپ کے سامنے حاضر ہو جائے گی، وہاں حزن و ملال نہیں ہو گا، بے چینی و اضطراب نہیں ہو گا، اس طرح کے اگر اس زمین پر رہتے ہوئے میں نے کوئی تجربات کیے تو وہ مرشدی خالد سعید سے سوال پوچھنا، اس کا جواب پانا، اور ان کے ساتھ وقت

Read more

آفتاب اقبال، حسن نثار اور غسل تیزابی

ہر روز شام ہوتے ہی پاکستان کے ستاون سے زائد نیوز چینلز پر ممتاز دانشور، سینئر تجزیہ نگار، دفاعی اور قانونی امور کے ماہرین اور ان سب کے ساتھ بیٹھے معروف ٹی وی اینکرز لاکھوں روپوں سے بنے سیٹس پر بیٹھ کر قوم کو یہ بتانا شروع کر دیتے ہیں کہ اس ملک کے ہر مسئلے کی جڑ اور وجہ سیاسی نظام اور سیاستدان ہیں۔ کل ایک کلپ نظر سے گزرا جس میں آفتاب اقبال اور حسن نثار بیٹھے یہ

Read more

حیدر عباس گردیزی: تیرا ماتم اسی چپ چاپ فضا میں ہو گا

28  اکتوبر 2020 کا دن تھا میں اور میرے ساتھی دوسرے ملتان لٹریری فیسٹیول کی تیاریوں میں غرق تھے، ہزار طرح کے مسائل، الجھنیں، خدشے ہر روز ہمارے سامنے آ کھڑے ہو رہے تھے، کبھی اطلاع آتی کہ فلاں سپانسر نے انکار کر دیا ہے تو کبھی اطلاع آتی کہ فلاں پارٹیسیپنٹ نہیں آ پا رہا، کبھی کوئی کہتا کہ کہیں فیسٹیول سے پہلے لاک ڈاؤن نہ لگ جائے تو کبھی کچھ اور، ایسے میں مجھے جنابِ حیدر عباس گردیزی

Read more

بن لادن کا نیا پاکستان

میں بچپن سے ہی بڑوں میں بیٹھنے کا شوقین تھا، لہذا سیاسی گفتگو سننے میں دلچسپی پیدا ہوگئی۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ میں نے جب بھی مطالعہ پاکستان پڑھا صرف کوفت ہوئی کیونکہ وہ جھوٹ کا پلندہ ہی نہیں بلکہ گمراہ کن بھی تھا۔ اس کو پڑھنا جاہل رہنے کا ایک مجرب نسخہ ہے، یعنی اگر کسی نے پاکستان کی غلط اور جھوٹی تاریخ پڑھنی ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ مطالعہ پاکستان پڑھے۔

Read more

طالب جوہری: جو اس کے پاس تھا وہ مجھے دان کر گیا۔۔۔۔۔

نہیں معلوم کہ کسی بازار میں کھڑے ہو کر سقراط کی تقریر سننا، لیونارڈو ڈیونچی کو تصویر بناتے دیکھنا، فیثا غورث کو حساب لگاتے دیکھنا، شہنشاہ اکبر کو تخت نشیں دیکھنا، تان سین کو سات سُر ایجاد کرتے دیکھنا، حافظِ شیرازی پر آمد ہوتے دیکھنا، غالب کو گرہ لگاتے دیکھنا، شیکسپیئر کو کردار تراشتے دیکھنا یا ہرکولیس کو لڑتے دیکھنا کیسے تجربات ہیں؟ لیکن یہ یقینی طور پر کسی شخص کی زندگی کا کُل سرمایہ ہو سکتے ہیں، میری زندگی

Read more

راشد رحمان! تیرا نوحہ انہی گلیوں کی ہوا لکھے گی

میرے والد کے رحمان فیملی سے تقسیمِ ہند سے پہلے کے تعلقات تھے. تقسیم کے بعد میرے والد آئی اے رحمان اور اطہر رحمان صاحب کے گھر کچھ دن قیام پذیر بھی رہے اور پاکستان ہجرت کے بعد یہ تعلقات مز ید گہرے ہو گئے. آئی اے رحمان کے چھوٹے بھائی انکل اطہر رحمان ملتان میں قیام پذیر ہوئے اور میرے والد سے ان کی قربت کی وجہ دونوں کا وکالت کے شعبے سے منسلک ہونا تھا، گو کہ دونوں

Read more