صحافی یا سپاہی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محمد ذوالفقار علی

\"zulfiqar\"ہمارے میڈیا کی مثال اس بے لگام گھوڑے کی مانند ہے جو اچھل کود میں کسی وقت خود اپنے ہی مالک کو کچل دیتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ایک بڑے نشریاتی ادارے نے بنا کسی ثبوت اور تحقیق کے پاکستان آرمی کے وقار کو مجروح کیا اور نتیجتاً وہ ادارہ نہ صرف عوام میں اپنی ساکھ کھو بیٹھا بلکہ یونیوسٹیز، کالجز اور شرافیہ نے بھی وہ ٹی وی چینل دیکھنا اور اس ادارے سے وابستہ اخبارات خریدنا چھوڑ دیے، خیر چند گھنٹوں بعد ہی اسے اپنی سنگین غلطی کا احساس ہوگیا اور نیوز سٹوری الٹا چلنا شروع ہو گئی لیکن کیا فائدہ جو نقصان پہنچنا تھا وہ پہنچ چکا تھا۔ پانی سر سے گزر چکا تھا چند گھنٹوں کی غلطی کا خمیازہ وہ ادارہ ابھی تک بھگت رہا ہے۔ جنگ عظیم دوم کے بعد جب اہل حل وعقد نے غور کیا تو ہٹلر کا پرا پیگنڈہ ماڈل کھل کر سامنے آ گیا، جنگ کے دوران ہی ٹائم اور لائف میگزین کے پبلشرز ہیزی لوس نے یونیورسٹی آف شکا گوکے صدر Robert Hutchins سے کہا کہ وہ ایک ایسا کمیشن ترتیب دیں جو بعد میں  Commission on Freedom of the Press یا عرف عام میں Hutchins Commission ترتیب دیا گیا اور اسے یہ ٹاسک دیا گیا کہ وہ دور جدیدہ کی جمہوریت میں میڈیا کے کردار پر تحقیقاتی روپورٹ مرتب کرے، چار سال کی عرق ریزی کے بعد 1947ء میں کمیشن نے اپنی رپورٹ مرتب کی اور بتایا کہ میڈیا کا کردار کسی بھی معاشرے کو سنوارے اور جمہوریت کے پھلنے میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

یہاں پر مجھے اپنے ایک استاد پروفیسر شفیق احمد کمبو صاحب کی کلاس میں پڑھی جانے والی ایک کمیونیکیشن تھیوری یاد آ گئی جو Social Responsibility Theory  کے نام سے منسوب ہے۔ اس تھیوری کے مطابق پریس کے لئے ضابط اخلاق کو لازم قرار دیا گیا، معیاری صحافت ہونی چاہئے، صحافت اور صحافیوں کے مفادات کا احترام کیا جانا چاہئے اور تنقید ہونی چاہئے لیکن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر پریس کو بھی سزا ہونا چاہئے تاکہ وہ دوبارہ ایسی غلطی نہ دہرائے۔ کمیشن نے کہا یہ چار چیزیں ہوں تو پریس مضبوط جمہوری اداروں کی پاسداری کو یقینی بناتی ہے اور ملک میں جمہوریت کے کلچر کو فروغ دینے کا سبب بھی بنتی ہے۔ وگرنہ بلیک میلنگ اور ذاتی مفاد میڈیا کی اولین ترجیح بن جاتا ہے دراصل Social Responsibility Theory ماس میڈیا کی دو بڑی تھیویز بشمول Authoritarian Theory and Libertarian Theory کی درمیانی راہ ہے کیونکہ Authoritarian Theory میں پورا کنٹرول حکومت کے پاس ہوتا ہے۔ میڈیا خود سے کچھ نہیں کر سکتا بلکہ خبر سے لے کر پروگرامنگ تک سب حکومت سے منظور شدہ پروگرام ہوتا ہے، اس کی زندہ جاوید مثالیں روس اور چین ہیں، جہاں میڈیا پوری طرح سے حکومتی کنٹرول میں ہے لیکن پھر بھی کسی حد تک لوگوں کو اپنی رائے کا اظہار کرنے کا موقع مل جاتا ہے مثلاً حکومت کے خلاف ریلیوں کو بین الاقوامی میڈیا پھر سوشل میڈیا کسی نہ کسی حد تک خبر کی صورت میں نشر کر دیتا ہے لیکن سعودی عرب ایک ایسا ملک ہے جہاں Authoritarian Theory کی واضح شکل نظر آتی ہے۔ جہاں میڈیا تو دور کی بات لوگوں کی سوچ پر بھی پابندی لگی نظر آتی ہے۔ ایک خاص طبقہ فکر کو خصوصی مراعات حاصل ہیں، ایک شہزادہ کوئی امتحان پاس کرتا اور پورا جزیرہ انجوائے کرنے کو بک کرا لیتا ہے۔ اس خبر کو بھی اگر میڈیا پر چلایا جاتا ہے تو میڈیا زیر عتاب آتا ہے۔

دوسری طرف Libertarian Theory میڈیا کو بے لگام گھوڑے کا لائنس دیتی ہے، جس کی وجہ سے میڈیا ذاتی مفاد کو عزیز رکھتے ہوئے معاشرتی اقدار کی دھجیاں بکھیرتا نظر آتا ہے۔ اسی لیےSocial Responsibility Theory  کی صورت میں کمیونیکشن کے ماہرین نے تیسرا آپشن رکھا تا کہ میڈیا عوام اور حکومت کے درمیان مفاہمت کا راستہ کھلا رہے اور معاشرتی اقدار قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے میڈیا مضبوط جمہوری نظام کی پاسداری کرے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک نے مختلف تھیوریز پر عمل کرتے ہوئے اپنے ملکوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا ہے۔ آج ہمارا میڈیا یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتا کہ امریکی صدر بھی قانون کے اندر کام کرتا ہے۔ وہاں ہیلری کلنٹن کا بھی چالان ہو جاتا ہے، گوراڈن براون اور دیگر سربراہان مملکت ایک عام سپاہی کے سامنے چپ رہتے ہیں وہیں وہی میڈیا اپنے ذاتی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے عزت داروں کی پگڑیاں اچھالتا ہے، تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور طلبہ میں دھڑی بندیاں کرانے کا سبب بنتا ہے اور ذاتی مفاد کی جنگ لڑتا ہے۔ ایسے اداروں کے صحافیوں کی مانگیں بڑی عجیب وغریب ہوتی ہیں، کبھی ایسے صحافی واپڈا آفس میں بیٹھے کمیشن پر بجلیوں کے بل معاف کرانے یا ہاف کرانے میں مصروف عمل نظر آتے ہیں، کبھی ایسے صحافی پولیس آفس میں پولیس کے اعلیٰ حکام سے اپنی پرائیوٹ گاڑیوں پر نیلی بتی لگوانے کی لڑایاں لڑ رہے ہوتے ہیں۔ یہ بڑا دلچسپ مرحلہ ہوتا ہے۔ وہ صحافی تھوڑی دیر پہلے اپنے دوستوں میں سچائی اور ایمانداری کی بڑھکیں مار رہا ہوتا ہے جب کہ تھوڑی ہی دیر بعد وہ تھوڑے سے ذاتی مفاد پر سچائی کے تمام اصولوں کو قربان کرتا نظر آتا ہے۔ ایسے ہی حالات پر کنٹرول کرنے کے لئے ہر ملک کی حکومت میڈیا کو ضابطہ اخلاق میں رکھنے کے لئے کوڈز آف کنڈکٹ بناتی ہے اور اپنی طاقت و وسعت کے مطابق انہیں نافذ بھی کرتی ہے۔

پاکستان میں بھی اہل ارباب اختیار نے مشرف دور میں میڈیا کے لئے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جس کا مقصد میڈیا کو معاشرتی واخلاقی اقدار کی پاسداری کرنے اور قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے فرائض سرانجام دینے پر پابند بنانا تھا۔ کس قدر عجیب بات ہے کہ ہم میڈیا کے نمائندگان حکومت کے سامنے عوام کے حقوق کی پامالی کا رونا روتے نہیں تھکتے لیکن جب اپنی باری آتی ہے اور وہی حکومت جب قوانین کا مسودہ ہمارے سامنے رکھتی ہے تو ہمارا جواب ہوتا ہے اب آپ ہمیں بھی قوانین بتائیں گے۔ کیوں ہم پاکستانی نہیں، کیا ہم یہاں کے شہری نہیں، کیا ہم اپنے ملک کے قوانین کا احترام نہیں کرتے۔ اگر میڈیا اپنی معاشرتی اور اخلاقی اقدار کو عزیز رکھتا تو ایک پولیس سپاہی کو یہاں بھی ہاتھ نہ اٹھانا پڑتا۔ ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا میڈیا نمائنگان کو ہوش کے ناخن لینا ہوں گے اور ایک ضابطہ اخلاق کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے قوانین کی پاسداری کو یقینی بنائیں کیونکہ قانون کی حکمرانی ہوگی تو ہمارے معاشرے میں سدھار آئے گا اور ہم من حیث القوم ترقی کریں گے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments