کرونا اور حکومتی تجاہل عارفانہ
کیسی عجیب بات ہے کہ انسان کی فہم و فراست، جرات رندانہ اور تقدیر کا فیصلہ حالات کیا کرتے ہیں، سمندر انسانی کی موجودگی نہیں۔ حالات کی سنگینی چاہے تو رگوں کو کسی پت جڑ کے موسم کی طرح شکستہ کر دے اور اگر نظر کرم کر دے تو ہیرو بنا کر پیش کر دے۔ اصل کمال تو سہنے والے کا ہے جو جس سمت چاہے اس بہتے دریا کا راستہ موڑ دے۔ کنارے کی طرف یا عین منجدھار کی طرف۔ اقبال نے یہی درس دیا تھا
اپنی دنیا آپ پیدا کر، اگر زندوں میں ہے
ابن انشا نے کچھ غیر ضروری باتوں کا تذکرہ کر رکھا ہے جو یقیناً ان کے ہمعصروں نے پھیلائیں تھی۔ انہوں نے ان باتوں پر دھیان گیان نہ کرنے کی تاکید کی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انشا جانتے تھے کہ اس ”غیر ضروری مشق“ کا حاصل کچھ نہیں۔ اس لیے معاشرے کو ان سے بچنا چاہیے اور اس معاشرتی بدعت کو ان کے نام کے ساتھ نتھی نہیں کرنا چاہیے۔ یہ سبق انہوں نے پانچ۔ سات دہائیاں قبل اپنے قلم قبیلے کو دیا تھا۔ تاہم یہ الگ بات کہ ہماری طرح انہوں نے بھی اس پر کچھ زیادہ کان نہ دھرے اور جب جی میں آیا، انشا جی کا ”نام“ لیتے رہے۔
یہ بات تو لازم و ملزوم ہو چکی کہ سیاسی دکان ایسے ہی مال و ملال سے بھری پڑی ہے جہاں ضروری چیزوں کی شدید کمی ہے۔ بات کمی تک ہو تو اس کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ وسائل میں اضافہ کی جاسکتا ہے۔ افرادی قوت کو متحرک کرنا پڑے تو کچھ عجب نہیں۔ ٹیکنالوجی کا سہارا لینا پڑے تو بھی حالات کو معمول کے مطابق لایا جاسکتا ہے۔ صورتحال اگر قحط تک پہنچ جائے تو پھر مشیت ایزدی کی رضا اور مخلوق کے شکر کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہتا۔
وہی پاک ذات درپیش صورتحال کو سنبھالے تو سنبھالے۔ اس کی تاب لانا کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔ یہ عام سی بات کہ قحط میں انسان کو ہمیشہ بے بس دیکھا گیا ہے۔ درحقیقت قحط نام ہی بے بسی و لاچارگی کا ہے۔ ایسے مشکل حالات اکابرین کی صلاحیتوں کو بھی عوام پر آشکار کر دیتے ہیں۔ جن کے ذمے عوام کی نگہبانی ہوتی پے۔
انگریزی سال کے دوسرے مہینے کی چھبیس تاریخ کو یہاں کرونا کا پہلا مثبت مریض رپورٹ ہوا تھا۔ اور ہماری ”سنجیدگی“ کا پہلا قومی اجلاس تیسرے مہینے کے وسط میں منعقد ہوا۔ ہمسایہ ملک ایران اس وقت شدید لپیٹ میں آ چکا تھا جہاں پانچ۔ سات ہزار ہمارے پاکستانی شہری موجود تھے۔ یاد رہے کہ یہ شہری حکومت پاکستان کی اجازت سے اور قانونی طریقے سے تہران پہنچے تھے۔ اس تعداد نے ویزہ کی مدت کے ختم ہونے کے بعد اپنے گھروں کو لوٹنا تھا۔
ایران جو کہ خود کسمپرسی کا شکار ہے۔ اموات کا گراف اب کہیں جا کے کچھ سنبھلا ہے۔ اس کی مالی حالت ناگفتہ بہ ہے وہ ان پاکستانیوں کی کھلے دل سے مہمان نوازی نہ کر سکا۔ کسی سے گلہ کیا کرنا جب ’باغبان‘ کسی شاعر والے برق و شر کی روش اختیار کر لیں۔ یورپ اور امارات سے آنے والے مسافروں کے ساتھ جو سلوک روا ہوا اس سے سب آگاہ ہیں اور اقدامات ندارد۔
جدید دور میں سیکورٹی اور ترقی کا بڑا ذریعہ ایٹمی توانائی کا حصول ہے۔ بڑی طاقتوں کا دفاعی تخمینہ ان کی باقی ضروریات زندگی سے کہیں بڑا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی ہے۔ اس وبائی موسم نے امریکہ ایسے مضبوط ملک کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ دنیا کو یہ سوچنا پڑے گا کہ انسان کی فلاح تعلیم، روزگار، صحت، اخلاقی اقدار کے فروغ اور سائبان کی سہولت میں ہے۔ دنیا کو بارود کی مدد سے فتح کرنے میں ہر گز نہیں۔
امریکی صدر عالمی ادارہ صحت کو طے شدہ امداد دینے سے انکاری ہیں۔ ایران کے ساتھ ان کی رقابت کوئی نئی بات نہیں۔ نیوکلیئر معاملات سے امریکہ کی یک طرفہ علیحدگی نے ایران کو شدید مالی نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے بعد آئے روز بین الاقوامی پابندیوں نے اس کی کمر اگر توڑی نہیں تو اس میں خم ضرور ڈال دیا ہے۔ جس کا اظہار تہران کی طرف سے ببانگ دہل کیا گیا کہ ان میں کچھ کمی کی جائے۔ آگ جب دونوں طرف برابر لگ جائے تو پھر کہاں معاملات درست ہو سکتے ہیں۔
امریکہ کے پہلے انکار اور پھر ”اقرار“ نے بھی ایرانیوں کے دل نرم نہ کیے اور خود اس امداد کے لیے کی گئی اپیل کو منظوری کے بعد مسترد کر دیا۔ شاعر حضرات ایسی صورتحال کو ”آپ ہی جانا ادھر اور آپ ہی حیراں ہونا“ قرار دیتے ہیں۔ وبا کے دنوں میں امریکی صدر کی بدترین پابندیوں کا ”جواب“ شاید اس سے بہتر ایران کے پاس نہیں تھا۔
ادھر وفاقی حکومت اور سندھ کے بزرجمہروں کے درمیان تناؤ ہے کہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ وفاق صوبے سے اس لیے ناراض ہے کہ اس نے مشاورت کے بغیر لاک ڈاؤن کی سعی کیوں کی۔ حالانکہ دیکھا جائے تو سندھ حکومت نے زیادہ فعالیت کا مظاہرہ کیا۔ لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کے لیے ان کے اقدامات مثالی رہے۔ کچھ دل جلے اس کو پرائی چیز سمجھ رہے تھے جس نے پہلے تو پاکستان آنا ہی نہیں تھا اور اب چونکہ یہ سندھ واسیوں تک پہنچ چکا تھا گویا یہ اس کی آخری منزل تھی۔ اندازوں سے وباؤں کا مقابلہ نہیں کیا جاتا۔ ان کی روک تھام کے لیے دانائی اور صبر کا عنصر درکار ہوتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے دو باتوں کی پرزور تاکید کی تھی۔ جسمانی میل جول میں کمی اور ٹیسٹ ٹیسٹ اور ٹیسٹ۔ یہ نصیحت ہمارے لیے غیر ضروری رہی۔ یہاں بلند و بالا ریٹنگ والی بات لاک ڈاؤن کی تھی کہ اس کے دامن کو کتنا وسیع کیا جائے۔ وزیراعظم لاک ڈاؤن میں حتی الوسع کمی چاہتے تھے۔ ان کو یہ فکر دامن گیر تھی کہیں قوم بھوک افلاس سے نہ مر جائے۔ شرح نمو پہلے ہی نقطہ انجماد کو چھو رہی ہے۔
بروقت فیصلہ سازی کی کمی اور اس بے تکی بحث نے ہمارا بہت وقت ضائع کر دیا۔ طبی عملہ کی حفاظت کا انتظام و انصرام ہو سکا اور نہ ہم طے کیے گے پچاس ہزار ٹیسٹوں کے ہدف تک پہنچ سکے۔ اپریل کا مہینہ گزر چکا ہے اور مئی بھی وسط کی جانب چھلانگیں لگا رہا ہے۔ یومیہ ٹیسٹوں کی تعداد دس ہزار سے بھی کم ہے۔ اور مثبت کیس اس کم تعداد کے باوجود ہزار سے اوپر سر اٹھا رہے ہیں۔ ہماری بحث اور ترجیح وہی پرانی ہے۔ لاک ڈاؤن کی شدت و نوعیت کی غیر ضروری تکرار، جسے پڑھا لکھا طبقہ ”سمارٹ لاک ڈاؤن“ پکارتا ہے اور آپس میں اعتماد کا شدید فقدان۔ اسے تجاہل عارفانہ نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے۔


