استاد۔ بحیثیت تعمیر ذات اور کردار ساز

سنگ بے قیمت تراشا اور جوہر کردیا
شمع علم و آگہی سے دل منور کر دیا
خاکہ تصویر تھا میں خالی از رنگ حیات
یوں سجایا آپ نے مجھ کو قیصر کر دیا

استاد اس کائنات کا سب سے عظیم شخص، اس روئے زمین کی سب سے بلند ہستی اور ہماری زندگی کا سب سے اہم جز ہے۔ اس دنیا میں جتنے بھی لوگ خوبصورت طریقے سے اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں، وہ صرف ایک استاد کی تربیت کا ہی نتیجہ ہے۔ والدین بچے کو جنم دیتے ہیں، پرورش کرتے ہیں مگر اس کے کردار اس کی ذات کی تعمیر میں استاد ہی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انسان کو اس کی ذات سے آگہی ایک استاد ہی کراتا ہے۔ خدا کی ذات کا انکشاف بھی استاد ہی کراتا ہے۔ ایک بہترین استاد وہی ہوتا ہے جو صرف کتابوں کا علم ہی نہیں دیتا ہے بلکہ کردار سازی، شخصیت سازی بھی اسی کی ذمے داری ہے۔ کسی نے سکندر اعظم سے پوچھا کہ ”وہ اپنے استاد کی کیوں اتنی عزت کرتا ہے؟ سکندر نے جواب دیا:

”اس کے والدین اسے آسمانوں سے زمین پر لائے ہیں، جبکہ استاد اس کو زمین سے آسمان کی بلندیوں تک پہنچاتا ہے۔“

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
”ابوک ثلاثہ“
”تمہارے تین باپ ہیں“

یعنی ایک وہ جو تمہیں اس دنیا میں لا یا، دوسرا وہ جس نے تمہیں اپنی بیٹی دی، اور تیسرا وہ جس نے تمہیں علم دیا۔ اور فرمایا کہ ان سب میں سے افضل تمہارے لیے وہ ہے جس نے تم کو علم دیا۔ میرے خیال میں استاد کا مقام و مرتبہ اور اس کی عظمت کی اس سے بڑی مثال نہیں دی سکتی۔

اس دنیا میں عظمت کی جتنی داستانیں ملتی ہیں، وہ ایک استاد ہی کی بدولت وجود میں آتی ہیں۔ عظیم لوگ استاد کی ہی عظمت کا نتیجہ ہیں۔ کسی نے اگر خاک سے اٹھ کر آسمان کی بلندیوں پر پرواز کیا ہے، تو یہ ایک استاد کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی سے ہی ممکن ہوا ہے۔ کوئی بھی قوم اور معاشرہ تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ بلا شبہ استاد ہی قوم کے معمار ہیں اور وہی ہیں جو قوم کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ قومیں جب بھی عروج حاصل کرتی ہیں، تو اپنے استاد کی تکریم کی بدولت ہی کرتی ہیں۔

استاد کی اہمیت اور ان کا مقام و مرتبے کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے، کہ وہ ہماری شخصیت سازی اور کردار سازی میں معاون و مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ استاد ہر ایک طالب علم کو ویسے ہی سنوارتا ہے جیسے ایک سونار دھات کے ٹکڑے کو سنوارتا ہے۔ استاد علم کے حصول کا برائے راست ایک ذریعہ ہے، اس لیے ان کی تکریم اور ان کے احترام کا حکم دیا گیا ہے۔ استاد کا احترام اسلامی نقطہ نظر سے دو اعتبار سے بڑی اہمیت کا حامل ہے :

1۔ ایک تو وہ منبع علم ہونے کے ناتے ہمارے روحانی باپ ہوتے ہیں۔ ہماری اخلاقی اور روحانی اصلاح کے لئے اپنی زندگی وقف کردیتے ہیں

2۔ اسلامی تعلیم میں استاد کی تکریم کا جا بجا حکم ملتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کہنا ”انما بعثت معلما“ کہ مجھے ایک معلم بنا کر بھیجا گیا ہے اس بات کی بین اور واضح دلیل ہے کہ استاد کا مقام و مرتبہ نہایت بلند و بالا ہے۔

یہ استاد ہی ہوتا ہے جو طالب علم کو زندگی کا سلیقہ سکھاتا ہے، سوچ اور فکر کی راہیں متعین کرواتا ہے، ساتھ ہی ساتھ خود پر یقین اور اعتماد کرنا بھی سکھاتا ہے، کائنات کی گتھیاں سلجھانے کے گر بھی وہی بتاتا ہے۔ ۔ ۔ محبتوں کے ساتھ پہلا سبق اس وقت پڑھاتا ہے، جب ایک بچہ خالی صفحہ کی طرح کورا ہوتا ہے۔ ۔ ۔ اپنی ساری صلاحیتیں اپنے طالب علم پر صرف کر کے اس کی ذات کی مثبت تعمیر کرتا ہے۔ اسے اس کی ذات سے آگہی فراہم کراتا ہے۔ اس کی شناخت اس پے واضح کرتا ہے، اور یہ احساس دلاتا ہے کہ تم کیا ہو؟ کس مقصد کے تحت اس دنیا میں آئے ہو؟ اور تمہیں معاشرے میں کیا کردار نبھانا ہے؟

تدریس کے لیے سب سے پہلی شرط کتاب ہے۔ جو علم بھی آپ متعلم تک پہنچانا چاہتے ہیں، اس کتاب یا نصاب سے استاد کی گہری وابستگی اور واقفیت ضروری ہے۔ اچھے استاد کی دوسری اہم صفت غور و فکر ہے۔ استاد کے لیے استقامت و استحکام کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اچھے استاد کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ وقت کا بہترین استعمال کرتا ہے۔

اچھا استاد مردم شناس ہوتا ہے، وہ شخصیت کی نشوونما میں رکاوٹیں پیدا نہیں کرتا اور منفی فکر کا حامل نہیں ہوتا۔

استاد خود اعتمادی کو کامیابی کی کنجی سمجھتا ہے۔ خود اعتماد استاد ہی طلبہ میں سوال کرنے کی جرأت پیدا کر سکتا ہے۔ اچھا استاد ہمیشہ اچھا طالب علم رہتا ہے وہ ہمیشہ نئے علم اور نئی روشنی کو اپنانے والا ہوتا ہے۔

مولانا محمد علی جوہر، مولانا شبلی نعمانی، سرسید احمد خان، ڈاکٹر ذاکر حسین، ڈاکٹر ابوالکلام، ڈاکٹر رادھا کرشنن، جان ڈی۔ وی۔ ۔ ۔ ۔ یہ چند مثالیں ہیں جنہوں نے اپنی محنت، لگن اور جذبے سے استاد کو مزید عظمت دلائی اور وہ ان ساری خصوصیات کی زندہ مثال تھے اور ہیں۔

مقام افسوس ہے کہ آج اساتذہ کی قدر و منزلت میں بے حد کمی ہے۔ انھیں وہ مقام نہیں دیا جا رہا ہے جس کے وہ حقدار ہیں۔ آج تو اساتذہ کی تعداد بھی کم ہے۔ نئی تعلیمی پالیسی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ سرکاری جائزے کے مطابق ہمارے ملک میں دس لاکھ اساتذہ کی کمی ہے۔ دیہی علاقوں میں حالت انتہائی بری ہے، وہاں اسکولوں میں اساتذہ نہیں ہیں۔ ایک استاد سارے مضامین پڑھانے پر مجبور ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بہار صوبے میں پرائمری اسکولوں میں 7۔ 37 یعنی غالباً 2 لاکھ 80 ہزار استاد کی اسامیاں خالی ہیں۔ 2017 کی رپورٹ کے مطابق اتر پردیش میں 6.1 لاکھ اساتذہ کی جگہیں خالی ہیں۔ صوبے میں 38,223 اساتذہ ہی اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ ان کی تعداد 759,958 ہونی چاہیے۔

کمیٹی نے اعتراف کیا ہے کہ اس کی سب سے بڑی وجہ اس کو لوں میں بنیادی ڈھانچے کا کمزور ہونا ہے۔ اساتذہ کو سرکار کوئی مراعات نہیں دینا چاہتی ہے۔ ”اساتذہ تربیتی پروگرام“ بہت سست اور بیکار ہے۔ کئی سالوں سے کئی اسامیاں یوں ہی خالی پڑی ہوئی ہیں۔ ان سب کا اثر براہ راست بچوں پر پڑ رہا ہے۔ کمیٹی کے رکن ”شری دھر“ کہتے ہیں، کہ اساتذہ کو تدریس میں جو آزادی ملنی چاہیے وہ نہیں مل پا رہی ہے، انہیں پیشہ وارانہ ترقی کے مواقع بہت کم ملتے ہیں۔

یہ ایک المیہ ہے کہ ہمارے ملک میں اساتذہ کو حکومت اور سرکاری عملہ ایک مسئلہ کی طرح دیکھتا ہے۔ ان کا سارا زور انہیں کلاس روم میں لے جانے پر ہوتا ہے نہ کہ ان کی مہارت کو بڑھانے پر۔ حکومت اپنی سار ی اسکیمیں نافذ کرنے پر ہی توجہ دیتی ہے۔ جس سے تعلیم و تربیت کہیں پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ لہٰذا مجبور ہو کر اساتذہ بھی سرکار کی ترجیحات کو مکمل کرنے پر اپنا پورا زور اور طاقت لگا دیتے ہیں۔ نتیجتاً تعلیم خسارے میں رہ جاتی ہے۔ اساتذہ پر ہر لمحہ تلوار لٹکی رہتی ہے کہ خود مختاری سے اپنی کارکردگی انجام دے پائے گا یا نہیں۔ ۔ ۔ اسی عدم تحفظ میں اس کی خدمات متاثر ہوتی ہیں اور نقصان بچوں کا ہوتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ اساتذہ کو وہ مقام مرتبہ اور عزت دی جائے جس کے وہ متقاضی ہیں۔ کیونکہ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جہاں استاد کا احترام ہوتا ہے۔ مغربی ممالک کی ترقی کا راز یہی کہ و ہاں استاد کو ہر پیشے سے مقدم سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ نئی تعلیمی پالیسی اپنے 480 صفحات کے مسودے میں اعتراف کرتی ہے، کہ اساتذہ ہی اس کے نئے نظام کے محور ہوں گے۔ جس کے چاروں طرف تعلیم کے اس نظام کو انجم دیا جا سکتا ہے۔ این۔ سی۔ ای۔ آر۔ ٹی۔ کے سابق ڈائریکٹر جے۔ ایس۔ راجپوت کو پورا بھروسا ہے کہ اساتذہ کو ان کا حق دیا جائے تو یہ پالیسی ضرور کامیاب ہوگی۔ وہ کہتے ہیں

” تعلیم اور استاد کو ان کا حق دو، اساتذہ پر بھروسا کرو، انھیں پیشہ ورانہ طور طریقوں کے ساتھ تیار کرو اور انھیں اپنے کاموں کو انجام دینے میں مدد کرو۔ یہ اس نئے نظام اور پالیسی کی راہ میں پہلا قدم ہوگا“

لیکن اس پالیسی کی کامیابی تو اس پر منحصر کرتی ہے کہ یہ زمینی سطح پر کیسے کام کرتی ہے۔ کیونکہ ہمیں نئی پالیسی کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی ہے جتنی اس کے عمل در آمد کی منشا پر ہوتی ہے۔

اب حکومت کو اپنی سطح پر اور معاشرے کو بھی اپنے تئیں کوشش کرنی چاہیے کہ اساتذہ کو وہ مقام و مرتبہ ملے جس کے وہ حقدار ہیں۔ کیونکہ۔ ۔ ۔

دیکھا نہ کوہ کن کوئی فرہاد کے بغیر
آتا نہیں فن کوئی استاد کے بغیر!

Comments - User is solely responsible for his/her words