لمحوں کی فتح اور زندگی کی کہانی ہوئی ختم
کچھ واقعات اور سانحات ایسے رونما ہو جاتے ہیں جنہیں دیکھ اور سنکر ہم ساکت و جامد رہ جاتے ہیں۔ حیرت اور ہے یقینی کی کیفیت لیے یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ کیا کوئی ایسا بھی کر سکتا ہے؟ ایک محروم، مجبور، اور نادار انسان مایوس ہو کر زندگی کے خاتمے پر مجبور ہو تو عقل قبول بھی کر لے۔ حالاں کہ زندگی ختم کرنے کا اس کا فعل بھی نا قابل قبول اور تکلیف دہ ہے۔ مگر جس شخص کے پاس دنیا کی ہر آسائشیں موجود ہو، شہرت کی بلندیوں پر ہو، مستقبل کے پلان ریڈی ہوں، وہ شخص بھی ایسے قدم اٹھانے کی جسارت کر سکتا ہے۔ یہ حیران اور متفکر کر دینے والی بات ہے۔ سوشانت کی خود کشی نے بھی بہت سے سوال میرے ذہن میں پیدا کیے۔ اس کے مذہب، شخصیت، ماضی کو درکنار کر میں نے بہ حیثیت ایک انسان اس کی خودکشی پر تکلیف محسوس کی بلکہ ہر حساس ذہن نے کی ہوگی۔
Read more
