لمحوں کی فتح اور زندگی کی کہانی ہوئی ختم

کچھ واقعات اور سانحات ایسے رونما ہو جاتے ہیں جنہیں دیکھ اور سنکر ہم ساکت و جامد رہ جاتے ہیں۔ حیرت اور ہے یقینی کی کیفیت لیے یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ کیا کوئی ایسا بھی کر سکتا ہے؟ ایک محروم، مجبور، اور نادار انسان مایوس ہو کر زندگی کے خاتمے پر مجبور ہو تو عقل قبول بھی کر لے۔ حالاں کہ زندگی ختم کرنے کا اس کا فعل بھی نا قابل قبول اور تکلیف دہ ہے۔ مگر جس شخص کے پاس دنیا کی ہر آسائشیں موجود ہو، شہرت کی بلندیوں پر ہو، مستقبل کے پلان ریڈی ہوں، وہ شخص بھی ایسے قدم اٹھانے کی جسارت کر سکتا ہے۔ یہ حیران اور متفکر کر دینے والی بات ہے۔ سوشانت کی خود کشی نے بھی بہت سے سوال میرے ذہن میں پیدا کیے۔ اس کے مذہب، شخصیت، ماضی کو درکنار کر میں نے بہ حیثیت ایک انسان اس کی خودکشی پر تکلیف محسوس کی بلکہ ہر حساس ذہن نے کی ہوگی۔

Read more

مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی۔ ۔ ۔ چند حقائق

طلب کرنا علم کا ، ہر مسلمان مرد عورت پر فرض ہے
(مشکوۃ شریف)
حضرت علی کرم اللہ وجہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم فرماتے ہیں
” علم کا سیکھنا ہر مرد مومن پر فرض ہے“

جس قوم کا رہبر اور پیغمبر یہ ارشاد کرے اور کلام پاک کے تقریباً 78 ہزار الفاظ میں سے جو سب سے پہلا لفظ پروردگار عالم نے رحمت اللعالمین کے قلب مبارک پر نازل فرمایا یا وہ ”اقرا“ ہے یعنی پڑھ۔

Read more

استاد۔ بحیثیت تعمیر ذات اور کردار ساز

استاد اس کائنات کا سب سے عظیم شخص، اس روئے زمین کی سب سے بلند ہستی اور ہماری زندگی کا سب سے اہم جز ہے۔ اس دنیا میں جتنے بھی لوگ خوبصورت طریقے سے اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں، وہ صرف ایک استاد کی تربیت کا ہی نتیجہ ہے۔ والدین بچے کو جنم دیتے ہیں، پرورش کرتے ہیں مگر اس کے کردار اس کی ذات کی تعمیر میں استاد ہی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انسان کو اس کی ذات سے آگہی ایک استاد ہی کراتا ہے۔ خدا کی ذات کا انکشاف بھی استاد ہی کراتا ہے۔ ایک بہترین استاد وہی ہوتا ہے جو صرف کتابوں کا علم ہی نہیں دیتا ہے بلکہ کردار سازی، شخصیت سازی بھی اسی کی ذمے داری ہے۔ کسی نے سکندر اعظم سے پوچھا کہ ”وہ اپنے استاد کی کیوں اتنی عزت کرتا ہے؟ سکندر نے جواب دیا:

Read more

تمہیں اللہ کی مدد نہیں آئے گی

ملک اور قوم کے موجودہ ناگفتہ بہ حالات سے میرا ذہن مفلوج اور دل مغموم ہے۔ ہر صبح اداسی کا سورج طلوع ہوتا ہے اور ہر شام بے چینی اور بیچارگی کے تارے آسمان پر نکل آتے ہیں۔ ہر سمت ظالموں کی یلغار اور مظلوم کی آہ و بکا ہے۔ اس صورت حال میں ایک دردمند دل کا پریشان ہونا یقینی اور فطری ہے۔ ایک احتجاج ہمارے اندر جاری ہے اور ایک احتجاج باہر سڑکوں پر ہو رہا ہے۔ ہم

Read more

مشرف عالم ذوقی کا ناول ”پو کے مان کی دنیا“ ”تبصرہ اور تجزیہ“

پو کے مان کی دنیا ناول آج کی تبدیل ہوتی دنیا اور ختم ہوتی تہذیب کا مرثیہ ہے۔ گلوبل ولیج کے دائرے میں سمٹتی دنیا مگر قدروں کی موت کی سرگوشی ہے۔ ماڈرن کلچر کے نام پر اخلاقیات اور معصوم بچپن کی قبرگاہ ہے۔ مغربی اطوا ر کو نقل کرنے کی خواہش میں اپنی شناخت کا جنازہ نکالنے والوں کی روداد ہے۔ انٹرنیٹ تک آسان پہنچ اور گیم کلچر نے بچّوں کے ذہنوں کو اس قدر پراگندہ کر دیا ہے

Read more

طاہرہ اقبال کا ناول: نیلی بار

ایک عہد کا بیانیہ، تاریخ کا آئینہ۔ نیلی بار ناول محض ایک ناول نہیں ہے نہ اُسے صرف ادب اور فکشن تک محدود کیا جا سکتا ہے۔ وہ اپنے عہد کا مکمل بیانیہ ہے۔ ایک آئینہ ہے جس کی روشنی میں تاریخ داں تاریخ سے انصاف کر سکتے ہیں۔ نیلی بار ناول ایّوب خان کے کے دور سے بھٹو کے اِنقلاب اور اس کی پھانسی کے وقت سے لے کر موجودہ دور تک محیط ہے۔ اس دوران کے سارے واقعات،

Read more