جھولے لال تے بیڑے پار


جب سے کورونا کی وبا آئی ہے دنیا کا نظام ہی بدل گیا ہے، چاند، ستاروں کو پر کمند ڈالوں کو اللہ تعالی نے بتا دیا کہ تم کچھ بھی نہیں ہو، جتنی بھی ترقی کرلو، جتنے بھی عقل مند بن جاؤ تم صرف ایک وائرس کی مار ہو، تم ایک وائرس کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتے، بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے

کسی سے یہ واقعہ سنا تھا کہ ایک علاقے میں بیماری آ گئی اور لوگ مرنے لگے، روزانہ درجنوں لوگ مر جاتے تھے، تمام معالجین کے نسخے ناکام ہوگئے، لوگ پریشان تھے، ایک دن وہ سب ایک معروف حکیم کے پاس کے گئے کہ جناب آپ تو اتنے قابل حکیم ہیں کیا وجہ ہے کہ آپ اس بیماری کا علاج نہیں ڈھونڈ سکے۔

حکیم صاحب نے کہا کہ علاقے جتنے بھی چرواہے ہیں ان کو شام کو اکٹھا کیا جائے میں ان سے بات کرنا چاہتا ہوں، شام کو تمام چرواہے اکٹھے کر لئے گئے، حکیم صاحب آئے تو ان سے مخاطب ہوئے کہ وہ کب سے جانور چرا رہے ہیں، کسی بتایا کہ میں باپ دادا کے ساتھ جانور چرانے کے لئے جایا کرتا تھا تو کسی نے کہا کہ اتنے سال ہوگئے ہیں جانور چراتے ہوئے، طلوع آفتاب کے ساتھ ہی گھروں سے جانور لے کر نکل جاتے ہیں اور شام کو واپس آتے ہیں۔ تمام چرواہے علاقے کی مختلف سمتوں میں اپنے جانور چراتے ہیں۔

حکیم صاحب نے چرواہوں سے کہا کہ تم لوگوں نے اپنے اپنے علاقوں میں کوئی ایسی جڑی، بوٹی دیکھی ہے جو اس سے قبل کبھی نہ دیکھی ہو جس پر ایک چرواہے نے کہا کہ ہاں میں نے ایک بوٹی دیکھی ہے جو کہ اس سے قبل اس علاقے میں نہیں تھی جس پر حکیم صاحب نے اسے بوٹی لانے کا کہا، چرواہا اگلے روز بوٹی لے آیا تو حکیم صاحب نے اس سے دوا بنائی جس سے لوگ شفایاب ہونے لگے، لوگوں نے پوچھا تو کہا کہ اللہ تعالیٰ بیماری سے پہلے اس کا علاج پیدا کرتا ہے۔

اسی طرح جب ملیریا کی وبا آئی تو گاؤں کے گاؤں اس سے متاثر ہوئے، ہزاروں لوگ مرنے لگے، اس وقت خیال تھا کہ یہ اچھوت کی بیماری ہے، ایک گاؤں نے فیصلہ کیا کہ جب بھی کوئی اس بیماری میں مبتلا ہوگا اسے جنگل میں چھوڑ دیا جائے گا کیونکہ اس نے تو مرنا ہی ہے مگر دیگر افراد اس سے محفوظ رہیں، اس گاؤں کے ایک نوجوان کو ملیریا ہوا تو اسے گاؤں والے جنگل میں چھوڑ آئے، نوجوان چند روز بعد تندرست ہوکر واپس آ گیا

سارا گاؤں اس نوجوان کے گرد جمع ہوگیا اور پوچھا تم ٹھیک کیسے ہوئے تو اس نے بتایا کہ میں جنگل میں خوراک کی تلاش میں تھا کہ مجھے بہت زیادہ پیاس لگی، ایک جگہ پر صاف، شفاف پانی کھڑا تھا، وہاں سے پانی پیا اور میں مدہوش ہوکر سو گیا، کچھ دیر بعد آنکھ کھلی تو میں نے خود کو کچھ بہتر محسوس کیا پھر میں کھانے کی تلاش میں نکل گیا اور فیصلہ کیا کہ پانی یہاں سے ہی پیوں گا پھر میں پانی وہاں سے ہی پینے لگا اور تندرست ہوگیا تو واپس لوٹ آیا۔

علاقے کے حکما اس نوجوان کے پاس آئے اور کہا کہ ہمیں اس جگہ لے چلو جہاں سے تم پانی پیتے تھے، نوجوان ان کو لے کر اس جگہ پہنچ گیا تو حکما نے دیکھا کہ اس جگہ پر سنکونا کے درختوں کا جھنڈ تھا، بارش کا پانی ان درختوں سے ہوکر ایک جگہ جمع ہوگیا تھا جس سے سنکونا کی کڑواہٹ بھی پانی میں شامل ہوگئی

حکما نے سنکونا کے پانی اور چھال سے دوا بنائی اور جو بھی اس بیماری میں مبتلا ہوا اسے وہی دوا دی تو مریض تندرست ہونے لگے، اس طرح کونین دریافت ہوئی اور ملیریا کا علاج مل گیا، آج بھی کونین ملیریا کے علاج کے لئے کی جاتی ہے، آفت یا بیماری اللہ تعالی کی طرف سے ایک آزمائش ہوتی ہے، اللہ تعالی اپنے بندوں کو متنبہ کرتا ہے کہ سدھر جاؤ، مگر انسان نہیں سمجھتا۔

اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے کس طرح ممکن ہے کہ وہ اپنے بندوں کو آزمائش میں ڈالے مگر سرکشی حد سے بڑھ جائے تو پھر متنبہ کرنا بنتا ہے، یہ وقت ہے کہ ہم سب اپنے تمام اختلافات، نظریات اور عقائد کو پس پشت ڈال کر اللہ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوجائیں اور رب العالمین سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں، بے شک اللہ معاف کرنے والے ہے۔

مگر افسوس صد افسوس ہم اس وقت بھی نہیں سدھرے، کورونا کی وبا دنیا بھر میں ہر انسان کے سر پر منڈلا رہی ہے، خدا خوفی کے بجائے رمضان شروع ہوتے ہی ہمارے تاجروں نے حسب روایت اور حسب عادت اشیا خورد و نوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کردیا، ”کل کی خبر نہیں اور سامان سو برس کا“ قیمتوں میں مصنوعی اضافہ کرنے والوں نے کبھی سوچا ہے کہ اگر ان کی اس حرکت سے اللہ تعالی ناراض ہوگیا تو کیا ہوگا، رمضان کے بابرکت مہینے میں ناجائز منافع تو کما لو گے اور اگر تمھارا خاندان کی کورونا کی زد میں آ گیا تو ناجائز منافع ان کی زندگیاں بچانے کے کام نہیں آئے گا، یہ ہم سب نے سوچنا ہے، مشکل کی گھڑی میں سب نے اکٹھا ہونا ہے، ایک دوسرے کا بازو بننا ہے، مدد کرنا ہے، حکومت سے کیا گلہ کیا جائے وہ تو بس۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جھولے لال تے بیڑے پار

Facebook Comments HS