ھسپتالوں میں قومی ہیروز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صحافی نے نوجوان ڈاکٹر کی طرف مائیک بڑھاتے ہوئے پوچھا کہ ڈاکٹر صاب کیا آپ کو معلوم ہے کہ قوم آپ لوگوں سے کتنا پیار کرتی ہے؟

نوجوان ڈاکٹر نے ایک مقدس جذبے اور میٹھی معصومیت کے ساتھ جواب دیا کہ خدانخواستہ قوم پیار نہ بھی کرے تو ہم پھر بھی اسی جذبے کے ساتھ کام کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ہمارا فرض بھی ہے اور انسانی جذبہ بھی!

تقریباً تین مہینے پہلے احمقانہ فیصلوں اور غیر ذمہ دارنہ طرز عمل کے سبب خون آشام کورونا وائرس کی وبا پہلے ہی سے مشکلات کے شکار ملک پاکستان میں پھوٹ پڑی تو ہمارا واحد سہارا یہی ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف ہی تھے، جنہیں ماسک اور سینٹائزر تک دستیاب نہ تھے اور جب ڈیوٹی نبھانے کے واسطے وہ اس کا مطالبہ کرنے لگتے تو عجیب و غریب جمہوریت ان پر ڈنڈے برساتی اور ان کے سر توڑتی رہی لیکن آفرین ہے دھرتی کے ان سپوتوں (ھیلتھ ورکرز ) پر جنہوں نے نہ ڈیوٹی سے انکار کیا، نہ ہسپتالوں کو خالی اور نہ مریضوں کو بے یار و مددگار چھوڑا اور نہ ہی کسی چوک کو دھرنے اور بد تہذیبی کی آماجگاہ بنایا بلکہ اپنا احتجاج مہذب انداز میں ریکارڈ کراتے اور مریضوں کو سنھبالتے رہے۔

میں بہت سے ایسے ڈاکٹروں اور ہیلتھ ورکرز کو جانتا ہوں جنہوں نے اپنی جیبوں سے رقم دے کر چندہ اکٹھا کیا اور ہسپتالوں کے لئے ضروری سامان اور دوائیاں خریدیں ورنہ سوال تو بنتا ہے کہ ابتدائی دنوں میں جب چین چار ملین ڈالر ورلڈ بینک انیس کروڑ ڈالر اور ایشین ڈیویپلمنٹ بینک تین سو پچاس ملین دے چکا تھا تو کیا اس سے فرنٹ لائن پر لڑتے ان عظیم ہیروز کی ضروریات پوری کرنا اولین ترجیح نہیں ہونی چاہیے تھی۔

تاریخ کے ان مشکل ترین دنوں میں یہی ڈاکٹرز پیرا میڈیکس سٹاف، نرسز، ٹیکنیشن، لیب اسسٹنٹ حتٰی کہ وارڈ بوائے اور ایمبولینس ڈرائیور ہی ہیں جو ایک خون آشام منظرنامے میں قوم کے ہیروز اور مسیحا کے روپ میں ایک فاخرانہ کردار کے ساتھ سامنے آ چکے ہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب کسی ہسپتال کے قریب سے گزرنا بھی ”خطرے“ سے خالی نہیں سمجھا جاتا تو وہ یہی وطن کے بیٹے بیٹیاں ہیں جو اپنی جان کی پرواہ کئی بغیر ایک دلیر بانکپن کے ساتھ تاریخ کے مشکل ترین محاذ پر لڑ رہے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کی ایک رپورٹ کے مطابق آٹھ سو کے قریب ہیلتھ ورکرز ملک بھر میں کورونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں، جن میں ڈاکٹرز، نرسز اور دوسرا سٹاف بھی شامل ہے۔ ان میں سے بعض شہادت کا رتبہ بھی پا چکے ہیں، لیکن کسی بھی لمحے پسپائی تو دور کی بات ہے خوف کو بھی اپنے قریب پھٹکنے نہیں دیا ان جراتمند ہیروز نے ذاتی زندگی کو بھی ایک عظیم قربانی پر تج دیا جس کا قصیدہ تاریخ دیر تک پڑھتی رہے گی۔

ڈاکٹر حمداللہ نوجوان سرجن ہیں ان کی اہلیہ فاطمہ بھی ڈاکٹر ہیں، ڈاکٹر حمداللہ میرے دوست کم اور چھوٹے بھائی زیادہ ہیں اس لئے کوئی شام بمشکل ایک دوسرے کے بغیر گزرتی لیکن پچھلے دو ماہ سے ملنا تو درکنار فون پر رابطہ تک مشکل ہو گیا ہے کیونکہ مجھے ان کی شدید مصروفیت کا علم ہے۔

اگلے دن ڈاکٹر فاطمہ سے فون پر رابطہ ہوا تو میں نے ان کی اور حمداللہ کی خیریت پوچھی تو اس نے ہنستے ہوئے کہا بھائی میں تو خیریت سے ہوں لیکن اگر حمداللہ سے آپ کا رابطہ ہوا تو میری طرف سے بھی پوچھ لیں، یہ بظاہر تو ایک مذاق ہی تھا لیکن اس کے عقب میں موجود وہ عظیم قربانی ہے جس نے ہمیں کام چور قوم کے روایتی طعنے سے نجات دلا دی!

آفرین ہے صحت کے شعبے سے وابستی ہر اس ہیلتھ ورکر پر جہنوں نی مشکل دنوں میں ہماری گردنوں کو جھکنے سے بچائے رکھا۔

ابھی ابھی ایک دوست نے فون پر بتایا کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختون خواہ کے صوبائی صدر ڈاکٹر رضوان کنڈی بھی کورونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں تو میں دیر تک اس جوان رعنا کو سوچتا رہا، جو کبھی اپنے حق کے لئے لڑتا ہے اور کبھی دوسروں کی زندگی کے لئے۔

لہولہان بھی ہوں یار بھی شہید ہوئے

کہنا یہی ہے کہ کورونا کی وبا یقیناً انسانی تاریخ کا سب سے بڑا اور خوفناک المیہ ہے جس پر کبھی نہ کبھی تو حیرت انگیز انسانی ذہن قابو پالے گا لیکن اسی المیے کے منظرنامے سے بحیثیت قوم ہمارے سامنے ان چار پانچ لاکھ جانبازوں ( ہیلتھ ورکرز) کی صف بھی کھڑی ہوگئی جو نہ صرف ہمارے اعتماد کے مظہر بنے بلکہ انہیں دیکھ دیکھ کر ہمارے سینے چوڑے اور سر مزید اونچے ہوتے جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *