روزہ خور اور چڑی روزے


کچھ لوگ روزے کے معاملے میں بہت حساس ہوتے ہیں۔ اتنے حساس کے اگر کوئی دوسرا کسی وجہ سے روزہ نہیں رکھتا تو اس کے پیچھے پنجے جھاڑ کے پڑ جاتے ہیں کہ روزہ کیوں نہیں رکھا۔ یہ سوچے بنا کہ یہ خالص اللہ اور بندے کا معاملہ ہے۔ لیکن نہ جی ایسے لوگ خود روزہ رکھ کر دوسروں کو وختہ ڈال دیتے ہیں۔ آتے جاتے دوسروں کو روزہ رکھنے کے فوائد بتا کر جنت کی نعمتیں گنواتے اور روزہ چھوڑنے پر جہنم سے ڈراتے رہتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں ان میں سے ایک باب الریان ہے اور روزہ دار اسی دروازہ سے داخل ہوں گے۔

اور روزہ خور یہ سوچ کر خود کو تسلی دیتے ہیں کیا ضروری ہے کہ ہم باب الریان ہی سے داخل ہوں، باقی کے سات دروازے بھی تو ہیں جنت کے، ہم ان کسی ایک سے داخل ہو جائیں گے۔ جبکہ کچھ لوگ روزہ نہ رکھ کے جان عذاب کر دیتے ہیں کہ روزہ نہ رکھنے کی وجہ سے ہر دو گھنٹے بعد انھیں بھوک ستاتی ہے لہذا وقفہ وقفہ سے گھر والوں سے کھانے کی فرمایٔش کرتے رہتے ہیں یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو افطاری میں خاص اہتمام چاہتے ہیں اور افطاری کے وقت انھیں دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ روزہ تو بس ان ہی کا ہے۔

ایسے روزہ خوروں کا رمضان روزے چھوڑنے کے شرعی عذر ڈھونڈنے اور گنوانے میں گزر جاتا ہے کہ ان کے پاس روزہ نہ رکھنے کے بے شمار عذر ہوتے ہیں جیسا کہ بی پی لو کی وجہ سے روزہ نہیں رکھا جاتا۔ یہ دوسروں کو بتاتے ہیں اگر روزہ رکھ کر غیبت کرنی ہے، چیزوں میں ملاوٹ کرنا ہے یا پھر گالم گلوچ ہی کرنا ہے تو پھر یہ روزہ نہیں فاقہ ہے۔ اور جب روزے کی اصل روح پر عمل نہیں کرنا تو پھر فاقہ کاٹنے سے بہتر ہے کہ انسان روزہ ہی نہ رکھے۔

اب خدا جانے یہ باتیں وہ روزہ دار کے لئے کہتے ہیں یا خود اپنے لئے۔ یا پھر مسافر کو روزے کی رخصت کے حوالے سے احادیث نکال کے دوسروں کو سناتے ہیں اور یہ ثابت کرنے پہ تلے ہوتے ہیں چونکہ دنیا مسافر خانہ ہے اور وہ اس میں ایک مسافر، لہذا اس وجہ سے انھیں روزہ میں رعایت ہے۔ کچھ وہ بھی ہوتے ہیں جنھیں سفر تو کرنا ہوتا ہے لیکن یہ سفر اردو والا ہوتا ہے نہ انگریزی والا، بلکہ یہ یادوں کا سفر ہوتا ہے۔ جو انھوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں طے کرنا ہوتا ہے یا پھر کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جنھیں ساتھ والے گھر جانا بھی طویل سفر لگتا ہے کجا کہ انھیں افطار دعوت میں جانے کے لیے ماڈل ٹاؤن سے ڈیفنس تک کا سفر کرنا پڑ جائے۔

تو بس وہ ”سفر“ کی وجہ سے روزہ نہیں رکھتے۔ ویسے افطار دعوتیں بظاہر تو روزہ داروں کے لئے ہوتی ہیں لیکن کیا کیجیئے کہ ان دعوتوں میں سب سے زیادہ روزہ خور موجود ہوتے ہیں۔ افطاری کرنا اور کروانا ایک نیک عمل ہے سو نیکی کے اس کام کو کون چھوڑے۔ افطاری کرنا بھی ثواب ہے لہذا کچھ لوگ اس افطاری کا ثواب حاصل کرنے کی وجہ سے افطار دعوت نہیں چھوڑتے البتہ روزہ چھوڑ دیتے ہیں کہ افطاری میں جانے کی تیاری کے کٹھن مرحلے سے بھی تو گزرنا ہوتا ہے۔

یوں ثواب کی نیت سے افطاریوں میں شرکت کے لئے تیار ہونے کی مشقت کی وجہ سے پورا مہینہ روزہ چھوڑنا پڑ جاتا ہے۔ اور اگر بیچ میں کوئی دن اتفاق سے ایسا آ جائے کہ جب کہیں سے بھی افطاری کا دعوت نامہ موصول نہیں ہوا ہو تو یہ لوگ اس دن روزہ رکھنے کے بارے سوچتے ہیں لیکن پھر اس وجہ سے ارادہ بدل دیتے ہیں کہ اگر کہیں سے اچانک دعوت نامہ موصول ہوگیا تو۔ ۔ ۔ بس پھر اسی متوقع دعوت نامہ کی آس پر ان کا روزہ چھوٹ جاتا ہے ورنہ خدا جانتا ہے ان کی تو پوری نیت ہوتی ہے روزہ رکھنے کی۔

کچھ لوگ پکے روزہ خور ہوتے ہیں لیکن ظاہر یوں کرتے ہیں جیسے ان سے بڑا روزہ دار کوئی نہیں۔ اب کسی کے پاس کوئی آلہ تو ہوتا نہیں جو بتا دے کہ یہ روزہ سے ہے یا نہیں، سو اعتبار کرنا پڑتا ہے۔ عموماً افطار دعوتوں میں مہمان اور میزبان دونوں ہی بروز ہوتے ہیں لیکن دونوں ایک دوسرے کی نظر میں خود کو روزہ دار ظاہر کرتے ہیں۔ دونوں روزہ خور ایک دوسرے سے کہہ رہے ہوتے ہیں روزہ کیا کہتا ہے کچھ بھی تو نہیں۔ روزہ کا تو پتہ بھی نہیں چلتا۔

اب اگر وہ روزہ رکھیں تو انھیں پتہ چلے کہ روزہ رکھ کے لگ پتہ جاتا ہے۔ یہ اتنے ہی پکے روزہ خور ہوتے ہیں جتنا پکا کوئی روزہ دار۔ ان کا شمار ہوتا تو اول الذکر میں ہے لیکن خدا جانتا ہے کسی کے سامنے خود کو ہمیشہ موخر الذکر ظاہر کرتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو شروع ہی سے روزہ نہ رکھنے کا شوق ہوتا ہے اور عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس شوق میں شدت آجاتی ہے یہی لوگ روزہ فرض ہونے کے بعد شرعی عذر بھی ڈھونڈتے ہیں تاکہ روزہ چھوڑنے کا جواز پیش کیا جا سکے۔

مجھے شروع سے روزہ رکھنے کا شوق رہا ہے، میں تو بچپن میں سحری کے وقت بڑوں سے بھی پہلے اٹھ جاتی تھی کہ کہیں میرا روزہ نہ رہ جائے تب ابو اپنے پاس بٹھا کر سحری کرواتے اور صبح اٹھنے پہ بتاتے چڑیا کے دن میں دس روزے ہوتے ہیں سو چڑیا روزہ کھول لے۔ ابو چڑی کا روزہ الماری میں رکھ کے بند کر دیتے اور ہر دو گھنٹے بعد چڑی کا روزہ کھلتا اور بند ہوتا رہتا۔ ابو نے ہی بتایا تھا کہ چھوٹے بچوں کا چڑی روزہ ہوتا ہے اور الحمدللہ میں گھر کا سب سے چھوٹا بچہ ہوں۔ میں روزہ اب بھی رکھ لیتی ہوں لیکن کوئی یہ مت سمجھے کہ اب بھی چڑی روزہ ہوتا ہے۔ مجھ سے جب بھی کسی نے رمضان میں پوچھا کہ آج روزہ ہے تو الحمدللہ میرا جواب کبھی انکار میں نہیں ہوا کہ اس دن روزہ ہوتا ہے۔

روزہ خوری اچھی بات ہے نہ روزہ خوری پہ اترانا لیکن کئی لوگ اپنی اس عادت پہ شرمندہ ہونے کی بجائے فخر کرتے ہیں۔ میری ایک دوست پکی روزہ خور ہے۔ ایک دن مجھ سے کہنے لگی تمھارا نہیں کبھی دل کیا میری افطاری کروانے کو یہ سن کر مجھے شدید دھچکا لگا اس سے پہلے کہ مجھے سکتہ ہوتا میں نے اسے زور کی چٹکی کاٹ دی تاکہ میں اس کی چیخ سے ہوش ہی میں رہ سکوں۔ میں نے صدمے سے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا ہائے موٹی تم کب سے روزہ رکھنے لگی تو اس نے فرمایا لو ثواب کے لالچ میں روزہ داروں کے تو سبھی افطاری کرواتے ہیں مزہ تب ہے جب ہم جیسے روزہ خوروں کی افطاری کرواؤ، تو پتہ چلے تم جیسوں کے ایمان کا۔

بس وہ دن اور آج کا دن ہر رمضان میں اپنے ایمان کا امتحان دینے کو اس جیسے کئی روزہ خوروں کے لئے افطاری کا اہتمام کرنا پڑتا ہے۔ شاید میرے جیسے ہی کئی ایسے دوستوں کی بلیک میلنگ کی نظر ہو کر افطار دعوتیں رکھتے ہیں یہ سوچے بنا کہ ایمان کا امتحان دینے کے لئے شو بازی کے لئے دوستوں کی پر تکلف افطاری کروانا ہے یا پھر کسی ضرورت مند کی چپکے سے مدد کرنا۔

Facebook Comments HS