کاما کورا میں بدھ کے مجسمے تلے رڈ یارڈ کپلنگ سے ملاقات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ بھی وہیں کھڑا تھا، جہاں ہم تھے! ہماری طرح ہی مبہوت، بدھا کے اس عظیم مجسمے کو دیکھتے ہوئے!

درمیان میں کچھ فاصلہ تھا، کچھ زیادہ نہیں، صرف ایک سو پچیس برس!

ہم کاما کورا میں تھے!

ٹیکسلا سے ہمارا بندھن بہت سی یادوں سے بندھا ہے۔ بچپن میں ٹیکسلا میوزیم پہلی دفعہ سکول کے ساتھ جانا ہوا اور بہت بعد میں پہلی سرکاری نوکری ہی ٹیکسلا میوزیم کے سامنے بنے ہوئے مرکز صحت میں کی جہاں سرکار کے گھاگ کارندوں نے ایک نوجوان خاتون ڈاکٹر کو ناکوں چنے چبوا دیے تھے۔

 کتابیں بتا چکی تھیں کہ بدھ مت کے ابتدائی آثار ٹیکسلا کے علاقے سے ملے ہیں لیکن بدھ کے مجسمے دیکھنے کا پہلا اتفاق سکول ٹرپ کے دوران ہی ہوا۔ نروان کی تلاش میں آنکھیں بند کیے چوکڑی مارے اپنی ذات کے اندر گم دنیا و مافیہا سے بے خبر ساکت بدھا ہمیں اچھا لگا تھا۔ ہم دیر تک اسے دیکھتے رہے تھے۔ کسے خبر تھی کہ آنے والے زمانوں میں نہ جانے کن کن میوزیمز اور کن کن خطوں میں ہمارا اور اس کا بار بار سامنا ہو گا۔

پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ چکا! ٹیکسلا میوزیم میں تجسس بھری آنکھوں کے ساتھ گھومتی وہ نو عمر لڑکی برسوں بعد جاپان کے شہر کاماکورا کے عظیم بدھا تک آ پہنچی تھی۔

بارہویں اور تیرہویں صدی عیسوی میں کاماکورا مندروں اور خانقاہوں کا مرکز اور جاپان کا دارالحکومت تھا جو آج کے ٹوکیو سے ڈیڑھ گھنٹے کی دوری پہ ہے۔ اس چھوٹے سے قصبے کی وجہ شہرت بدھا کا تیرہ میٹر اونچا اور نوے ٹن وزنی مجسمہ ہے جو عظیم بدھا کہلاتا ہے اور جسے دیکھنے سیاح دور دور سے آتے ہیں۔ کانسی سے بنا یہ مجسمہ تیرہویں صدی میں تخلیق ہوا، اور صدیوں کے سرد و گرم سہتا آج بھی وہیں بیٹھا ہے۔

ہم کاماکورا سٹیشن پہ اترے اور جدھر سب جا رہے تھے ہم بھی چل پڑے۔ گمان یہی تھا کہ عظیم بدھا کی طرف ہی رخ ہو گا۔ چیری کے شگوفوں کی بہار،خوشگوار موسم، نئی دنیا، اجنبی لوگ، اور قدیمی دوست سے گپیں، اس سے زیادہ اور کیا چاہیے تھا۔

فٹ پاتھ پہ چلتے چلتے دفعتاً فرح رک گئیں۔ دیکھا کہ ایک طرف ٹکٹکی باندھ کے دیکھ رہی ہیں۔ کیا ہوا؟ ہم نے پوچھا۔ ہم سمجھے شاید کوئی اور تاریخی مقام مرکز نگاہ ہے لیکن یہاں کچھ اور ہی معاملہ تھا۔ چار دن سے پھیکا سیٹھا جاپانی کھانا کھانے کے بعد یکا یک ترکی آئس کریم اور شوارمہ نظر میں آ ٹھہرا تھا اور فرح بضد تھیں کہ عظیم بدھا بعد میں! فرح کو بہلا پھسلا کے اس دوکان کو نظر انداز کر کے آگے کی طرف چلنا ہمارا وہ عظیم کارنامہ تھا جس پہ ہم دونوں آج بھی بے تحاشا ہنستے ہیں۔

مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے ہم مندر کی طرف چلتے تھے جس کے لئے ہم نے یہ کشٹ کاٹا تھا۔ مندر میں داخل ہونے کا دروازہ لکڑی سے بنا تھا، برامدے میں لال رنگ کا روایتی جاپانی فانوس لٹکا تھا۔

اس سے آگے ٹکٹ گھر کی کھڑکی تھی جہاں عظیم بدھا کو دیکھنے کے ٹکٹ بک رہے تھے۔ یہ مندر اس طرح سے انوکھا ہے کہ بدھا کا مجسمہ کسی عمارت میں نہیں بلکہ ایک بہت بڑے میدان کے بیچوں بیچ ایک چبوترے پر رکھا گیا ہے۔ برکھا کی رت ہو یا سمندری طوفان، چمکتی دھوپ ہو یا چاند کی ٹھنڈی چاندنی، برفباری ہو یا خزاں کی اداسی، کچھ بھی بدھا کے استغراق میں خلل نہیں ڈالتی۔

ٹکٹ لے کے ہم آگے چلے۔ دور سے ہی ایک بہت بڑے چبوترے پہ ایک عظیم الشان مجسمہ نظر آیا۔ آنکھیں موندے، آلتی پالتی مارے عظیم بدھا کھلے آسمان کے نیچے گیان و دھیان میں گم بیٹھا تھا۔ آٹھ صدیاں بیتیں نہ جانے گیان کی بھول بھلیوں میں بدھا کو نروان ملا کہ نہیں، کوئی نہیں جانتا۔ ہم تو اتنا جانتے ہیں جیسے ہر کسی کے من میں آگ خود جلانا ہوتی ہے ایسے ہی ہر کسی کو نروان بھی خود ہی تلاش کرنا ہوتا ہے۔

بدھا کے دیو ہیکل مجسمے نے صرف ہمیں ہی مسحور نہیں کیا۔ مشہور ادیب ریڈیارڈ کپلنگ نے 1890 میں کاما کورا کا سفر کیا۔ ہماری طرح ہی دیکھ کے دنگ ہوا۔ وہی جو ہم نے شروع میں ذکر کیا ہے کہ شاید اب بھی کہیں آس پاس موجود تھا۔ کپلنگ نے اس مجسمے پہ کاما کورا کا بدھا نامی ایک نظم لکھی جو سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور میں 1882 میں شائع ہوئی بعد میں ان کے ناول کم (Kim) میں بھی اس کا ذکر ہوا۔

نارنجی لباس پہنے، سر منڈائے بھکشوؤں کی ایک ٹولی ایک طرف کھڑی بھجن گانے میں مصروف تھی۔ گرد و نواح میں تصویریں کھینچتے سیاحوں سے ان کی محویت نہیں ٹوٹتی تھی۔ ہر ملک و نسل کا سیاح موجود تھا سوائے ہمارے دیس کے، جنہیں جہاں نوردی نہیں بھاتی اور بھی مجسموں اور تاریخ کا سفر!

ہم کافی تصویریں کھینچ چکے تھے۔ ڈاکٹر فرح کا صبر اب جواب دے چکا تھا اور وہ ہمیں ادھر کو کھینچتی تھیں جہاں کی خوشبو ان کی قوت شامہ کو تحریک دے رہی تھی۔ چلیے ہم جب تک پیٹ کی آگ بجھائیں، آپ کپلنگ کی نظم سے دل بہلائیے!

‏ BUDDHA AT KAMAKURA

‏”And there is a Japanese idol at Kamakura”

‏Oh ye who tread the Narrow Way

‏By Tophet-flare to Judgment Day,

‏Be gentle when the “heathen” pray

To Buddha at Kamakura!

‏To him the Way, the Law, Apart,

‏Whom Maya held beneath her heart,

‏Ananda’s Lord the Bodhisat,

The Buddha of Kamakura.

‏For though he neither burns nor sees,

‏Nor hears ye thank your Deities,

‏Ye have not sinned with such as these,

‏His children at Kamakura;

‏Yet spare us still the Western joke

‏When joss-sticks turn to scented smoke

‏The little sins of little folk

That worship at Kamakura—

‏The grey-robed, gay-sashed butterflies

‏That flit beneath the Master’s eyes—

‏He is beyond the Mysteries

But loves them at Kamakura.

‏And whoso will, from Pride released,

‏Contemning neither creed nor priest,

‏May feel the soul of all the East

‏About him at Kamakura.

‏Yea, every tale Ananda heard,

‏Of birth as fish or beast or bird,

‏While yet in lives the Master stirred,

‏The warm wind brings Kamakura.

‏Till drowsy eyelids seem to see

‏A-flower ‘neath her golden htee

‏The Shwe-Dagon flare easterly

‏From Burmah to Kamakura;

‏And down the loaded air there comes

‏The thunder of Thibetan drums,

‏And droned—”Om mane padme oms”—

‏A world’s width from Kamakura.

‏Yet Brahmans rule Benares still,

‏Buddh-Gaya’s ruins pit the hill,

‏And beef-fed zealots threaten ill

‏To Buddha and Kamakura.

‏A tourist-show, a legend told,

‏A rusting bulk of bronze and gold,

‏So much, and scarce so much, ye hold

‏The meaning of Kamakura?

‏But when the morning prayer is prayed,

‏Think, ere ye pass to strife and trade,

‏Is God in human image made

‏No nearer than Kamakura

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *