مولا خوش رکھے مَلکانی ہلیری جی!


\"Sadia\"ہمارے پنڈ میں تو یوں ہی ہوا کرتا تھا باؤ جی۔ شہروں کا پتہ نہیں۔ اور پتہ کر کے کرنا بھی کیا ہے۔ شہروں میں کوئی بندے کا پتہ لگتا ہے؟ تو جی بات کچھ ایسے ہے کہ ذرا بڑے مَلکوں کے ہاں کوئی ویاہ یا پتر ہوتا تو مَلکوں مَلکانیوں کو تو کیا خوشی ہوتی ہو گی جو میراثیوں کو ہوتی تھی۔ دیگوں کے کڑچھے بعد میں کھڑکتے میراثیوں کی ڈھولکیاں پہلے بجتی آتی تھیں۔ یار لوگ یوں ناچ گا بے حال ہوتے کہ آج دونوں جہاں کی خوشیاں اور نعمتیں مَلک حشمت صاحب کے گھر نہیں بلکہ دوسے میراثی کی جھولی میں جنت سے ڈائریکٹ فلائٹ لیتے ہوئے لینڈ کی ہیں۔ کوئی غمی ہوتی تو تب بھی کمی کمینوں کے صف ماتم بچھ جاتی۔ اپنے کچے مکان سے لے کر مَلکوں کی حویلی کے پھاٹک تک وہ بین ڈالتے کہ مرنے والا تو شاید انہی کا سگا باپ ہے۔ مَلک تو شاید اپنے اکیس سال اور کچھ مہینوں سے بستر پر سیدھے لیٹے بابے کے مرنے پر اندر اندر خوش ہی ہوتے کہ چلو اب بابے کی نہری زمین کا تو کوئی فیصلہ ہوگا لیکن میراثیوں کو کون چپ کرائے جی۔ ان کی کون سی کوئی بریکیں ہیں۔

جی ہاں، جس طرح جنگلوں کا قانون ہوا کرتا ہے اسی طرح کمیوں کے بھی خاندان ہوا کرتے ہیں، وہ بھی سربراہان سمیت۔ تو ایک دن کسی نے ہمارے گاؤں کی میراثی برادری کے سربراہ دوسے میراثی سے پوچھا کہ بابا مرتا مَلکوں کا بابا ہے اور موت تم لوگوں کو پڑ جاتی ہے۔ مالک جو بھی ہو رہتا تو وہی ہے۔ شکل ہی بدلتی ہے۔ کون سا کوئی آنے والا تم سے وہ چھین لے گا جو پچھلے نے عنایت کیا ہوا تھا۔ تمہاری قسمت میں تو وہی دو مٹھ کنک ہی رہنی ہے۔ کوئی نیا وارث آئے یا بہو۔ تمھارے کون سا نام مربعے لگ جانے ہیں۔ بابے تو نے کون سا چودھری بن جانا ہے۔ اتنا رولا کس بات کا مچاتے ہو وہ بھی ٹبر سمیت؟ تیری تو ڈھولکی بھی وہی رہنی ہے اور بھوک ننگ بھی۔

\"trump2\" \"hillary\"دوسے نے اپنی موٹی سی کالے فریم والی عینک،جس کی ایک کمان کی جگہ اب ماسی کے پرانے ململ کے دوپٹے کی بٹی ہوئی لیر نے لے لی، کو بڑے ہی کوئی فلسفیانہ انداز میں اپنی گول ناک پر جمایا اور جھریوں بھرے ماتھے سے نادیدہ پسینہ پونچھتے ہوئے اپنی گا گا کر موٹی ہو چکی آواز میں بولا

’مولا خوش رکھے۔ ہم میراثیوں کے گھروں میں رشتے تک مَلکوں کی مرضی سے طے ہوتے ہیں۔ ہمارا کاکا تعلیم اسکول میں حاصل کرے گا یا ہماری ہی ڈھولکی پر، ویلیں دس کے نوٹ کی ہوں یا ہزار کی، کنک دس مٹھ ہو یا تین، یہ سب تو انہی کے ہاتھ میں ہے۔ تو باؤ، ان کی میت ہماری ہی میت بنی نا؟ ان کا کاکا ہمارا ہی کاکا ہوا نا؟‘

یہ کہہ کر بابے نے سگریٹ سلگائی اور ’بھاگ لگے رہن‘ کا نعرہ لگاتا اپنی راہ ہوا۔

کہتا تو ٹھیک تھا۔

آپ بھی کہتے ہوں گے کہ ادھر دنیا کا نقشہ بگڑنے کو ہے اور اس پینڈو کو آج بھی میراثیوں کے اقوال زریں ہی یاد ہیں۔ وہاں امریکہ بہادر کی دنیا گلزار سے راکھ ہونے والی ہے اور یہاں بابے دوسے کا ہی قصہ جاری ہے۔ ونس اے پینڈو آلویز اے پینڈو! لیکن کیا کریں بادشاہو، یہاں کون سی کوئی وکھری کہانی چل رہی ہے۔ وہی بابا دوسا وہی مَلک۔ درد امریکی مَلک کو ہے اور بین ہم تیسری دنیا کے میراثی ڈال رہے ہیں۔ کب سے انتظار تھا ان ووٹوں کا جن میں ہماری تقدیر کا فیصلہ لکھا تھا۔ ظاہری بات ہے اصل صدر تو امریکی ہی ہے نا ہمارا بھی۔ ہماری قسمت کی ڈور تو اسی مَلک کے ہاتھ میں ہے۔ اپنے والے تو پتا نہیں جیتے بھی ہیں یا مر گئے۔ 23 مارچ کی پریڈ یا چین کے دورے کی اگلی فوٹو پر ہی معلوم ہو گی ان کی اس دنیا میں موجودگی۔

چلو جی، ہم بھی شروع ہو جائیں پھر؟ بھاگ لگے رہن۔ ہلیری بیگم کو ستے خیراں، مبارکاں۔ متھے تے چمکن وال۔۔۔ اوہ کندھا کیوں مار رہے ہیں؟ ہائیں جی؟ یہ ٹرمپ خان صاحب کو کہنا تھا؟ الیکشن یہ والی بی بی نہیں جیتیں؟ اوہ مبارک تو پھر بھی مَلکانی ہلیری جی کی ہی بنتی ہے نا۔ جیت جاتیں تو دن رات چٹی کوٹھی کا عذاب بھی سہتیں اور باہر کھڑے ٹرمپ خان صاحب کے آوازے بھی سنتیں۔

\’یہ دھاندلی ہوئی ہے۔ ہمارے چار حلقے کھولے جائیں۔\’

\’ہم یہ نتائج مسترد کرتے ہیں۔\’

\’اوئے ہلیری!\’

\’جینا ہو گا مارنا ہو گا
چٹی کوٹھی کے باہر دھرنا ہو گا\’

\’ہم واشنگٹن کا لاک ڈاؤن کریں گے۔\’

’گلی گلی میں شور ہے

ہلیری بی بی چور ہے‘

‘گو ہلیری گو‘

‘اس کا میاں تو اس عمر میں بھی لڑکیوں کو چھیڑتا ہے۔\’

\’اوئے اس کی تو اپنی شادی گھر سے بھاگ کر ہے۔\’

\’اوئے، اوئے، اوئے۔۔۔\’

مولا خوش رکھے مَلکانی جی۔ آپ ہیں شریف گھر کی بیگم۔ وہ حاجی کلنٹن صاحب تو ریٹائرمنٹ سے پہلے پیش امام تھے۔ ان کی پارسائی کے گن تو مونیکا بی بی سمیت پوری دنیا گاتی ہے۔ ایسے شریف آدمی کی بیوی پر کیچڑ اچھلے تو سوچیں حاجی صاحب کسی کو منہ دکھانے جوگے رہ جاتے ہیں؟ نیک بیبیاں تو بس گھر میں رہتی ہیں۔ سیاست بھی چار دیواری تک ہی کرتی ہیں۔ آپ کو لگا کہ آپ حاجی صاحب سے علیحدہ بھی کسی شخصیت کی مالک ہیں؟ نہیں نہیں، آپ ایسی تھوڑی ہیں۔ جو غلطی ہوئی ہو گئی۔ لیکن اللہ نے بڑی عزت رکھی جی۔ داتا صاحب میٹھے اور سلونے چاولوں کی دیگ چڑھائیں جی۔ ملانیا بیبی کے لیے مبارک کی مٹھائی کے ساتھ کشمیری ٹانکے کی کڑھائی والا دوپٹہ ضرور لے کے جائیں۔ اٹھیں، شاباش۔ آپ کو تو تجربہ ہے نا۔ ذرا کوئی دو، چار گر نکی بہن کو بھی سکھا دیں چٹی کوٹھی میں شرافت سے نیک زندگی گزارنے کے۔ ایک تو خان صاحب غصّے کے تیز اوپر سے آپ نے حاجی صاحب کی بلاوجہ کی نیکیوں پر جیسے لب سئے ہیں یہی تو شریف گھر کی بیگم کا زیور ہے۔ ویسے تو وہ خود بھی عقل والی لگتی ہیں۔ کبھی جو ٹرمپ خان صاحب سے پوچھے بغیر اپنی امی کے گھر بھی گئی ہوں۔ خیر نہ پوچھ کر جہنم میں تھوڑی جانا۔

Facebook Comments HS

One thought on “مولا خوش رکھے مَلکانی ہلیری جی!

  • 11/11/2016 at 10:11 صبح
    Permalink

    طنزومزاح میں لپٹے حقائق پر مبنی ایک شوخ وچنچل تحریر ۔
    مولاخوش رکھے میراثیات کا جامع مشاہدہ اور تراکیب قابل تحسین ہیں۔

Comments are closed.