موہے پیا ملن کی آس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں دو کپ چائے بنا لائی اور دونوں کپ کھڑکی کی چوکھٹ پر رکھ دیے۔ آج تو میں نے بھی ٹھان رکھا تھا، اس روح اور فضا کا حبس کم کر کے ہی رہوں گی۔ یہ سوچ کر کہ آج اپنی بندگی کا صلہ مانگوں کی۔ میری ہاتھ کی خوش بو دار چائے پیے۔ میں لمس کی ترسی، اسے اپنے سامنے بٹھاؤں گی۔ محسوس تو کئی بار کیا تھا، مگر آج چھو کے دیکھوں گی۔ اس پہر دو پیالی چائے بنا کر لائی تھی۔ پیالی میں چائے کا رنگ بدل چکا تھا۔

کھڑکی کھلی ہوئی ہونے کے با وجود کمرے میں حبس تھا۔ یہ کس کمرے کی کھڑکی کھول دی تھی میں نے؟ اپنے دل کے کمرے کی! اس برسوں سے بند کھڑکی کو کھولنے میں بہت مشقت ہوئی تھی۔ پہروں کو گرمیوں کی دُپہروں اور سردیوں کی شاموں میں تلاش کیا تھا۔

اس شام موسم اپنے جوبن پر تھا۔ آسمان سیاہ بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا، مگر برسا نہیں تھا۔ میں کسی جاں فزا لمحے کی متلاشی تھی۔ ابر آلود آسمان اور حبس۔ پھر اتنے میں، بادل اپنی بھاری ہوتی کوکھ میں پانی کی بوندیں سنبھال نہیں پائے۔ پہلے قطرہ قطرہ ٹپکنے لگا پھر کھل کے میگھا برسا۔ میں نے اس مینہ سے کیا سیراب ہونا تھا، میں جو برسوں سے صحرا تھی۔ پیاسی۔ بس ایک امید تھی کہ کھل کر سانس آئے گی۔ جس سچ کو میں نے پا لیا تھا، میں سمجھ رہی تھی وہ میرا سچ ہے۔

ہاں تو میں کیا کہ رہی تھی؟ پیالی میں چائے کا رنگ بدل چکا تھا۔ کھڑکی کھلی تھی۔ حبس کم ہو رہا تھا۔ ہلکی خنکی کمرے کی فضا میں پھیل چکی تھی۔ میں نے برسوں کا اکلاپا دور کرنے کے لیے بڑا کشٹ بھوگا تھا۔ جیسے وہ راضی ہوتا تھا، میں موم ویسی ڈھلتی چلی گئی۔ سچ تو کھڑکی کھولنے کی کڑی مشقت کے بعد مل گیا، مگر یہ سچ جو مجھے ملا، یہ میرا سچ نہیں۔ کسی اور کا سچ ہے۔

اس کا شوق تھا کہ میں اس سے بات کروں۔ میں ہر بدلتے پہر میں اس سے باتیں کرتی۔ وہ مسکرا دیتا تھا۔ کم از کم مجھے تو یہی لگتا تھا۔ جب میں اپنی باتوں کا جواب مانگتی، تو وہ مجھے اپنی کتاب پڑھنے کو کہتا۔ اس کا کہنا تھا، اس کے جی میں جو جو تھا، سب اس میں لکھ رکھا ہے۔ مجھے اس سے عشق ہو چکا تھا۔ اس نے بھی میرے عشق کو قبول کر لیا ہو گا۔ میں جوگن بن کے اس کے حضور بیٹھی رہتی۔ وہ بھی ہر پل روبرو رہتا۔ میں عاشق تھی، وہ معشوق۔ میں داسی تھی، وہ صنم۔ معشوق کی ہر ادا کے سامنے سر تسلیم خم رہتا ہے۔

وہ جو میرے دل کی کھلی کھڑکی تھی، میں نے اس راستے اسے داخل کیا، اور اپنا سردار مانا۔ یہ احساس ہی کتنا جاں فزا ہے، کہ کوئی آپ کے دل پر راج کرے۔ یہ پاپی دل نہ جانے کیوں طلب بھی رکھتا ہے۔

میں نے دونوں کپ کھڑکی کی چوکھٹ پر رکھ دیے۔ میں نے اسے عورت کی فطری دلیری کے وصف پکارا۔
؎ کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں

میں پکارتی رہی۔ پکارتی رہی، اور بس پکارتی رہی۔ اتنے برس پکارا، کہ پیالی میں چائے کا رنگ بدل گیا۔ وہ دل میں مجھے سنائی دینے لگا۔ پھر میں نے اس کتاب کے سچ کو جانا۔ ہم دونوں کی دنیائیں الگ تھیں۔ اس کا بسیرا کہاں تھا، یہ تو میں بتانا ہی بھول گئی۔ وہ عرش بریں کا مالک، میں درد سے بلکتی اس دنیا کی باسی۔ دونوں کی جاگیر الگ۔ راستے الگ، منظر الگ۔ وہ مرضی کا مالک اور میں سدا کا مجبور بشر۔ ہم دونوں کا کوئی میل نہیں تھا۔

محبت اسے بھی تھی مجھ سے، اور عشق کا دعوا مجھے بھی تھا۔ میں بشر، اس بھری دنیا کی کڑواہٹ جھیلتا انسان۔ ۔ ۔ اور وہ؟ وہ میرے دل شکستہ میں رہنے کے باوجود، میری طلب پوری کرنے سے انکاری۔ چائے کی ایک اضافی پیالی اور موسم نے، سب کچھ واضح کر کے رکھ دیا۔ وہ اکیلا ہے، تو میں بھی اکیلی ہوں۔ اسے تو ساتھی نہیں چاہیے، مجھے ساتھ کی طلب ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply