امریکی انتخابات سے فوری سبق سیکھنے کی ضرورت

\"wajahat1\"ہم لوگ لکیر کے فقیر ہیں۔ ہم نئی دنیا کی حرکیات نہیں سمجھتے۔ امریکا سپر پاور ہے اور امریکا کے سپر پاور ہونے کا راز یہی ہے کہ امریکی بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضے سب سے بہتر سمجھتے ہیں۔ امریکی انتخابات میں ری پبلکن امید وار ڈونلڈ ٹرمپ کو شاندار فتح حاصل ہوئی ہے ۔ بظایر ڈیموکریٹک  پارٹی کو شکست ہوئی ہے تاہم امریکا میں اس سے قبل بھی 44 افراد صدر منتخب ہو چکے ہیں۔ اس لئے حالیہ انتخاب کو محض ایک پارٹی کی فتح یا شکست نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس مرتبہ ایک سفید فام  مرد صدر کا انتخاب جیتا ہے۔ عورتوں کے حقوق کی بات کرنے والی ہلیری کلنٹن ناکام ہوئی ہے۔ افریقی امریکیوں کے حقوق کے علم بردار ناکام ہوئے ہیں۔ اقلیتوں کے تحفظ کا نعرہ پٹ گیا ہے۔ جو لوگ کہتے تھے کہ کسی فرد کے جرائم کو اس کے گروہ یا قبیلے کے سر نہیں تھونپنا چاہیے، دہشت گردی کو اسلام کے مترادف قرار نہیں دیںا چاہیے، انہیں اس انتخاب میں ناکامی ہوئی ہے۔ غریب کے نام پر غریب فروشی کرنے والے ہار گئے ہیں۔ ڈٹ کر دولت مندوں کی حمایت کرنے والے جیت گئے ہیں۔ اقوام عالم میں افہام و تفہیم کے رویے کو بری طرح مات ہوئی ہے۔ کمزور طبقات کے لئے تعلیم، خوراک اور علاج معالجے میں زیادہ مواقع مانگنے والے جمہوریت کی لڑائی ہار گئے ہیں۔ طاقت کے بل پر معیشت، ماحولیات، عسکری مفادات اور تجارت میں بڑی طاقتوں کے لئے زیادہ حصہ اور مراعات مانگنے والے کامیاب ٹھہرے ہیں۔

دنیا بھر میں میڈیا، ٹیلی ویژن اور اخبارات میں انسانی حقوق کی کتابی باتیں کرنے والے امریکی عوام کی رائے کے بارے میں درست اندازے نہیں لگا سکے۔ ڈونلڈ  ٹرمپ کی کامیابی سے واضح ہو گیا ہے کہ فوری مفاد ہی حقیقی مفاد ہے۔ یہ کھلی منڈی کی منہ زور معیشت کی شاندار کامیابی ہے۔ ایک طویل عرصے سے یہ سوال اٹھایا جا رہا تھا کہ جمہوری سیاست کی اقدار اور منافع کی خواہش میں توازن پیدا کرنے کی کیا صورت ہو سکتی ہے۔ امریکا میں رائے دہندگان نے واضح کیا ہے کہ ایسے کسی توازن کی ضرورت نہیں۔ انسانوں کی قسمت سرمایہ داروں کے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔ ہر ملک کو اپنے مفاد میں دوسروں پر چڑھ دوڑنا چاہیے۔ ہر ملک میں سرمایہ دار کو پورا \"trump2\"موقع ملنا چاہیے کہ اپنے منافع میں بلا روک ٹوک اضافہ کر سکے۔ بلاشبہ ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی سے دنیا بھر میں انتہا پسند اور شدت پسند رجحانات میں قابل فخر اضافہ ہو گا۔ اس تبدیلی کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔

قبل ازیں بھارت کے 2014 کے عام انتخابات میں نریںدر مودی کی قوم پرست سیاست کو سنہری کامیابی ملی تھی۔ اس کے بعد سے بھارت میں مسلمان اقلیت کے حالات بہت بہتر ہوئے ہیں۔ کشمیر میں امن و امان کی صورت حال میں واضح بہتری نظر آ رہی ہے۔ برما میں روہنگیا مسلمانوں پر مظالم ختم ہو چکے ہیں کیونکہ برما کے شمال میں واقع عظیم ملک عوامی جمہوریہ چیں دریائے ایراوتی کے ڈیلٹا سے ہوتا ہوا بحیرہ بنگال کے جنوبی ساحلوں تک پہنچنا چاہتا ہے۔ اسی طرح برطانیہ میں یوروپی یونیں کے ساتھ وسیع تر اشتراک کی حامی قوتوں  کو ریفرنڈم میں زبردست شکست ہوئی ہے۔ برطانیہ عظمیٰ کی برتری اور جداگانہ تشخص کی حامی سیاست کو برطانیہ میں کامیابی ملی ہے۔ امید رکھنی چاہیے کہ جرمنی میں چانسلر انجلیںا مرکل کو آئندہ انتخابات میں شکست ہو گی۔ فرانس میں نیشنل فرنٹ کی عقاب صفت رہنما میریں لا پاں کامیاب ہوں گی۔

ہمیں اس صورت حال کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنا چاہیے تاکہ ہم امریکی انتخابات سے سبق سیکھتے ہوئے طاقت اور زور آوری کی حمایت کر سکیں۔ ہمیں پاکستان میں عورتوں کے حق میں کسی قسم کی قانون سازی سے گریز کرنا چاہیے۔ عورتوں کے خلاف پہلے سے موجود امتیازی قوانیں کو مزید سخت کرنا چاہیے۔ عورتوں کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عاید کرنا قومی مفاد کا تقاجا ہے۔ عورتوں کو تمام کلیدی عہدوں سے فوری طور پر برطرف کر دینا چاہیے۔ اس ضمن میں ہمارے درمیان موجود ان عناصر سے رہنمائی لینی چاہیے جو افغانستان کی اسلامی امارات کے تجربات سے بہرہ ور ہیں۔

ہمارے ملک میں رواں برس کے دوران پھانسیوں کی تعداد شرم ناک حد تک کم رہی ہے۔ چیں، امریکا اور سعودی عرب کی ترقی کا راز پھانسی کی سزا میں ہے۔ پھانسی کی سزا کو عام کر دیںا چاہیے۔ بلکہ اس ضمن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اختیار دیںا چاہیے کہ حسب ضرورت جرائم پیشہ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے۔ اس ضمن میں سست اور غافل عدالتوں سے انصاف کی زیادہ توقع نہیں رکھنی چاہیے۔\"Merkel-tells-teary-eyed-Palestinian-girl-some-immigrants-have-to-go-back\"

اقلیتوں کے بارے میں ہم نے دہرا معیار اپنا رکھا ہے۔ اگرچہ، وطن عزیز کے گلی کوچے گواہ ہیں کہ ہم اپنے جذبات کی راہ میں دو چار جانوں کے زیاں کی پروا نہیں کرتے، تاہم ہمیں دو ٹوک پالیسی اپناتے ہوئے اپنے قومی مفاد کی رکھوالی کرنی چاہیے۔ اس ضمن میں غیروں کے پروپیگنڈے پر کان دھرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر کوئی نشان دہی کرے گا کہ ہمارے ملک میں کسی کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے تو ہم صاف صاف بتا دیں گے کہ امریکا، بھارت اور یورپ کے ممالک میں کون سے اخلاقی معیارات کی پاس داری کی جا رہی ہے۔ اخلاق وہی ہے جسے سرمائے کی حمایت حاصل ہو، جسے عوام کی اکثریت کی تائید مل سکے، اور جسے وقت پڑنے پر ہتھیاروں کی مدد سے منوایا جا سکے۔

اس موقع پر اس بنیادی مسئلے کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے کہ ہم کئی برسوں سے اعلان کرتے چلے آ رہے ہیں کہ ہمارے ملک میں کسی قسم کی انتہا پسندی موجود نہیں۔ بلک ہم نے چند مواقع پر اس قسم کی عاقبت نااندیش رائے بھی ظاہر کی کہ ہم اپنے ملک میں انتہا پسندی پیدا نہیں ہونے دیں گے۔ اب جب کہ دنیا کی ترقی یافتہ اقوام نے انتہا پسندی کی ضرورت کو تسلیم کر لیا ہے، ہمیں اپنے ملک میں ہر طرح کی انتہا پسندی کی حوصلہ افزائی کرنئی چاہیے۔ میڈیا میں اشتعال انگیزی سے روکنے والے شرپسند اور ملک دشمن عناصر کی ناشندہی کرنی چاہیے۔ قومی ایکشن پلان کو سیاسی حقوق وغیرہ مانگنے والے گمراہ عناصر کے خلاف بھرپور طریقے سے بروئے کار لانا چاہیے۔ اس ضمن میں آزاد صحافیوں، اہل سرکاری افسروں اور علمائے حق کے وفود جلد از جلد امریکا، شمالی کوریا، بھارت، برما۔ عراق اور دوسرے مثالی ممالک کی طرف روانہ کئے جائیں تاکہ ان ممالک کے حالات کا مطالعہ کر کے اپنے وطن کے لئے قابل عمل اور مفید پالیسیاں مرتب کی جا سکیں۔ سابق صدر پرویز مشرف سے درخواست کی جائے کہ وہ فوراً وطن واپس لوٹ آئیں۔ ملک و قوم کو اس نازک مرحلے پر ان کی\"Frenchرہنمائی کی سخت ضرورت ہے۔ انتہا پسندی کی اصولی اور اخلاقی حمایت کرنے والے مذہبی مدارس کے لئے سرکاری اور غیر سرکاری امداد میں فوراً اضافہ کرنا چاہیے۔ درد دل رکھنے والے افراد اور تنظیموں کی مالی امداد پر عائد نادیدہ پابندیاں فوراً اٹھانی چاہییں۔ ہر بڑے شہر کے مرکزی چوک میں دھرنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ فرقہ وارانہ لٹریچر کی نشر و اشاعت میں حائل فتنہ انگیز رکاوٹیں ہٹانا ایک اہم قومی ضرورت ہے۔ سرکاری اسکولوں اور درس گاہوں مین اشتعال انگیز نصاب تعلیم کو فروغ دینا چاہیے۔  یہ معاملات ہنگامی نوعیت کے ایسے بنیادی فیصلوں کا تقاضا کرتے ہیں جو نااہل، بدعنوان، موروثی اور مفاد پرست سیاست دانوں کے مٹھی بھر ٹولے کے بس سے باہر ہیں۔ اس ضمن میں آئینی معاملات پر رہنمائی کے لئے حسن اتفاق سے تجربہ کار، اور منصف مزاج صحافیوں، دانش وروں اور علمائے کرام کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ قومی تاریخ کے اس نازک موڑ پر ان محب وطن حلقوں سے رجوع کیا جائے اور انہیں ضروری اختیارات دیے جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس چیلنج پر پورے نہ اتر سکیں۔ ہمیں بہرصورت امریکا اور دوسری نام نہاد بڑے طاقتوں سے اپنا لوہا منوانا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت میں غیبی امداد ظاپر ہو چکی ہے جو انتہا پسند پالیسیوں کی اہمیت سے بخوبی واقف ہے۔ اگر ہم نے قومی ترقی اور سلامتی کو یقینی بنانے کا یہ موقع گنوا دیا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words