EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

عام امریکی صدر ٹرمپ کو خط لکھتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"husnain

صدر محترم جناب ڈانلڈ صاحب ٹرمپ دام اقبالہ،

آج ایک تاریخ ساز دن ہے۔ قوم نے آپ کو منتخب کیا اور ہمیں درد کی وہ شدت بھلانے میں مدد دی جو صدر اوباما کے منتخب ہونے پر ہم نے محسوس کیا تھا۔ آپ کو معلوم بھی نہیں ہو گا، مجھے یاد ہے، کس طرح اپنی بیوی کو فون کرتے ہوئے میں نے دھاڑیں مار مار کر روتے ہوئے یہ خبر سنائی تھی کہ اوباما صدر بن چکا ہے۔ آج اپنے آس پاس موجود کئی لوگوں کو میں اسی رنج میں مبتلا دیکھتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ وقت کیسے پر لگا کر اڑتا ہے۔

آپ کی الیکشن مہم کے دوران میں مختلف چینل دیکھتا تھا اور سوچتا تھا کہ یہ لوگ کس وجہ سے اتنی نفرت پھیلا رہے ہیں۔ آپ بدنام ہوں، آپ ناکام ہوں، وہ دل سے چاہتے تھے۔ آج ان سب کے ہونٹوں پر احترام کی مہر لگی ہوئی ہے۔ خداوند برتر آپ کو کامیاب رکھے، آپ نے ہمارے امریکہ کو عظیم تر بنانا ہے۔ آپ نے امریکہ پھر سے ہمارے رہنے کے قابل بنانا ہے۔ خدا ہماری دعائیں سنے گا، یہ ہمیں یقین تھا۔

دنیا رہنے کے قابل نہ رہتی اگر ہیلیری منتخب ہو جاتی۔ ہمارے بہت سے ہمسائے اسے سپورٹ کرتے تھے، دن رات اس کی تقریریں سنتے اور ہم سب کی طرف دیکھ کر طنز سے مسکراتے تھے۔ دو چار تو جوش جذبات میں یہ تک کہہ چکے تھے کہ ٹرمپ صدر بنے تو ہم امریکہ چھوڑ دیں گے۔ کہاں ہیں وہ سارے لوگ، ذرا سامنے آئیں، ہم بھی دیکھیں ان کے دعوے میں کتنی سچائی تھی۔ عظمت کردار کی بلند و بانگ آوازیں لگانے والے بتائیں یہ کھوکھلی باتیں نہیں تھیں، اب وہ اپنے کہے پر عمل کریں، ملک چھوڑیں اور ہمیں اپنے سچ ہونے کا ثبوت دیں۔ وہ لوگ ساری عمر اس دن کو روتے رہیں گے، یہ ان کے نزدیک زندگی کا تاریک ترین دن ہو گا لیکن، لیکن امریکہ وہ اب بھی نہیں چھوڑیں گے۔ نفرت کرنے والے اب ڈوب مریں۔

\"donald-trump-2\"

ہم نے تمام دنیا کے لوگوں کے لیے اپنے بازو کھلے رکھے۔ لوگ آتے گئے یہاں آباد ہوتے گئے۔ اپنی مرضی کے کاروبار کیے، نوکریاں کیں، ترقی کرتے رہے۔ ہم خوشی خوشی یہ سب کچھ دیکھتے رہے۔ لیکن پھر ہم نے یہ بھی دیکھا کہ ہمارے بچوں کے لیے اعلی تعلیم کے مواقع کم ہوتے گئے، ہماری میڈیکل سہولتوں میں کمی ہوتی گئی، ہمارے ہتھیاروں پر لوگوں نے انگلیاں اٹھانی شروع کر دیں، ہمیں کہا جانے لگا کہ ہم متعصب گورے لوگ ہیں۔ کچھ لوگوں نے تو باقاعدہ ہمارے رہن سہن پر الزام تراشی شروع کر دی۔ ارے جاہلو، تم یہ سب کرو گے اور ہم تمہیں انڈورس کریں گے، یہ سوچا بھی کیسے۔ ٹرمپ صاحب، آج کی فتح حق کی فتح ہے۔ آج کی فتح ہماری روایات کی فتح ہے، آج کی فتح ہم پر خدا کا انعام ہے۔

آج کے تاریخ ساز دن ہم نے یہ بھی دیکھا کہ لبرلوں کے چہرے سے نقاب کیسے اترتا ہے۔ وہ لوگ جو آپ کے خلاف سوشل میڈیا پر تعصب بھرے کمنٹ کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ بے ہودہ گوئی کے ماہر ہیں، آپ بے وقوفانہ حد تک ظالم ہیں، آپ کا دماغ جگہ پر نہیں ہے، آپ نسل پرست ہیں، آپ مغرور ہیں، آپ دوسروں کا احترام کرنا نہیں جانتے، آپ نفرت بھری باتیں کرتے ہیں، وہ سب لوگ خود کیا کر رہے ہیں، وہ بھی تو آپ کے خلاف یہی سب کچھ کر رہے ہیں۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے آپ کی شدید ترین کردار کشی کی، آپ کے برہنہ کارٹون نما مجسمے لگائے گئے اور جب یہی سب ان کی لیڈر کے ساتھ ہوا تو دنیا خواتین کے احترام اور اخلاقیات کے بھاشن دینے لگی۔ یہ دوہرے معیار والے لوگ آج سامنے آ چکے ہیں۔ آج ان کے چہرے دیکھنے اور ان کے مایوسانہ تبصرے سن کر انہیں انجوائے کرنے کا دن ہے۔

مجھے تو بش فیملی پر حیرت ہوتی ہے، انہوں نے بھی اپنے فوجی مروانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انہوں نے ایک ایسے عظیم انسان کا ساتھ نہ دیا جو کبھی ایف بی آئی کے سامنے پیش نہ ہوا، عدالتوں میں کبھی مجرم نہیں ٹھہرایا گیا، کبھی خطرناک تحقیقاتی کارروائیوں کا حصہ نہیں رہا اور پھر بھی دنیا کے کامیاب ترین کاروباری لوگوں میں سے ایک ہے۔ بش خاندان یہ بھی نہ جان پایا کہ ٹرمپ کی آواز ایک عام امریکی کی آواز ہے، کمال ہے! آفرین ہے بھئی سیاست پر آپ کی۔ ٹرمپ وہ امریکی تھا جو اپنا تمام تر اثاثہ داؤ پر لگا کر اپنے ہم وطنوں کی خاطر کھڑا ہوا، نفرتیں جھیلیں، وال سٹریٹ کے ٹھگ جس کے خلاف رہے، حتی کہ اس سازشی ٹولے کی نفرت کا بھی سامنا کیا جو امریکہ سے باہر کا تھا لیکن امریکی سیاست پر اپنا حق سمجھتا تھا اور کلنٹن خاندان کے ساتھ مل کر ہمیں سمجھاتا تھا کہ ہم اپنا ملک کیسے چلائیں۔ وہ لوگ یہ تک نہیں جان پائے کہ ٹرمپ عظیم امریکہ میں واحد سیاستدان ہے جو اپنی ذاتی جیب سے اپنی الیکشن مہم کے خرچے اٹھاتا ہے، اور اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کا دلیری سے سامنا کرتا ہے۔

\"trump\"

دنیا کو مبارک ہو کہ ہم نے وہ شخص چنا جو اپنے ملک اور لوگوں کی محبت میں ڈوبا ہوا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکی حکومت میں موجود تمام کرپٹ لوگوں کا احتساب کیا جائے، اور خصوصاً ان کا کہ جن کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے پھینکنے کا آپ نے وعدہ کیا تھا۔ کوئی بڑے سے بڑا سیاست دان ہی کیوں نہ ہو، ہمیں یقین ہے کہ اب احتساب ہو گا اور سب کے لیے برابر ہو گا۔

جناب ٹرمپ، میں یقین ہے کہ گلوبلائزیشن اور ملٹی کلچرل سوسائٹی جیسے نعروں کے پردے میں جو گند یہ لوگ گھولتے رہے ہیں، اب اس کا حساب لیا جائے گا۔ وہ نہیں جانتے کہ یہ سب باتیں عام امریکی کا پیٹ نہیں بھرتیں۔ عام امریکی جو ان کی طرح بہت زیادہ پڑھا لکھا نہیں ہے، جو مڈل کلاسیا ہے جو چھوٹی چھوٹی نوکریاں کرتا ہے۔ جو بس حیرانی سے دیکھتا رہتا ہے کہ یہ کون لوگ ہیں، کہاں سے آئے ہیں، کیوں ہم پر مسلط ہوتے جا رہے ہیں اور گلوبلائزیشن کے چکر میں ہمیں غیر محفوظ کر رہے ہیں۔ عام امریکی وہ ہے جس نے نو گیارہ کی ہار دیکھی، آج گیارہ نو ہے، اور یہ عام امریکی کی فتح ہے۔

جناب صدر، جو لوگ یہ چلاتے پھر رہے ہیں کہ امریکہ ایک شاک کی کیفیت میں ہے، امریکی رنج و الم میں ڈوبے ہوئے ہیں، امریکیوں کو اپنے فیصلے پر افسوس ہے، مجھے افسوس ہے کہ وہ کنوئیں کے مینڈک ہیں۔ وہ اپنے کنوئیں کہ منڈیر سے جھانک کر باہر کچھ دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔ ہم سب نے آپ کو ووٹ دیا، ہمیں اپنی دعا اور آپ کی کامیابی پر ایسا ہی یقین تھا جیسے کسی کو اگلے دن کا سورج نکلنے پر یقین ہو گا۔ انہیں کوئی جا کر کہہ دے کہ خدا کے واسطے یہ مت کہو ”پورا امریکہ شاک میں ہے“، وہ ہماری بات تو کرتے ہی نہیں، وہ صرف ایک طرف کی بات کرتے ہیں، ان کے نزدیک پورا امریکہ شاید وہ ہے جسے وہ خود امریکہ سمجھتے ہیں، امریکہ ہم ہیں، امریکہ آپ ہیں، وہ کون ہوتے ہیں یہ سب کہنے والے۔ امریکیوں کی اکٹریت اب میڈیا کے یک طرفہ بھاشنوں پر یقین نہیں رکھتی وہ جانتے ہیں انہیں کیا کرنا ہے، وہ خوش اور مطمئن ہیں۔ الیکشنوں کے فیصلے اگر میڈیا یا سوشل میڈیا پر ہوتے تو جناب صدر بہت سے ملکوں کے حکم ران پاگل قسم کے لوگ ہوتے۔

خداوند کریم آپ کا اقبال بلند کرے

آپ کا چاہنے والا

ایک عام امریکی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 491 posts and counting.See all posts by husnain

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے