مگر میرا بیٹا نہیں سمجھتا

ڈیڈی ہم مر کیوں جاتے ہیں! ڈیڈی ہم مرنے کے بعد کہاں چلے جاتے ہیں! ہم لائٹ کو دیکھتے ہیں تو ہمیں نظر کیوں نہیں آتا؟ فیش مر کیوں جاتی ہے! ڈیڈی سپائیڈر مین رئیل میں کیوں نہیں ہوتا۔ یہ سوالات جب میرا پانچ سال کا بیٹا میرے بازو پر سر رکھ کر بڑی ہی معصومیت سے پوچھتا ہے تو اس وقت میرا دماغ کمرے سے باہر چلا جاتا ہے۔ میرے پاس ان سوالات کا جواب نہیں ہے مگر میرا بیٹا مجھے دنیا کا سب سے عقل مند انسان سمجھتا ہے اس کو پتا ہے کہ اس کے ڈیڈی دنیا کی ہر چیز جانتے ہیں اور ان کو ہر چیز کا پتا ہے۔

میں اپنے بیٹے کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم مر کیوں جاتے ہیں۔ میں اس کو بتانا چاہتا ہوں کہ پوری دنیا میں روزانہ 1,50,000 لوگ مر جاتے ہیں اور یہ کہ پاکستان سے زیادہ یورپ میں لوگ مرتے ہیں۔ اس کی وجہ دل کی تکالیف ہیں۔ مگر میرا بیٹا یہ سب نہیں سمجھتا اور جو سمجھتے ہیں وہ مرنے سے بچ نہیں سکتے۔

میں اپنے بیٹے کو بتانا چاہتا ہوں کہ کئی لوگ جیتے جی بھی مرے ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہوئے بھی اپنی ماں کو ملنا نہیں چاہتے۔ وہ اپنے بھائیوں کی شکل بھی دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں نہایت پرسکون زندگی گزار کر بے نامی کی موت مرنا چاہتے ہیں۔ وہ کوئی risk لینا نہیں چاہتے۔ یاد رکھیں کہ حساس لوگ ہی دنیا بدلتے ہیں جبکہ یہ بے حس لوگ ہوتے ہیں۔ یہ لوگ زیادہ سے زیادہ اپنا آپ بدلتے ہیں۔

یہ لوگ اپنے بڑھے ہوئے پیٹ کو چھوٹا کرتے ہیں۔ اپنے کالے رنگ کو سفید کرتے ہیں۔ اپنے گرتے بالوں کو دوبارہ اگا لیتے ہیں۔ مگر یہ لوگ کسی دوسرے کے کام آنا نہیں چاہتے۔ یہ لوگ اپنی بیویوں کے غلام ہوتے ہیں اپنی خواہشوں کے تابعدار ہوتے ہیں۔ یہ اپنی دنیا میں رہتے ہیں۔ ان کی دنیا بہت چھوٹی ہوتی ہے جس کی نتیجے میں ان کی زندگی بھی چھوٹی ہو جاتی ہے۔ یہ لوگ مرنا نہیں چاہتے کوئی بھی مرنا نہیں چاہتا۔ مگر یہ موت سے ایسے ڈرتے ہیں جیسے مرگی کا مریض پانی سے ڈرتا ہے۔ یہ ٹینشن نہیں لیتے۔

میں اپنے پانچ سال کے بیٹے کو یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ ہم مرنے کے بعد کہاں چلے جاتے ہیں۔ میں اسے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مرنے کے بعد مسلمان جنت میں اور کافر دوزخ میں چلے جاتے ہیں۔ حالانکہ مرنے کے بعد ابھی قبر کے مراحل طے کرنے ہیں اور کئی صدیاں گزرنے کے بعد جنت یا جہنم کا فیصلہ ہونا ہے۔ مگر میرا بیٹا یہ نہیں سمجھتا۔ اس کو ساری چیزیں اچھی ہی لگتی ہیں۔ اس کو اندازہ ہے کہ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے پاس لے جاتے ہیں اور ان کو کھلونے دیتے ہیں۔ طرح طرح کے کھلونے۔ رنگ برنگ کے کھلونے۔ نیلے پیلے ہر رنگ اور ہر قسم کے نئے اور نہ ٹوٹنے والے کھلونے۔ مگر میرا بیٹا نہیں جانتا کہ یہ اچھے کھلونے صرف اچھے لوگوں کو ملتے ہیں۔

میرا بیٹا سائنسی تجربے کرتا رہتا ہے۔ وہ بڑا ہو کر سائنٹسٹ بننا چاہتا ہے۔ وہ ہر نئے کھلونے کو کھول کر دیکھتا ہے کہ اندر کیا چیزیں لگی ہوئی ہیں۔ اس کی جستجو نئے تجربے اور نئے سوالوں پر اکساتی ہے۔ وہ کبھی ایک آنکھ بند کرتا ہے کبھی دوسری۔ وہ لائٹ کو دیکھتا ہے پھر مجھ سے سوال کرتا ہے۔ ڈیڈی ہم لائٹ میں دیکھتے ہیں تو ہمیں نظر کیوں نہیں آتا۔ میں اس کے معصومانہ سوالوں کو نظرانداز کرتے ہوئے سوچوں ہی سوچوں میں کہیں اور نکل جاتا ہوں۔

میں دیکھتا ہوں کہ پوری دنیا میں 3,90,000 لوگوں کہ نظر ہی نہیں آتا۔ یعنی وہ نابینا ہیں۔ میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ بہت سارے لوگ دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔ ان لوگوں کو گلی میں پڑا ہوا گند نظر نہیں آتا۔ ان کو بھوکے، ننگے اور لاچار لوگ نظر نہیں آتے۔ ان کو غریب لوگوں کی معصوم خواہشیں نظر نہیں آتی۔ فقیر تو مانگ کر لے لیتا ہے مگر ان کو سفید پوش افراد نظر نہیں آتے جو نہیں مانگتے۔ ان کو غریبوں کی ضروریات نظر نہیں آتی۔ ان لوگوں کو اس وقت نظر آئے گا جب ان کی آنکھ بند ہو جائے گی!

پھر میرا بیٹا کچھ سوالات کا جواب نہ پاکر موبائل پر ویڈیو دیکھنے لگتا ہے۔ اس کو چور سپاہی والی وڈیوز پسند ہیں اور وہ ان کو بہت شوق سے دیکھتا ہے۔ وہ معصومیت سے سوال کرتا ہے۔ ڈیڈی! ہماری پولیس چور کیوں نہیں پکڑتی؟ مجھے یہ سوال سے زیادہ ایک طعنہ لگتا ہے۔ ہماری گلی سے لے کر پارلیمنٹ تک میں مختلف چور بیٹھے ہیں اور سب نظر آنے کے باوجود پکڑے نہیں جاتے۔ ہماری پولیس ایک ڈر اور خوف کی علامت ہے۔ اگر یہ تھوڑا سا بھی کام کر لے تو ہماری عوام ان کو سر آنکھوں پر بٹھائیں۔

میں اپنے بیٹے کو یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ پوری دنیا میں سب سے مضبوط پولیس جرمن فیڈرل پولیس ہے جس میں بھرتی ہونے کے لیے ایک ٹیسٹ پاس کرنا ہوتا ہے پھر اس کے بعد دنیا کی سخت ترین جسمانی، طبی اور نفسیاتی ٹرینگ شروع ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد بھی چار ماہ کی بنیادی تربیت دی جاتی ہے پھر جو پاس ہوتا ہے اس کو دو ماہ کی سپیشل ٹرینگ دے کر پولیس میں بھرتی کیا جاتا ہے۔ اس فورس کو اب تک صرف 1500 آپریشنز کرنے پڑے ہیں جن میں صرف 5 میں ہی اسلحہ کی ضرورت محسوس ہوئی۔

آخر میں سوچتا ہوں کہ ہم سب کو بھی بچہ ہونا چاہیے۔ بچوں کی دنیا بہت چھوٹی، سچی اور معصوم ہوتی ہے۔ ان کی خواہشیں بہت چھوٹی اور جلد پوری ہوجانے والی ہوتی ہیں۔ ان کو روپے پیسے گاڑی اور بنگلے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہ ہر حال میں خوشی ڈھونڈ لیتے ہیں۔ یہ اپنی خوشی دوسروں سے شیئر بھی کرتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں اور زیادہ خوش رہتے ہیں۔ یاد رکھیں دنیا میں سب سے مشکل اور طویل کام خوشیوں کی تلاش ہی ہے جبکہ یہ خوشی آپ کے پاس ہی ہوتی ہے مگر آپ کے پاس اس کو دیکھنے کی نہ تو توفیق ہوتی اور نہ ہی وقت۔ یہ آپ کے بس میں ہوتے ہوئے بھی آپ کے پاس نہیں ہوتی۔ آپ اس کو چاہ کر بھی پا نہیں پاتے۔ واصف علی واصف نے کہا ہے۔
انسان نہ کچھ کھوتا ہے اور نہ ہی پاتا ہے۔ وہ فقط آتا ہے اور جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
انعام الحق، اوکاڑہ کی دیگر تحریریں