گدھ، ایک بچی اور ایک فوٹوگرافر کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

26 مارچ 1993 کی صبح نیویارک ٹائمز میں ایک تصویر شائع ہوئی جس نے دنیا کو ہلا کہ رکھ دیا، اس تصویر میں جنگ زدہ اور قحط زدہ جنوبی سوڈان کی بھوک سے نڈھال اور تھکن سے چور ایک بچی ( اصل میں ایک بچہ) پہ ایک گدھ جھپٹنے کے انتظار میں ہے۔ یہ بچہ جنوبی سوڈان کے صحرا کی تپتی دھوپ میں اقوام متحدہ کے امدادی غذائی مرکز میں کھانے کے لئے جا رہا تھا، راستے میں تھکن اور نقاہت کی وجہ سے گر پڑا، کیون کارٹر ایک جنوبی افریقی فوٹوگرافر جو کئی دنوں سے سوڈان میں قحط اور جنگ کے حالات کی فوٹوگرافی کر رہا تھا، اور چند گھنٹے پہلے آیود جنوبی سوڈان پہنچا تھا، نے یہ ناقابل فراموش منظر کیمرہ کی آنکھ میں محفوظ کر لیا۔

اس تصویر کی وجہ سے کیون کارٹر کو صحافت کی دنیا کے مؤقر ترین اعزاز پلٹزر پرائز سے اگلے ہی ماہ اپریل 1994 میں نوازا گیا۔ اس تصویر کی اشاعت نے انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، نیویارک ٹائمز کے بعد درجنوں اخبارات اور رسائل نے اس تصویر کو شائع کیا، اور امدادی تنظیموں نے اسے فنڈز جمع کرنے کے لئے استعمال کیا، تصویر کے حوالے سے عوام کی طرف سے جذباتی ردعمل سامنے آیا، اور نیویارک ٹائمز کو ہزاروں خطوط لکھے گئے، لوگوں نے فوٹوگرافر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے خود غرض اورشہرت اور توجہ کا بھوکا قرار دیا، کیون کارٹر پہ الزام لگایا گیا کہ اس نے ناقابل بیان اذیت میں مبتلا بچے کی مدد کی کوئی کوشش نہ کی، اور ذاتی شہرت اور نفع کے لئے سرد مہری کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ ذمے داری کی انجام دہی تک محدود رہا۔ نیویارک ٹائمز نے چار دن بعد شدید عوامی رد عمل کی وجہ سے ایک خصوصی اداریہ شائع کیا جس میں اخبار نے لکھا

” 26 مارچ کو شائع ہونے والی سوڈانی بچی کے حوالے سے قارئین پوچھ رہے ہیں کہ بچی کا کیا بنا، فوٹوگرافر کے مطابق اس نے فوٹو کھینچنے کے بعد گدھ کو بھگا دیا، اور بچی کی اقوام متحدہ کے مرکز کی طرف رہنمائی کی، تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ بچی غذائی مرکز پہنچ پائی یا نہیں“

لیکن ہر کہانی کی طرح یہاں پہ بھی اس واقعے کا ایک دوسرا رخ بھی تھا، کارٹر کا ساتھی فوٹوگرافر جواؤ سلوا (João Silva) کے مطابق جب وہ کارٹر سے ملا وہ بہت جذباتی کیفیت میں تھا، کارٹر نے اسے بتایا ”میں صحرا کی تپتی ریت میں بھوکے اور نیم جان بچے کی تصویر بنانے کے لیے گھٹنوں کے بل تیار تھا، جب میں نے تھوڑا زاویہ تبدیل کیا تو ایک گدھ بچے کے پیچھے بیٹھا اسے دبوچنے کے لئے تیار تھا۔ میں نے کئی شاٹس لینے کے بعد گدھ کو بھگا دیا“ ۔ جواؤ سلوا نے اپنی کتاب میں لکھا کہ اس وقت میں نے کارٹر کو شدید جذباتی کیفیت میں پایا، اس نے کہا کہ اس بچی کو دیکھ کہ مجھے اپنی بچی میگن کی یاد آ رہی ہے، میں جلد از جلد گھر پہنچ کہ اپنی بچی کو گلے لگانا چاہتا ہوں۔

کیون کارٹر پہ کیا بیتی؟

مسلسل نہ تھمنے والی تنقید، مالی مسائل اور قحط اور خونی جنگوں کی یادوں نے اسے جذباتی طور پہ نچوڑ کہ رکھ دیا، 1960 میں پیدا ہونے والا کیون کارٹر ایک پروفیشنل فوٹوگرافر ہونے کے ساتھ ساتھ حساس دل کا مالک بھی تھا، اس نے انتہائی خطرناک حالات میں کام کیا اور تکلیف دہ واقعات کی فوٹوگرافی کی۔ اس نے جنوبی افریقہ کی اپارتھائیڈ کے دوران سیاہ فاموں کی طرف سے اپنے غدار ساتھیوں کے گلے میں پٹرول سے بھرے ٹائر ڈال کر جلانے (necklacing) جیسے مناظر کی فوٹوگرافی بھی کی۔ مگر سوڈان کے قحط زدہ بچوں کی زندہ لاشوں کی فوٹوگرافی نے اسے جذباتی طور پر تباہ کر کہ رکھ دیا، وہ یہ اندرونی کرب مزید سہہ نہ سکا، اور جولائی 1993 میں اس شہکار فوٹوگراف کی اشاعت کے صرف چار ماہ بعد صرف 33 سال کی عمر میں خود کشی کر لی۔ مرنے سے پہلے اس نے اپنے سوئسائیڈ نوٹ میں لکھا،

” میں بہت بہت دکھی ہوں، زندگی کا درد اتنا حاوی ہو چکا ہے کہ کسی لطف کا کوئی وجود نہیں رہا، بھوک سے بلکتے اور مرتے زخمی بچوں، ہلاکتوں، تابوتوں اور لاشوں، اور خون کے پیاسے پاگلوں کی زندہ تصویروں سے میرا دماغ آسیب زدہ ہوگیا ہے، میں خوش قسمت ہوں گا اگر مر جاؤں۔“

اور وہ بچہ؟

2011 میں ایک یورپی اخبار کو اس بچے کے باپ نے بتایا کہ کونگ نیونگ نامی یہ بچہ 1993 میں اقوام متحدہ کے غذائی مرکز میں پہنچنے میں کامیاب ہوا، مگر 2007 میں شدید بخار کی وجہ سے چل بسا۔۔۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
شعیب ترک کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *