فارن کوالیفائیڈ ڈاکٹروں کو خودکشی پر مجبور مت کیا جائے
کرونا ایک وبائی مرض ہے جیسا کہ اپ سب کو پتہ ہے کہ کرونا کی وجہ سے تعلیمی ادارے۔ کاروباری مراکز نیز ہر چیز کو اپنے لپیٹ میں لے لیا ہے اور دنیا بھر میں ہر فرد اسے متاثر ہوا ہے۔ کورونا وبا کی وجہ سے ہر قسم کا امتحان لینا ناممکن ہے۔ فارن میڈیکل حضرات کے پہلے بھی چار سے پانچ سال ضائع ہو چکے ہیں اور ان ڈاکٹرز حضرات کا مزید ٹائم ضائع نہ کیا جائے اور ان کم از کم پروویژنل لائسنس دیا جائے تاکہ یہ اپنی ہاؤس جاب مکمل کر سکیں۔ اور ہاؤس جاب کے بعد ان کا امتحان لے لیا جائے۔
پچھلے دس سالوں سے فارن میڈیکل گریجویٹس اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ہمیں اپنا حق دیا جائے مگر حکومت کے ساتھ ساتھ ہر ایک ادارے نے اپنے آنکھیں بھی بند کی ہوئی ہے اور اپنے کان بھی بند کیے ہوئے ہیں جیسا کہ ان کو کچھ پتہ ہی نہیں اور نہ وہ کچھ سن سکتے ہیں اور نہ ہی دیکھ سکتے ہیں ہمارے فارن میڈیکل گریجویٹس کے ساتھ انتہائی نا انصافی ہو رہی ہے ایک طرف تو پاکستان یہ بات بار بار کہہ رہا ہے کہ ہمارے پاس ڈاکٹرز کی کمی ہے مگر دوسری طرف پاکستان میں 5000 سے لے کر سات ہزار تک فارن میڈیکل گریجویٹس پی ایم ڈی سی اور پاکستان میڈیکل کمیشن کے نا اہلی کی وجہ سے گھر میں بیروزگار بیٹھے ہوئے ہیں ان کی ان غلط پالیسیوں کی وجہ سے اب تک پانچ چھے فارن گریجویٹس خودکشی کر چکے ہیں لہذا ان پر رحم کیا جائے اور ان کے مطالبے جلد از جلد پورے کیے جائیں ایسے نہ ہو کہ یہ خودکشیوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ جائے۔ اس کو حکومت سنجیدہ لیا جائے ورنہ اس کے بہت غلط نتائج سامنے آ جائیں گے اور اب یہ سب برداشت کرنے کے قابل نہیں ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ
لائسنسنگ امتحان کے نام پر فارن گریجویٹس کو بہت رسوا کیا گیا نہ ان سے امتحان لیا جا رہا ہے اور نہ ان کو پروویژنل لائسنس دیا جا رہا ہے تاکہ یہ اس پر اپنا ہاؤس جاب مکمل کر سکیں۔
عالمی دنیا کے کس قانون میں یہ لکھا ہوا ہے کہ ایک میڈیکل گریجویٹ جو کہ ایک ریکگنائزڈ تعلیمی ادارے سے اپنی ڈگری مکمل کر کے آتا ہے اور اپنا ہی ملک اس کو رسوا کرنے پر تلا ہوا ہے۔
پاکستانی اداروں نے فارن میڈیکل گریجویٹس کے ساتھ جو نا انصافی شروع کی ہے اور پاکستان میں انہوں نے میڈیکل فیلڈ کے ساتھ ساتھ قانون اور انصاف کی بھی دھجیاں اڑا دی ہیں۔
ایک طرف ان کو لائسنس نہیں دیا جا رہا تاکہ یہ ڈاکٹرز اپنا پریکٹس جاری کر سکیں اور دوسری طرف ان ڈاکٹرز کو آگے تعلیم بھی حاصل کرنے نہیں دی جا رہی جو کہ ان کا ایک بنیادی حق ہے اور یہ پاکستان کے آئین کے سراسر خلاف ہے کہ آپ پاکستان کے کسی بھی شہری کو کسی بھی قسم کی تعلیم سے نہیں روک سکتے۔ امتحان کے نام پر انہوں نے ان ڈاکٹرز حضرات کو ہاؤس جاب کرنے سے بھی روکا ہوا ہے۔ ان کو پرائیویٹ پریکٹس کرنے کی اجازت بھی نہیں ہے اس طرح آگے پاکستان میں کسی بھی اسپیشلائزیشن میں آگے نہیں جا سکتے آخر یہ کون سا کالا قانون ہے اس قانون کے خلاف آواز اٹھانا ہر ایک شخص کی ذمہ داری ہے۔
ان ڈاکٹرز حضرات کا کہنا ہے کہ ہم ہاؤس جاب کے بنا ہم دنیا کے کسی اور ملک میں بھی نہیں جا سکتے اور نہ وہاں پے کام کر سکتے ہیں۔
فارن گریجویٹس کے ساتھ سوتیلے بچوں جیسا سلوک ہو رہا ہے جب بھی فارن میڈیکل گریجویٹس کی بات ہوتی ہے تو سب لوگ اپنے کان بھی بند کر دیتے ہیں اور اپنی آنکھیں بھی بند کر دیتے ہیں اس حکومت کو اور ان اداروں کو شرم آنی چاہیے کہ آپ کے پڑوسی ممالک میں فارن گریجویٹس کی ایک عزت ہے ان کو ایک شہرت دی جاتی ہے کہ یہ لوگ ہمارے ملک سے چلے گئے ہیں اور باہر ممالک میں ہمارے لئے ایک امن کے سفیر بن کر واپس آئے ہیں۔ لیکن پاکستان کبھی اس بات کو نہیں سمجھے گا کیونکہ یہاں پر کسی کو پرواہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ ہم اس مسلے میں پاکستان کے سب سے اعلیٰ اداروں سے مدد مانگے۔ لہٰذا فوری طور پر ہمارا مطالبہ پورا کیا جائے۔ اگر وہاں پر بھی ہمیں انصاف نہ ملا تو ہم روڈ پر کھڑے ہوکر اپنے آپ پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہمارا ذریعہ معاش کوئی نہیں ہے نہ ہمیں ہاؤس جاب کی اجازت ہے نہ ہمیں پرائیویٹ پریکٹس کی اجازت ہے اور نہ ہم آگے تعلیم حاصل کر سکتے ہیں اگر ایسا ہے تو ہم کہاں سے اپنا پیٹ پالیں ہم کہاں سے اپنی فیملی کو سپورٹ کریں اگر یہی حال رہا تو ہم اپنا جینا ختم کر دیں گے پارلیمنٹ کے سامنے یہ کہہ دنیا کو پتہ چلے یہ کس قسم کا قانون ہے۔
برائے مہربانی اس بات کو سیریس لیا جائے ورنہ اس کے بہت غلط نتائج سامنے آ سکتے ہیں کیونکہ یہ صرف 5000 میڈیکل گریجویٹس کی بات نہیں بلکہ 5000 میڈیکل گریجویٹس اور ان کے خاندانوں کا سوال ہے۔
کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے امتحان کا ہونا ناممکن ہے اس لئے ہم حکومت سے یہ ڈیمانڈ اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں فوراً پروفیشنل لائسنس ایشو کر دیا جائے جیسا کہ دیگر ممالک میں کورونا وائرس کی وجہ سے انہوں نے اپنے امتحانات ملتوی کرتے ہوئے اپنے گریجویٹس کو ہسپتال میں کام کرنے کا موقع فراہم کیا ہے اسی طرح ہم بھی پاکستان میں اپنے ملک کی مدد کرنا چاہتے ہیں اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہمیں پروفیشنل لائسنس دے دیا جائے گا۔
ہم حکومت پاکستان سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں پی آر یم پی جاری کیا جائے تاکہ کورونا وائرس کے اس وبائی امراض (Covid۔ 19 ) اس مشکل گھڑی میں ہم اپنے ملک و قوم کی خدمت کریں اور ان کے لیے ہم تیار ہیں۔ ہم اعلی حکام سے پر زور اپیل کرتے ہیں کہ اس معاملے کو سنجیدہ لیا جائے اور فارن گریجویٹس کو شناخت دی جائے تاکہ اس ملک کا خدمت کریں


