احساس کمتری میں مبتلا ہونے کی وجہ اور خود اعتمادی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان ایک معاشرتی حیوان ہے اسے اپنے دکھ سکھ بانٹنے خوشی کا اظہار کرنے کے لئے ایک دوسرے کا ہی سہارا لینا پڑتا ہے۔ انسان کبھی ایک دوسرے کے لئے راحت و اطمینان اور کبھی رنج و غم کا باعث بنتے ہیں۔ ہمارے رویے اور طرز عمل اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

خوداعتمادی ایک ایسی ذہنی صلاحیت ہے جس کے بل بوتے پر ہم منزل پہ منزل طے کرتے جاتے ہیں۔ اپنی خواہشات کی تکمیل سے ہمیں ذہنی سکون میسر آتا ہے۔ یہ ہمیں دوسروں میں منفرد کرتی ہے اور ہماری شخصیت کو نکھارتی ہے۔

اس کے برعکس احساس کمتری انسان کو کمزور اور ڈپریشن کا شکار کرتا ہے۔ احساس کمتری منفی رویوں کئی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ حسد، نفرت، بد اخلاقی سب احساس کمتری کی وجہ سے پروان چڑھتے ہیں۔

خوداعتمادی اور احساس کمتری دونوں مخالف سمت میں چلنے والی فورسز ہیں۔ ایک شخص جتنا خود اعتماد ہو گا اتنا ہی احساس کمتری سے دور ہو گا۔ ہمارا ماحول اس میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جیسے بچے کی پہلی درسگاہ اس کے گھر کو قرار دیا جاتا ہے ویسے ہی ان دونوں کا تعلق بھی ہمارے گھر سے ہی شروع ہوتا ہے۔

بچپن کے کچھ نہ خوشگوار واقعات، والدین کا ناروا سلوک یا غربت احساس کمتری کی وجہ بنتے ہیں۔ بچے بیج کی طرح ہوتے ہیں ان کو کیسے تناور درخت بنانا ہے یہ والدین پر منحصر ہوتا ہے۔ اسی طرح والدین کا بچے کی اچھے کام پر حوصلہ افزائی کرنا اور غلط کام پر سمجھانا ان کو پر اعتماد بناتا ہے۔

دوست احباب، رشتے دار، گلی محلے والے گویا سبھی جن سے ہمارا واسطہ پڑتا ہے، اپنے رویوں اور طرز عمل سے ہماری سوچ کو متاثر کرتے ہیں۔ ہم میں یہ خاصیت پائی جاتی ہے کہ ہم کسی کو نہیں چھوڑتے، کالا، گورا، لمبا، چھوٹا، موٹا، پتلا، سبھی ہماری ہنسی مذاق کا حصہ بنتے ہیں۔ ہم کسی کا مذاق اڑاتے ہوئے کچھ نہیں سوچتے بس اپنے آپ کو لطف اندوز کرنے کے لئے جو منہ میں آئے بکے چلے جاتے ہیں۔ ہمارے ساتھ موجود ساتھی بھئی ہمارا بھرپور ساتھ دیتے ہیں۔ جس کو نشانہ بنایا جا رہا ہوتا ہے وہ بظاہر تو مسکرا رہا ہوتا ہے مگر اس کے اندر کیا چل رہا ہوتا ہے یہ وہی جانتا ہے۔

ہمارے منہ سے نکلے یہ بے ہنگم تیر اسے احساس کمتری میں مبتلا کرتے ہیں۔ وہ یہ سوچنے پہ مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا واقعی میں ایسا ہوں۔ جس سے اس میں خود اعتمادی کم اور احساس کمتری بڑھنے لگتا ہے۔ جس سے وہ آہستہ آہستہ ڈپریشن کی طرف جا رہا ہوتا ہے اور کئی اور طرح کے نفسیاتی عارضے بھی لاحق ہو سکتے ہیں۔

کسی کے چلنے پھرنے کے انداز، کسی کے بولنے کے انداز، شکل و صورت، پر تنقید کرنا اسے اندر سے کمزور کرتے ہیں۔ اگر ہمیں کسی سے کوئی مسئلہ ہے تو اسے ہم اس پر منہ سے نکلے تیروں کی کی بارش کر کے نہیں بلکہ اچھے انداز میں گفتگو کر کے کہ سکتے ہیں۔

آج کل کے دور میں ہر کسی کو آگئے نکلنے کی جلدی ہے اور وہ خود پر توجہ دینے کی بجائے دوسروں کو گرانے میں لگا ہے۔ وہ سمجھتا ہے شاید یہ میرے راستے سے ہٹ جائے تو میں آگئے نکل سکوں۔ یہ صورت حال خود پر اعتماد کئی کمی والے افراد میں پائی جاتی ہے۔

ایک گھر میں رہنے والے افراد کسی کا قد چھوٹا یا لمبا ہونے پر، ناک کا موٹی یا لمبی ہونے پر، گردن لمبی یا چھوٹی ہونے پر، رنگ سانولا ہونے پر، غرض کہ ہر چیز جو ان کے معیار پر پورا نہیں اترتی اس پر طنز کی بوچھاڑ کرتے ہیں جس سے اس کی عزت نفس بری طرح مجروح ہوتی ہے۔

اس میں اس کا کیا قصور، کیا اس کے اختیار میں تھا اپنے آپ کو ایسا بنانا؟ ہم یہ سب جانتے ہوئے بھی کہ انسان اللہ کی ایک عمدہ تخلیق ہے اس میں نقص نکالتے ہیں۔

بعض اوقات ہماری اپنی سوچ ہمیں اس میں مبتلا کرتی ہے۔ کسی چیز کا دوسروں کے پاس فراوانی میں دیکھ کر احساس کمتری کا شکار ہو جانا۔ ڈرامہ ”فہمیدہ کی کہانی استانی راحت کی زبانی“ اس کی عمدہ مثال ہے۔

اس میں فہمیدہ اپنی ماں کے ساتھ ایک امیر گھرانے کے سرونٹ کوارٹر میں رہتی ہے۔ اس کی ماں اس کی شادی کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق جہیز اکٹھا کرتی رہتی ہے اور فہمیدہ کی دوستی گھر کی مالک کی بیٹی سے ہو جاتی ہے۔ وہ ان دنوں اپنی شادی کی شاپنگ کر رہی ہوتی ہے فہمیدہ بھی اس کے ساتھ بازار جاتی ہے اور وہاں آرائش سے بھری دکانیں، ان میں بیش قیمتی سامان دیکھ دیکھ کر احساس کمتری کا شکار ہو جاتی ہے اور ڈپریشن میں مبتلا ہو کر خود کشی کر لیتی ہے۔

مثبت سوچ ہمیں اس مرض سے بچاتی ہے اور ہمیں خود اعتماد بناتی ہے۔ شیخ سعدی فرماتے ہیں ایک دفعہ میرے پاس جوتا نہ ہونے پر میں نے اللہ سے شکوہ کیا کہ میرے پاس پیروں میں پہننے کے لیے جوتا نہیں ہے، جیسے ہی میں مسجد سے باہر نکلا دیکھتا ہوں ایک شخص کے پاؤں ہی نہیں ہیں۔ میں نے اسی وقت اللہ سے معافی مانگی جوتا نہیں تو کیا ہوا پاؤں تو سلامت ہیں نہ۔

ہمیں اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اپنا موازنہ دوسروں سے نہیں کرنا چاہیے۔ جس طرح ہم انفرادی اختلافات کی وجہ سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں ایسے ہی ہماری قسمت بھی ایک جیسی نہیں۔ ہمیں اپنے لیے اور دوسروں کے لیے مسرت کا باعث بننا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply