کتاب بہترین دوست مگر خطرناک دشمن بھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کتاب کے ساتھ انسان کا رشتہ صدیوں کا ہے اور اس کو عموماً انسان کے لئے بہترین دوست سمجھا جاتا ہے۔

کتاب کی اہمیت مسلمہ ہے اور ہماری زندگی کا ایک لازمی جزو ہے۔ جہاں بہت سے لوگوں کے لئے مطالعہ کا مقصد وقت گزاری اور تفریح ہوتا ہے وہیں لاتعداد ایسے قارئین بھی ہیں جو کسی نہ کسی تلاش اور سنجیدہ تحقیق کی غرض سے کتاب سے رجوع کرتے ہیں۔ دیگر الفاظ میں مختلف پڑھنے والے ایک ہی کتاب کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔

کتاب بے شک علم و دانش کی ضامن ہے۔ ”اقراء“ کے ساتھ پہلی وحی کا نزول اس حقیقت پر مہر ثبت ہے۔ کیونکہ پڑھنے سے انسان پہ علم کی لامحدود وسعتیں ظاہر ہوتی ہیں اور نامعلوم اس کے لیے معلوم میں بدل جاتا ہے۔ بے علم سے لے کر عالم تک ہر انسان ایک نئی کتاب اور تحریر سے کچھ نہ کچھ نیا ضرور حاصل کرتا ہے۔ کتاب کا بنیادی مقصد علم اور معلومات کی ترسیل کرنا اور مختلف حقائق کے بارے میں تفصیلاً آگاہی دینا ہوتا ہے۔ پڑھنے والا جو کچھ بھی پڑھتا ہے وہ ایک طرح سے اس کی ذات میں سما جاتا ہے۔ پڑھے گئے مواد پہ منحصر ہوتا ہے کہ وہ کس قسم سے تعلق رکھتا ہے اور قاری کے ذہن پہ کیسے نقوش چھوڑ گیا ہے۔ یہ بہت ہی اہم ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی بھی تحریر بے اثر رہے۔

کتاب اور انسان کی دوستی کو دیکھا جائے تو جیسے مختلف نفسیات کے حامل لوگ مختلف سطح کے دوست ثابت ہوتے ہیں۔ کوئی مخلص تو کوئی مطلبی اور خود غرض۔ کتاب کے معاملے میں بھی بالکل ایسا ہی کہا جا سکتا ہے۔ کتاب کو انسان کا بہترین دوست مان کر اکثر اس رشتے میں انسان دوستی پہ فوقیت کے درجے پہ رکھا جاتا ہے، اور اس نکتے پر تمام اہل علم یکساں طور پر متفق بھی ہیں۔ لیکن شاید ہی آج تک کسی نے اس پہلو کی طرف کان دھرنے کی کوشش کی ہو کہ کتاب دوست کے ساتھ ساتھ دشمن بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ہر انسان ایک جیسا دوست ثابت نہیں ہو پاتا۔ اسی طرح اس جہاں میں موجود لاتعداد کتابیں بھی اپنی اپنی انفرادیت اور قسم سے تعلق رکھتی ہیں۔ تمام موضوعات اور علوم کے بارے میں بے شمار ترتیب شدہ مجموعوں کی شکل میں علم کے لامتناہی سمندر سے انسان خود کو سیراب کر سکتا ہے۔ ہر ایک کتاب کی تالیف و ترتیب اور اشاعت میں مخصوص مقاصد و مطالب پنہاں ہوتے ہیں جو کہ اکثر و بیشتر اس کے پڑھنے والے پہ عیاں ہوتے ہیں۔

یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ کتاب سمندر کی بل کھاتی لہروں اور سنسناٹی ہوئی ہوا کے جھونکوں کی مانند ہوتی ہے جس میں قاری کا غرق ہونا لازم ہو جاتا ہے۔ قاری کتاب کے ہر ایک حرف کے ساتھ مسلسل سفر کرتے ہوئے لکھاری کی مختص کردہ منزل (مدعٰی) پہ پہنچتا ہے۔ یہ منزل اس کی سوچ کے لئے ایک نئی راہ ثابت ہو سکتی ہے۔ کتاب اپنے پڑھنے والے کی فکر اور لاشعور پہ گہرا اثر چھوڑتی ہے۔ ایک کتاب آپ کی ذات میں تحریک پیدا کر کے آپ کی شخصیت کو اچانک بدل سکتی ہے۔ کسی بھی انسان کی ظاہری سوچ، رویے اور فکری رجحان سے اس کے لاشعوری علم کی قسم کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔

کتاب یا کوئی بھی تحریر دراصل دماغ کی غذا ہوتی ہے۔ یہ دماغ کے لئے بالکل ایسے ہی ضروری ہے جیسے معدے کے لئے کھانا پینا۔ لہٰذا قاری کی سوچ اور غور کے زاویہ کا دار و مدار کافی حد تک اس کے مطالعہ پر ہے۔ کیونکہ مطالعہ انسان کے نفسیاتی اور شعوری ارتقاء کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔

مطالعہ کے لئے درست کتاب کا چناؤ بہت ضروری ہوتا ہے۔ انتخاب سے قبل کتاب پڑھنے کے مقصد اور وجہ کا تعین لازمی کر لینا چاہیے ورنہ اٹھائی گئی کتاب آپ کو مایوس بھی کر سکتی ہے۔

تحقیق ثابت کرتی ہے کہ کتاب ہمیشہ اپنے لکھنے والے کی سوچ اور نکتہ نظر کو پڑھنے والے تک بہم پہنچاتی ہے۔ قاری دوران مطالعہ الفاظ کی گہرائیوں میں اس حد تک ڈوبا ہوتا ہے کہ لکھنے والا گویا اس کا بازو پکڑ کر اپنے ساتھ چلا رہا ہو۔ اس کو جہاں چاہے لے کر جا سکتا ہے۔ قاری بیان کی گئی ہر چیز کو مصنف کی نظر سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ کمزور دانش والے اور خصوصاً نئے کتاب بین اکثر و بیشتر لکھاری کے جال میں بہت جلد پھنس جاتے ہیں۔ یوں سمجھ لیں کہ لکھنے والا آپ کی نفسیات کو اپنی گرفت میں لے کر اپنی مرضی کی رائے قائم کروا لیتا ہے۔ آپ الفاظ کے سیلاب میں بہتے چلے جاتے ہیں اور مصنف کی ہر بات اور دلیل کی مکمل طور پر تائید کرنے لگتے ہیں۔ اس کو کہتے ہیں قلم کی طاقت۔

لہٰزا حتٰی الوسیع کوشش کی جائے کہ کسی بھی نتیجے پہ پہنچنے سے پہلے کتاب کے پس پشت واقعات اور محرکات کو بھی ضرور جانا جائے۔ لکھاری کے ذاتی رجحانات اور ترجیحات کو پہچانا جائے۔ وہ کس مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا ہے اور کس مقصد کے لئے برسر پیکار ہے۔ کیونکہ لکھنے والا اپنی تصنیفی صلاحیتوں کو بخوبی بروئے کار لاتے ہوئے اپنے عزائم بڑی مہارت سے پڑھنے والے کے ذہن میں منتقل کر سکتا ہے۔ اگر عزائم و مقاصد کوئی خاص منفی ایجنڈا لئے ہوئے ہیں تو یقیناً ذہنی تخریب کاری کا باعث بن سکتے ہیں۔ اور ایسے مقاصد کے حصول کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت پہلے راہ ہموار کی جاتی ہے۔ اس لئے بہتر ترکیب یہ ہے کہ کسی بھی منفی رجحان کی گرفت سے محفوظ رہنے کے لئے دوران مطالعہ ہمیشہ تجزیاتی اور تقابلی انداز فکر کو اپنایا جائے۔

دیکھا گیا ہے کی ماضی کے مغلوب علاقے آج بھی کسی نہ کسی طرح طاقت ور ممالک کے زیر ساۂ ہیں۔ کئی دہائیاں بیت جانے کے بعد بھی بیشتر ممالک میں انگریز کے بنائے ہوئے بہت سے سیاسی، سماجی، معاشی، عدالتی اور نظامتی اصول مستقل طور پر رائج العمل ہیں۔ کئی ایسے مغربی نظریات اور خیالات ہیں کہ جو باقاعدہ تحریک کا درجہ رکھتے ہیں۔ نسوانیت اور ہم جنس پرستی کے تصورات اور تحریکیں دور جدید کی اہم مثالیں ہیں۔ بیرونی دباؤ کے زیر اثر رہنے والی قومیں مسلط کردہ سوچ میں شعوری طور پر جکڑی رہیں اور یوں اپنا الگ لائحہ عمل تشکیل دینے میں بری طرح ناکام رہیں۔ ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں شامل اکثر ممالک کی پسیماندگی میں اس خاموش اور خفیہ دشمن کا مرکزی کردار رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply