فرانز کافکا

انگریزی سے اردو ترجمہ: محمد فیصل (سرگودھا)

”Children on a Country Road“

By: Franz Kafka

میں نے باغ میں لگی ہوئی باڑ میں سے شور مچاتی اور گرج پیدا کرتی رینگتی ہوئی ویگنوں کو گزرتے ہوئے سنا اور دیکھا۔ یہاں تک کہ بعض اوقات میں نے ان کو سرسبز و شاداب خوبصورت گھاس پر بیل بوٹوں، اور پتیوں کے درمیان بل کھاتی پگڈنڈیوں پہ جھولتے اور ڈگمگاتے ہوئے بھی دیکھا۔ تپتے ہوئے موسم گرما کی گرمی میں غیر ہموار قدرتی رستوں پہ ڈولتی ڈگمگاتی ہوئی ان ویگنوں کی شافٹیں، کمانیاں، اور پرزے کیسی چرمراہٹ اور کھڑکھڑاہٹ کی آوازیں پیدا کر رہی تھیں۔ مزدور، محنت کش، اور ہاری کسان جو کھیتوں میں اپنے کام نمٹا کے لوٹ رہے تھے یہ منظر گویا ان کے لئے کسی دلچسپ اسکینڈل سے کم نہ تھا۔ وہ دیکھتے اور کھلکھلاتے جا رہے تھے۔

Read more

وینٹی لیٹر پہ پڑی انسانیت کو بچا لیں

مختلف انواع کے جانوروں اور پرندوں کی انسان کے ساتھ وقت گزرنے کے ساتھ کسی حد تک مانوسیت کا پیدا ہو جانا ایک عام سی بات ہے۔ مفید مویشیوں کے علاوہ کچھ دوسرے جانور بھی ہیں جو بظاہر تو بھیڑ بکریوں اور بھینسوں کی طرح کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے لیکن انسان کی قربت میں رہنے کی وجہ سے مانوس ضرور ہونے لگتے ہیں۔ جیسا کہ بلی اور کتے کی مختلف اقسام جن کو اکثر پالتو جانوروں کے طور پر گھروں

Read more

کتاب بہترین دوست مگر خطرناک دشمن بھی

کتاب کے ساتھ انسان کا رشتہ صدیوں کا ہے اور اس کو عموماً انسان کے لئے بہترین دوست سمجھا جاتا ہے۔ کتاب کی اہمیت مسلمہ ہے اور ہماری زندگی کا ایک لازمی جزو ہے۔ جہاں بہت سے لوگوں کے لئے مطالعہ کا مقصد وقت گزاری اور تفریح ہوتا ہے وہیں لاتعداد ایسے قارئین بھی ہیں جو کسی نہ کسی تلاش اور سنجیدہ تحقیق کی غرض سے کتاب سے رجوع کرتے ہیں۔ دیگر الفاظ میں مختلف پڑھنے والے ایک ہی کتاب

Read more

معمارِ قوم کے مایوسی بھرے خیالات

کچھ روز قبل ایک پروفیسر صاحب سے غیر رسمی سی گفتگو ہوئی۔ تعلیمی و تدریسی شعبے میں ان کے خاطر خواہ تجربہ کو غنیمت پاتے ہوئے بندہ ناچیز کو فطری طور پر لفظوں کی صورت کچھ سیکھنے کا شغف ہوا۔ الحمدللّٰہ تعلیم و تدریس اور ادبی حلقے کے ساتھ لگاؤ اور دلچسپی کو ذاتی اور معاشرتی لحاظ سے اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں۔ پروفیسر صاحب سے رسمی دعا سلام کے بعد یوں کہیں کہ صورت حال کنویں اور پیاسے والی

Read more

اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے

ہم خود سے دریافت کریں کہ نظریاتی طور ہر ہم کہاں کھڑے ہیں۔ اس سے بھی پہلے یہ استفسار بنتا ہے کہ نظریہ کہاں کھڑا ہے۔ ہمیں ایک کامل اور منفرد نظریہ دیا گیا۔ اسی نظریہ کے ساتھ پیوست رہ کر ہمیں ایک آزاد اور خود مختار ملک بھی لے کر دیا گیا۔ لیکن کیا ہم نے اپنا فرض ادا کیا؟ آیا کہ ہم نے اس نظریہ کی تعمیر کی خاطر اپنے آباؤ اجداد کی پیش کردہ قربانیوں کا پاس

Read more