یہ ہے اس تبدیلی کا شاخسانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریک انصاف حکومت سے پہلے جی ڈی پی گروتھ ریٹ 5.08 پر پہنچ گیا تھا لیکن موجودہ حکومت نے اپنی ”شاندار معاشی پالیسی“ کی بدولت اسے منفی 1.05 پر گرا کر دم لیا ڈالر تب سو روپے پر باندھ دیا گیا تھا مگر موجودہ حکومت کے آتے ہی ناتجربہ کاری اور بے بصیرتی کے سبب ڈالر کو بال و پر فراہم کیے گئے اور وہ ایک سو ساٹھ سے اوپر پرواز کر بیٹھا۔

گیس کا بل جو چند سو روپے سے آگے نہیں بڑھتا تھا اس میں % 225 کا اضافہ ہوا اور اب گیس بھی ایک لگژری کی صورت اختیار کر گئی جس نے لوگوں کی چیخیں نکال دیں۔

مہنگائی کی شرح % 3 سے % 14 پر پہنچ کر لاکھوں لوگوں کو خط غربت کے نیچے دھکیل کر لے گئی۔

سٹیٹ بینک نے معاشی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سال غربت کی شرح % 11 سے بھی زیادہ بڑھ جائے گی یہ انتہائی الارمنگ صورتحال ہے لیکن حکومت پر سانوں کی والی غنودگی تا حال طاری ہے۔

گزشتہ ستر سالوں میں پاکستان نے بحیثیت مجموعی چوبیس ٹریلین ڈالر کا قرضہ لیا تھا لیکن عمران خان کی حکومت نے صرف ڈیڑھ سال میں بارہ ہزار نو سو اکتالیس ارب (ستر سال کے مجموعی قرضے کا تقریباً آدھا) قرضہ لے کر صرف بیس ماہ میں نو ٹریلین کا مزید قرضہ چڑھا دیا۔

وزیراعظم صاحب فرماتے ہیں کہ کورونا معاملے پر غریب عوام میں بارہ سو ارب بانٹ دیے گئے لیکن مشیر خزانہ آئی ایم ایف کو لکھ کر بتا رہے ہیں کہ صرف پانچ سو ارب دیے گئے۔ جب اعلی ترین سطح پر اقتصادی کوآرڈینیشن کی صورتحال یہی ہو تو پھر اس سے وہی معیشت برآمد ہوگی جو ہمارے سامنے ہے۔

تبدیلی کا ذائقہ مزید چکھ لیتے ہیں، اور آگے بڑھتے ہیں!
پانچ ہزار آٹھ سو پچیس ارب کا تاریخی گھپلا گلی کوچوں میں زیر بحث ہے۔

رزاق داؤد، خسرو بختیار اور ندیم بابر کے نام اور کام سے اس ملک کا بچہ بچہ واقف ہو چکا ہے لیکن بیانیہ تاحال وہی ہے کہ میرا ہر مخالف چور ہے۔

چینی اور آٹے پر سو ارب سے زیادہ کرپشن سامنے آئی اور غریب عوام کو دن دیہاڑے لوٹ لیا گیا۔

رپورٹ سامنے پڑی ہے کہ نو ملز مالکان کو ادائیگیاں کی گئیں۔ دس بڑی ٹرانزیکشنز ہوئی جن میں سے چھ فرمز سرے سے ایف بی آر کے ساتھ رجسٹرڈ بھی نہیں لیکن اس کے باوجود بھی کوئی جہانگیر ترین یا خسرو بختیار کو ہاتھ تو لگا کر دیکھے، البتہ مخالف جو بھی سامنے آئے، اسے پکڑ بھی لیں اور جکڑ بھی لیں، شاہد خاقان عباسی سے میر شکیل الرحمٰن تک، اور سیاست سے صحافت تک اختلاف کے لئے طوق و دار ہی کا انتخاب ہے۔

یہ حکم نامہ صرف مخالفین یا با الفاظ دیگر عوامی تائید سے معمور لیکن ریاستی طاقت سے محروم ہر فرد کے گرد گھومنے لگی ہے اور جمہوریت کی گردن نیب نے دبوچ لی ہے۔

احتساب کا عمل اوپر سے شروع کرنا تھا لیکن جھونپڑیاں نا صرف غریبوں کی زمین بوس ہوئیں بلکہ ان پر بھوک اور افلاس کا بے رحم چھڑکاؤ بھی جاری ہے۔

ریاست مدینہ مالم جبہ، بی آر ٹی، بلین ٹری سونامی، آٹا، چینی سکینڈل، میڈیسن گھپلے اور ٹائیگر فورس پر بھی کہاں آکر رکی بلکہ تازہ ترین لاہور کے ایک ہسپتال میں نوے کروڑ روپوں کی چارپائیاں گویا ایک چارپائی نو لاکھ کی پڑی۔

حضرت عمرؓ کے کرتے کی مثال دینے والے کا وزیر اسد عمر ببانگ دہل اعلان کر رہے ہیں کہ سبسڈی سکینڈل کے معاملے پر وزیر اعظم کسی کو بھی جوابدہ نہیں۔

بے نظیر انکم سپورٹ کا نام تبدیل کر کے احساس پروگرام رکھ دیاگیا لیکن کارکردگی ملاحظہ ہو کہ ایک کروڑ دس لاکھ افراد کو امداد کے لئے چنا گیا لیکن ابھی تک صرف بتیس لاکھ لوگوں کو ادائیگی ہوئی ہے لیکن حساب کتاب دینے سے انکار بھی ہے اور اٹھتر لاکھ لوگوں کو ادائیگی بھی ناممکن دکھائی دیتی ہے، حالانکہ یہ رقم پہلے ایک کلک سے بینکوں سے مل جایا کرتی تھی۔

اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو مالی خود مختاری مل گئی تھی لیکن لگتا ہے کے اس کی چیر پھاڑ بھی ہونے کو ہے، اور حسب توقع قصائی کا کردار نیب ہی ادا کرے گا۔

آئین کے مطابق سال میں ایک سو تیس دن قومی اسمبلی کا اجلاس ہونا ضروری ہے لیکن ابھی تک صرف ستتر دن اجلاس کی کارروائی ہوئی ہے۔
اس سے پارلیمان کی وقعت اور جمہوری اقدار کا اندازہ لگایا جائے۔

کبھی قوم سے صرف سچ بولنے والے نے فردوس عاشق اعوان اور شہباز گل جیسے ”حق پرستوں“ کو اپنا ترجمان بنا کر اپنا وعدہ پورا کیا اور کذب بیانی کے دریا ٹھاٹھیں مارتے ہوئے رواں دواں ہیں۔

انتظامی مہارت ساہیوال واقعے سے تفتان بارڈر کھولنے تک لمحہ لمحہ اور قدم قدم پر نہ صرف ہمارا منہ چڑا رہا ہے بلکہ ہمارے اعتماد کو بھی لڑ کھڑا رہا ہے۔

کورونا وائرس پورے ملک کو لپیٹ میں لے چکا ہے لیکن ہماری پالیسی لاک ڈاؤن ہوگا، لاک ڈاؤن نہیں ہوگا سے ابھی تک آگے نہیں بڑھی گویا فنا و بقا کا سنجیدہ مسئلہ بھی غیر ذمہ داری اور لا پرواہی کا شکار ہے۔

معاشی پالیسی بھیک اور کشکول کے فلسفے پر کھڑی ہے اور عوام کا ریلا خط غربت کے نیچے دبتا چلا جا رہا ہے۔

یہ ہے وہ تبدیلی جس کے لئے ایک اودھم مچایا گیا۔
یہ ہے اس بیانئے کا غبار جس کے لئے سیاست اور صحافت پر حرص و خوف پیہم برسایا گیا ہے۔
یہ ہے وہ عوامی لہر جس نے عوام کی زندگی اجیرن کردی۔
یہ ہے وہ مسیحائی جس نے ان در و بام سے زندگی چھین لی۔
یہ ہے ان خوابوں کی دل آزار تعبیریں جو بے بصیرت رتوں میں آنکھوں میں اتری تھیں۔

اور یہ ہے وہ انتظام جو جج ارشد ملک اور آر ٹی ایس سسٹم کی بندش جیسی بنیادوں پر کھڑا ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ ان ”بنیادوں“ کی بوسیدگی پر سوالات کی تند و تیز بارشیں مسلسل برسنے لگی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *