مکالمہ کیا ہے اور کیا نہیں ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صحت مند مکالمہ انسانی معاشرے میں موجود موت پرور جمود کو زندگی بخش تحرک میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آئیے پہلے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ”مکالمہ کیا نہیں ہے؟“

وہ باہمی گفتگو جس میں شرکاء دوران گفتگو صرف اپنے تعصبات کی ترتیب نو کر رہے ہوں، اسے صحت مند مکالمے سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا ہے۔

وہ باہمی گفتگو جس میں شرکاء اپنے بولنے کی باری کا انتظار کر رہے ہوں، اسے اظہار کی آزادی تو کہا جا سکتا ہے لیکن مکالمے کی صحت مند صورت کہنا نا مناسب ہو گا۔

وہ باہمی گفتگو جس میں شرکاء اپنے آپ کو اکھاڑے میں اترا ہوا پہلوان تصور کریں اور اپنے لیے جیت اور باقی شرکاء گفتگو کو چاروں شانے چت کرنے کے متمنی ہوں، وہاں پر مکالمہ جنم نہیں لیتا بلکہ شکست وفتح کا کھیل چلمن سے باہر آ جاتا ہے۔

حقیقی مکالمے میں شرکاء ایک دوسرے سے دیواروں کی صورت نہیں ٹکراتے بلکہ اپنے اپنے خانۂدل کے دروازے کھول کر ایک دوسرے کو اندر آنے کی دعوت دیتے ہیں لیکن یہ عمل خطرے سے خالی نہیں ہے۔ ہمارے خانۂ دل میں داخل ہونے والے ہمارے لیے باعث اطمینان بھی ہو سکتے ہیں اور ہمارے قلب کا سکون غارت بھی کر سکتے ہیں۔ وہ ہمارے دل کے چمن کی سیر کر کے ہمیں مسترد بھی کر سکتے ہیں۔ ہمیں پہچاننے اور ماننے سے انکار بھی کر سکتے ہیں۔ ہم میں سے اکثر و بیشتر انسان اس انکار کی تاب نہیں لا سکتے ہیں اور اسی لیے حقیقی مکالمے کے بھاری پتھر کو چوم کر ایک طرف رکھ دیتے ہیں اور الفاظ کی جگالی کو ہی حقیقی مکالمے کا نعم البدل سمجھ کر اپنی ذات کے گنبد میں مقید رہتے ہیں۔

حقیقی مکالمے سے گھبرانے والے اپنی ذات کا قصر خارجی عوامل پر تعمیر کرتے ہیں۔ وہ اپنی ذات کا تعین دوسروں کی آراء سے مرتب کرتے ہیں۔ وہ سچ کی تلاش میں نہیں ہوتے بلکہ ہر صورت اپنی فتح کا علم بلند کرنا چاہتے ہیں۔ حکمرانی کا سودا جب قلب و دماغ میں سمایا ہو تو پھر شاہی فرمان جاری ہوتے ہیں، مکالمے کی داغ بیل نہیں پڑتی ہے۔ حقیقی مکالمہ نا مکمل لوگوں کے مابین ممکن ہے جو مکالمے کے ذریعے اپنی تکمیل کی تگ و دو کرتے ہیں۔ اپنے تئیں اپنے آپ کو مکمل سمجھنے والے مکالمے کا خطرہ مول نہیں لیتے ہیں، وہ تو لب کشائی کرتے ہی اس لیے ہیں کہ حق و باطل کے معرکے میں ان کے دہن مبارک سے قول فیصل کی ادائیگی ممکن ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عاطف طفیل کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *