اقلیتی کمیشن: پہلے سپریم کورٹ کا فیصلہ (14 جون 2014) پڑھیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حکومت نے اقلیتی کونسل بنانے کا اعلان کیا۔ تا کہ ملک میں مذہبی روداری اور مذہبی آزادی پیدا کی جائے۔ اور یہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ کی تعمیل میں کیا جا رہا تھا۔ اس فیصلہ کا پس منظر یہ تھا کہ سپریم کورٹ کے علم میں یہ حقائق آئے کہ مذہبی منافرت کی بناء پر اسماٰعیلی فرقہ اور ہزارہ برادری اور ہندو برادری اور کئی دوسرے مسالک سے وابستہ افراد کے بنیادی حقوق پامال ہو رہے ہیں۔ اس پر از خود کارروائی کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کو فیصلہ سنایا اس کے کچھ تبصرے ملاحظہ فرمائیں :

” freedom of conscience as an indefeasible right, and denied absolutely that a human being is accountable to others for his religious belief.“

ترجمہ: ضمیر کی آزادی ایک ایسا حق ہے جو کہ منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔ اور یہ بات قبول نہیں کی جا سکتی کہ کوئی انسان اپنے مذہبی عقائد کے بارے میں دوسروں کو جوابدہ ہو۔

اسی طرح اس فیصلہ میں لکھا ہے :

”The right to religious conscience is a fundamental right. It has not been subjected or subordinated to any other provision of the Constitution“

یعنی اپنے ضمیر کے مطابق مذہب کی آزادی ایک بنیادی حق ہے۔ یہ حق آئین کی کسی اور شق کا پابند یا اس کے ماتحت نہیں ہے۔

اس فیصلے پر اس انداز میں عمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں مذہبی منافرت کا طوفان اٹھایا جا رہا ہے۔ خاص طور پر احمدیوں کے حوالے سے یہ واویلا کیا جا رہا ہے کہ آئین کی دوسری ترمیم میں انہیں غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔ اس لئے ان پر بھی فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیر مسلم سمجھیں اور تسلیم کریں۔ حالانکہ اس ترمیم میں صرف یہ لکھا تھا کہ آئین اور قانون کی اغراض کے لئے احمدیوں کو غیر مسلم شمار کیا جائے گا۔

احمدی اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں اس کا کوئی ذکر ہی نہیں تھا۔ اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی رو سے یہ ترمیم بھی آئین میں دیے گئے مذہبی آزادی کے حقوق کی پابند ہے۔ اس ترمیم کی کوئی ایسی تشریح نہیں کی جا سکتی جس سے مذہبی آزادی متاثر ہوتی ہو۔ یہ ترمیم اس بنیادی حق سے بالا نہیں ہو سکتی۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ میں یہ تبصرہ کیا گیا ہے کہ کوئی شخص اپنے عقائد کے بارے میں دوسرے شخص کو جوابدہ نہیں ہے۔ اور اس وقت پاکستان کے کئی اینکر حضرات اور سیاستدان اور علماء یہ سمجھ رہے ہیں کہ احمدی اپنے عقائد کے بارے میں ان کے حضور جوابدہ ہیں۔ چند مثالیں پیش ہیں۔

30 اپریل کو صابر شاکر صاحب نے اپنے یو ٹیوب چینل کے ایک پروگرام میں اقلیتی کونسل میں احمدیوں کی فرضی شرکت کی خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا

”تو قادیانی جو ہیں وہ تو آئین پاکستان کو تسلیم نہیں کرتے۔ آئین پاکستان کے تحت ان کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے، وہ اس چیز کو تسلیم نہیں کرتے۔ قومی اسمبلی میں ان کی نشست ہے ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں آفر کی تھی۔ انہوں نے وہ بھی آج تک avail نہیں کی۔ لوکل باڈیز میں سیٹیں ہوتی ہیں اقلیتوں کی وہ نہیں avail کرتے۔ تو وہ تو اس بات کو مانتے ہی نہیں ہیں۔ ۔ ۔“

30 اپریل 2020 کو اے آر وائی چینل پر ایک پروگرام نشر ہوا جس میں صابر شاکر صاحب بطور مہمان اور چوہدری غلام حسین صاحب بطور تبصرہ نگار شریک ہوئے۔ اس پروگرام میں بھی کم و بیش یہی باتیں دہرائی گئیں۔ اور کہا گیا کہ پہلے وہ اپنے آپ کو وہی تسلیم کریں جو ہم انہیں سمجھتے ہیں پھر کسی اور چیز کی بات ہو گی۔

یہ بحث اس لئے بھی مضحکہ خیز ہے کیونکہ احمدیوں نے اقلیتی کمیشن میں بیٹھنے کی کسی خواہش کا کوئی اظہار نہیں کیا۔ یہ سب حضرات خود ہی ایک تجویز پیش کر کے خود ہی اس کی تردید کے لئے اتنا زور لگا رہے ہیں۔

14 مئی 2020 کو صابر شاکر صاحب نے اے آر وائی کے اسی پروگرام میں ایک اور ذہنی قلابازی کھائی۔ پہلے تو انہوں نے پنجاب اسمبلی کی اس قرارداد کا ذکر کیا جو کہ چند روز پہلے منظور کی گئی تھی۔ اور اس میں لکھا ہے

” یہ ایوان مطا لبہ کرتا ہے کہ اگر قادیانیوں کا سربراہ لکھ کر بھیج دے کہ وہ آئین پاکستان کو مانتے ہیں اور اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کرتے ہیں تو ہمیں ان کے اقلیتی کمیشن میں بیٹھنے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔“

یہ خبر سنانے کے بعد صابر شاکر صاحب نے بہت پر اسرار طریق پر فرمایا کہ ربوہ میں میرے بھی ایک دو جاننے والے مخبر ہیں۔ اور میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ تو پتا چلا کہ جو پاکستان کا چیپٹر ہے قادیانیوں کا وہ اب یہ ماننے کے لئے تیار ہے۔ ٹھیک ہے ہم اپنے آپ کو اقلیت مانتے ہیں اور ہم سسٹم کا حصہ بنتے ہیں کیونکہ ہمیں اور تو کوئی تکلیف ہے نہیں پاکستان میں ہمیں تمام حقوق حاصل ہیں۔ مذ ہبی آزادی ہمیں حاصل ہے لیکن ان کو جو لنڈن ہیڈ کوارٹر ہے ان کا وہ ابھی تک یہ ماننے کے لیے تیار نہیں اور انہیں اس کی اجازت نہیں دے رہا۔ لیکن قادیانیوں کا پاکستان کا چیپٹر یہ کہہ رہا ہے کہ آپ تو لندن میں اور یورپ میں مزے لوٹ رہے ہیں اور آپ کو یہاں کے مسائل کا ادراک نہیں۔ اس لئے ہم تو سسٹم کا حصہ بننے جا رہے ہیں۔

اس دلچسپ انکشاف کو سننے کے بعد پہلے یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ شاید صابر شاکر صاحب نے حالیہ لاک ڈاؤن کے دوران بعض غیر معیاری جاسوسی ناولوں کے تراجم پڑھ لئے ہیں اور ان سے متاثر ہو کر اس قسم کی کہانیاں ناظرین کو سنا رہے ہیں۔ لیکن پڑھنے والے خود ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ چند روز پہلے وہ اس سے بالکل الٹ بات پر اصرار کر رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ احمدیوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے انہیں دوسری آئینی ترمیم کر کے غیر مسلم قرار دیا لیکن یہ اس بات کو کسی قیمت پر نہیں مان رہے۔

ظاہر ہے یہ دعویٰ پاکستان کے احمدیوں کے بارے میں تھا ورنہ جو احمدی دوسرے ممالک کے شہری ہیں ان پر تو پاکستان کے آئین یا اس آئین کی دوسری ترمیم کا کوئی اطلاق نہیں ہو سکتا۔ اور چند دن بعد ہی وہ بالکل الٹ بات کہہ گئے کہ پاکستان کے احمدی تو دل و جان سے اپنے آپ کو اقلیت ماننے کے لئے تیار ہیں لیکن ان بیچاروں کو لندن ہیڈ کوارٹر سے اجازت نہیں مل رہی۔

کسی اور کو ان کی باتوں کی تردید کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان کا ایک دعویٰ دوسرے دعوے کی تردید کے لئے کافی ہے۔ ہم یہ بات تسلیم نہیں کر سکتے کہ صابر شاکر صاحب کی یادداشت ان کا ساتھ نہیں دے رہی اور اس وجہ سے وہ متضاد باتیں کر رہے ہیں۔ قرائن یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ باتیں وہ خود نہیں کہ رہے بلکہ کچھ سرپرست مختلف وقتوں میں انہیں سکرپٹ دے رہے ہیں کہ کب کیا کہنا ہے؟ اور اسی وجہ سے وہ اپنی بات کی تردید خود ہی کر جاتے ہیں۔

جماعت احمدیہ کے عقائد معروف ہیں اور کوئی بھی انہیں انٹرنیٹ سے چیک کر سکتا ہے۔ ان حقائق کی موجودگی میں یہ دعویٰ کی جماعت احمدیہ کا فلاں چیپٹر تو اپنے آپ کو اقلیت تسلیم کرنے کے لئے تیار ہے لیکن ہیڈ کوارٹر راستے میں روک بنا ہوا ہے ایک بچگانہ دعوے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔

جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ جماعت احمدیہ نے تو اس اقلیتی کمیشن میں شامل کیے جانے کی کوئی درخواست نہیں کی تھی۔ تو پھر یہ سوال کیوں اٹھایا گیا؟ اس کے بارے میں وزیر برائے مذہبی امور پیر نوارلحق قادری صاحب نے 6 مئی کو ایک پروگرام ندیم ملک لائیو میں کہا

” پہلی سمری میں بھی ہم نے قادیانیوں کو شامل نہیں کیا تھا اور سوچ سمجھ کر نہیں کیا تھا۔ ادھر جو ڈسکشن ہوئی تھی وہ یہ تھی کہ قادیانیوں کو اگر اس کمیشن کا ممبر بنایا جائے تو آئین ان کو غیر مسلم کہتا ہے۔ اور اگر وہ کمیشن میں آ گئے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ انہوں نے بھی قبول کر لیا ہے۔“

یہ تھا اصل منصوبہ۔ جب اس منصوبے میں ناکامی ہوگئی تو اس ناکامی کو چھپانے کے لئے اس قسم کی فرضی کہانیوں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ لیکن اس منصوبے کا نشانہ صرف جماعت احمدیہ نہیں ہے۔ اصل منصوبہ یہ ہے کہ پاکستان کا امن برباد کیا جائے اور مختلف گروہوں کو آپس میں لڑا دیا جائے۔ 5 اور 6 مئی کو نشر ہونے والے پروالے پروگرام ندیم ملک لائیو میں سب شرکاء کو اس لئے بلایا گیا تا کہ یہ سب جماعت احمدیہ کے خلاف اپنے نظریات کا اظہار کریں۔

لیکن اس طرح گفتگو چلائی گئی کہ چند منٹوں میں ایک سیاسی پارٹی نے دوسرے پر یہ الزام لگایا کہ ان کا ایمان پاکستان میں اور ہے لیکن جب باہر جاتے ہیں تو لبرل ہوجاتا ہے۔ جواب میں جس پارٹی پر اعتراض ہوا تھا، اس نے پہلی پارٹی کو پہلے یہود اور نصاریٰ کا ایجنٹ قرار دیا اور پھر کہا کہ یہ، لوگ تو یہودی ہیں۔ تیسری پارٹی نے اپنی حریف پارٹی کے متعلق کہا کہ ان لوگوں نے پہلے بھی ”ختم نبوت“ کا مقدس نام صرف اپنی سیاسی دکان چمکانے کے لئے استعمال کیا تھا اور اس غرض کے لئے اپنے سیاسی حریفوں پر توہین رسالت کا الزام بھی لگایا تھا۔

خلاصہ کلام یہ کہ یہ سب لوگ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے میں مصروف ہو گئے۔ اسی طرح کچھ عرصہ قبل زاہد حامد صاحب اور پاکستان کے سابق سفیر عبد الباسط صاحب نے جماعت احمدیہ کے خلاف یو ٹیوب پر ایک پروگرام نشرکیا۔ اور اس کے ساتھ یہ بھی اظہار کیا کہ پاکستان کے مسائل کا اب یہی حل ہے کہ کوئی بیرونی فوج پاکستان پر حملہ کرے۔ ظاہر ہے یہ صرف احمدیوں کی دشمنی نہیں بلکہ اصل ایجنڈا پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے۔

جیسا کہ میں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا اقتباس درج کیا تھا، کسی گروہ یا کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی گروہ یا کسی شخص کے عقائد کے بارے میں جواب طلب کرے۔ پنجاب اسمبلی کی قرارداد ملاحظہ کریں کہ جماعت احمدیہ کا سرپراہ اپنے عقائد کے بارے میں ہمیں یہ وضاحت لکھ کر دیں۔ حالانکہ انہیں وضاحت طلب کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ اور نہ ہی کسی اینکر کو حق حاصل ہے کہ وہ پروگرام میں اپنی عدالت سجا کر کسی کے عقائد کے بارے میں کوئی جواب طلب کرے۔ ضمیر کی آزادی ایسا حق ہے جسے قومی اسمبلی کی متفقہ قرارداد بھی منسوخ نہیں کر سکتی۔ اگر آپ کسی شخص پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اپنے ضمیر کے خلاف کوئی اعلان کرے تو آپ کو اس کا حق حاصل نہیں ہے۔

یہ واضح ہے کہ اس وقت جماعت احمدیہ کے خلاف جو نفرت انگیزی کی مہم چلائی جا رہی ہے، اس کا نشانہ صرف جماعت احمدیہ نہیں ہے بلکہ جن ”آقاؤں“ کے اشارے پر یہ مہم چلائی جا رہی ہے کہ ان کا اصل مقصد پاکستان کے اتحاد اور استحکام کو نقصان پہنچانا ہے۔ اب اس کے ساتھ شیعہ احباب کے خلاف بھی مواد شائع ہونا شروع گیا ہے۔ اور اس وقت ہمارے عزیز وطن کو اتحاد کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ اور کسی قسم کے اختلافات کو ہوا دینا صرف پاکستان کے دشمنوں کو ہی مدد دے سکتا ہے۔ یہ پوری قوم کا مشترکہ فرض ہے کہ اس سازش کو کامیاب نہ ہونے دے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *