مہدی حسن سے 21 برس پرانی ایک یادگار ملاقات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1996 ء میں شہنشاہ غزل، مہدی حسن پر ہونے والے فالج کے پہلے اٹیک کے بعد وہ عملاً گانے سے دور چلے گئے اور آج سے 8 برس قبل 13 جون 2012 ء کو وہ اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ گو کہ فالج کے اس پہلے اٹیک کے بعد ان کی اکا دکا غزلیں ریکارڈ کی گئیں، مگر ان کی موسیقی کی دنیا کے لیے جتنی بھی خدمات تھیں، وہ اس سے پہلے ہی انجام دی جا چکیں۔ 1999 ء کے سال کا کوئی دن تھا۔ تاریخ مجھے یاد نہیں، جب خانصاحب کے صاحبزادے عارف مہدی کے توسط سے مہدی حسن صاحب سے ملاقات کی سبیل نکلی اور میں نے ذاتی طور پر ان کو خان صاحب کے 15 منٹ کے ریڈیو انٹرویو ریکارڈ کرنے کے لیے آمادہ کر لیا۔ مغرب کے بعد کا وقت معین ہوا اور میں ان سے ملنے کراچی کے فیڈرل۔ بی۔ ایریا میں واقع ان کی رہائشگاہ پہنچا، جو ایدھی سینٹر کے عقب میں واقع تھی۔ سردیوں کے دن تھے اور اس دن خاں صاحب کو نزلہ بھی تھا۔ عارف نے استقبال کر کے مہمان خانے میں بٹھایا اور تھوڑی ہی دیر میں مہدی حسن صاحب کو ”وہیل چیئر“ پر لے آیا۔

اس سے پہلے خانصاحب کو محفل میں ایک بار سننے کا اتفاق ضرور ہوا تھا، مگر ان سے اس طرح بالمشافہ ملاقات میرے لیے ناقابل یقین تھی۔ اس وقت میری عمر صرف 20 برس تھی اور میں ریڈیو پاکستان میں شوقیہ پروگرام کیا کرتا تھا، جبکہ کل وقتی طور پر انجنیئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہا تھا اور یونیورسٹی میں تیسرے برس کا طالب العلم تھا اور ریڈیو میں جز وقتی میزبان کے طور پر کام کرتے ہوئے چار برس بیت چکے تھے اور یہ انٹرویو اتنے مختصر عرصے کی براڈکاسٹنگ کی دنیا سے شوقیہ وابستگی میں میرے ”کیریئر“ کا ”بلاک بسٹر“ ہی تھا۔

یہی وجہ تھی کہ میں جب یہ انٹرویو ریکارڈ کر کے اپنے اسٹیشن ڈائریکٹر، مرحوم ضمیر علی بدایونی کے پاس لے گیا، تو ان کو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ میں شہنشاہ غزل مہدی حسن کا انٹرویو رکارڈ کر کے آیا ہوں۔ ریڈیو پاکستان کے لیے تو مہدی حسن صاحب کا انٹرویو یا آواز کوئی نئی یا بڑی بات نہیں تھی، البتہ یہ میری زندگی کا پہلا بڑا (بلکہ بہت ہی بڑا) انٹرویو تھا اور اب، جب ریڈیو براڈکاسٹنگ میرا کل وقتی پیشہ بن چکا ہے (جس کے بارے میں میں نے تب تک سوچا تک نہ تھا کہ ایسا ہوگا) اور مجھے اس صحرا نوردی میں 25 برس بیت چکے ہیں، تو اب تک کے میرے لیے گئے انٹرویوز میں بھی مہدی حسن صاحب کے اس انٹرویو کا مقام الگ اور یکتا ہے۔ عارف مہدی نے مجھ سے یہ وعدہ ضرور لیا کہ میں خانصاحب کو کوئی گانا گنگنانے کا نہ کہوں۔ اور بہت زیادہ باتیں یاد ناں دلاؤں، کہ ان کو ذہن پر زور نہ دینا پڑے۔

خاں صاحب تشریف لائے۔ گرمجوشی کے ساتھ ملے۔ عارف نے انہیں ڈرائنگ روم میں رکھے بیڈ نما تخت پر بٹھایا، جو شاید اسی وجہ سے مہمان خانے میں رکھا گیا ہوگا، کہ خاں صاحب سے دوست احباب ملنے آتے ہوں گے ، تو ان سے ملنے کے لیے خاں صاحب شاید صوفہ پر بیٹھنے میں دقت محسوس کرتے ہوں۔ مہدی حسن صاحب اس دن بظاہر تو کمزور دکھائی نہیں دے رہے تھے، البتہ فالج کی وجہ سے زبان میں لکنت تھی اور ان کو بولنے میں کافی دقت محسوس ہو رہی تھی اور ہمیں ان کی بات سمجھنے میں بھی۔ اس لیے انٹرویو کے دوران متعدد بار میں نے ان سے ان کی کہی ہوئی بات دہرانے کی بھی گزارش کی تھی۔

15 منٹ کا طے شدہ انٹرویو تقریباً 25 منٹ آدھے گھنٹے تک کا ہو گیا اور باتوں باتوں میں دورانیے کا پتا ہی نہ چل سکا، گو کہ عارف، اشاروں میں بار بار انٹرویو ختم کرنے کا کہتے رہے۔ اس کے باوجود میں نے چند منٹ اضافی گفتگو کر لی۔ حالانکہ مہدی صاحب کو بھی باتیں کرنے اور اپنے ماضی کے قصے سنانے میں لطف آ رہا تھا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا، جیسے وہ کافی دنوں کے بعد کسی سے اپنی یادیں شیئر کر رہے ہوں۔ اس انٹرویو کے دوران میں نے محسوس کیا کہ خاں صاحب کی یادداشت تب تک بہت متاثر ہو چکی تھی۔ مگر اس کے باوجود اگر کچھ یاد کرتے ہوئے، ان کو باتوں کا کوئی سرا ہاتھ آ جاتا، تو پھر یادوں کے تھان کھلتے جاتے تھے اور انہیں پھر باتیں یاد آتی جاتی تھیں۔

یہاں اس پورے انٹرویو کو ٹرانسکرائب کر کے تو پیش نہیں کر رہا، البتہ کچھ سوالات کے جوابات ذوق قارئین کی نذر کر رہا ہوں، تاکہ یہ بات چیت تحریری رکارڈ کا حصہ بھی بن جائے۔ وہ سوال و جواب مندرجہ ذیل ہیں۔ میں نے اپنا ریکارڈر ”آن“ کیا اور بات چیت رکارڈ کرنا شروع کر دی۔

سوال: خاں صاحب، سب سے پہلے تو ہمارے اور آپ کے سامعین۔ آپ کے مداح جاننا چاہیں گے کہ اب آپ کی طبیعت، صحت کیسی ہے؟

مہدی حسن صاحب: اللہ پاک کا کرم ہے۔ اب کافی بہتر ہوں۔ بس سردیوں کی وجہ سے نمونیا ہو گیا تھا۔ مگر اس کا بھی ٹریٹمنٹ تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ بہت جلد انشاء اللہ پھر ساتھ ہوں گے ۔ اب بھی ساتھ ہیں۔ آپ دعا کریں۔

سوال: خاں صاحب، سب سے پہلی بار فن کا مظاہرہ کرنا یاد ہے؟

مہدی حسن صاحب: جی۔ بالکل اچھی طرح۔ میں بچہ تھا اور میرے چچا اسمٰعیل خاں نے مجھے مہا راجا بڑودا کے سامنے ان کے دربار میں گوایا تھا۔ میں ”لونا“ میں پیدا ہوا تھا۔ راجستھان میں۔ 1927 ء میں۔ ہمارے گاؤں کو ”شیخاوتی“ بھی کہتے تھے۔ منڈاوا کے قریب۔ میرے والد تھے استاد عظیم خاں۔ ابا، چچا دونوں سے سیکھا۔ مگر زیادہ مجھے اسمٰعیل خاں نے سکھایا۔ میرے چچا نے۔ ہمارا گھرانا ”کلاونت گھرانا“ ہے۔ پورے ہندوستان میں مشہور ہے۔ ابا اور چچا ”دھرپد گایک“ مشہور تھے۔ تو میں نے جب مہا راجا بڑودا کے سامنے گایا، تو وہ بہت متاثر ہوئے اور بہت انعام اکرام سے نوازا۔ اور ابا اور چچا سے میری تعریف کی۔ مگر میرے بارے میں ایک جملہ بولا جو مجھے آج تک نہیں بھولا۔ بولے : ”اس بچے کے گانے کا جادو تو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔“ یہ جملہ میرے لیے سب انعامات سے بڑھ کر تھا۔

سوال: اس وقت آپ کی عمر کیا تھی؟
مہدی صاحب: یہی کوئی گیارہ بارہ سال۔
سوال: مطلب آپ نے بچپن ہی سے تربیت حاصل کی؟
مہدی حسن: جی ہاں! آنکھ کھلتے ہی۔


سوال: سنا ہے آپ نے پہلوانی بھی کی؟

مہدی حسن صاحب: جی۔ بالکل۔ موٹر مکینک بھی رہا۔ گاڑیاں ٹھیک کیں۔ ٹریکٹر ٹھیک کیے۔ سائکلیں ٹھیک کیں۔ کچھ مالی حالات بھی ایسے تھے۔ پہلوانی بھی کی۔ شوقیہ نہیں۔ بزرگوں نے کروائی۔ کہ یہ موسیقی کے لیے ضروری ہے۔ سانس کی مشق ہوتی ہے پہلوانی سے۔ جتنی زیادہ سانس کھنچ سکے۔ رک سکے، اتنی ہی سر لگانے پر اپنی مرضی چلتی ہے۔ سر پھیکا نہیں پڑتا۔ اس لیے بزرگوں نے یہ مشقت کروائی۔ اور ہم نے بھی خوشی خوشی کی۔ اس لیے رب نے یہ مقام دیا۔

سوال: کتنا عرصہ سیکھے؟ اور دوران تربیت کتنے گھنٹے ریاض کیا کرتے تھے؟

مہدی حسن صاحب: آج بھی سیکھ ہی رہا ہوں۔ میرے ریاض کا آج بھی حساب نہیں۔ آج بھی صبح صادق کو بیٹھوں تو سورج سر پر چڑھ جانے کا پتا نہیں چلتا۔ بچپن میں بزرگ کہتے تھے، دونوں آکھاڑوں میں دل لگاؤ۔ پہلوانی کے اکھاڑے میں بھی اور موسیقی کے آکھاڑے میں بھی۔ کسی سے جی مت چرانا۔ علی الصبح اٹھ کر گانے کا ریاض کرایا جاتا تھا۔ صبح ہوتے ہی آکھاڑے میں کثرت شروع ہو جاتی تھی۔ پھر دوپہر کو راگ کے ریاض کا دوبارہ وقت ہو جاتا تھا۔

جبھی تو بزرگوں نے گلے کی تربیت ایسی کی کہ گلہ ہر قسم کا گانا گانے کے لیے تیار ہو گیا۔ اگر کہیں جا رہے ہوتے تھے، تو ابا اور چچا فضول بیٹھنے نہیں دیتے تھے۔ کہتے تھے گاڑی کی آواز کے ساتھ سر ملاؤ اور سانس کی مشق کرو۔ پھر ہر بدلتے گیئر کے ساتھ گاڑی کی بدلتی آواز (سر) کے ساتھ سر ملوایا کرتے تھے۔ اب کون کرتا ہے ایسا ریاض۔

سوال: کس کے ساتھ دوگانا گانے کا مزا آتا تھا؟
مہدی حسن: میڈم کے ساتھ۔
سوال: میڈم؟ نورجہاں؟
مہدی صاحب: جی ہاں۔ میڈم نورجہاں۔
موسیقی کو اچھا جانتی تھیں۔ ہم نے کئی ایک گانے ساتھ گائے۔

(میں نے اس دوران نوٹ کیا کہ وہ دوسری ساتھی گلوکاراؤں کے نام یاد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر ان کو دیگر نام یاد نہیں آ رہے۔ پھر میں نے چند ایک یاد دلائے۔ )

سوال: ناہید اختر؟
مہدی حسن صاحب: ہاں۔ ان کے ساتھ بھی لاتعداد گیت گائے۔
کیا یاد دلا دیا آپ نے۔ ”یہ دنیا رہے ناں رہے میرے ہمدم، کہانی محبت کی زندہ رہے گی۔ “
یاسر: ”بانٹ رہا تھا جب خدا، سارے جہاں کی نعمتیں۔ “ ؟
مہدی حسن صاحب: جی جی۔ کیا بات ہے۔ ”نذرانہ“
”نینوں کا ہے کام سارا۔ “ ”دہلیز“ کا۔
”سب کچھ خدا سے مانگ لیا۔ “ یہ تھی ”تیرے میرے سپنے“
”چاہے دنیا ہو خفا۔ “ ، ”ہم نے خود چھیڑ لیا پیار کے افسانے کو۔ “
ناہید جی کے ساتھ تو بہت سارے نغمے ہیں۔
یاسر: مہناز۔ ؟ رونا لیلیٰ؟

مہدی حسن صاحب: ارے ہاں۔ مہناز بیگم کے ساتھ بھی کافی گایا۔ اور آپ لوگوں نے پسند بھی کیا۔ ”دو پیاسے دل ایک ہوئے ہیں ایسے۔ “ ، ”دو ساتھی جیون کے۔ “ ، ”پیار کا وعدہ ایسے نبھائیں۔ “ ، ”یاد رکھو گے ناں۔ “

سوال: میڈم کے ساتھ آپ نے لاتعداد گانے گائے۔ آپ کا ان میں سے پسندیدہ گیت کون سا ہے؟
(اس دوران بھی میں نے محسوس کیا کہ وہ یاد کرنا چاہ رہے ہیں، مگر ان کو یاد نہیں آ رہا تھا۔ )

مہدی حسن صاحب: سب دوگانے اچھے تھے۔ ان کے ساتھ جتنے بھی گانے گائے۔ سب ہٹ ہوئے۔ ایک بار میڈم اور میں دوگانہ ریکارڈ کروا رہے تھے : ”چل چلیے دنیا کے اس نکڑے، جتھے بندہ نہ بندے دی ذات ہووے۔ “

میں نے میڈم سے کہا ”یہ کیسا گانا ہے جتھے بندہ نہ بندے دی ذات ہووے۔ بھلا یہ بھی کوئی گانا ہوا!“ میڈم نے مجھے کہا ”خاں صاحب، دیکھیے گا کہ یہ گانا اتنا ہٹ ہوگا کہ اسے دنیا پسند کرے گی۔“ اور ہوا بھی ایسا ہی۔ میڈم کی بات سچ ثابت ہوئی۔ وہ گانا بہت ہٹ ہوا۔

سوال: کمپوزرس میں سب سے زیادہ کس کے ساتھ کام کرنے میں مزا آیا؟

مہدی حسن صاحب: سب کے ساتھ ہی کام کیا جی۔ کام کو کام سمجھ کر کیا۔ بزرگوں نے بتا دیا تھا کہ کام کام ہوتا ہے۔ کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا۔ تو کام کو کام سمجھ کر ہی کیا۔ غزل سے لے کر فلمی موسیقی تک ہر کام دل سے کیا۔ جہاں تک غزلوں کا تعلق ہے تو اپنی غزلوں کی موسیقی تو میں خود ہی تخلیق کرتا ہوں۔ سوائے ان کے، جو ریڈیو اور ٹیلی وژن کے لیے ریکارڈ ہوئیں۔ ان میں سے بھی کئی غزلوں کی دھنیں میں نے خود بنائیں۔

ہاں البتہ، فلمی موسیقی تو موسیقار ہی ترتیب دیتے ہیں۔ سب موسیقاروں کے ساتھ کام کیا۔ خواجہ خورشید انور۔ ”چاند تو جب بھی مسکراتا ہے۔ “ ، رشید عطرے۔ بزمی صاحب، روبن گھوش۔ روبن گھوش کے کیا کیا گانے مقبول ہوئے۔ ”تیرے بھیگے بدن کی خوشبو سے۔ “ ، ”ٹھہرا ہے سماں۔ “ ، ”مجھے دل سے ناں بھولنا۔ “ ، ”پیار بھرے دو شرمیلے نین۔ “ ، ”کبھی میں سوچتا ہوں۔ “ آئینہ سے۔ پھر ایم اشرف۔ ۔ ۔ ایم اشرف کی وہ حمد میں نے پڑھی۔ ”بندہ تو گنہگار ہے، رحمان ہے مولیٰ۔ بندے پہ کرم کرنا تیری شان ہے مولیٰ۔ “ بڑی مقبول ہوئی۔ یا پھر ”بازار“ فلم کا وہ گیت۔ ”اک نگاہ کرم ہم پر۔ “ یہ بھی ایم اشرف کی دھن تھی۔ ”میرے ہمدم تجھے پا کر قرار آیا ہے۔ “ یہ بھی ایم اشرف تھے۔ کیا مقبول ہوا یہ بھی۔

یہاں باتوں باتوں میں مجھے یہ بات یاد آ گئی اور میں آپ کے سامعین کو بتاتا چلوں۔ اس سے پہلے کہ میں بھول جاؤں کہ فلمی موسیقی کے لحاظ سے میرے بالکل پہلے کمپوزر اصغر علی محمد حسین تھے۔ جنہوں نے فلم ”شکار“ کے لیے مجھ سے گوایا تھا۔ سال تھا شاید 1956 ء۔ گانا تھا ”نظر ملتے ہی دل کی بات کا چرچا نہ ہو جائے۔ “

چونکہ اس وقت تک میری پہچان غزل گائک کے طور پر ہو چکی تھی۔ ریڈیو پاکستان میں۔ اس لیے مجھے ”شکار“ کے بعد رشید عطرے نے گوایا فلم ”فرنگی“ میں۔ اور وہ غزل تھی۔ فیض صاحب کی ”گلوں میں رنگ بھرے، باد نؤ بہار چلے۔ “ اور وہ تو آپ کو پتا ہے کہ وہ تو پاکستان کیا، ہندوستان کیا۔ کہاں کہاں مقبول نہیں ہوئی۔ فیض صاحب خود کہتے تھے کہ یہ غزل اب میری نہیں ہے۔ مہدی حسن کی ہے۔

سوال: خاں صاحب، آپ نے اتنی غزلیں گائیں۔ ”شہنشاہ غزل“ کہلائے۔ آپ کو خود اپنی کون سی غزل پسند ہے؟

مہدی حسن صاحب: (مسکراتے ہوئے۔ ) اب میں کیا کہوں۔ میں نے تو جو گایا، اچھا سمجھ کر ہی گایا۔ اس کو اچھا بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی۔ سنوار کر گایا۔ تو میرے حساب سے تو جو بھی گیا، وہ اہم ہے۔ میں اس میں سے کم اہم تو کسی کو نہیں کہوں گا۔ اب یہ سننے والوں پر ہے کہ وہ کس غزل یا گیت کو کس پر فوقیت دیتے ہیں۔ یہ ہر کسی کی اپنی اپنی پسند پر ہے۔ 1956 ء یا 1957 ء کا ہی دور تھا، جب زیڈ۔ اے۔ بخاری صاحب اور رفیق انور مجھے ریڈیو پاکستان پر لائے۔

۔ ۔ متعارف کروایا اور سب سے پہلے مجھ سے ٹھمری گوائی۔ یعنی میں ریڈیو پاکستان میں ایک کلاسیکی گلوکار کی حیثیت سے آیا۔ لیکن جیسا کہ میں نے بتایا کہ بزرگوں نے میرے گلے پر محنت ہی اتنی کی تھی، کہ غزل ہو، گیت ہو، کلاسیکل ہو۔ نیم کلاسیکل ہو۔ میرے لیے کچھ بھی گانا کوئی مسئلہ نہ رہا۔ تو غزل گائیکی کے لیے پہلا پلیٹ فارم بھی ریڈیو پاکستان ہی بنا۔ لاتعداد غزلیں گائیں۔ اور پھر تو پوری دنیا میں جا کر گائیں۔

سب نے پسند کیں۔ کس کس غزل کا بتاؤں۔ فراز صاحب کی غزل بھی بہت مقبول ہوئی: ”اب کہ ہم بچھڑے۔ “ ، یا پھر فراز صاحب ہی کی ”رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ۔ “ پھر تسلیم فاضلی کی ”رفتہ رفتہ وہ میری ہستی کا ساماں ہو گئے۔ “ جو بعد میں میں نے فلم میں بھی گائی۔ پھر ایک غزل سلیم کوثر صاحب کی میں نے گائی، جو نے رئیس خاں نے کمپوز کی تھی۔ وہ بھی بہت مقبول ہوئی ”میں خیال ہوں کسی اور کا، مجھے سوچتا کوئی اور ہے۔ “ جو میری فلم کی غزل ہے۔ یا وہ پھر ”کوبکو پھیل گئی بات شناسائی کی۔ “ پروین شاکر۔ یہ بعد والی غزلیات میں ہے۔

ویسے تو غالب کو بھی گایا۔ ”میر“ کو بھی گایا۔ اقبال کو بھی گایا۔ اساتذہ کو بھی دل سے گایا۔

سوال: غالب کی کون سی اپنی گائی ہوئی غزل آپ کو سب سے زیادہ پسند ہے؟

مہدی حسن صاحب: ”دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں۔ “ اور ایک اور ابھی حال ہی میں میں نے گائی ہے ”مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے۔ “

سوال: آپ نے فلموں کے لیے بڑے مزیدار اور نمکین گانے بھی گائے۔ مثلا: ”پانڈے قلئی کرالو۔ “ وغیرہ۔ ایک سنجیدہ غزل کا گلوکار کیسے آمادہ ہو گیا ایسے گانے گانے کے لیے؟

مہدی حسن صاحب: (زیر لب مسکراتے ہوئے ) آپ کو تو پتا ہے فلم میں مختلف سچوئیشنز ہوتی ہیں۔ اور ان کی مناسبت سے گانے ہوتے ہیں۔ تو ”پلے بیک“ میں پھر آپ کو ہر قسم کے گانے گانے کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے۔ اور جیسا کہ میں نے کہا کہ گلے کی تربیت ہی ایسی کی گئی تھی کہ کچھ بھی گاؤ، سر پھیکا نہیں پڑتا تھا۔ اگر ہم خود سر کو راستے سے اتارنا چاہیں تو اتار سکتے ہیں۔ جس کو ہم موسیقی کی زبان میں ”ہم وادی سر“ کہتے ہیں۔

۔ ۔ کچھ ”بے وادی سر“ ہوتے ہیں۔ تو ”ہم وادی سر“ لگا کر پھر اصل سر پر آنا۔ ”بیسک“ سر پر آنا یہ مہارت کا کام ہوتا ہے۔ جیسے کوئی سائیکل سوار کرتب دکھاتے ہوئے روڈ سے اتر جائے اور پھر راہ راست پر آسانی سے واپس آ جائے۔ یہ بھی ایسے ہی ہے۔ تو بزرگوں نے سب کچھ سکھایا۔ ان کی بڑی دین ہے۔ اس سے پہلے اللہ میاں کی دین ہے۔ کہ کسی بھی قسم کا گانا گانے میں مشکل نہیں ہوئی۔

آپ کا سوال پتا نہیں کیا تھا۔
سوال: آپ کے مزیدار اور مزاحیہ انداز والے گانوں پر بات ہو رہی تھی۔

مہدی صاحب: ہاں۔ تو ایسے کئی گانے گائے۔ جیسے ”شرارت“ فلم کا ”چلو یونہی روٹھے رہو۔ “ یا وہ جو محمد علی اور ننہا پر فلمایا گیا تھا۔ عارف! کون سا تھا وہ؟ (اپنے بیٹے سے دریافت کرتے ہوئے۔ )

عارف مہدی: ”لاکھ کرو انکار سسر جی۔ “ ”نوکر“ فلم
مہدی صاحب: ہاں، ”لاکھ کرو انکار سسر جی۔ رنگ لائے گا پیار۔ “ (مسکراتے ہوئے )
تو ایسی کئی مثالیں ہیں۔

سوال: سنا ہے آپ کے گانے سے ایک بار شیشہ بھی ٹوٹ گیا تھا؟ کیا یہ بات سچ ہے؟ یا ایویں ای قصہ بنایا ہوا ہے لوگوں نے۔ ؟

مہدی حسن صاحب: نہیں نہیں۔ یہ بالکل سچ بات ہے۔ لاہور کا واقعہ ہے۔ خیابان ہوٹل کا۔ اب تو خیابان ہوٹل نہیں ہے شاید۔ بند ہو گئی ہے۔ وہاں پر میں گا رہا تھا۔ ایک پرائیویٹ محفل میں۔ چھوٹا سا اسٹیج بنا ہوا تھا اور گلاس سامنے رکھا ہوا تھا۔

یاسر: اسٹیج سے نیچے؟
مہدی حسن صاحب: جی اسٹیج سے نیچے۔

تو میں گا رہا تھا۔ ”میاں کی ملہار“ میں ایک بندش۔ تو گلاس اچانک سے ٹوٹ کر اچھل کر گرا۔ اس میں آدھا پانی بھی ہوا بھرا تھا۔ سب لوگ حیران و پریشان ہو گئے۔ میں نے کہا کہ گھبرانے کی بات نہیں ہے۔ راگ کا جادو کچھ بھی کر سکتا ہے۔ یہ میرا کمال نہیں۔ موسیقی کا کمال ہے۔ اور موسیقی کچھ بھی کر سکتی ہے۔ حیرانی کی بات نہیں ہے۔

سوال: خاں صاحب، کہتے ہیں ”دیپک“ راگ گانے سے آگ لگ جاتی ہے۔ ایک روایت بھی ہے موسیقی کے جد امجد، تان سین کے حوالے سے کہ انہوں نے ”دیپک“ چھیڑا تھا تو دربار اکبری میں آگ لگ گئی تھی۔ یہ بات اس سائنسی دور میں تو فسانے سے بڑھ کر کچھ نہیں لگتی۔ آپ موسیقی کے گروؤں کے پاس ”دیپک“ کے ”نوٹیشنس“ تو لکھے ہوں گے ناں۔ ۔ ! کبھی اس کو گانا ٹرائی نہیں کیا آپ نے؟

مہدی حسن: بزرگوں کی اجازت ہی نہیں ہے۔ اس راگ کو گانے کی۔ ہم تو نام بھی نہیں لیتے اس راگ کا۔ انہوں نے منع کر دیا تو بس ہم باز ہی رہے۔ بڑوں نے کہا کہ اس بات پر یقین کرو۔ تو ہم نے کر لیا۔ ہم نے اس بات کے جھوٹ ہونے کا کبھی گمان ہی نہیں کیا۔ ایسا سوچنا ہم گناہ سمجھتے ہیں۔ تو بس بزرگوں نے کہا کہ اسے ہاتھ نہیں لگانا، تو بس ہم نے نہیں لگایا۔

سوال: آپ نے اردو کے علاوہ اور کن کن زبانوں میں گایا؟
مہدی حسن صاحب: کئی ایک زبانیں ہیں جی!
پنجابی۔ فارسی۔ سرائیکی۔ سندھی۔ انگریزی میں بھی تجربہ کروایا گیا۔
یاسر: سندھی اور پنجابی میں تو آپ کے کافی گیت مقبول بھی ہوئے۔

مہدی حسن: جی جی۔ سندھی میں تو فلموں کے لیے بھی گایا۔ پنجابی میں بھی۔ سندھی کے لیے پاکستان ٹیلی وژن کے لیے بھی بہت گوایا گیا۔ خود حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کا کلام گانے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔

سوال: آپ نے سندھی میں فلم ”مومل رانڑو“ کے لیے ایک بہت ہی پیارا گیت گایا تھا، ”پریں اوہاں سان پریت لگائے ورتوسیں ویراگ۔ “ یہ فلم تو رلیز نہیں ہوئی تھی، مگر یہ گانا آج تک ریڈیو سے بجتا ہے۔ اور شوق سے سنا جاتا ہے۔

مہدی حسن صاحب: جی۔ مجھے یاد ہے۔ بول یاد نہیں ہیں۔ مگر بے حد پیارا گیت تھا۔ میں اب بھی کراچی سے باہر محفلیں کرنے جاتا ہوں تو مجھے میرے ہی گائے ہوئے سندھی گیتوں کی فرمائش ہوتی ہے۔

یاسر: خاں صاحب، اللہ کریم آپ کو جلد صحت کاملہ سے نوازے۔ اور آپ پھر ہمارے لیے ویسے ہی حسین گیت گائیں۔ اور ہماری سماعتوں میں امرت رس گھولتے رہیں۔ (آمین! )

مہدی حسن صاحب: آپ کا بہت بہت شکریہ۔ ریڈیو پاکستان کا بہت بہت شکریہ۔ ریڈیو پاکستان کے سامعین کا بے حد تشکر! کہ انہوں نے مجھے یاد رکھا۔ ریڈیو پاکستان میری درسگاہ ہے۔ تربیتگاہ ہے۔ جہاں سے میں نے سیکھا ہے۔ سب سے گزارش ہے کہ میری صحت کے لیے دعا کریں، کہ میں آپ کو وہاں سٹوڈیو میں آ کر انٹرویو دوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *