ٹرمپ : امریکی ریاست کے بانیوں کا ڈر اور امریکہ کا مستقبل


\"zeeshan

سترہ سو ستاسی میں Constitutional Convention کے بعد ، Philadelphia میں …ایک خاتون نے بینجمن فرینکلن سے پوچھا : Well ، ڈاکٹر ہم اب کیا حاصل کر چکے ہیں ؟ جمہوریت یا آمریت ؟

فرینکلین کا جواب تھا : جمہوریت ، اگر تم لوگ اسے سنبھال سکو تو ……

امریکی اعلانِ آزادی کے مصنف تھامس جیفرسن جو امریکہ کے ایک طرح سے قائد اعظم ہیں سے کسی نے پوچھا : آپ کے خیال میں امریکی شخصی آزادیوں کو کس چیز سے خطرہ ہے ؟

 ریاستی آمریت سے – جیفرسن نے جواب دیا

اس کا کیا مطلب ہے ؟ : اس آدمی نے دوبارہ سے پوچھا

 اکثریت کی آمریت سے شخصی آزادیوں کو خطرہ ہے – جیفرسن نے کہا

 وہ کیسے ؟

مقبولیت پسند بیانیہ سے ، ووٹ کے حصول کے لئے شہریوں کے ذہنی و جذباتی استحصال سے اس قوم کو ہمیشہ خطرہ رہے گا – جیفرسن نے تفصیل سے جواب دیا –

سارا امریکی میڈیا (بڑے بڑے میڈیا گروپس نے باقاعدہ طور پر ٹرمپ کی مخالفت کا اعلان کیا تھا – میں سوچ رہا ہوں کہ آخر نیو یارک ٹائم والے کیا سوچ رہے ہوں گے ؟)

سارے لبرل سیکولر دانشور … یہاں تک کہ نامی گرامی conservative دانشوروں نے بھی اس سے پناہ مانگی

  وال سٹریٹ سمیت تمام سرمایہ دار طاقتیں (کیونکہ اس نے کیپٹل کنٹرول کا ببانگ دہل اعلان کیا ، ٹریڈ ڈیلز کے خاتمے کا وعدہ کیا وغیرہ )

-امریکی سول اسٹیبلشمنٹ (وہ کہا کرتا تھا کہ اگر میں ہار گیا تو مجھے سول اسٹبلشمنٹ دھاندھلی سے ہروائے گی )-

 سوشل میڈیا (سوشل میڈیا پر تو ٹرمپ ہٹلر سے ذرا بھی کم نہیں تھا )

 سمیت تمام ٹرمپ کے خلاف متفق تھے مگر ٹرمپ جیت گیا

  سچ ہے ووٹ کی طاقت (چاہے ٹرمپ کی حمایت میں پڑنے والے ووٹ کی آپ کوئی بھی دلیل دیں ) کے سامنے کوئی بھی لابنگ کامیاب نہیں – جمہوریت میں انقلاب نہیں آتے مگر ہوش ربا تبدیلیوں سے یہ جہاں بھی امکانات سے خالی نہیں – عوام نے نظام اور رجحانات بدلنے ہوں تو کوئی بھی طاقت ان کے آگے نہیں ٹھہر سکتی

 ٹرمپ وہ خطرہ تھا جس سے کلاسیکل لبرلز نے امریکیوں کو ہمیشہ خبردار کیا تھا – مگر ظالم سمجھ بیٹھے تھے کہ کلاسیکل لبرل ازم اب outdated ہے اور فاشزم کا خطرہ ہمیشہ کے لئے ٹل گیا ہے – \”

غلامی کا راستہ \” (Road to serfdom ) نامی کتاب کے مصنف اور میرے پسندیدہ ترین فلسفی فریڈرک اے ہائیک سے کسی نے پوچھا – امریکی لبرل ازم کو کس چیز سے خطرہ ہے ؟

ہائیک نے جواب دیا : جمہوریت سے

مگر وہ کس طرح ؟ اس آدمی نے چونک کر پوچھا

اس کے فاشسٹ و سوشلسٹ رجحانات کی وجہ سے … کہ ریاست ہر چیز کو اپنے قبضہ میں لے کر کنٹرول کرے ، حکومت ہر کام خود کرے – شخصی آزادیوں کی مفروضہ سماجی مفادات کے مقابلے میں کوئی وقعت نہیں – فرد و سماج صرف وہی بہتر ہے جسے حکومت قبول کرے –

اس کا حل کیا ہے ؟ اس آدمی نے دوبارہ پوچھا

جمہوریت … ہائیک نے جواب دیا

 اب وہ کیسے ؟

ہائیک نے جواب دیا : وہ اس طرح کہ اب تک کے حاصل شدہ علم کی رو سے فاشسٹ و سوشلسٹ رجحانات کی حکومتیں جب عملی طور پر ناکام ہو جاتی ہیں تو توازن کی دوبارہ سے تلاش میں وہ بالاخر شخصی آزادیوں پر مبنی سیاسی سماجی اور معاشی نظام پر ہی آ ٹھہرتی ہیں – جمہوریت ان تبدیلیوں کو پرامن راستہ دیتی ہے – جمہوریت کا دائرۂ کار محدود سہی مگر یہ ناگزیر ہے اس کے علاوہ سیاسی استحکام کی کوئی دوسری صورت نہیں –

 یہی امریکہ کا مستقبل ہے – ٹرمپ ہٹلر مسولینی اور دوسرے آمروں کی طرح ناکام ہو گا اور امریکی عوام سمیت اہل مغرب کو کم از کم تیس اور زیادہ سے زیادہ پچاس سال تک کے لئے نہ بھلا سکنے والے اسباق چھوڑ جائے گا –

Facebook Comments HS

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 167 posts and counting.See all posts by zeeshan

2 thoughts on “ٹرمپ : امریکی ریاست کے بانیوں کا ڈر اور امریکہ کا مستقبل

  • 09/11/2016 at 9:53 شام
    Permalink

    the conclusion is not logical. an author in Pakistan want to reject the opinion of those, who are constitutionally authorised to use it, as they want, seems that the author is impressed from the paki media Pseudo opinion , while unaware of American realities , the American reality is , different than the Era mentioned in quotations and references by the author.just one question tp the author, please quote some thing from the Era of post cold war . then the subject will be discussable , otherwise, it seems minimum not Muhammad Bin Qasim Era. But Ayub Khan Plans about east Pakistan in 2016

  • 09/11/2016 at 9:55 شام
    Permalink

    what?

Comments are closed.