سندھ حکومت پہ حملہ آور سیاسی ٹڈی دل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پوری دنیا کی طرح پاکستان بھی اس وقت کورونا وائرس کے تیز رفتار پھیلاؤ کی وجہ سے شدید معاشی دباؤ اور عوام کی صحت و زندگیوں کو لاحق شدید خطرات سے دوچار ہے۔ مرکزی اور صوبائی حکومتیں اپنے اپنے تئیں کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ملک میں اس وقت جس قومی اتفاق رائے، سیاسی ہم آہنگی اور یکجہتی کی سخت ضرورت ہے وہ کہیں نظر نہیں آ رہی۔ خان صاحب اور ان کی ٹیم کسی بھی وبا، قدرتی آفت اور سیاسی معاشی معاملات سے نمٹنے کی اہلیت اور صلاحیت سے عاری نظر آتی ہے۔

صوبہ سندھ نے کورونا کے خطرے کو بھانپتے ہوئے سب سے پہلے انتہائی ذمے داری سے اس کے پھیلاؤ کے روک تھام کے لیے اقدامات شروع کیے۔ تاہم اس کی مدد کرنے کی بجائے اس کے اقدامات کو اونرشپ دینے اور ملک میں قومی اتفاق رائے کے ذریعے متفقہ اور فوری طور پر اقدامات اٹھانے کے خان صاحب اور ان کے حواری ٹڈی دل کی طرح سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی پہ ٹوٹ پڑے۔ خان صاحب وزیراعظم بن کر اپنی نفرت و انتقام کے ایجنڈے کی تکمیل اور اپنے ذاتی بغض و عناد کے بیانیے کو مکمل کرنے کی خاطر عوام سے کیے گئے ہر وعدے دعوے کو تو پہلے ہی بھول چکے تھے، انہیں یاد رہا تو صرف اور صرف احتساب بلکہ بدترین انتقامی احتساب جس نے انہیں صرف بیس ماہ میں ایک ایسے ڈیڈ اینڈ پہ لا کر کھڑا کیا ہے جہاں سے واپسی کی تمام راہیں مسدود ہو چکی ہیں، اس وقت بھی وہ اسی نفرت و انتقام کی آگ میں جھلستے ہوئے وہی رویے روا رکھے ہوئے ہیں۔

پاکستان میں فروری کے اخیر میں کورونا نے قدم رکھا سندھ حکومت نے چینی حکومت کے تجربات اور اقدامات کی تقلید کرتے ان سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے فوری اور موثر اقدام اٹھا کر نہ صرف ملکی سطح پر عوامی پذیرائی حاصل کی بلکہ بین الاقوامی طور پر بھی حکومت سندھ کی کارکردگی اور کوششوں کو بڑے پیمانے پر سراہا گیا، یہ بات کسی بھی طور پر پیپلز پارٹی کے خلاف بغض و کینے اور نفرت کی آگ میں جھلستی تحریک انصاف کی قیادت اور مرکزی حکومت کو پسند نہ آئی اور سندھ کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پہ پہلے ہی دن سے خان صاحب اور ان کے اکابر پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت پہ عوام کو بھوکا مارنے سمیت کتنے ہی غیر اخلاقی اور غیر سنجیدہ قسم کے الزامات لگا کر سندھ حکومت کے اقدامات کو متنازعہ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہوگئے۔

وزیراعظم صاحب کے ان غیر سنجیدہ رویوں نے صورتحال اس قدر سنگین بنا دی ہے کہ آج تقریباً ڈھائی ماہ میں پاکستان میں کورونا کی وبا انتہائی تیز رفتاری سے پھیلنا شروع ہوگئی ہے، اب تک 37000 سے زائد افراد اس کا شکار ہوچکے ہیں جبکہ آٹھ سو کے قریب اموات واقع ہو چکی ہیں۔ صرف دس دن میں کیسز کی تعداد دگنی سے بھی زیادہ اور اموات کی تعداد بھی دوگنی ہو چکی۔ ایسی ہنگامی صورتحال میں بھی تحریک انصاف اپنی حکومتی ذمے داریوں کو درست طریقے سے نبھانے، عوام کو کورونا اور بے روزگاری و بھوک سے بچانے کے اقدامات اٹھانے، ملک میں اتفاق رائے اور یکجہتی سے فیصلے کرنے کے بجائے فصلوں کو کھانے والی ٹڈی دل کی طرح سندھ حکومت پہ ٹوٹ پڑی ہے۔

غیر دانشمندانہ، غیرذمہ دارانہ طرز حکمرانی کا ثبوت دیتے ہوئے سرکاری ہرکارے سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی پہ اس طرح چڑھ دوڑے ہیں جیسے پیپلز پارٹی پاکستان کی نہیں بلکہ کسی دشمن ملک کی جماعت ہو اور سندھ پاکستان کی نہیں بلکہ کسی دشمن ملک کی صوبائی اکائی ہو۔ تحریک انصاف کے وزراء اور اکابرین وزیراعظم کہ شہ پر چاروں طرف سے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنانے میں یہ بھول گئے ہیں کہ سندھ حکومت کے ہر اٹھائے گئے اقدام کی پاکستان کی ہر صوبائی اکائی نے تقلید کی جبکہ وزیراعظم صاحب کبھی لاک ڈاؤن کی افادیت تو کبھی اس کے نقصانات گنواتے گنواتے خود ہی اپنی نا اہلی، صلاحیتوں سے عاری ہونے اور کنفیوژن کا ثبوت دے رہے ہیں۔

خان صاحب کی نا اہلیت اور صلاحیتوں سے عاری طرز حکمرانی نے پاکستانی عوام کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات میں تیز رفتار اضافے کے خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ ہر عہدیدار ہر وزیر مشیر پیپلز پارٹی کو گالیاں دینے سندھ حکومت کو نا اہل کرپٹ ثابت کرنے میں ایک دوسرے پہ سبقت لے جانے اور خان صاحب کی نظروں میں سرخرو ہونے کی دوڑ میں لگا ہوا ہے، حد تو یہ ہوگئی کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جیسا سنجیدہ سلجھا ہوا شخص بھی مرادسعید، فیاض چوہان، شہباز گل کا روپ دھار چکا ہے۔

شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ سندھ کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ بجلی گیس کے بل معاف کرے، پیپلز پارٹی سے سندھ کارڈ کی بو آ رہی ہے، سندھ ہمارا ہے اور ہم یہاں بھی اپنا لوہا منوائیں گے، کراچی تو پورا ہمارا ہے۔ اب شاہ صاحب کو اچانک نجانے کیا ہوا کہ وہ یہ بھول بیٹھے کہ جہاں آپ لوہا منوانے کی بات کرتے ہیں اور جن کے چندوں سے اپنے گھر کا کچن چلاتے ہیں وہاں کے لوگ دو بار آپ کو عبرتناک شکست سے دوچار کرکے ملتان واپس بھیج چکے ہیں، وہیں سے آپ کے ایک جتوائے گئے رکن قومی اسمبلی آپ کے وزیراعظم پہ عدم اعتماد کرکے ان پہ کراچی اور سندھ کو نظر انداز کرنے کے الزامات لگا کر آپ کو چھوڑ کر جا چکے ہیں، اسی کراچی کے عوام اپنے منتخب نمائندوں کے لیے تلاش گمشدہ کے پوسٹرز لگوا کر انہیں تلاش کر رہے ہیں، آپ کے اسی شہر اور جہاں آپ لوہا منوانا چاہتے ہیں وہاں کے عوام کو آپ کے وزیراعظم ابھی تک اپنے دیدار سے محروم رکھے ہوئے ہیں ایسا لگتا ہے جیسے سندھ ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے، جس صوبے کے مالی اور قدرتی وسائل سے مرکز اپنا کار سرکار چلاتا ہے آپ اسی کو بجلی گیس کے بلوں کا طعنہ دے رہے ہیں، اب آپ کس کے اشارے پہ ایسا کر رہے ہیں اور کیوں، تو یہ بات ملکی سیاست کو سمجھنے اور اس پہ گہری نظر رکھنے والے سمجھتے ہیں کہ ایک بار پھر آپ کن قوتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں، آج آپ کے دل میں کون سی دبی ہوئی خواہشات ایک بار پھر مچلنے لگی ہیں۔

بہرحال یہ وقت شاہ صاحب آپ کی خواہشات کی تکمیل کا ہرگز نہیں ہو سکتا بلکہ یہ وقت یک جا ہوکر اتفاق رائے سے کورونا جیسی قدرتی وبا سے لڑنے کا ہے نہ کہ ٹڈی دل بن کر وفاق کی وحدانیت پہ حملہ آور ہونے کا۔ خان صاحب اور ان کے اکابرین اپنی بدترین طرز حکمرانی پہ اٹھتے سوالات اور عوام میں تیزی گرتی اپنی سیاسی ساکھ کو بچانے کے لیے اس وقت پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کے خلاف وہ جنگ شروع کیے ہوئے ہیں جو انہیں کورونا کے خلاف لڑنی چاہیے جبکہ حکومت سندھ وفاقی حکومت کی تمامتر مخالفتوں، تنقید اور الزامات کے باوجود کورونا سے نمٹنے میں پرعزم نظر آتی ہے اور بہتر حکمت عملی اور اقدامات سے کورونا کو شکست دینے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *