ناقابلِ تسخیر ہونے کے زعم میں تباہ ہونے والا ایک شہر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ نازی جرمنی کا مشرقی شہر ڈریسڈن ہے۔ دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں سے ایک۔ اسے دریائے البے کے کنارے آباد دوسرا فلورنس بھی کہا جاتا ہے۔ خوبصورت تاریخی عمارات، تھیٹر، عجائب گھر، سیرگاہیں، درسگاہیں، لکڑی سے بنے خوبصورت مکانات اور کشادہ سڑکیں، غرض خوبصورتی کی تمام تر وجوہات شہر میں اکٹھی ہیں۔

یہ دوسری جنگ عظیم کا زمانہ ہے۔ جنگ شروع ہوئے 6 سال کا عرصہ گزر چکا۔ اس سارے عرصے میں اب تک شہر سے باہر اسلحہ کے بڑے کارخانوں اور دیگر فوجی تنصیبات پر، صرف 7 اتحادی فضائی حملے ہوئے ہیں۔ جبکہ شہر کی آبادی ابھی تک حملوں سے محفوظ ہے۔ اس قدر محفوظ کہ شہری آبادی پر فضائی یا زمینی حملہ کا ایک بھی واقعہ گزشتہ چھ سالوں میں نہیں ہوا۔ محاذ کی طرف جانے والے فوجی اور فضا میں اڑتے طیارے، تو دکھائی دیتے رہتے ہیں۔ اور آئے دن فضائی حملے کا خطرہ ریڈیو اور اخبارات کے ذریعے سامنے آتا رہتا ہے۔ چند ماہ سے فضائی حملہ کی اطلاع والے سائرن بجنا ایک معمول ہوچکا ہے۔ لیکن ڈریسڈن کے شہری کبھی تو حملے کی بات کو اپنی نازی حکومت کا پروپیگنڈا اور کبھی اتحادیوں کی گیدڑ بھبکیاں اور کبھی اخبارات کی خانہ پری قرار دے دیتے ہیں۔ یوں خطرے کا الارم بجنا ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔

اگر کوئی ”وہمی“ شخص مجلس میں کہہ بیٹھے، کہ ڈریسڈن پر اتحادیوں کے حملے کا خطرہ ہے۔ تو اسے آڑے ہاتھوں لیا جاتا۔ اور خاموش کروانے کو کئی سیاسی و سازشی نظریات کی بارش کر دی جاتی ہے۔ چونکہ ڈریسڈن کے شہری مانتے ہیں کہ اس قدر خوبصورت اور تاریخی شہر کو اتحادی فوج کبھی بھی تباہ نہیں کرے گی۔ بہت سے لوگ اسے ناقابل تسخیر بھی سمجھتے ہیں جبکہ کچھ کا ماننا ہے کہ اتحادی اگر جنگ جیت گئے تو ڈریسڈن شہر کو اپنا دارالحکومت بنائیں گے۔ اور کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ برطانوی وزیراعظم چرچل کی خالہ ڈریسڈن میں رہتی ہیں، اس لیے اتحادی فوج ڈریسڈن پر کبھی حملہ نہیں کرے گی۔

گزشتہ چھ سال سے جاری اس جنگ میں مسلسل پرامن اور محفوظ رہنے کے باعث دیگر جنگ زدہ جرمن شہروں سے آنے والے چھ لاکھ پناہ گزینوں نے شہر کی آبادی دو گنا کردی ہے۔ دوسری طرف شہر کی نازی انتظامیہ بھی کچھ ایسا ہی سمجھتی ہے۔ شہر میں صرف ایک مرکزی پناہ گاہ ہے، جو ہوائی حملہ کی صورت میں ایک ہزار لوگوں کے چھپنے کے لئے استعمال کی جا سکتی ہے۔ اگرچہ کچھ ”وہمی“ لوگوں نے اپنے طور پر گھروں میں زیر زمین پناہ گاہیں بنائی ہیں۔ لیکن دوست احباب ان کے اس کام کا مذاق اڑاتے ہیں۔ کہ ویسے تو اتحادی حملے کا کوئی امکان نہیں، ہاں اگر اتحادیوں کو تمہاری حرکت کا پتہ چل گیا تو لازماً جہاز بم برسانے آ جائیں گے۔

یہ 13 فروری 1945 ء کا عام دنوں جیسا ایک دن ہے۔ مہینے کے آغاز سے ہی سالانہ عیسائی مذہبی تقریبات پورے جوش و خروش سے منائی جا رہی ہیں۔ شہر میں جشن کا سماں ہے۔ سارا دن جاری رہنے والی تقریبات نے لوگوں کو تھکا دیا ہے۔ موسم سرد اور صاف ہے، لیکن لوگ دن بھر کی مصروفیت سے تھکے ہوئے ہیں۔ اسی لیے جلد ہی شہر کی گلیوں میں چہل پہل ماند پڑ چکی ہے۔

رات پونے دس بجے فضائی حملہ سے خبردار کرنے کے لیے یک بہ یک سائرن بج اٹھے۔ شہریوں کی اکثریت نے معمول کی کارروائی سے زیادہ اہمیت نہ دی۔ طیاروں کی گونجدار آواز سنائی دی تو والدین نے بچوں کو یہ کہہ کر سلانے کی کوشش کی کہ دشمن کے جہاز شہر کی تصویریں لینے کو آئے ہیں کچھ نہیں ہوتا، سو جاؤ۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں تھا۔

مسلسل 6 سال سے ہٹلر کی نازی افواج اتحادیوں کے لیے نت نئے محاذ کھول رہیں تھیں۔ اوائل 1945 ء میں اتحادی سربراہان اس بات پر متفق ہوئے کہ ایسے جرمن شہروں کو نشانہ بنایا جائے جو کہ جنگی اسلحہ کی تیاری کا گڑھ ہیں۔ اتحادی فضائیہ نے اس منصوبے کے لئے خفیہ طور پر خوفناک تیاریاں شروع کر دیں۔

13 فروری کی شام اتحادی طیارے ہزاروں ٹن بارود لے کر ڈریسڈن کی سمت محو پرواز ہوئے۔ بے خبری سے بڑھ کر لاپرواہی کا شکار ڈریسڈن شہر پہ خوفناک حملہ کے لئے لمبی پرواز کے بعد 300 اتحادی لڑاکا و بمبار طیارے فضا میں آ موجود ہوئے۔ ناکافی فضائی نگرانی اور دھوکہ کے باعث فضا میں نہ تو جرمن لڑاکا جہاز مزاحمت کو پہنچ سکے، نہ ہی زمین سے فضا میں کوئی مزاحمتی کارروائی ہو سکی۔ کیونکہ شہر کی حفاظت کے لئے نصب شدہ اینٹی ائر کرافٹ گننز کافی عرصہ پہلے شہر کو محفوظ خیال کرتے ہوئے۔ مشرقی محاذ پر منتقل کر دی گئی تھیں۔

صرف 15 منٹ کے دورانئے میں پہلے حملے کے دوران 244 لنکاسٹر بمبار جہازوں نے تمام بم گرا دیے۔ جس سے شہر کا مرکز خوفناک آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ جانیں بچانے اور آگ بجھانے کے لئے، امدادی کارروائیاں شروع ہوئیں تو نصف گھنٹہ بعد ہی مزید 500 بمبار طیارے آن پہنچے۔ ان جہازوں سے برسنے والے 27 ہزار ٹن بارود نے خوفناک آگ بھڑکا دی۔ لکڑی کے گھر اور دیگر عمارتیں ایندھن کا کام دینے لگیں۔ بارود کے اس قدر وحشیانہ استعمال سے خوفناک آگ کا طوفان برپا ہوگیا۔

شہر کے مقیم نہ تو اس آفت کے لیے تیار تھے اور نہ ہی انہیں کوئی جائے پناہ ملی۔ عمارتیں ملبہ کا ڈھیر اور انسانی لاشیں گلیوں اور بازاروں میں بکھر گئیں۔ آگ برسانے کا یہ سلسلہ پندرہ فروری تک جاری رہا۔ اور اب دریائے ایلبے کے کنارے دوسرا فلورنس جلی انسانی لاشوں کے ڈھیر، اور تباہ حال عمارتوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ نازیوں نے 2 لاکھ اور اتحادیوں نے 25 ہزار انسانی اموات تسلیم کیں۔ اور اپنے اپنے مفاد کے مطابق اخبارات کو اطلاعات فراہم کیں۔ ان تباہ حال عمارتوں کو جنگ عظیم کی یادگار کے طور پر آئندہ ستر سال اسی حالت میں رکھا گیا۔ جن لوگوں نے اس خوفناک تباہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ یہ ہی بیان کرتے پائے گئے کہ دشمن سے زیادہ ہمارے ناقابل تسخیر ہونے کے زعم اور بے بنیاد خوش فہمی نے ہمیں تباہ کیا۔

ہم بھی آج ایک خطرناک اور نہ نظر آنے والے دشمن وائرس سے بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ”حقیقی“ جنگ اور وبا کے مابین بڑا واضح فرق ہے۔ ”حقیقی“ جنگیں تنازعات کے بارے میں ہوتی ہیں، انسانوں کے مقابلے میں انسان، اور عام طور پر دشمن کا بنیادی ڈھانچہ، گھر، فیکٹریاں، ریلوے، سڑکیں، اسپتال، خوراک و پانی کے ذخائر ملبے میں تبدیل کر کے جیتی جاتی ہیں۔ دونوں فریقین کے پاس حملہ اور دفاع کرنے کے وسائل ہوتے ہیں۔ پھر اس جنگ میں ہتھیاروں کے ساتھ پروپیگنڈا، سفارت کاری اور آگے بڑھنے یا پیچھے ہٹ جانے کی راہیں بھی ہوتی ہیں۔

لیکن ہماری موجودہ ”جنگ“ تو ہر طرح کے ہتھیار کے بغیر ہے۔ دشمن نہ نظر آنے والا اور بلا تفریق تباہی پھیلانے والا ہے۔ اپنے پہلے شکار سے شروع ہو کر اب تک دنیا بھر میں 48 لاکھ لوگوں کو اپنا شکار اور تین لاکھ سے زائد انسانی جانیں لے چکا ہے۔ یہ جنگ خوفناک صورت اختیار کر رہی ہے کہ جب ہم احتیاط کے دستیاب واحد ہتھیار کو بھی پھینک دینے پر بضد ہیں۔ ہمارے حکام با اثر سرمایہ داروں، تاجروں و مذہبی حلقوں کے دباؤ میں آکر ایک کی دکان کو جواز بنا کر دوسرے کی دکان کھولتے چلے جا رہے ہیں۔

وائرس سے خطرہ کے اعلانات اور بند کمرے کے اجلاسوں میں احتیاطی تدابیر پہ خالی وعدے وعید کو اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی سمجھ چکے ہیں۔ ہمارا نظام صحت قطعاً اس قابل نہیں کہ اس قدر بوجھ برداشت کر سکے۔ ویکسین یا اینٹی وائرل ادویات دستیاب نہیں۔ ہم وبا کی خبر کو جھوٹ، کافروں کی سازش، حکومت کا قرضے معاف کروانے کا کامیاب حربہ، ہماری مضبوط قوت مدافعت وغیرہ جیسی خوش فہمیوں کو ڈھال سمجھ کر انسانی المیہ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان خوش فہمیوں کے سہارے قاتل وائرس سے جیتا نہیں جا سکتا۔ ہاں اجتماعی خود کشی کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو گر ڈریسڈن کے مکینوں سے کچھ سیکھ لیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply