عثمان بزدار کے وزراء

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سردار عثمان بزدار جب سے پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے ہیں تب سے وہ میڈیا کے نشانے پر ہیں، ہر روز ٹی وی چینلز، کامیڈی شوز، سوشل میڈیا پر ان پر تنقید کے نشتر چلائے جاتے ہیں، ان کی ڈمی بنائی جاتی ہیں، ان سے ایسی ایسی باتیں منسوب کی جاتی ہیں کہ حیرانی ہوتی ہے کہ اتنا بے توقیر وزیراعلیٰ پنجاب اپنی زندگی میں نہیں دیکھا، میری بدقسمتی کہہ لیں یا خوش قسمتی، ویسے خوش قسمتی کم ہی ہے کہ سردار عثمان بزدار اور میں بہاءالدین زکریا یونیورسٹی میں اکٹھے پڑھتے تھے، 91۔ 93 سیشن تھا، سردار عثمان بزدار اپنے علاقے کے وڈیرے تھے اور وڈیروں کے بچے جیسے ہوتے ہیں یہ بھی ویسے ہی تھے، کم گو، شرمیلا اور مخلص تو تھا اور یہ تینوں عادات آج بھی موجود ہیں۔

عثمان بزدار نے جہاں اپنی میڈیا ٹیم کمزور رکھی وہیں وزراء بھی چن چن کر تحفے رکھے ہیں، میں نے پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن کے وزراء دیکھے ہیں ان سے جب بھی ملنے کی ضرورت ہوتی تھی، ان وزراء کے پی آر اوز کو فون کرتا تھا ایک دن میں ملاقات ہو جاتی، دونوں پارٹیوں کے وزراء بہت عزت دیتے، پوری توجہ سے بات سنتے اور دفتر کے دروازے تک چھوڑنے آتے، عثمان بزدار کے وزراء معلوم نہیں کیا سمجھتے ہیں کہ وہ کون سا کا معرکہ مار کر وزیر بنے ہیں،

بزدار حکومت کے ڈیڑھ سال میں چند وزراءسے ملاقات کا ”شرف“ حاصل ہوا ہے، ان سے ملاقات کے لئے پہلے تو ان کے پی آر اوز سے کئی کئی ماہ ”درخواستیں“ کرنا پڑتی ہیں، ان کو بتانا پڑتا ہے کہ کیوں ملنا ہے، کتنا وقت لگے کا ملاقات میں، وغیروغیرہ یہ بھی بتانا پڑتا ہے۔ ۔ ۔ اور پھر اگر ملاقات ہو بھی جائے تو کوئی وزیر بات کرتے ہوئے اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتا رہے گا اور کسی کی گردن اتنی اکڑی ہوتی ہے کہ لگتا ہے کہ اتفاق فونڈری کا سارا سریا ان کی گردن میں ہی آ گیا ہے

ان حالات میں کوئی ان سے کتنی دیر بات کر سکتا ہے، جن کا رویہ اس طرح کا ہوگا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بزدار کے وزراء عوام میں حکومت کا کیا تاثر پیدا کر رہے ہیں اور عوام ان سے کتنا خوش ہوں گے، جو وزیر اپنا تاثر نہیں بنا پا رہے وہ بزدار کی نیک نامی کے لئے کیا کام کریں گے، بزدار کے اکثر وزراء ان کے لئے مسائل ہی پیدا کرتے ہیں

بزدار کے وزراء کی اکثریت میڈیا فرینڈلی نہیں ہے، اکثر وزراءاپنے بیٹ رپورٹرز سے 6، 6 ماہ ملتے ہی نہیں ہیں، جب وزیر کا اپنے بیٹ رپورٹرز سے ہی رابطہ نہیں ہوگا تو وہ کیسے حکومت کی کارکردگی کو سامنے لائیں گے، کئی وزراءتو ایسے بھی ہیں جن کو اپنے بیٹ رپورٹرز کے نام تک معلوم نہیں ہیں۔

بزدار کے وزراء میں عبدالعلیم خان اور میاں اسلم اقبال دو ایسے وزراءہیں جو میڈیا فرینڈلی ہیں اور ان سے میڈیا ہر وقت رابطے میں رہتا ہے، اب وزیراعلیٰ نے تمام وزراء کی کارکردگی رپورٹ طلب کی ہے میرا عثمان بزدار کو مشورہ ہے کہ وہ کارکردگی رپورٹ میں کچھ اضافی نمبر رکھیں کہ ان کے وزراء کتنے میڈیا فرینڈلی ہیں اور میڈیا سے کتنا رابطے میں رہ کر حکومت کی کارکردگی کو عوام کے سامنے لارہے ہیں

حال میں ہی ایک وزیر آٹا، چینی رپورٹ میں نام آنے پر بزدار حکومت کی ساکھ کو بہتر بنانے کے لئے مستعفی ہوگئے ہیں، وزیراعلٰی نے ان کا استعفی منظور بھی کر لیا ہے، میری درخواست ہے کہ وزیراعلیٰ اس سے سابق وزیر سے کہیں کہ جناب ایک ماہ سے زائد عرصہ ہوگیا ہے، براہ مہربانی حکومت کی گاڑی اورعملہ تو حکومت کو واپس کردیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *