کیا آپ نے ”ارطغرل غازی“ سے کچھ سیکھا؟


یکم رمضان کو پی ٹی وی پر نشر ہونے کے بعد ترکی ڈرامے ”ارطغرل غازی“ نے پاکستان میں مقبولیت کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر بحث شروع ہو گئی کہ کیا ایسا مواد جو کسی ”دوسری قوم“ کی تاریخ اور ان کے ہیرو کے گرد گھومتی ہو اسے نیشنل لیول پر پروموٹ کیا جانا چاہیے؟ بہت سے اداکاروں اور ایک مخصوص طبقے نے یہ سوال نہیں کیا بلکہ بھر پور انداز میں اس نظریے کا پرچار کیا کہ ڈرامے کی پاکستان میں اس قدر مقبولیت دراصل ہمارے عوام کی احساس کمتری کا نتیجہ ہے جس کے باعث لوگ اپنی ثقافت اور تاریخی ورثے کو ہمیشہ بیرونی اقوام جیسا کہ عرب، ترک، مغل وغیرہ میں ڈھونڈھتے ہیں۔

ایسا ہے کہ نہیں، یہ فیصلہ تو آپ کریں گے۔ لیکن میرا ذاتی خیال ہے کہ احساس کمتری کا شکار عوام نہیں بلکہ یہ نظریہ رکھنے والے لوگ ہیں۔ کیوں؟ اس کی بنیادی وجہ تہذیب اور ثقافت میں فرق ہے۔ اگر لوگ اپنے عقائد جن سے ایک تہذیب، زندگی گزارنے کا ایک پورا نظام پھوٹتا ہے، کو اپنی ثقافتی شناخت پر، جو مکمل طور پر علاقائی ہی ہوتی ہے پر مقدم رکھتے ہیں تو اس میں احساس کمتری کیسی؟ پاکستان ثقافت پر اتنا اثر عرب اور ترکی کا نہیں جتنا کہ اب مغرب کا ہو چکا ہے، لیکن اس سے کلچر کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں!

میری نظر میں ایسا ایک واقعہ بھی نہیں گزرا کہ لوگوں نے محض ایک شخص کو اس کی کسی مضبوط ملک کے ساتھ نسبت کی وجہ سے اپنا ہیرو مان لیا ہو۔ اسلام جو فلسفہ حیات سکھاتا ہے اس میں نیشنل اسٹیس کا تو کوئی تصور ہے ہی نہیں۔ لہذا جب تک لوگ اس عقیدے کی بنیاد پر ایک ہیں، تب تک بارڈرز کی صورت میں کاغذ پر موجود یہ لکیریں لوگوں کو اس یکسانیت سے دور نہیں کر سکتیں جو زبان، علاقے اور نسل سے بالاتر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی مسلمان جب کسی میدان میں کوئی کارنامہ کرتا ہے تو تمام مسلم ممالک میں یکساں مقبولیت ملتی ہے۔

اس کے بات جو دوسری چیز سوشل میڈیا ہر دیکھنے کو ملی، وہ چند پاکستانیوں کی طرف پر ڈرامے کی مرکزی اداکارہ کے حقیقی زندگی پر تبصرہ تھا۔ ہونا کیا تھا، وہی حلقہ اہل و فکر و دانش میں ہمارے عوام کی احساس کمتری، جاہلیت اور بد اخلاقی کا رونا پڑ گیا۔ کیوں کہ ہمارا شمار ان میں نہیں ہوتا تو میں بس اتنا پوچھتا ہوں کہ اس کے علاوہ کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ یوں کہ کوئی بھی فلم، ڈرامہ یا کتاب پڑھنے کے بعد جو کیفیت دیکھنے یا پڑھنے والے محسوس کرتے ہیں وہ اسی حساب سے اداکار یا رائٹر کے بارے میں اپنی کچھ توقعات بنا لیتے ہیں اور ان کی ذاتی زندگی میں دلچسپی لینا شروع کرتے ہیں۔

ایسا نہیں ہے کیا؟ شاید نہ ہو لیکن جو میں نے دیکھا کہ بڑے بڑے ٹی وی چینلز، فیشن انڈسٹری، اخبارات اور میگزین صرف اس لیے ہوتے ہیں کہ ہمیں یہ بتا سکیں فلاں کیا پہن رہا ہے، کیا کھا رہا ہے، آج وہ کہاں گھومنے گیا وغیرہ وغیرہ۔ خیر، جب وہ لوگ ان توقعات پر پورا نہیں اترتے تو ضروری نہیں کہ عوام جاہل ہو۔ جس طرح کہانی میں کردار آئیڈیل کی تلاش میں ہوتے ہیں ویسے ہی حقیقی زندگی میں بھی ان کو تلاش کرتے ہیں۔ لہذا کمنٹ باکس میں اگر آپ کی پوسٹ پر کچھ کہتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے اس کی اجازت دی تھی۔

”یہ میری ذاتی زندگی ہے“ ، سبھی کی ہوتی ہے! اور اس معاملے میں تو اگر لوگوں نے بد اخلاقی اور بدتمیزی کا مظاہرہ کیا تو وہ غلط لیکن اگر لوگ نے اپنے عقائد کی بنیاد پر ردعمل ظاہر کیا تو یہ کیسے جاہلیت کا ثبوت ہے؟ بصورت دیگر آپ کے علم کے معیار الگ ہیں۔ اب جن لوگوں نے یہ اہم نکتہ اٹھا کر اپنی ویڈیوز اور تحاریر کو عوام میں مقبول کیا ہے ان کے عوام پتہ نہیں کہاں سے آتے ہیں سمجھ بوجھ کے ساتھ۔

یہ سب باتیں تو ہوتی رہیں گے۔ بڑھتے ہیں اس سوال کی طرف کہ ”کیا آپ نے“ ارطغرل غازی ”سے کچھ سیکھا؟“ سوال کرنے کا مقصد ڈرامے کو کس انداز میں دیکھا اور سمجھا جا رہا ہے اس کے متعلق میرے ذاتی مشاہدے پر مبنی چند اہم نکات واضح کرنا ہے۔

1۔ ڈرامہ ایک ”کہانی“ ہے لیکن خلافت عثمانیہ ایک حقیقت۔ اگرچہ حالات و واقعات اور کردار زیادہ تر فرضی ہیں لیکن ترکوں میں ان کے متعلق لوک داستانیں پہلے سے موجود ہیں۔ لہذا مجموعی طور ڈرامہ تاریخ نہیں بلکہ ذہن میں اس کی ایک ایبسٹریکٹ امیج ضرور بناتا ہے۔

2۔ ضروری نہیں کہ معاشرے میں سب انسان ایک جیسے ہوں۔ اچھائی اور برائی دونوں ہر جگہ ہر وقت موجود ہوتے ہیں لیکن ان کے کچھ درجے ہوتے ہیں۔ کائی قبیلے کے تمام لوگ یکساں نظریات، نظام تعلیم، نظام پرورش، مخلوط کاروبار، خود مختاری اور ترقی کے یکساں مواقع رکھنے کے باوجود برابر نہیں ہیں، اسی لیے سبھی ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں۔ لہذا آپ کا ”ارطغرل“ بننا ہی ضروری نہیں کیونکہ قبیلے کے ہر خاندان کی بھی ایک الگ سٹوری ہے جو کہ دکھائی نہیں گئی۔ یہ سب خاندان مل کر ہی ایک قبیلہ بناتے ہیں جس کی حفاظت میں ارطغرل غازی نے اپنے سارے معرکے سر انجام دیے۔

3۔ اختلاف رائے مخالفت نہیں بلکہ حالات واقعات اور نظریات کی ایک مختلف تشریح ہے جسے غلط یا صحیح ثابت کیا جاسکتا ہے۔ اگر ارطغرل کے بھائی قبیلے کے مستقبل کے حوالے سے الگ اپروچ رکھتے ہیں تو اس سے ان کا ارطغرل کے خلاف یا کم عقل ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ یہ دلالت کرتا ہے کہ معاشرے میں ہر آنکھ الگ انداز میں مشاہدہ کرتی ہے۔ اگر ایک بھائی کاروبار کو سنبھال رہا ہے تو ضروری نہیں وہ سیاست میں بھی اسی سمجھ بوجھ کا حامل ہو۔ اور اگر ارطغرل کو سیاسی پس منظر کی اتنی سمجھ ہے تو اس کی وجہ ان کی اس پر مہارت ہے وقت، تجربے، علم اور ایمان کی بنیاد پر۔

4۔ ”اس میں قبیلے کی بھلائی ہے۔“ یہ جملہ آپ کو کئی بار سننے کو ملے گا ان سب کی طرف سے جو یا تو کسی نہ کسی انداز میں اپنے ذاتی مفاد کو قبیلے کی بھلائی کے ساتھ جوڑ رہے ہوں گے یا پھر کم علمی اور حقیقت کے نامکمل ادراک کی وجہ سے وقتی امن کی تلاش میں ہوں گے۔ لیکن آپ دیکھیں گے کہ متواتر، مخلص، عقملندانہ کاوشوں سے آپ جلد بدیر انھیں غلط ثابت کر ہی دیتے ہیں۔ اس حوالے سے آپ ص کی حدیث جس میں برائی کو اپنی صلاحیت کے مطابق طاقت یا زبان سے روکنے کا حکم ہے کافی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اگر کچھ آپ کے نزدیک ٹھیک ہے، اس کا اظہار کر دیں۔ یا تو کوئی دوسرا آپ کی تصحیح کر دے گا یا کسی کی آپ، بشرطیکہ کہ کوئی خفیہ مفاد شامل نہ ہوں۔

5۔ ریاست کی تعمیر ایک دن میں مکمل نہیں ہوتی کیونکہ ریاست کسی لیبل کی طرح نہیں کہ کوئی بھی کہیں پہ لگا کر اپنا حق جما لے۔ اس کے لیے اس کا لوگوں کے ذہنوں میں ایک ”وجود“ کے طور پر ہونا ضروری ہے۔ اسی لیے آپ دیکھیں گے کہ ارطغرل غازی کو ایک وقت لگے کا یا شاید پوری عمر یہ باور کروانے میں کہ ایک چھوٹا سا قبیلہ کیا پوٹینشل رکھتا ہے جب بڑی طاقتوں اپنی پالیسی بناتے وقت کائی قبیلے کے ری ایکشن کو ضرور ذہن میں لاتی ہیں۔ آج آپ کو کئی مذہبی اور سیاسی جماعتیں ملیں گی جن کے ممبران ہزاروں اور لاکھوں میں ہیں لیکن ریاست کے فیصلوں میں بہت کم نظر آتا ہے کہ ان کو بھی خاطر خواہ توجہ دی گئی ہوگی۔ بنیادی وجہ ”مزاحمت“ کا نہ ہونا ہے۔

6۔ فارن پالیسی میں جتنا اپنی ضروریات اور صلاحیتوں کا ادراک ضروری ہے اتنا ہی دوسروں کا۔ اگر آپ کو معلوم ہو جائے کہ دوسرے کی ضرورت صرف آپ پوری کر سکتے ہیں تو آپ کبھی معاملات میں کبھی زیر نہیں ہوتے۔ خود اعتمادی حقائق کے ادراک، عقائد کی موجودگی اور صحیح رویے سے آتی ہے۔ اس کے لیے صحیح عقیدہ ہونا ضروری نہیں۔ منگول، صلیبی اور بازنطینی سب خود اعتماد ہی ملیں گے لیکن کامیابی صحیح عقیدے اور دست رستے پر چلنے سے ہی ملتی ہے۔

8۔ ریاستی معاملات میں لوگوں کا اخلاق ان کے ایماندار اور مخلص ہونے کا کمزور ترین ثبوت ہے۔ دراصل لوگوں کے اعمال یہ فیصلہ کرتے ہیں۔ ورنہ ڈرامے میں آپ کو موجود دور کی تعریف کے بد اخلاق نہ ہونے کے برابر ملیں گے۔ اور اگر محض ایک شخص کے اخلاص کی بنا پر اس کے عمل کو نہ پرکھا جائے تو نتیجہ آپ دکے سیاسی اور فکری طور پر اندھا ہو جانے کی صورت میں نکلتا ہے۔

9۔ لرننگ صرف اسے نہیں کہتے کہ اس طرح کے حالات میں ایسا عمل کرنا چاہیے، بلکہ جو بہتر لرننگ ہوتی ہے وہ یہ ایسا عمل کن کن حالات میں صحیح رہتا ہے۔ یعنی اگر آپ ڈرامہ دیکھ کر صرف یہ سیکھ رہے ہیں کہ ارطغرل نے کیا کیسے کیا تو بتاتا چلو ان حالات کو کوئی چھ سات سو سال گزر چکے ہیں۔ نہ تو اس طرح کے سیاسی حالات نہ معاشی نہ معاشرتی۔ لہذا یہ آپ پر ہے کہ کس طرح آپ آج کے دور کا جائزہ لیتا ہے کیونکہ ادارے سب وہی ہیں، عقائد وہی ہیں، لوگ وہی ہیں صرف وقت بدلا اور وقت کے زندگی گزارنے کا انداز نہ کہ مقصد۔

لہذا اگر ڈرامہ دیکھ کر کسی عمران خان میں آپ کو ”ارطغرل“ نظر آتا ہے، اردگان کا 2024 کا منصوبہ ملتا ہے اور خود گھوڑا لینے اور میمز بنانے کو بہادری اور جہاد سمجھ لیا ہے تو معاف کیجئے کچھ وقت کی بات ہے کہ دیکھنے کے فوراً بعد کے تاثرات بھی باقی ان گنت ڈراموں اور فلموں کی طرح ہوا ہو جائے گے۔ لہذا کوشش کریں جو اسباق آپ سیکھیں ان کم از کم اگلی قسط پر محض تجسس کے باعث جانے کے بجائے ایک دفعہ موجود دور کی حقیقت میں ضرور اپلائی کر لیں۔

10۔ وقت بہت قیمتی ہے لہذا کوشش کریں اس کو زیادہ سے زیادہ مفید بنانے کی۔ اگر آپ دنیا سے آنکھیں بند کر کے صرف ڈرامہ ختم کرنے کے پیچھے لگے ہیں تو یقین کریں آپ خسارے میں ہیں۔ اور اگر آپ ڈرامے سے اپنی عادات میں مثبت تبدیلی لارہے ہیں تو یقیناً یہ کئی دوسری چیزوں سے بہتر ہے۔ مخصوص وقت تک کوئی بھی سیریز دیکھنے کا ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ جہاں کسی قسط میں کہانی میں ایک پہلو مکمل ہونے کے بعد آگے بڑھنے لگے آپ وہیں دیکھنا چھوڑ دیں۔ بصورت دیگر قسط کے اختتام پر ہر حال میں کوئی ایسا ایلیمنٹ ضرور ہوگا جس کی وجہ سے آپ اگلی قسط پر جانے کے لیے بے چین رہیں گے۔

اس کے علاوہ بھی کئی نکات زیر بحث لائے جا سکتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس وقت ہے تو ڈرامہ ضرور دیکھئے لیکن ساتھ ہی اپنے اندر سیاسی سمجھ بوجھ بھی پیدا کیجئے، جس کے لیے مطالعہ بہت مفید ہو سکتا ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “کیا آپ نے ”ارطغرل غازی“ سے کچھ سیکھا؟

  • 19/05/2020 at 8:31 شام
    Permalink

    یہ ایک قابلِ غور پہلو ہے، ہمارے گردونواح میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو سیاسی سمجھ بوجھ نہ رکھنے کی وجہ سے اس سیریز کو دیکھ کر کئی چیزیں آئیڈیلائز کررہے ہیں اور ان لوگوں میں کئی کم عمر نوجوان بھی ہیں جن کے ذہنوں پر اس کے کچھ منفی اثرات بھی مرتب ہورہے ہیں۔
    ممکن ہے یہ بات سو فیصد درست نہ ہو، مگر میرا تجربہ ہے۔

    ایسے میں اگر کسی سیریز اور ڈرامے کو تجویز کرنا مقصود ہو تو اس کے تمام مثبت اور منفی پہلو دیکھ کر تجویز دی جانی چاہیے۔ ایسے میں بہترین حل یہ ہے کہ اس کے آغاز سے پہلے آڈیئنس کے لیے ایک وضاحتی مضمون نشر کردیا جائے تاکہ والدین اس بات کا فیصلہ کرلیں کہ کون سی تجویز کس عمر کے لوگوں کے لیے ہے اور اگر اس سے بچوں کے نظریات میں منفی تبدیلی آئے تو اسے کس طرح درست کیا جائے۔

Comments are closed.