خان صاحب! بھاگ لگے رہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جبل خان نے قسمت خان سے پوچھا مڑا تم اور ام اکٹھے شیشے کے برتن بیچتے ہیں۔ تمھارے پاس بھی ڈنر سیٹ ہے امارے پاس بھی ہے۔ تمارے پاس بھی ٹی سیٹ، آئس کریم سیٹ ہے امارے پاس بھی ہے تمھارے پاس بھی جوسر اور تھرماس ہے امارے پاس بھی ہے لیکن تمھارے سیٹ فوری بک جاتے ہیں امارے نہیں بکتے۔ ایسا کیوں ہے؟ قسمت خان تھوڑی دیر خاموش رہا کچھ سوچا اور پھر بولا جبل خان یہ صحیح ہے کہ جو برتن امارے پاس ہے وہ تمارے پاس بھی ہے لیکن مڑا میرے پاس دو چیزیں ایسی ہیں جو تمارے پاس نہیں ہیں۔ جبل خان نے اپنی موٹی اور گوری آنکھوں کو حیرت سے مزید پھیلاتے ہوئے پوچھا مڑا وہ کیا ہے؟

قسمت خان بولا امارے پاس مسکراہٹ ہے تمھارے پاس یہ نہیں ہے اور پھر کسی دانا کی طرح جبل خان کو سمجھاتے ہوئے بولا۔ مڑا چین کے بابا لوگ کہتے ہیں کہ جس کو مسکرانا نہیں آتا وہ دکان نہ کھولے۔ ہماری دکان شکان تو نہیں ہے ہم گلی گلی جاتے ہیں۔ دروازے پر دستک دیتے ہیں اور بیبیوں سے کہتے ہیں یہ لے لو باجی۔ ۔ ۔ سستا دیں گے۔ جبل خان جو اسے غور سے سن رہا تھا اپنی سفید چترالی ٹوپی سے سر کو کھجلاتے ہوئے بولا۔ ۔ ۔ اچھا اچھا دوسری چیز کیا ہے تمھارے پاس جو امارے پاس نہیں ہے۔

قسمت خان پھر تھوڑی دیر کے لئے خاموش رہا، چور نظروں سے دائیں بائیں دیکھا جبل خان کے قریب آیا اور بولا میں 100 کا مال 1000 کا بتاتا ہوں۔ باجی لوگ کہتی ہیں کہ خان 700 کا دو گے۔ میں مسکراتے ہوئے کہتا ہوں باجی قسم سے اتنی کی تو خرید بھی نہیں ہے۔ ام بحث شحث کرتے ہیں اور پھر 700 میں سودا طے ہوجاتا ہے۔ جو باجی ذرا اڑی کرتی ہے ان کو چھ سو اور پانچ سو میں بھی برتن دے دیتا ہوں لیکن ان کو یہ بھی جتاتا ہوں کہ میں اس کا سب سے بڑا خیر خواہ ہوں اس کا سب سے بڑا ہمدرد ہوں اگر میں نہ ہوتا تو اس گلی کے پھیری باز اسے لوٹ کر چلے جائیں۔ دوسری طرف باجی یہ سمجھتی ہے کہ اس نے انتہائی سستے برتن لے کر مجھے لوٹ لیا ہے اور میں اندر سے ہنستا ہوں کہ وہ جتنا مجھے بے وقوف اور بھولا سمجھ رہی ہے وہ اس کی بھول ہے۔ میں کم قیمت میں برتن دے کر بھی پانچ سے سات گنا منافع کما لیتا ہوں۔ بس یہی ہے میری کامیابی کا راز۔

ہماری سیاست کے خان تو قسمت خان جیسے نہیں لیکن قسمت خان سے کم بھی نہیں۔ ان کے ستارے گردش میں رہتے ہیں لیکن یہ گردش اپنے ہی مدار میں ہوتی ہے۔ 92 کے ورلڈ کپ میں کیا کچھ نہیں ہوا، اگر مگر کا چکر چلا، اس ٹیم کی جیت کے لئے دعائیں اس ٹیم کی ہار کے لئے بددعائیں۔ بارش کے لئے گڑگڑاہٹ اور رم جھم کے لئے سجدے۔ لیکن ہمارے خان صاحب کے چہرے پر اس وقت بھی فاتحانہ مسکراہٹ تھی انہوں نے اپنی ٹیم کو ’انگیج‘ رکھا تھا۔ قسمت کے سودے بنتے اور بگڑتے رہے کبھی انضمام بیمار ہوا تو کبھی کسی کو انجکشن اور کسی کو اچانک قے نے آ لیا لیکن اس سب کے باوجود 25 مارچ کو کرسٹل ٹرافی خان کے ہاتھ میں تھی۔

پھر شوکت خانم اسپتال بنانے کی گٹھری سر پر رکھی اور شہر شہر قریہ قریہ پہنچ گئے وہ مسکراتے رہے اور لوگ دیوانہ وار اپنا سب کچھ ان پر لٹاتے رہے خواتین نے اپنے زیور تک اتار کر اس ’مرد صداقت‘ کودے دیے۔

خان صاحب کو جب کسی کے زلف کے اسیر ہونے کی ضرورت پڑی تو پھر جمائما، ریحام اور بشریٰ ایک کے بعد ایک ان کے عقد میں آئیں۔ خان صاحب کی خانگی زندگی میں بھی مسکراہٹ کا راج رہا، اتار چڑھاؤ کے باوجود وہی مقدر کے سکندر ٹھہرے۔ ایک اہلیہ کی موجودگی میں انہوں نے اسپتال بنایا دوسری کی موجودگی میں سیاسی مخالفین کو تگنی کا ناچ نچوایا ا اور تیسری کے ساتھ وہ ایوان وزیراعظم میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔

خان صاحب کی گڈی اقتدار کے افق پر چڑھی تو شریفوں اور زرداریوں کے ڈھائی ڈھائی تاوے ایک ایک کر کے بو کاٹا ہوتے گئے۔ مخالف ٹولے نے ہاہاکار مچائی کہ خان صاحب دھاتی تار سے ”کھچ“ مار رہے ہیں تو زمانے کی ہوا کھانے والے بڑے بوڑھوں نے بتایا کہ بچو جب ہوا تمھاری تھی گڈی اور چرخی تمھاری تھی تو یہ سہولت غائبانہ ان کو بھی میسر تھی اب موسم بدلا ہوا کا رخ بدلا تو پیٹ میں اتنا مروڑ کیوں؟

موسم سے یاد آیا کہ
کیسا موسم ہے بے یقینی کا
فاصلے ان دنوں شفا ٹھہرے

ہمارے آپ کے خان صاحب نیا پاکستان بنانے چلے تھے لیکن نگوڑے کورونا نے پرانے پاکستان سے بھی پیچھے دھکیل دیا لیکن خان صاحب بھی کہاں ہار کو جیتنے دیتے ہیں انہوں نے اپنے تمام ڈنر آئس کریم سیٹ، جوسر اور تھرماس سنبھال رکھے ہیں۔ عہد کورونا میں اگرچہ لاک ڈاؤن لاک ڈاؤن ہی کھیلا گیا قوم کو ڈرایا گیا کورونا سے بھی اور بھوک سے بھی۔ روز بیٹھکیں بھی فرماتے رہے پھر اپنے وزیروں مشیروں کے ساتھ کالی سکرینوں پر بھی تجلی بکھیرتے اپنا سبق بھی دہراتے اور اپنے ہونہاروں کو بھی لیکچر دینے کا برابر کا موقع دیتے۔

یہ سب بڑے منظم انداز سے ہو تا رہا، قوم بھی خوش اور قوم کے رہنما بھی خوش لیکن کورونا کب ختم ہوگا پاکستان کب کھلے گا یہ کسی کو پتہ نہ تھا لیکن ہمارے خان صاحب مطمئن تھے۔ چہرے پر مستقل مسکراہٹ سجائے رکھتے، تسبیح کے دانے گراتے رہے اور پھر وہی ہوا جو قسمت خان کے ساتھ ہوتا ہے لیکن یہاں کامیابی کا سودا یہ تھا کہ جو خان صاحب کرنا چاہتے تھے وہ کسی اور نہ کر دیا حکم آیا مال کھول دو۔ مال مالکان کو مال بنانے کی اجازت مل گئی اور خان صاحب فاتحانہ انداز میں خالی چادر شانے پر ڈال کر آگے کو چل دیے۔ ۔ ۔ بھاگ لگے رہیں خان صاحب!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *