رمضان واپس آ رہا ہے، رمضان واپس نہیں آرہا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ادب اور صحافت قبرستان کے بعد شاید وہ واحد صنف ہے جو روز قبر کی طرح روز نیا مردہ و مدعا مانگتی ہے اور کورونا کے ہونے سے ادب کو ایک نیا مردہ، معذرت مدعا مل گیا ہے۔ کرونا چھا گیا ہے بھائی، نظم کورونا، غزل کورونا، کالم کورونا، افسانچہ کرونا۔ غرض مختلف اقسام کی ”کورونا کورونا“ کی آوازیں لگ رہی ہیں مگر ہو کچھ بھی نہیں رہا۔ کم ازکم پاکستان کی حد تک تو افواہوں اور سازشی تھیوریز کا وہ طوفان بدتمیزی ہے کہ الحفیظ الامان۔

آپ کے کانوں سے بھی روز یہ آوازیں اپنا راستہ بناتے گزرتی ہوں گی۔
کچھ نہیں یہ کورونا، ورونا سب فراڈ ہے سازش ہے
یہ چائنہ سے امپورٹ ہوا
یہ امریکہ کی بدمعاشی ہے
یہ سارا فائیو جی کا قصہ ہے
اگلی عالمی جنگ کی تیاری ہے
اب دنیا کو کورونا کے ساتھ رہنا سیکھنا ہوگا
کاروبار برباد ہو گئے معیشت کا جنازہ نکل گیا

اور ایشیا کی سب سے بڑی یارن مارکیٹ کا تاجر بے ساختہ کہتا ہے :
یہ لاک ڈاؤن وغیرہ ہمارے لیے تو خوب فائدہ مند ثابت ہوا، ہم نے خوب مال بنایا، ہم نے تو کوڑا بھی بیچ ڈالا۔

مرنے مارنے کے لیے ہمیشہ کی طرح غریب کا بال ہے۔
یہ آوازیں آپ روز سنتے ہوں گے۔

یہ بھی سنتے ہوں گے، لوگ بالکل احتیاط نہیں کر رہے، ماسک سینی ٹائزر کا استعمال خال خال ہے، سوشل فاصلے کا فقدان ہے، بازار کچھا کھچ بھرے ہیں۔ لوگ گھر میں بیٹھے افواہیں سن سن کر تنگ آچکے اور کہتے ہیں اچھا کورونا ہے جو کرتا ورتا کچھ نہیں، مارنا ہے تو مارے، ورنہ جان چھوڑے۔

پھر کوئی ذرا زیادہ گرم اور تازہ واردات نظر آجاتی ہے تو لوگ ایک دم سے دبک جاتے ہیں۔ تماشا یہ ہورہا ہے کہ صاف چھپتے بھی نہیں اور نظر آتے بھی نہیں۔ وہ لطیفہ تو آپ نے سنا دیکھا ہوگا کہ شوہر بیوی کی بال کٹوانے نہ کٹوانے کی تکرار سن سن کر دماغی توازن کھو بیٹھتا ہے اور کٹوا نہ لے نہ، کٹوا نہ لے، کی تکرار کرتا آج کل چنڈو خانے میں ہے۔ خیر یہ تو میاں کی نازک مزاجیاں ہیں، ہم لوگ تو بہت ڈھیٹ قسم کے لوگ ہیں جو ہر حالت میں جی جاتے ہیں۔

کورونا جھیل کر بھی جی رہے ہیں اور مسئلہ یہی ہے کہ کیوں کر جی گیے ہیں۔ ہماری حالت اس میاں جیسی کیوں نہ ہوگی تو شنید ہو کہ ہماری حالت عنقریب ویسی ہی ہونے والی ہے۔ ہم اتنی بے یقین کے حالات میں جی رہے ہیں کہ ہر شخص دوسرے سے پوچھتا نظر آتا ہے ”بھائی جی ویسے کرونا کچھ ہے بھی یا نہیں؟“ یہی حالت ہر طرف ہے ڈاکٹر چیخ رہے ہیں، بچو، ڈرو اس کورونا سے۔

ڈاکٹر بے یقین ہو کر ہم سے پوچھتے ہیں ہاں کیا خبر ہے؟ ہم بغلیں جھانکتے ہیں کہ کوئی بتلائے، ہم بتلائیں کیا۔ ہم ایک دن کہتے ہیں جی جی بالکل ہے، بس پاکستانی قوم کے آہنی عزم سے ٹکرا کر کچھ نرم پڑ گیا ہے۔ دوسرے دن ہم مشکوک ہو کر پوچھتے ہیں کیا واقعی آپ درست فرما رہے ہیں کہ یہ کٹس اور ٹیسٹ بھی گھپلا ہیں کوئی۔ رہی ہماری حکومت تو اس کا حال یہ ہے کہ ہمارے وزیر اعظم نے جان کی بازی لگا کر فیصل ایدھی سے بھی چندا لے لیا اور کرونائی ہوتے ہوتے بچے۔

اب کوئی پوچھے کہ یہ چندا کہاں جا رہا ہے؟ یہ ڈیم کے لیے کھودے گیے گڑھے میں جا رہا ہے۔ ہماری حکومت بھی اسی میاں کی طرح بوکھلاہٹ کا شکار ہے روز کوئی نیا بیان داغتی ہے۔ کبھی سکول کھل رہے ہیں، کبھی نہیں کھل رہے۔ لاک ڈاؤن ہورہا ہے، نہیں ہورہا ہے۔ کرفیو لگ جائے گا، نہیں لگے گا۔ بس یہی کچھ ہورہا ہے تو عوام کی کنفیوژن کو کس کھاتے میں ڈالیں؟

چلیے ہم آپ کو اپنی کالونی کے رمضان میاں سے ملواتے ہیں۔ رمضان میاں گو کہ ستر پچھتر کے پیٹے میں ہیں دائمی دمے اور شوگر کے مریض ہیں پھر بھی ہمہ دم متحرک اور اسی وجہ سے اپنی عمر سے کم محسوس ہوتے ہیں۔ دائمی مریض ہونے کے باوجود ہوا یہ کہ ان کے متحرک ہونے کا فیض انہیں یہ ملا کہ موصوف کو کورونا ہوگیا۔ تین لیبارٹریوں کی رپورٹس مختلف دو پوزیٹو، ایک نیگیٹو۔ آخر سرکاری ہسپتال سے اہل کار آئے بیوی سمیت ایمبولینس میں ڈالا، گھر سیل کیا اور روانہ ہو گئے۔

اب اس دن گلیوں میں سوائے اس خبر کے کوئی گردش تک نہ کرتا تھا کہ رمضان کو کرونا ہوگیا؟! اور لاک ڈاؤن کا ایسا عظیم الشان مظاہرہ کہ سونی گلیاں بیچ مرزا یار پھرے۔ کسی حکم و سختی کی ضرورت نہ پڑی، پارک کا چرسی کلب بند، بچوں کی کرکٹ اور بیڈ منٹن کے سحری ٹورنامنٹ بند، مردوں کی چوپالی چغلی بیٹھک بند۔

اب اگلے روز رمضان میاں کا چہکتا فون محلے کے ایک کرتا دھرتا کو آیا ”یار میں فٹ فاٹ ہوں، مجھے تو چار مہینے سے کھانسی تھی، میں ٹھیک ہوں تیری بھابھی کا ٹیسٹ نیگٹو آیا ہے“

اب یہ خبر مختلف طریقوں سے گردش کرتی پھری، ازدواجی تعلقات زیر بحث آئے کہ بیوی کو کورونا کیوں نہیں ہوا؟ تین دن بعد اطلاع ملی زوجہ بھی کرونا کے باعث ایڈمٹ ہیں۔ لوگ شانت ہو گیے اور وفاداری کا یہ مظاہرہ سب کی آنکھوں کو بھایا۔ اگلے کئی روز خبر آتی رہی رمضان ٹھیک ہے۔ پھر اچانک خبر آئی رمضان کو وینٹی لیٹر پہ ڈال دیا گیا ہے۔ گلی میں اس دن بھی خوف کا عجب رنگ تھا، لوگ انتظار میں رہنے لگے کہ اب خبر آئی کہ تب تو ہم صفیں درست کریں۔

اسی دوران ان کے رشتے دار کی جانب سے یہ ہوائی اڑائی گئی کہ کورونا ان کی کٹس سے منتقل کیا گیا ورنہ کوئی کورونا نہیں تھا۔ ہم نے اس روز شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے بال نوچے۔ پھر ہفتہ گزر گیا رمضان کو وینٹی لیٹر پہ ڈالے ہوئے کہ پتہ چلا کہ رمضان کا ٹیسٹ نیگٹو آ گیا ہے اور وینٹی لیٹر بھی اتر گیا ہے اور وہ واپس آ رہا ہے۔

ہماری کالونی میں روز گرما گرم بحث چلتی ہے کہ کوئی کورونا نہیں تھا ورنہ کیسے ہو سکتا کہ ایک ستر سالہ بوڑھا، دمے اور شوگر کا مریض، وینٹی لیٹر سے واپس آ جائے۔ اب لوگوں کو جانے کس بات پہ غصہ ہے، رمضان کے واپس آنے پہ یا کرونا نہ ہونے پہ، یا کرونا کے ٹھیک ہوجانے پہ یا ہنوز سب کچھ دھندلاہٹ کا شکار ہونے پہ۔ ہم نے رسان سے لوگوں کو سمجھانے اور تجزیہ کرنے کی دعوت دی اور درپردہ خود کو بھی سمجھانے کی کوشش کی۔ مگر ہوا یہ کہ ہمیں ہماری ایک واقف نرس مل گئیں جن کے ہسپتال میں سو کورونا کے مریض داخل ہیں وہ فرمانے لگیں جتنی اموات ہسپتال میں ہو رہی ہیں سب کورونا کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہیں۔ بس تب سے ہماری حالت یہی ہے کہ کرونا ہے، نہیں کرونا ورونا کچھ نہیں، سب سازش ہے، رمضان واپس آ رہا ہے، رمضان واپس نہیں آ رہا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *