کیا ”ریڈ لائن“ کی سرخی کم ہو گی؟

پاکستان کی سیاست سیاسی بت پرستی کی ”ریڈ لائن“ پر کھڑی ہے۔ اس بت پرستی کا آغاز اس وقت ہوا جب ذوالفقار علی بھٹو نے 30 نومبر 1967 کو پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھ کر اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ سے ٹکر لی۔ بھٹو نے اپنی جذباتی تقریروں سے سحر طاری کیا، عوام کی آنکھوں کا تارا بنے اور پھر چند سال کے بعد بت پرستی اور ”ریڈ لائن“ پار کرنے کے کھیل میں وہ تارا مسیح کے ہاتھوں تاریخ

Read more

سیاست کا جال اور کراچی

”جب بارش ہوتا ہے تو پانی آتا ہے اورجب زیادہ بارش ہوتا ہے تو زیادہ پانی آتا ہے“ ابھی لوگ بلاول بھٹو کے اس دلچسپ انکشاف کے مزے ہی لوٹ رہے تھے کہ سیلابی پانی آ گیا۔ عروس البلاد کراچی دنیا کا آٹھواں بڑا شہر، 30 سالوں کی منجھی ہوئی سیاسی قیادت کے سامنے پانی پانی ہو گیا۔ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ آج خواص بھی عوام بن گئے۔ روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے والی حکومت کو نکاسی

Read more

کیا نواز شریف ”ڈیل آف دی سنچری“ کرکے لندن گئے؟

توشہ خانہ ریفرنس میں اپیل کرنا نواز شریف کو مہنگا پڑ گیا۔ عدالت میں میڈیکل گراؤنڈ پر عدالتی ضمانت اور ای سی ایل سے حکومتی رضامندی پر نام کے انخلا کا ذکر ہوا تو حکومت کو نواز شریف کی واپسی کا خیال آیا اور پھر برسات کے مینڈکوں کی طرح دھڑادھڑ ہر طرف سے نواز شریف کی بیماری کی کہانی، میڈیکل رپورٹس میں فراڈ، ضمانت کی داستان، ضامن کا کردار، واپسی کا طریقہ کار پر وزراء اور ہمنوا بولنے لگے۔

Read more

اپوزیشن کے 2 سال۔ ۔ ۔ نہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے

مولانا فضل الرحمان گزشتہ کئی مہینے کی خاموشی اور گوشہ نشینی کے بعد قوم کے لئے پرانی خبر کو نئی محاذ آرائی کی تمہید بنا کر سامنے لائے ہیں اور وہ یہ کہ 2018 کے انتخابات تاریخ کی سب سے بڑی چوری تھے۔

اپوزیشن کا حال کے الیکٹرک جیسا ہے جسے تمام تر ایندھن مہیا کر بھی دیا جائے تو بھی بجلی پیدا نہیں کر سکتی۔ بعض سیاسی پنڈتوں کے نزدیک عمران خان کی حکومت نے 2018 کی مبینہ دھاندلی کے سوا بھی اپوزیشن کو اپنا کردار ادا کرنے کا پورا موقع دیا۔ کبھی نہ ختم ہونے والی مہنگائی، ناکام خارجہ پالیسی، آٹا چینی کا بحران، کورونا کا طوفان، بروقت فیصلوں کا فقدان، ، بجلی کا بحران، وعدوں کی عدم تکمیل اور پھر سب پر کمال عمران خان کے یو ٹرن۔

Read more

اپوزیشن کے 2 سال۔۔۔ نہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے

مولانا فضل الرحمان گزشتہ کئی مہینے کی خاموشی اورگوشہ نشینی کے بعد قوم کے لئے پرانی خبر کو نئی محاذ آرائی کی تمہید بنا کر سامنے لائے ہیں اور وہ یہ کہ 2018 کے انتخابات تاریخ کی سب سے بڑی چوری تھے۔ اپوزیشن کا حال کے الیکٹرک جیسا ہے جسے تمام تر ایندھن مہیا کربھی دیا جائے تو بھی بجلی پیدا نہیں کرسکتی۔ بعض سیاسی پنڈتوں کے نزدیک عمران خان کی حکومت نے 2018 کی مبینہ دھاندلی کے سوا بھی

Read more

بدھ، بزدار اور میانداد

مریم نواز صاحبہ کا پسندیدہ مشغلہ خاموش رہنا ہے لیکن جب وہ بولتی ہیں تو خوب بولتی ہیں اور ڈنکے کی چوٹ پر بولتی ہیں۔ ان کے بول میں مثالیں بھی ہوتی ہیں اور دلائل بھی۔ لیکن ابھی منگل کو نیب پیشی کے بعد جس طرح وہ بولیں اس میں ہمیں روایتی مریم نواز نظر نہیں آئیں۔ بات سے بات جوڑنے میں ان کو ملکہ حاصل ہے لیکن اس دن لگتا تھا کہ ان کا یہ ملکہ کہیں کھو گیا ہے۔ نامکمل جملے، ادھوری باتیں، بے وزن دلیلیں اور بغیر مثالوں کی پریس کانفرنس میں اور کچھ نہ تھا بس ایک ہجوم تھا۔ آدھے سننے والے تھے اور آدھے سنانے والے تھے لیکن مریم کے چچا حضور لاکھ ڈھونڈنے سے بھی کہیں نہیں ملے شاید بیانیے کے انڈے سیکھے جا رہے ہوں۔

Read more

نئے پاکستان کے فروغ بھائی

مرزا صا حب سے کسی نے پوچھا کہ آپ کے خیال میں محبت شادی سے پہلے ہونی چاہیے یا شادی کے بعد؟ اس پر مرزا صاحب نے ارشاد فرمایا، اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ محبت شادی سے پہلے ہو یا بعد میں، مگر بیوی کو اس کی ہوا بھی نہیں لگنی چاہیے۔ ایک ہمارے فروٖغ نسیم بھائی ہیں جن کی ”بیوی“ وزارت قانون کی وہ کرسی ہے کہ اگر وہ وزیر ہوں یا وکیل، ان سے ان

Read more

بزدار صاحب، پلیز درجن 13 کا کر دیں

بیوی سے عشقیہ گفتگو کرنا ایسا ہی ہے جیسے انسان خارش وہاں کرے جہاں نہ ہو رہی ہو۔ ایسے ہی کسی صاحب یا صاحبہ کے دماغ شریف میں اگر یہ شریفانہ خیال آ جائے کہ بزدار شیر نہیں بلکہ بز ہیں تو اس کے لئے بہتر ہو گا پہلے اپنی خیر منائے اور پھر بلال گنج یا باؤ محلہ جا کر ایک عدد کابلی دماغ خرید لائے بس خیال یہ رکھے کہ دماغ انسان کا ہو کسی بکرے شکرے یا گائے شائے کا نہ ہو۔

Read more

وسیم اکرم پلس کا ان سوئنگ یارکر

شاباش بزدار صاحب شاباش۔ ۔ ۔ ہمارے بزدار صاحب نے ثابت کر دیا کہ وہ کپتان کا غلط انتخاب نہیں ہیں۔ سوئنگ شوئنگ کرنا جانتے ہیں، گلیاں اڑا سکتے ہیں۔ 35 سال کی تحقیقاتی صحافت کرنے والے تو نری جھک مارتے رہے ہیں۔ انہیں تونسہ شریف کے اس شریف النفس وزیراعلیٰ کی صلاحیتوں کا کیا پتہ؟ ان کی ذہانت، فطانت غیر مسلمہ صحیح لیکن ہے تو صحیح۔ پنجاب کے پسماندہ علاقہ سے کسی کا سیاست میں ماسٹر کرنا خالہ جی کے گھر کا باڑا نہیں کہ ہر ایرا غیرا نتھو خیرا پھلانگ کر اندر آ جائے۔

Read more

یہ لنگڑی نہیں سندھڑی حکومت ہے!

غالب آم شناس تھے، وہ پانچ الفاظ پر مشتمل ایک جملہ کہہ گئے، آم ہوں اور عام ہوں۔ یہ ایسا شیریں جملہ ہے اگر گرمی کے دن نہ بھی ہوں تو جاڑے میں بھی اسے پڑھ کر آم کا مزہ آتا ہے۔ ایسا دو موسمی مزہ کسی اور پھل میں بھلا کہاں؟ اسی لئے اسے پھلوں کا بادشاہ کہتے ہیں اور بادشاہ موسمی نہیں بلکہ سدا بہار ہوتا ہے۔

آم پاکستان کا قومی پھل ہے اور مختلف قوموں پر مشتمل بھارت کے باشندے بھی آم کے دلدادہ ہیں، اسی لئے بھارت سرکار نے بھی اسی قومی پھل کا درجہ دے رکھا ہے۔ فلپائنی بھی آم پر مر مٹنے والی قوم ہے۔ سری لنکا والوں کی آم سے محبت بس اتنی ہے کہ انہوں نے آم کے درخت کو قومی درخت کا درجہ دے رکھا ہے اس میں بھی صاحبو کوئی حکمت ہوگی اور مہاتما بدھ کی آم کے پیٹر تلے عبادت گزاری تو ویسے ہی مشہور ہے۔ معلوم نہیں اس عبادت میں کتنی مٹھاس ہوتی ہو گی۔

Read more

تر دماغوں والے ترجمان

سنا تویہ تھا کہ زباں کرتی ہے دل کی ترجمانی دیکھتے جاؤ پکار اٹھی ہے میری بے زبانی دیکھتے جاؤ بے زبانی اور ترجمانی کا یہ جوڑ اگر اہل سیاست کی نظر سے دیکھیں تو اس کا تعلق دل کے بجائے دلربا کی وہ جیب ہے جو دل کے قریب ہے اور اس میں جان من کی تصویر نہیں ہوتی بلکہ مال دنیا ہوتاہے۔ یہ مال دنیا ہر دلربا کو عزیز ہوتا ہے وہ خواہ دانیال کی شکل میں عزیز

Read more

سیاسی اشرافیہ کی غیر سیاسی ”اشرفیاں“

بچپن سے پڑھتے آ رہے ہیں پاکستان کے معنی پاک لوگوں کی سرزمین کے ہے۔ اللہ کرے تاقیامت اس کے یہی معنی رہیں شاد رہے، آباد رہے۔ اس کی سلامتی ہماری سلامتی ہے اس کی خوشحالی ہماری خوشحالی اور اس کی۔ ۔ ۔ اشرافیہ ہماری اشرافیہ ہے کیونکہ ایک مکتبہ فکر کے نزدیک جیسی روح ویسے فرشتے، عوام جیسے ہوں گے حکمران بھی ویسے ہوں گے۔ دوسرا مکتب فکر سمجھتا ہے عوام حکمران کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ حکمران جو کریں گے عوام بھی ویسا کریں گے۔

اس کرنے نہ کرنے کی بحث میں کرنے کی بات یہ ہے کہ ہماری اشرافیہ ’تم جیتو یا ہارو ہمیں تم سے پیار ہے‘ کے مصداق ہو چکی ہے۔ یہ پیار کا نشہ ایسا نشہ ہے جس میں نشہ مخالف داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے تو پھر نشہ باز آپے میں نہیں رہتا، ہلڑ بازی کرتا ہے اور پھر مخالف کو ایسے پٹختا ہے جیسے جھارا پہلوان انوکی کو پٹخا کرتا تھا۔

Read more

انقلاب بذریعہ ٹڈی دل، زندہ باد

حیرت ہوتی ہے اور حیران کن حد تک ہوتی ہے۔ لوگ جب یہ کہتے ہیں کپتان کی حکومت کچھ نہیں کرتی۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی دودھ والے نے مجھ سے کہا باؤ جی! دودھ اب ایک سو دس روپے لٹر میں ملے گا۔ میں نے پہلے اس کا منہ دیکھا، پھر دودھ دیکھا اور پھر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنے کی نیت کر کے کہا کہ شریف صاحب! جب نواز شریف کا دور تھا تو پیٹرول 76 روپے کا تھا اور دودھ 70 روپے کا۔ اب بھی پٹرول کی قیمت اتنی ہی ہے لیکن جناب دودھ ایک سو دس روپے کا دے رہے ہیں۔ کیا یہ تضاد نہیں؟ دودھ والا بھی شاید خود کو دودھ کا دھلا سمجھتا تھا، کہنے لگا باؤ جی! آپ پڑھے لکھے آدمی ہیں چینل میں کام بھی کرتے ہیں آپ کو پتا ہے کہ پیٹرول کے علاوہ بھی دنیا میں اور چیزیں ہیں جو مہنگی ہیں اور ویسے بھی بھینسوں کو کیا پتا کہ میاں صاحب کا دور ہے یا خان صاحب کا؟ بھینس کا پیٹرول سے کیا لینا دینا؟ اسے تو چارے سے غرض ہے جو ان دنوں ٹڈیوں کا چارا بنا ہوا ہے۔ اب جب چارا مہنگا ملے گا تو کیا میں دودھ کی قیمت نہ بڑھاؤں؟

Read more

چھوٹے میاں صاحب کی چنی منی خواہش

جرنیلی سڑک رضا علی عابدی کی شہرہ آفاق تصنیف ہے۔ وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ پشاوروالے کہتے ہیں کہ جی ٹی روڈ ان کے شہر سے شروع ہوتی ہے کلکتہ کے ایک باسی سے جب پوچھاکہ جناب کیا جی ٹی روڈ یہاں پر ختم ہوتی ہے تو وہ حیرانی سے بولا ختم۔ ۔ ۔ جناب جی ٹی روڈ شروع ہی یہاں سے ہوتی ہے۔ یعنی دونوں طرف کا دعویٰ ہے کہ جی ٹی روڈ ان کے ہاں سے

Read more

خان صاحب! بھاگ لگے رہیں

جبل خان نے قسمت خان سے پوچھا مڑا تم اور ام اکٹھے شیشے کے برتن بیچتے ہیں۔ تمھارے پاس بھی ڈنر سیٹ ہے امارے پاس بھی ہے۔ تمارے پاس بھی ٹی سیٹ، آئس کریم سیٹ ہے امارے پاس بھی ہے تمھارے پاس بھی جوسر اور تھرماس ہے امارے پاس بھی ہے لیکن تمھارے سیٹ فوری بک جاتے ہیں امارے نہیں بکتے۔ ایسا کیوں ہے؟ قسمت خان تھوڑی دیر خاموش رہا کچھ سوچا اور پھر بولا جبل خان یہ صحیح ہے کہ جو برتن امارے پاس ہے وہ تمارے پاس بھی ہے لیکن مڑا میرے پاس دو چیزیں ایسی ہیں جو تمارے پاس نہیں ہیں۔ جبل خان نے اپنی موٹی اور گوری آنکھوں کو حیرت سے مزید پھیلاتے ہوئے پوچھا مڑا وہ کیا ہے؟

Read more

مخدوم تو اچھے ہوتے ہیں!

شاہ محمود قریشی ملتان کے نامور مخدوم ہیں۔ مہربان انسان ہیں اسی لئے دنیا ان کی قدردان ہے ان سے محبت کرتی ہے۔ انہیں جب کبھی دیکھا اس نظر سے دیکھاجس نظر سے برسوں پہلے انہوں نے ہیلری کو دیکھا تھا۔ یہ منظر جس میں جام بھی تھے ( واضح رہے کہ یہ جنوبی پنجاب والے جام نہیں ہیں ) کسی دل جلے فوٹو گرافر نے اپنے کیمرے میں محفوظ کرلیا اور پھر یہ محفوظ شدہ منظر وائرل ہو کر

Read more

سیاست کے کورونے

شیر گھاس پر چلنا پسند نہیں کرتا کہ کہیں کانٹا اس کے نرم پاؤں میں نہ چبھ جائے۔ وہ میدان کا درندہ ہے جانور فطرت کے مدرسے کے تربیت یافتہ ہوتے ہیں اور ہم میدان سے بھاگ کر جنگل کی لمبی لمبی گھاس پر چلنے کے خواہش مند بنی نوع انسان۔ لامحالہ کورونا کے کانٹوں سے اپنے پاؤں زخمی کر بیٹھتے ہیں لیکن باز تب بھی نہیں آتے۔

ہم مشکل پسند نہیں سہل پسند ہیں۔ ہماری سہل پسندی تو ماں کی گود سے ہی شروع ہوجاتی ہے ہم میں سے شاید ہی چند ایک دودھ چوس بچے رہے ہوں گے ورنہ تو اکثریت کے منہ میں پیدائش کے ساتھ ہی چھ انچ کا فیڈر ٹھونس

Read more