چھوٹے میاں صاحب کی چنی منی خواہش

جرنیلی سڑک رضا علی عابدی کی شہرہ آفاق تصنیف ہے۔ وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ پشاوروالے کہتے ہیں کہ جی ٹی روڈ ان کے شہر سے شروع ہوتی ہے کلکتہ کے ایک باسی سے جب پوچھاکہ جناب کیا جی ٹی روڈ یہاں پر ختم ہوتی ہے تو وہ حیرانی سے بولا ختم۔ ۔…

Read more

خان صاحب! بھاگ لگے رہیں

جبل خان نے قسمت خان سے پوچھا مڑا تم اور ام اکٹھے شیشے کے برتن بیچتے ہیں۔ تمھارے پاس بھی ڈنر سیٹ ہے امارے پاس بھی ہے۔ تمارے پاس بھی ٹی سیٹ، آئس کریم سیٹ ہے امارے پاس بھی ہے تمھارے پاس بھی جوسر اور تھرماس ہے امارے پاس بھی ہے لیکن تمھارے سیٹ فوری بک جاتے ہیں امارے نہیں بکتے۔ ایسا کیوں ہے؟ قسمت خان تھوڑی دیر خاموش رہا کچھ سوچا اور پھر بولا جبل خان یہ صحیح ہے کہ جو برتن امارے پاس ہے وہ تمارے پاس بھی ہے لیکن مڑا میرے پاس دو چیزیں ایسی ہیں جو تمارے پاس نہیں ہیں۔ جبل خان نے اپنی موٹی اور گوری آنکھوں کو حیرت سے مزید پھیلاتے ہوئے پوچھا مڑا وہ کیا ہے؟

Read more

مخدوم تو اچھے ہوتے ہیں!

شاہ محمود قریشی ملتان کے نامور مخدوم ہیں۔ مہربان انسان ہیں اسی لئے دنیا ان کی قدردان ہے ان سے محبت کرتی ہے۔ انہیں جب کبھی دیکھا اس نظر سے دیکھاجس نظر سے برسوں پہلے انہوں نے ہیلری کو دیکھا تھا۔ یہ منظر جس میں جام بھی تھے ( واضح رہے کہ یہ جنوبی پنجاب…

Read more

سیاست کے کورونے

شیر گھاس پر چلنا پسند نہیں کرتا کہ کہیں کانٹا اس کے نرم پاؤں میں نہ چبھ جائے۔ وہ میدان کا درندہ ہے جانور فطرت کے مدرسے کے تربیت یافتہ ہوتے ہیں اور ہم میدان سے بھاگ کر جنگل کی لمبی لمبی گھاس پر چلنے کے خواہش مند بنی نوع انسان۔ لامحالہ کورونا کے کانٹوں سے اپنے پاؤں زخمی کر بیٹھتے ہیں لیکن باز تب بھی نہیں آتے۔

ہم مشکل پسند نہیں سہل پسند ہیں۔ ہماری سہل پسندی تو ماں کی گود سے ہی شروع ہوجاتی ہے ہم میں سے شاید ہی چند ایک دودھ چوس بچے رہے ہوں گے ورنہ تو اکثریت کے منہ میں پیدائش کے ساتھ ہی چھ انچ کا فیڈر ٹھونس

Read more