مکھی محل۔ عہد رفتہ کی ایک زندہ تصویر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حیدرآباد صوبہ سندھ کا ایک قدیم اور تاریخی شہر ہے۔ یہاں موجود پکا قلعہ اس شہر کی شان مانا جاتا ہے۔ اسی قدیم قلعہ کے ساتھ ہوم اسٹیڈ ہال کے سامنے واقع ”مکھی محل“ یا ”مکھی ہاؤس“ قدیم فن تعمیرات کا اعلیٰ نمونہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ عظیم الشان محل 1920 میں مکھی فیملی کے جیٹھا نند رائے نے اپنی رہائش کے مقصد سے تعمیر کروایا۔

مکھی جیٹھا نند رائے اس دور میں شہر کے معزز ترین لوگوں میں سے ایک تھے۔ قیام پاکستان سے پہلے یہ محل کانگریس کی سرگرمیوں کا مرکز رہا۔

مکھی محل 833 مربع گز کے رقبے پر مشتمل ہے۔ یہ ایک دو منزلہ عمارت ہے جس میں بارہ ہوادار کمرے دو بڑے ہال اور دو صحن موجود ہیں۔ اور چھت پر ایک خوبصورت گنبد اس عمارت کی شان بڑھاتے نظر آتا ہے۔

مکھی ہاؤس کے خوبصورت دروازے اور کھڑکیاں ساگوان اور شیشم کی لکڑی سے بنی ہوئی ہیں۔ اور ہر محل کے ہر کمرے میں بیش قیمت لکڑی سے بنی الماریاں نصب کی ہوئی ہیں۔ اور خوبصورت نقاشی والے روشندان بنائے گئے ہیں۔ جن کو دیکھ کر مکین کے ذوق کو داد دینے کو جی کرتا ہے۔ جبکہ دروازوں اور کھڑکیوں میں بھی دیدہ زیب نقوش والا شیشہ استعمال کیا ہوا ہے اور دیواروں پر پھولوں کے ڈیزائن بنے ہوئے ہیں۔

اس شاندار عمارت کی تعمیر میں جودھ پور کا پتھر اور ماربل استعمال کیا گیا۔ اور محل کے ساتھ مکھی باغ بھی تھا جو وقت کی ستم ظریفیوں کے نظر ہو کر معدوم ہو چکا ہے اور اب اس جگہ گنجان آبادی موجود ہے۔

مًکھی ہاؤس یا محل کا گراؤنڈ فلور 8 کمروں پر مشتمل ہے۔ اور ہر کمرے میں تین سے چار دروازے لگے ہوئے ہیں اور ہر دروازہ دوسرے کمرے میں کھلتا ہے۔

ایک قیمتی لکڑی سے بنی سیڑھی اوپری منزل کو جاتی ہے۔ جہاں 6 بیڈ روم اور دو ہال موجود ہیں۔

مکھی محل کی تعمیر سے سات برس بعد 1927 میں جیٹھا نند مکھی کا انتقال ہوا اور یہ عظیم الشان گھر ان کے بھائی گوبند رام اور جیٹھا نند مکھی کے خاندان کے زیر استعمال رہا۔

مگر وقت کے کئی حادثے ابھی منتظر تھے۔ اور ان حادثات میں سے سب سے بڑا سانحہ بٹوارے کا تھا۔

مکھی خاندان تقسیم پاک و ہند کے بعد یہ محل چھوڑ کر بیرون ملک منتقل ہوا گیا اور مکھی جیٹھا نند کے خوابوں کی یہ جنت گردش ایام کے نظر ہوگئی۔ کبھی اس محل پر قبضہ جمانے کی کوشش ہوئی تو کبھی نفرت کی آگ کے نظر ہوا۔ مگر پھر بھی اس کی خوبصورت مانند نہ پڑنی تھی۔

سن 2009 میں اس محل کو محکمہ آثار قدیمہ نے اپنی سپردگی میں لاکر اس کی بحالی کا کام شروع کیا اور 2013 میں مکھی خاندان نے اپنے اس خاندانی یادگار کا دورہ کیا اور مکھی ہاؤس حکومت سندھ کو باقاعدہ سپرد کر کے اسے عجائب گھر میں بدلنے کی اجازت دے دی۔

اس وقت مکھی محل اپنی پوری دلکشی کے ساتھ بحال ہو چکا ہے اور اس میں شہر حیدرآباد قدیم نوادرات جس میں تالپور دور حکومت کی توپیں۔ برتن اور دیگر اسلحہ جات وغیرہ رکھ کر عجائب گھر کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ اور اس میں مکھی خاندان کی تصاویر کی ایک گیلری بنانے کے ساتھ ساتھ پہلی منزل پر اس خاندان کے طرز زندگی کا نمونہ پیش کیا گیا ہے۔ اس طرح اب یہ شاندار عمارت شہر حیدرآباد میں سٹی عجائب گھر کا درجہ رکھتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *