اب جو کرنا ہے وہ کورونا نے کرنا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شہر کی ویرانی دیکھ کر جس قدر افسردگی ہوئی تھی۔ اس سے کہیں بڑھ کر شہر کی رونق دیکھ کر حیرت ہوئی ہے۔ حیرت اس لیے نہیں کہ یہ رونق اور چہل پہل کیوں ہے۔ ۔ ۔ یہ بازاروں میں سجی سنوری دکانیں، خریداروں کا رش، لوگوں کی آنیاں جانیاں، ایک موٹرسائیکل پر میاں بیوی بچوں سمیت پورے پورے لدے پھندے خاندان، فراٹے بھرتے چنگ چی رکشے، سڑکوں پر بے ہنگم ٹریفک، بے تکے ہارنوں کا شور اور لوگوں کا ہجوم بے کراں یہی تو شہروں میں زندگی کی علامت آن ٹھہرے ہیں۔

انہیں دیکھ کر ہی تو معلوم ہوتا ہے کہ زندگی رواں دواں ہے۔ بھلا یہ کیا جانیں کوئل کی کوکو، چڑیا کی چو چوں، پرندوں کی چہچہاہٹ، فطرت کی مسکراہٹ، ہوا کی آواز، درختوں کے ساز جب آپس میں ملتے ہیں تو ایسا گیت چھیڑتے ہیں کہ دیہات میں رہنے والوں کی زندگی پر رشک آتا ہے جو طلوع آفتاب سے لے کر چاند کی چاندنی تک دن کی چمکتی روشنی سے لے کر رات کے گہرے سناٹے تک تمام مظاہر فطرت کے ذریعے زندگی کے اس حقیقی حسن سے آشنا ہیں جس کے بارے شہر والوں کو سوچنے کی فرصت ہی نہیں اس لیے تو وہ شور شرابے، ٹریفک کے اژدہام، گرد غبار، آلودگی اور ان کے درمیان پھرتے انسان نما اجسام کے ہجوم کو ہی زندگی سمجھتے ہیں۔

مگر مجھے حیرت اس بات پر ہوئی کہ پچھلے دو ماہ سے ملک بھر میں کہیں جزوی اور کہیں مکمل لاک ڈاؤن کی وجہ ہم جس طرح کی صورتحال کا تصور کئیے بیٹھے تھے۔ سفید پوش اور عام لوگوں کی حالت زار کا سوچ کر جس خوف میں مبتلا تھے۔ وہ خوف لاک ڈاؤن ختم ہوتے ہی ختم ہوگیا کیونکہ ایک لمحے کو ایسا لگا کہ بازاروں میں کپڑے جوتے اور ضرورت کی دوسری تمام چیزیں پیسوں سے نہیں بلکہ مفت میں مل رہی ہیں۔

ہمارے ہاں شادیوں میں ایسا ہونا ایک عام سی بات ہے کہ جیسے ہی ”روٹی کھل گئی ہے“ کی آواز آتی ہے۔ دو میزیں، چار کرسیاں، بیس پلیٹیں، جگ گلاس اور دو چار ڈشیں بھی مہمانوں کے ساتھ ادھر ادھر چھلانگتی پھلانگتی نظر آتی ہیں۔ اب لاک ڈاؤن کھلا تو ایسا لگا شادی کی روٹی کھل گئی ہے۔ اگر تھوڑی دیر کر دی تو کچھ بھی نہیں بچے گا۔ شاید دن بھی آخری ہے۔ موقع بھی آخری بازار میں رکھی چیز بھی آخری اور ہم بھی آخری ہیں۔ یوں خریداری ہو رہی تھی۔ لاک ڈاؤن گزار کے نہیں آئے بلکہ لاک ڈاؤن انجوائے کر کے آئے ہیں۔

اچھا ہے۔ بازاروں کی رونقیں بحال ہوئی ہیں۔ پہلے بھی صرف دروازے ہی بند تھے۔ کاروبار تو چل ہی رہی تھے جس طرح حکومتوں میں بیٹھے لوگ اندر خانے کئی طرح کے کاروبار چلائے رکھتے ہیں اور وہ کبھی گھاٹے کا سودا نہیں کرتے یا پھر سودے میں کبھی گھاٹا نہیں کرتے جس پھر ایسے ہی جس طرح سیاستدان اپنا کاروبار سیاست چلائے رکھتے ہیں اور غریب لوگ اپنے گھر کا نظام چلائے رکھتے ہیں۔

بہر حال اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کورونا کا کیا ہوا؟ اگر خبروں پر غور کریں تو کورونا کے علاوہ کچھ بھی نہیں اور اگر سڑکوں بازاروں چوکوں چوراہوں میں لوگوں پر غور کریں تو کورونا کچھ بھی نہیں کیونکہ نہ تو کہیں احتیاط نظر آتی ہے۔ نہ ہی کہیں اس کا دامن، قریب تو پہلے بھی نہ تھے۔ لوگ مگر اب فاصلہ بھی کہیں دکھائی نہیں دیتا، ہاتھ دھو کر ایک دوسرے کے پیچھے پڑنے کے علاوہ ہاتھ دھونے سے ہمیں پہلے ہی چڑ تھی۔ ماسک کے تکلف سے ہم پہلے ہی آزاد ہیں۔ اب تو آزاد خیال ہو گئے ہیں۔ یعنی کورونا کے حوالے سے اس قدر بھی سنجیدہ نہیں کہ جتنا ہم چھینک آنے کو کسی کے یاد کرنے سے جوڑ کر سنجیدہ ہو جاتے تھے۔ یوں سمجھیں جیسے جیسے کورونا کی سختیاں بڑھ رہی ہیں۔ ویسے ویسے کورونا کے خلاف کی گئی سختیاں کم ہو رہی ہیں۔

اور اب لاک ڈاؤن کی گرتی ہوئی دیوار کو آخری دھکا سپریم کورٹ کے فیصلے نے دیا ہے جس کے بعد کورونا دور ہو یا نہ ہو کم از کم کنفیوژن دور ہوگئی ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ از خود نوٹس کیس کی سماعت کے بعد ملک بھر کے شاپنگ مالز کھولنے سمیت ہفتے اتوار کو بھی تمام چھوٹی مارکیٹیں کھلی رکھنے کا حکم جاری کر دیا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہمیں منطق بتائی جائے کیا وبا نے حکومت سے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ ہفتہ اتوار کو نہیں آئے گی۔ کیا حکومتیں ہفتہ اتوار کو تھک جاتی ہیں جس سورج مغرب سے طلوع ہوتا ہے۔

بہر حال حکومت بھی یہی چاہتی تھی۔ اس فیصلے کے بعد بہت سا بوجھ اس کے کندھوں سے اتر گیا ہے۔ عوام کا کیا ہے جسے اپنی فکر نہیں اس کی فکر کون کرے گا البتہ یہ بات نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ حکومت پاکستان اور عوام پاکستان نے کورونا وائرس کے خلاف جو ہو سکتا تھا۔ وہ کیا یعنی لاک ڈاؤن، جزوی لاک ڈاؤن، مکمل لاک ڈاؤن، سمارٹ لاک ڈاؤن اور اب بغیر لاک ڈاؤن، پبلک ٹرانسپورٹ اور ٹرینوں کی بندش کے دوبارہ چلانے کی تیاری، سکولوں کی بندش طلباء کی پرموشن، عبادت گاہوں میں ایس او پیز بازاروں میں آزادی، ٹائیگر فورس، امداد، احتیاط، فاصلہ، ماسک، سنی ٹائزر، دفعہ 144، جرمانے، قرنطینہ سنٹر، آئسولیشن وارڈ، ٹیسٹنگ لیبارٹریز، وینٹی لیٹر وغیرہ وغیرہ ہم سے جو ہو سکتا تھا۔ کر لیا اب ہم نے کچھ نہیں کرنا جو کرنا ہے۔ کورونا نے کرنا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *