دو چھاتہ بردار بچوں کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب ستمبر 1965 کی پاک بھارت جنگ شروع ہوئی میں پہلی جماعت میں پڑھتا تھا۔ ایک عجیب قسم کا خوف ہر کسی پر مسلط تھا۔ یہ خوف اس وقت تک رہا جب تک صدر پاکستان محمد ایوب خان نے قوم سے خطاب نہ کیا تھا۔ اس تقریر میں نہ جانے کیا جادو تھا کہ پوری قوم ایک دم سے طاقتور ہو گئی۔ گھروں میں فوجی جوانوں کے لیے تحفے تحائف کے پیکٹ تیار کیے جانے لگے۔ میرے گھر بھی پیکنگ کا کام بہنیں کرتیں اور بڑے بھائی یہ پیکٹ لے کر کیمپ میں دے آتے تھے۔ فضائی حملے کی صورت میں ہمیں زینے کے نیچے محفوظ ٹھکانا بتایا گیا تھا۔ جہاں سائرن ہوتے ہی گھر کے لوگ جمع ہو جاتے تھے۔

ایک دفعہ میں اور میرا ہم عمر دوست قاسم جو میرے ساتھ والے گھرمیں رہتا تھا چھت پر کھیل رہے تھے۔ سائرن کی آواز ہم نے سنی ان سنی کر دی۔ اچانک فضا میں جنگی جہازوں کی آواز آئی۔ ہم بھی اوپر دیکھنے لگے۔ دو طیارے بڑی تیزی سے اوپر نیچے قلابازیاں کھا رہے تھے۔ تڑتڑ کی آواز کے ساتھ ہی دونوں سے چنگاریاں سی نکلتی نظر آ رہی تھیں۔ اچانک آگے والے طیارے سے آگ کے شعلے بلند ہوئے۔ اس جہاز سے ایک نقطہ سا جدا ہوا جس نے بعد میں ایک چھتری کی شکل اختیار کر لی۔ یہ چھتری آہستہ آہستہ زمین کی طرف آنے لگی۔ غور سے دیکھنے پر اندازہ ہوا کہ اس چھتی کے نیچے ایک آدمی لٹکا ہوا تھا۔

یہ سب دیکھ کر ہم جوش جذبات میں نیچے کی طرف دوڑے۔ ابھی خبر سنانے کو منہ کھولا ہی تھا کہ ایک زور دار طمانچہ منہ پر پڑا ”کہاں تھا تو“
میں نے روتے ہوئے کہا ”چھت پر“ ۔
قاسم بھی سہم گیا۔ اس دور میں مجھے محسوس ہوتا تھا کہ غلطی کوئی بھی کرے مار مجھے ہی پڑتی تھی۔ مگر اب یاد آتا ہے کہ کارنامے بھی میں ہی کرتا تھا۔

خیر معاملہ ٹھنڈا ہونے پر بھائی کو سارا قصہ سنایا۔ انہوں نے بھی بہت دلچسپی سے سنا اور پیراشوٹ کی ساری سائنس ہمیں پڑھا دی۔ اگلے دن پتہ چلا کہ پاکستان نے بھارت کا جہاز مار گرایا اور پائیلٹ پکڑا گیا تھا۔ سارا محلہ خوش تھا اور خوشی سے نعرے لگا رہا تھا۔ مگر میرے دماغ میں پیراشوٹ گھسا ہوا تھا۔ میں اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اچانک دماغ کی گھنٹی بجی اور دادا جان کی الماری میں رکھی چھتری یاد آ گئی۔

اب میرا ایک ہی ہدف تھا کہ کسی طرح گھر والوں کی نظر بچا کر چھتری کو گھر کے عقبی حصے میں پہنچایا جائے۔ گھر کے عقبی حصے میں ایک سرونٹ کوارٹر تھا جو ان دنوں خالی تھا۔ آخر مجھے موقع مل ہی گیا۔ میں چھاتہ لے کر گھر کے پچھواڑے پہنچ گیا۔ پہلے ایک چھوٹی دیوار پر چڑھ کر چھاتہ لے کر چھلانگ لگائی تجربہ کامیاب رہا۔ اب ذرا حوصلہ بڑھا اور انتخاب تھا ذرا اونچی جگہ اور یہ جگہ میں نے تاڑی کھڑکی کے اوپر شیڈ۔ وہاں پہنچنے کا مسئلہ بانس کی سیڑھی نے حل کر دیا۔

شیڈ پر پہنچ کر دل میں خوف سا پیدا ہوا۔ اونچائی آٹھ فٹ تھی مگر مجھے ساٹھ فٹ لگ رہی تھی۔ حوصلہ بڑھانے کو مضبوط چھاتہ ہاتھ میں تھا۔ اللہ کا نام لے کر میں کود پڑا۔ پاؤں کو ہلکا جھٹکا تو لگا لیکن مزہ بہت آیا۔ میں نے یہ عمل دو چار دفعہ دہرایا۔ میں خوشی سے ہوا میں اڑنے لگا۔ اس کارنامے کا کیا فائدہ جب کوئی داد دینے والا نہ ہو۔ میں نے چھاتہ چھپایا اور گھر آ گیا۔

موقع ملتے ہی قاسم کے پاس آیا اور کہا ”قاسم میں نے پیراشوٹ بنایا ہے“
قاسم نے کہا ”دکھاؤ“

میں اسے لے کر گھر کے عقبی حصے میں آیا اور چھتری لے کر شیڈ پر چڑھ گیا۔ اونچائی دیکھ کر قاسم کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں ”گر جاؤ گے یہ بہت اونچا ہے“ ۔

میری گردن اور اکڑ گئی۔ میرا خوف نکل چکا تھا۔ ”میرا پیراشوٹ بہت اچھا ہے“ میں نے چھلانگ لگا دی اور کامیابی سے زمین پر آ گیا۔

قاسم نے پوچھا ”چوٹ تو نہیں لگی“ ۔
میں نے فخریہ کہا ”پیراشوٹ ہے بھائی اس سے تو جہاز سے اترا جا سکتا ہے۔“
قاسم نے بھی قدرے حوصلہ کیا ”مجھے دو میں بھی چھلانگ لگاتا ہوں“ ۔

میں نے سوچا اگر اس نے بھی چھلانگ لگا دی تو یہ بھی میرے برابر ہو جائے گا ”نہیں میں نہیں دوں گا یہ میرے دادا جان کی ہے“ ۔
میں نے کئی بار اسے اپنا کمال دکھایا۔ قاسم کا آتش شوق بڑھتا گیا وہ میری منتیں کرتا رہا مگر میں ڈھیٹ بنا رہا۔ میں نے اسے چھاتہ بالکل نہ دیا۔

اگلے دن میں پھر اسے بلانے گیا مگر اس نے انکار کر دیا اور کہا ”اگر مجھے چھتری دو گے تو آؤں گا“ ۔
میں نے کہا ”اچھا صرف ایک بار“ ۔
وہ میرے ساتھ آ گیا۔ میں پھر سے شیڈ پر چڑھ گیا اور چھلانگ لگا دی۔ قاسم نے کہا ”اب میری باری“ ۔
میں نے کہا ”ابھی ٹھہرو“ ۔

میں بار بار جمپ لگاتا رہا اور وہ میری منتیں کرتا رہا۔ میں اسے چھاتہ کیوں دیتا میرے دادا جان کا تھا اس کے دادا کا تو نہیں۔ آخر قاسم ناراض ہو کر چلا گیا۔ اب وہ پکا پکا ناراض ہو گیا۔ میری بہت منت سماجت کے باوجود پھر نہ آیا۔

چند دن بعد اچانک قاسم آیا اور بولا ”آؤ پیراشوٹ والا کھیل کھیلتے ہیں“ ۔
میں بہت خوش ہوا ”آؤ چلیں“ ۔
ہم گھر کی عقبی سمت آئے تو قاسم بولا ”میں بھی پیراشوٹ لایا ہوں“ ۔
جب اس نے چھتری دکھائی تو میں نے کہا ”یہ تو بہت چھوٹی ہے“ ۔
قاسم نے کہا ”کھل کر یہ تمہارے پیراشوٹ سے بڑا ہو جائے گا“ ۔

اس نے چھتری کھولی وہ فولڈنگ ٹائپ تھی۔ کھل کر واقعی وہ کافی بڑی ہو گئی۔ نئی رنگین اور چمکدار۔ میرے منہ میں بھی پانی آ گیا۔ ”لاؤ میں اس سے جمپ کرتا ہوں“ ۔

قاسم نے چمک کر کہا ”تم نے اپنا پیراشوٹ مجھے دیا تھا جو اب یہ مانگ رہے ہو“ ۔
میں نے کہا ”چلو پہلے میں جمپ لگاتا ہوں“ اور میں نے چھلانگ لگا دی۔
قاسم اوپر چڑھا تو اسے ڈر لگنے لگا ”یار یہ تو اونچی ہے۔ میں نہیں لگاتا“ ۔

میں نے کہا ”ڈرپوک میں نے بھی تو اتنی دفعہ چھلانگ لگائی ہے۔ کچھ نہیں ہوتا پیراشوٹ ہے نا۔ تو تو ہے ہی بزدل لڑکی“ ۔

یہ طعنہ اثر کر گیا اور اس نے چھلانگ لگا دی مگر اس کی چھتری اوپر کی طرف فولڈ ہو گئی۔ وہ دھڑام سے نیچے گرا۔ وہ برابر چیخ رہا تھا اور ذبح ہوتے بکرے جیسی آوازیں نکال رہا تھا۔ اب تو میں بھی بہت خوفزدہ ہو گیا تھا۔ اس کی آوازیں سن کر گھر والے بھی پہنچ گئے۔ اسے فوراً ہسپتال لے جایا گیا۔

اب اس میں میری کیا غلطی تھی۔ قاسم کی ہڈی دو جگہ سے ٹوٹ چکی تھی اور میری دو دفعہ مرمت ہوئی ایک دفعہ والدہ سے دوسری دفعہ والد کے گھر آنے پر ان سے۔ والد صاحب نے تو چھڑی سنبھال کر میرے کولہوں کو تختہ مشق بنا لیا۔ اب بھی 23 مارچ یا 14 اگست کو پیراٹروپر کو دیکھتا ہوں تو کولہوں میں ٹیسیں اٹھنے لگتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *