دو چھاتہ بردار بچوں کی کہانی

جب ستمبر 1965 کی پاک بھارت جنگ شروع ہوئی میں پہلی جماعت میں پڑھتا تھا۔ ایک عجیب قسم کا خوف ہر کسی پر مسلط تھا۔ یہ خوف اس وقت تک رہا جب تک صدر پاکستان محمد ایوب خان نے قوم سے خطاب نہ کیا تھا۔ اس تقریر میں نہ جانے کیا جادو تھا کہ پوری قوم ایک دم سے طاقتور ہو گئی۔ گھروں میں فوجی جوانوں کے لیے تحفے تحائف کے پیکٹ تیار کیے جانے لگے۔ میرے گھر بھی پیکنگ کا کام بہنیں کرتیں اور بڑے بھائی یہ پیکٹ لے کر کیمپ میں دے آتے تھے۔ فضائی حملے کی صورت میں ہمیں زینے کے نیچے محفوظ ٹھکانا بتایا گیا تھا۔ جہاں سائرن ہوتے ہی گھر کے لوگ جمع ہو جاتے تھے۔

Read more

پرائیویٹ کمپنیاں یا بیگار کیمپ

علامہ اقبال نے ہماری قوم کے آجر کو خوب پہچانا تھا۔ اسی لیے کہا تھا ”ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات“۔ پاکستان بننے کے بعد عرصہ تک جو یہ ظلم ملازمین پر ہوتا تھا اس کی شدت تعلیم یافتہ طبقے کے لیے نہ تھی بلکہ یہ ظلم زیادہ تر دیہات تک محدود تھا۔ جوں…

Read more

گاڑیوں والے بھکاری اور سیاستدان

میں کریم بلاک اقبال ٹاؤن مارکیٹ کے قریب ہی رہتا ہوں۔ ایک دن ہم شاپنگ کے لیے کریم بلاک شاپنگ سینٹر گئے تھے۔ ایک کورے گاڑی ہمارے قریب آ کر رکی اس گاڑی سے چار خواتین برآمد ہوئیں۔ ان کے کپڑے انتہائی بوسیدہ اور پرانے تھے۔ میری بیٹی نے فوراً پہچان لیا بولی ”یہ تو…

Read more

مستنصر حسین تارڑ سیاسی نہیں مگر محب وطن ہیں

نواز شریف کے مالی معاملات کے بارے میں بہت سے لوگ اسی قسم کی صفائی دے رہے ہیں جیسے نواز شریف کے تمام مالی معاملات یہ سب دیکھ رہے تھے یا نواز شریف اپنے تمام مالی معاملات سے سب کو باخبر رکھتے تھے۔ کسی بھی جگہ پیسہ بھیجنا ہوتا پہلے اپنے تمام سیاسی ساتھیوں اور…

Read more

جمہوریت یا بادشاہت

مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ میں ایک نالائق آدمی ہوں۔ ایک پاکستانی کے طور پر مجھے آج تک جمہوریت اور بادشاہت کا فرق ہی معلوم نہ ہو سکا۔ پہلے میں ان سیاسی جماعتوں کا ذکر کروں گا جن سے میں نے جمہوریت سیکھنے کی کوشش کی۔ پیپلز پارٹی: یہ وہ جماعت…

Read more