محکموں کی غنڈہ گردی

ہمارے ارباب اختیار محکموں کے فنڈز بڑھانے کے لیے بہت سے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ پولیس کو کہا جاتا ہے کہ آپ نے ماہانہ اتنے چالان کرنے ہیں۔ یہ نہیں کہا جاتا کہ جو ٹریفک کی خلاف ورزی کرے اس کا چالان کرو۔ اس وجہ سے وہ بلا جواز بھی چالان کرتے ہیں۔ اسی قسم کی کارروائیاں سوئی گیس کا محکمہ بھی کرتا ہے مگر نمبر ون بجلی کا محکمہ لے گیا ہے۔

Read more

شہزادہ داؤد کی المناک موت

شہزادہ داؤد کی المناک موت کا سن کر بہت دکھ ہوا۔ جس شخصیت سے کوئی ملا ہو اس سے بات کی ہو یا اس سے کسی قسم کا تعلق ہو تو اس کی موت کا صدمہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ شہزادہ داؤد کی موت نے مجھے بہت دکھ دیا کیونکہ میں ان کی ہی فیکٹری میں ملازمت کرتا رہا ہوں اور ان سے دو چار مرتبہ مل چکا ہوں گو کہ بات کرنے کا اتفاق تو صرف ایک مرتبہ ہی ہوا تھا۔ جن لوگوں سے ان کی زیادہ ملاقات رہتی تھی ان سے تو میں نے شہزادہ صاحب کی تعریف ہی سنی ہے۔ ان کی وفات نے مجھے ماضی کی بہت سی باتیں یاد دلا دیں۔

میں نے چند ایک جگہ نوکری کرنے کے بعد داؤد ہرکولیس میں نوکری کی۔ میں نے جتنی جگہ بھی نوکری کی میں نے اپنے ادارے سے اتنی بے لوث محبت کسی دوسری جگہ نہ پائی۔ یہاں کے ملازمین اس ادارے سے عشق کرتے تھے۔ اس کی ہم عصر دوسری فیکٹریوں کے مقابلے میں کم تنخواہ کم سہولیات کے باوجود ان کے عشق میں کبھی کمی نہ آئی۔ یہ بات میرے جیسے نووارد کے لیے حیران کن تھی۔

Read more

ڈاکٹروں اور فوجیوں کا ایک مشترکہ نفسیاتی مسئلہ

ہمارے ہاں کچھ پیشے انتہائی متبرک اور کچھ بہت کمتر سمجھے جاتے ہیں۔ حالانکہ کوئی پیشہ بھی کمتر نہیں ہوتا بے شک کتنی ہی کم آمدن والا ہی کیوں نہ ہو وہ کسی نہ کسی حوالے سے لوگوں کی اور اپنے ملک کی خدمت کر رہا ہوتا ہے۔ اور اگر لوگ مختلف پیشوں سے منسلک نہ ہوں تو ملک کا نظام ہی نہ چلے۔ اب اگر لوگ پیشوں کو ہی اچھے اور برے کے خانوں میں تقسیم کر دیں گے

Read more

ٹھرکی بڈھے اور موقع پرست خواتین

میں آج تک شریفانہ اور غیر شریفانہ رویے کے درمیان کوئی لکیر نہ لگا سکا۔ کچھ لوگوں کے لیے خواتین کا گھر سے باہر نکلنا ناپسندیدہ عمل ہے، کچھ کے لیے برقع کے بغیر گھر سے نکلنا ناپسندیدہ عمل ہے، کچھ چادر تک محدود ہیں تو کچھ دوپٹے کو بہتر خیال کرتے ہیں اور کچھ کے نزدیک تو لباس ہی کافی ہے۔ اسی طرح مردوں سے بات کرنے، دوستی کرنے اور ملنے جلنے پر بھی مختلف لوگوں کے خیالات مختلف

Read more

خواتین کے ساتھ دست درازی کے واقعات

مینار پاکستان پر ہوئے واقعہ پر بہت سے لوگ لڑکی کو برا کہہ رہے ہیں۔ اسی کو اس واقعہ کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے وہ درست فرما رہے ہوں گے کہ اس کے کپڑوں اور حرکات نے لوگوں کو مشتعل کر دیا۔ وہ انسان ہیں روبوٹ تو نہیں کہ اتنی خوبصورت لڑکی انہیں تحریک دے اور وہ مشتعل نہ ہوں۔ کچھ لوگوں کی نظر میں تو یہ لوگ معصوم ہیں۔ لہٰذا وہ بھیڑیوں کا گروپ تو بے قصور ہے اصل غلطی تو بھیڑ کی ہے۔ بھیڑ نے بھاں بھاں کیوں کی کہ بھیڑیے اس کی طرف متوجہ ہوئے۔ آخر بھیڑیے تو اپنی بھوک سے مجبور تھے۔ انہوں نے تو اپنی بھوک مٹانے کی کوشش کرنی ہی تھی۔ گھر میں بے شک من و سلویٰ پڑا ہو وہ ان کے کس کام کا۔

Read more

برے کو نہ مارو بلکہ برے کی ماں کو مارو

ہمارے عظیم لیڈر فرماتے ہیں۔ اگر عورت غلط لباس پہن کر کسی مرد کی مردانگی کو چیلنج کرے گی تو مرد وہ چیلنج ضرور قبول کرے گا۔ مرد تو بے قصور ہے۔ یعنی برائی کو ختم نہ کرو بلکہ اس کی جڑ کو ختم کرو۔ عام آدمی اوہ معاف کیجیے گا روبوٹس یہ چیلنج قبول نہیں کرتے۔ وہ صحیح مرد ہی نہیں ہیں۔ انہیں اپنی مردانگی کے لیے کسی دوائی کی اشد ضرورت ہے۔ اب اگر وہ روبوٹس ہیں تو

Read more

عقلمند بیوروکریٹ

ہمارے ملک میں ایک مرض ہے کہ کوئی بھی کام کرنا ہو تو اس کے لیے اچھے طریقے سے منصوبہ بندی نہیں کی جاتی۔ مگر یہ ہمیشہ سے ایسا نہ تھا۔ ماضی میں صدر ایوب خان کے دور میں اگر ایک سڑک بھی بننی ہوتی تھی تو اس پر باقاعدہ میٹنگ ہوتی تھی کہ جب یہ سڑک بنائی جائے گی تو ٹریفک کا متبادل کیا ہو گا اس سڑک کی تعمیر سے بجلی، پانی اور ٹیلیفون کے محکموں کو کیا

Read more

والدین کا تحفظ (تصویر کا دوسرا رخ)

صدر صاحب نے ایک آرڈیننس جاری کیا ہے والدین کے تحفظ کے لیے یہ بہت ہی اچھی بات ہے۔ میں بھی ایک ریٹائرڈ آدمی ہوں۔ اس لیے میں بھی بوڑھے ماں باپ کی صف میں آتا ہوں مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر دفعہ اولاد ہی غلط نہیں ہوتی کبھی کبھی والدین بھی اولاد کو اس حد تک تنگ کر دیتے ہیں کہ جینا دوبھر ہو جاتا ہے۔ ایک واقعہ ہمارے گاؤں میں پیش آیا۔ ایک سسر صاحب

Read more

دواؤں کی قیمت کیسے کم کی جائے؟

دنیا کی ایک تہائی آبادی کی پہنچ مناسب ادویات تک نہیں ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر 1000 میں سے 7.3 افراد دوائی نہ ملنے کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ دواؤں کی آسمان سے چھوتی قیمتیں لوگوں کی پہنچ سے باہر ہو رہی ہیں۔ اس وجہ سے وہ جعلی حکماء عطائی ڈاکٹروں اور پیروں کے چکر میں آ جاتے ہیں۔ بیمار آدمی کو کسی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اصل مضبوط سہارا جب ان کی پہنچ سے

Read more

شیخ چلی نے کھانا کھایا (سینہ بہ سینہ کہانی)۔

شیخ چلی کا نام سب نے سنا ہو گا۔ ایک دن اس کے ہمسائیوں نے ایک پیالے میں سالن ڈال کر ان کے گھر بھیجا۔ یہ سالن شیخ چلی نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس نے ماں سے پوچھا ”یہ کیا ہے“

ماں نے جواب دیا ”اسے بڑیاں کہتے ہیں“
شیخ چلی نے گول گول تیرتے ٹکڑوں میں سے ایک کو اٹھایا اور پھر پوچھا ”یہ کیا ہے“
ماں نے مختصر جواب دیا ”بڑی“
شیخ چلی نے خوب پیٹ بھر کھایا۔ اسے یہ کھانا بہت پسند آیا۔ ”یہ تو بہت مزیدار ہے“

اگلے ہفتے شیخ چلی ماں سے ضد کرنے لگا ”ماں میں تو وہی کھانا کھاؤں گا جو ساتھ والوں کے گھر سے آیا تھا“

Read more

چوکیدار

شہبازشریف کا ایک بیان نظر سے گزرا کہ اگر نواز شریف کے دور میں اتنی بارش ہوتی تو وہ مستقل کراچی میں ڈیرے ڈال دیتے۔ یہ بیان اتنا خوبصورت تھا کہ مجھے ماضی کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔ میں ایک فیکٹری میں ملازمت کرتا تھا۔ کھاد فیکٹری تھی۔ کھاد بنانے کا عمل ایسا ہوتا ہے کہ اگر پلانٹ مسلسل چلتا رہے تو ٹھیک ہے اگر کسی خرابی کی وجہ سے روکنا پڑے تو کئی دن کی پروڈکشن کا نقصان

Read more

راضی نامہ یا صلح نامہ

ہماری حکومت زیادتی کے مجرموں کی آختہ کاری کا قانون سازی کرنے جا رہی ہے۔ بہت اچھی بات ہے خدا کرے یہ قانون بن جائے اور خدا کرے اس قانون کے تحت خواتین کی فلمیں اور قابل اعتراض تصویریں بنا کر انہیں بلیک میل کرنے والے بھی اسی لسٹ میں شامل ہوں۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے بہت سے جرائم لوگوں کے سامنے نہیں آتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انصاف مانگنا ایک بہت اذیت

Read more

دو چھاتہ بردار بچوں کی کہانی

جب ستمبر 1965 کی پاک بھارت جنگ شروع ہوئی میں پہلی جماعت میں پڑھتا تھا۔ ایک عجیب قسم کا خوف ہر کسی پر مسلط تھا۔ یہ خوف اس وقت تک رہا جب تک صدر پاکستان محمد ایوب خان نے قوم سے خطاب نہ کیا تھا۔ اس تقریر میں نہ جانے کیا جادو تھا کہ پوری قوم ایک دم سے طاقتور ہو گئی۔ گھروں میں فوجی جوانوں کے لیے تحفے تحائف کے پیکٹ تیار کیے جانے لگے۔ میرے گھر بھی پیکنگ کا کام بہنیں کرتیں اور بڑے بھائی یہ پیکٹ لے کر کیمپ میں دے آتے تھے۔ فضائی حملے کی صورت میں ہمیں زینے کے نیچے محفوظ ٹھکانا بتایا گیا تھا۔ جہاں سائرن ہوتے ہی گھر کے لوگ جمع ہو جاتے تھے۔

Read more

پرائیویٹ کمپنیاں یا بیگار کیمپ

علامہ اقبال نے ہماری قوم کے آجر کو خوب پہچانا تھا۔ اسی لیے کہا تھا ”ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات“۔ پاکستان بننے کے بعد عرصہ تک جو یہ ظلم ملازمین پر ہوتا تھا اس کی شدت تعلیم یافتہ طبقے کے لیے نہ تھی بلکہ یہ ظلم زیادہ تر دیہات تک محدود تھا۔ جوں جوں زمانہ ترقی کرتا گیا ساتھ ساتھ یہ ظلم بھی ترقی کرتا گیا اور مختلف شکلوں میں ملازمین پر نازل ہوتا گیا۔ اب اس چکی

Read more

گاڑیوں والے بھکاری اور سیاستدان

میں کریم بلاک اقبال ٹاؤن مارکیٹ کے قریب ہی رہتا ہوں۔ ایک دن ہم شاپنگ کے لیے کریم بلاک شاپنگ سینٹر گئے تھے۔ ایک کورے گاڑی ہمارے قریب آ کر رکی اس گاڑی سے چار خواتین برآمد ہوئیں۔ ان کے کپڑے انتہائی بوسیدہ اور پرانے تھے۔ میری بیٹی نے فوراً پہچان لیا بولی ”یہ تو وہ فقیرنی ہے جو چوک میں خیرات مانگتی ہے۔ شاید وہ جلدی میں تھی اس لیے دفتری لباس میں ہی آ گئی تھی۔ اگر عام

Read more

مستنصر حسین تارڑ سیاسی نہیں مگر محب وطن ہیں

نواز شریف کے مالی معاملات کے بارے میں بہت سے لوگ اسی قسم کی صفائی دے رہے ہیں جیسے نواز شریف کے تمام مالی معاملات یہ سب دیکھ رہے تھے یا نواز شریف اپنے تمام مالی معاملات سے سب کو باخبر رکھتے تھے۔ کسی بھی جگہ پیسہ بھیجنا ہوتا پہلے اپنے تمام سیاسی ساتھیوں اور صحافی دوستوں کو بلاتے اور بتاتے کہ میں اپنا جائز اور حلال کا پیسہ ملک سے باہر بھیج رہا ہوں آپ لوگ باخبر رہیں کل

Read more

جمہوریت یا بادشاہت

مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ میں ایک نالائق آدمی ہوں۔ ایک پاکستانی کے طور پر مجھے آج تک جمہوریت اور بادشاہت کا فرق ہی معلوم نہ ہو سکا۔ پہلے میں ان سیاسی جماعتوں کا ذکر کروں گا جن سے میں نے جمہوریت سیکھنے کی کوشش کی۔ پیپلز پارٹی: یہ وہ جماعت ہے جو سب سے زیادہ جمہوریت پسند کہلاتی ہے۔ یہ  ذالفقارعلی بھٹو سے شروع ہوتی ہے۔ اس کے بعد بے نظیر بھٹو پھر زرداری اور

Read more