کالم نگاروں کے حق میں ایک کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ذہن میں روشنی اور ہاتھ میں قلم یقیناً اللہ تعالی کی شاندار نعمتوں میں سے ایک ہے۔ لیکن جب عملی طور پر آپ اس کا اظہار کرنے لگیں تو سچائی سے رشتہ جوڑ کر ایک لکھنے والا ہی جانتا ہے کہ اسے کس طرح کی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور پھر خصوصی طور پر جب آپ کا تعلق صحافت کے شعبے سے ہو کیونکہ یہاں آپ سیاسی جماعتوں پر بھی تنقید کرتے ہیں پارٹی رہنماؤں کو بھی ٹوکتے ہیں حکومت سے بھی الجھتے ہیں کارکردگی پر سوال بھی اٹھاتے ہیں کرپشن اقرباء پروری اور مس منیجمنٹ پر بھی انگلی اٹھاتے ہیں جھوٹ کو بھی پکڑتے ہیں وعدے بھی یاد دلاتے ہیں عوام کے احتجاج اور چیخ و پکار کو بھی حرف و لفظ فراہم کرتے ہیں اور شخصی کمزوریوں پر بھی نگاہ رکھتے ہیں۔

لیکن اس دوران ہر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے کارکنان اور لیڈرز آپ سے توقع اور تقاضا کرتے ہیں کہ جب ہمارے حوالے سے بات کریں تو چین ہی چین لکھیں یا ”باقی یہاں پر خیر خیریت ہے“ سے آگے نہ بڑھیں ساتھ میں یہ تقاضا الگ سے ہونے لگتا ہے کہ ہمارے سیاسی مخالفین کے نہ صرف چمڑی ادھیڑتے رہیں بلکہ کپڑے بھی پھاڑتے رہیں۔

اگر آپ کا تعلق صحافت خصوصاً کالم نگاری کے شعبے سے ہے تو آپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ جمہوری اقدار اور سسٹم پر گہری نگاہ رکھیں گے سو جہاں بھی اور جو کوئی بھی جمہوری عمل سے روگردانی کرے یا اسے نقصان پہنچانے کا سبب بنے تو آپ کے قلم کا ساکت ہونا یا خاموش رہنا بجائے خود جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ لیکن ایک لکھنے والا ہی جانتا ہے کہ آمریتوں سے مسلسل بر سر پیکار نا تواں جمہوریت کے حامل ملک میں اس طرح کے سوال اٹھانا کتنا دشوار ہوتا ہے۔

کیونکہ ایک سچا لکھاری ہی جانتا ہے کہ صحافت کے تنے ہوئے رسے پر چلتے ہوئے معمولی سی کوتاہی یا غفلت کے نتائج کتنے بھیانک ہوتے ہیں۔ لیکن باہر بیٹھے ”تماش بین“ آپ سے تقاضا کرتے ہیں کہ ہمارے تمام تر جذبات (خواہ وہ بے سر و پا ہی کیوں نہ ہوں ) اپنے نام اور اپنے قلم کے ساتھ اسی طرح پیش کریں جیسا ہم سوچتے ہیں لیکن اس کی ذمہ داری بھی خود ہی اٹھائیں اور نتائج بھی خود ہی بھگتیں۔

اگر آپ ایک لکھاری ہیں تو انسانی اور بنیادی حقوق کے حوالے سے آپ کو حد درجہ حساس اور با خبر ہونا چاہیے ساتھ ساتھ آپ معاشرے کو موٹیویٹ بھی کریں اور منفی عوامل پر تنقید سے بھی گریز نہ کریں لیکن جب اس حوالے سے لکھیں تو معاشرے کا ایک با اثر طبقہ نہ صرف آپ کو آڑے ہاتھوں لیتا ہے بلکہ باقاعدہ فون کر کے دھمکی آمیز لہجے میں ڈکٹیشن بھی دینے لگتا ہے۔

بحیثیت ایک لکھاری کبھی آپ لبرلز پر تنقید کریں تو ان کے منہ سے جھاگ نکلنے لگتی ہے اور پھر آپ جاہل پسماندہ طالبان اور سہولت کار ہی ٹھہرتے ہیں (میرے ذاتی مشاہدے کے مطابق سب سے زیادہ عدم برداشت اسی طبقے میں ہے ) ۔

کبھی آپ کا قلم عسکریت پسندوں اور دہشت گردی کے خلاف حرف و لفظ اگلے تو خود کش حملہ اور بچوں کا اغوا تو معمول کا فون کال ہی سمجھیں۔

عمران خان کے پیروکار تو بد تہذیبی کے حوالے سے مفت میں بدنام ہیں ورنہ نوزائیدہ انقلابیوں سے کبھی واسطہ پڑے تو پی ٹی آئی کے کارکن ان کے سامنے فرشتوں جیسے معصوم لگنے لگتے ہیں۔

بھر حال یہ ہم لکھنے والوں کی مختصر سی روداد ہے لیکن عام لوگ ہمیں مشہور آدمی سمجھ کر رشک کرتے لگتے ہیں لیکن انہیں کیا معلوم کہ ہم کس دوہری اذیت میں گرفتار ہیں کیونکہ نہ لکھیں تو اپنی فطری ذمہ داریوں سے ایک مجرمانہ غفلت کے مرتکب ٹھہرتے ہیں اور اگر لکھیں تو قدم قدم پر ان عذابوں سے واسطہ پڑتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *