قاضی علی، کولاج اور کتاب کی افادیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمیں بہت سی کتابیں تحفتہً ملتی ہیں۔ جنہیں ہم، کبھی پڑھ کر اور کبھی پڑھے بغیر، ایک طرف رکھ دیتے ہیں۔ کتابیں الماریوں میں پڑی رہتی ہیں اور ہم انہیں بھول جاتے ہیں۔ اور پھر برسوں گزر جانے کے بعد الماریوں کی صفائی یا کیڑے مار دوائیوں کا اسپرے یا کتابوں کی چھانٹی کرتے ہوئے کہ نئی کتابوں کی جگہ بن سکے، کچھ کتابیں پھر سے ہمارے سامنے آ جاتی ہیں اور ہم انہیں پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ میرے ساتھ تو اکثر ایسا ہوتا ہے اس لیے میں کتابیں ضائع نہیں کرتا۔ حتی الوسع انہیں سنبھالے رکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس میں جانے انجانے، چھوٹے بڑے، مشہور اور گمنام کی تخصیص نہیں۔ مجھے وقت کی گرد میں اٹی ہوئی اور پڑھی ہوئی کتابیں دوبارہ پڑھنے کا زیادہ لطف آتا ہے۔ کبھی کبھی یہ عمل تخلیقی حزن یا پس روی سے نکلنے میں بھی مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ بعض اوقات ایک غیر معروف کتاب آپ کو بے پناہ مطالعاتی حظ دے سکتی ہے اور بعض اوقات بہت بڑا اور معروف نام انتہا درجے کی بوریت اور مایوسی کا موجب بنتا ہے۔ میرے ساتھ کتابوں اور کتابوں کے مطالعہ کا معاملہ بڑا دلچسپ اور عجیب ہے۔

ایسا ہی آج کتابوں کی چھانٹی اور صفائی کے دوران ہوا۔ قاضی علی ابوالحسن کی ایک کتاب “کولاج 2” سامنے آ گئی اور میں نے حسبِ عادت اس کی ورق گردانی شروع کر دی۔ میں قاضی علی کو نہیں جانتا اور نہ کبھی ان سے ملاقات ہوئی۔ یہ کتاب انہوں نے تحفتہً بھجوائی تھی اور اس پر ان کے آٹو گراف کے ساتھ 23 نومبر 2012ء کی تاریخ درج ہے اور شہر کا نام ملتان لکھا ہوا ہے۔ کتاب پڑھتے ہوئے اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ کون سی صنفِ ادب سے متعلق ہے۔ یہ ان کی ڈائری کے اوراق ہیں، ان کی رودادِ محبت ہے، کہانیاں ہیں، شاعری ہے، خطوط ہیں، ان کی اپنی طبع زاد تحریریں ہیں یا دوستوں کی منثور و منظوم تحسین ہے یا ان کے ساتھ بحث مباحثے کا احوال ہے یا کیا ہے؟ لیکن یقین کیجیے اس میں کوئی ایسی تخلیقی اپج ایسا لفظی لمس اور کشش ضرور ہے کہ میں نے وہیں اپنی لائبریری میں کھڑے کھڑے ساری کتاب پڑھ ڈالی اور پڑھنے کے بعد فوراً یہ تحریر لکھنے بھی بیٹھ گیا ہوں۔ تاہم میں اب بھی یہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہوں کہ یہ کتاب ادب کی کس صنف میں شمار کی جانی چاہیے۔ شاید اسی لیے کتاب کا نام “کولاج 2” ہے۔ گویا “کولاج 1” بھی ہوگی اور شاید “کولاج 3، 4 وغیرہم بھی ہوں۔

کولاج 2 میں ایک باب نثری نظم کے کسی مشاعرے سے متعلق ہے جس کا آغاز ایک نثری نظم “ایک کنواری لڑکی” سے ہوتا ہے۔ میں اس نظم کے بارے میں کوئی رائے نہیں دیتا، قارئیں اس کی کچھ سطریں خود پڑھ کر اپنے اپنے نظمیہ ذوق کے مطابق لطف لیں لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ پورا باب پڑھ کر یہ واضح نہیں ہوتا کہ یہ نظم کس کی ہے، قاضی علی کی ہے یا کسی اور کی، کم از کم مجھے تو پتا نہیں چلا۔ شاید یہ میری کند ذہنی ہے یا دیر سے سمجھنے کی عادت ہے، سچ تو یہ ہے کہ میں اس کتاب کی صنف بارے کوئی فیصلہ نہیں کر پایا۔ یہ کتاب مجھے نثری نظم کی طرح کثیر جنسی لگی۔

نثری نظم اک کنواری لڑکی ہے

اس کے وجود میں اوزان کا خون نہیں بہتا

پھر بھی یہ روانی میں چلتی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تجربات کے سخت لوہے کا لبادہ

اس کے گداز بدن پر ویلڈ کیا گیا ہے

اس کے کانوں سے مسلسل خون بہتا ہے

کیوں کہ

اک شیطان فرشتے نے

اس کے کانوں سے

بحروں کی بالی نوچ لی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کوئی بھی اور لڑکی

اس سے دوستی نہیں کرتی

یہ ادیبوں کے جوٹھے سگریٹ پیتی ہے

اور 613 زندہ شاعروں کے نسخے

اس کے بستر تلے دفن ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ روز آئینے کے سامنے

اپنی پوجا کرتی ہے

ناریل پھوڑتی ہے

ہر ماہ کسی پروفیسر کو زکوٰۃ دیتی ہے

کتاب گھروں کا حج کرتی ہے

اور

کاغذ کھا کر جیتی ہے

مجھے نہیں معلوم کہ نظم میں 613 کی کیا عددی مفہومیت و اہمیت ہے، ممکن ہے کوئی ذہین اور باعلم قاری اس ضمن میں رہنمائی کر سکے۔ کتاب میں یارِ عزیز ممتاز اطہر کی دو نظمیں بھی شامل ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قاضی علی نہ صرف ممتاز اطہر کے حلقہ ء احباب میں شامل ہیں بلکہ ممتاز اطہر کے ممدوح بھی ہیں۔ ممتاز اطہر تخلیقی وفور سے لبالب باکمال اور کھرا شاعر ہے۔ اگر ممتاز نے قاضی علی کے لیے نظم لکھی ہے تو یقیناً قاضی علی تخلیقی اعتبار سے چیزِ دیگر ہوں گے۔ لیکن میں بطورِ خاص ساحر شفیق کی نظم “قاضی علی اعتراف کرو ۔۔۔۔۔” کی چند سطریں درج کرتا ہوں جس کی وجہ سے میں نے پوری کتاب پڑھی اور جو میرے نزدیک حاصلِ کتاب ہے :

کتاب کے کسی بھی صفحے پر

جلدی میں

کسی شخص کا فون نمبر لکھا جا سکتا ہے

کتاب میں کوئی تصویر چھپائی جا سکتی ہے

اور اسے منہ پر رکھ کر رویا جا سکتا ہے

مکھیوں سے بچانے کے لیے کتاب سے

گرم چائے کے کپ کو ڈھانپا جا سکتا ہے

کتاب سے اپنے پالتو کتے کو سزا دی جا سکتی ہے

اور اس میں پھول، تتلی، ادھورا خط،

آنسو، قہقہہ، دعا یا کوئی سسکی

دفن کی جا سکتی ہے

کتاب میں کسی نام کے گرد سیاہ دائرہ لگایا جا سکتا ہے

یہ نظم گویا کتاب کی افادیت کا اجمالی اور جمالی اظہار ہے جسے بیان کرتے کرتے ساحر شفیق، قاضی علی کی کتاب گری یا کتاب گیری یا کتاب گردی کا اعتراف کرانے نکل جاتے ہیں ورنہ کتاب سے پالتو کتے ہی کو نہیں کسی انسان کو بھی سزا دی جا سکتی ہے اور اگر کتاب کی جلد مضبوط ہو تو کسی انسان کا سر بھی پھوڑا جا سکتا ہے۔ کتاب میں منھ چھپا کر رویا ہی نہیں جا سکتا بلکہ اس میں کوئی ممنوعہ کتاب بھی رکھ (چھپا) کر پڑھی جا سکتی ہے۔ شاید قاضی علی نے بھی بچپن/ لڑکپن میں ایسا کیا ہو۔ شکر ہے کہ نظم میں یہ نہیں لکھا گیا کہ کتاب کے ساتھ “ہم بستری” کی جا سکتی ہے (ویسے میرے بستر پر جب تک آٹھ دس کتابیں نہ ہوں مجھے نیند نہیں آتی) حالانکہ جب میں نے نظم پڑھنا شروع کی تو مجھے توقع تھی کہ جلد یہ سطر بھی آ جائے گی۔ کیونکہ آجکل نظم میں یا نظم سے کچھ بھی کیا کرایا جا سکتا ہے۔ مذکورہ نظم کی ایک اور خوبی مجھے یہ لگی کہ اسے پڑھتے ہوئے مجھے اپنی ایک پرانی بھولی بسری نظم “بک مارک” کی درج ذیل سطریں یاد آ گئیں:

پرانی کتابوں سے ملتا ہی کیا ہے

فقط چند سوکھے ہوئے پھول،

بے لمس پتے، مَری تتلیاں،

لفظ دیمک کے کھائے ہوئے،

خط بطورِ نشانی چھپائے ہوئے،

نام کچھ دوستوں کے ۔۔۔۔۔۔

میں سمجھتا ہوں کہ جو کتاب پڑھتے ہوئے آپ کو کچھ بھولا ہوا یاد آ جائے وہ پڑھ کر سراہے جانے اور یاد رکھے جانے کے قابل ہوتی ہے اگرچہ اس سے کتاب اور صاحبِ کتاب کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیوں نہ اس پر بھی ایک نظم لکھی جائے، اس کتاب کی طرح نظم میں کچھ بھی کہا اور کیا جا سکتا ہے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply