کورونا وائرس سے اجتماعی مدافعت: کیا اس کی تیاری کر لی گئی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا وائرس کے حوالے سے وزیر اعظم کی مہم جوئی کے بعد گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان کے بھاشن اور احکامات سے یہ یقین کیاجاسکتا ہے کہ پاکستان میں طاقت کے اصل مراکز نے ملک میں اجتماعی مدافعت (ہرڈ امیونٹی) کا طریقہ اپنانے کا فیصلہ کرلیا ہے لیکن اس مقصد کے لئے قوم اور نظام صحت کو جس طرح تیار کرنے کی ضرورت ہے، اس کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔

آج اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا کہ گزشتہ روز عدالت عظمیٰ کے حکم کے بعد لوگ کورونا وائرس کو سنجیدگی سے لینے کے لئے تیار نہیں ہیں اور حکومتوں کے لئے حفاظتی اقدامات کو نافذ کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ سپریم کورٹ میں آج کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سمیت بنچ میں شامل دیگر جج حضرات اپنے مؤقف کی وضاحت کرنے اور کورونا کو اہم چیلنج قرار دینے کی کوشش کرتے رہے تھے۔ چیف جسٹس نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ ’پاکستان میں کورونا نے وبا کی شکل اختیار نہیں کی ہے‘۔ پاکستان میں کورونا کو غیر سنجیدہ سمجھنے کا یہ طریقہ صرف سپریم کورٹ کے ججوں نے ہی اختیار نہیں کیا بلکہ سندھ کے علاوہ عام طور سے سرکاری سطح پر کورونا کو غربت اور بھوک کے مقابل رکھ کر بحث کا رخ موڑنے کی کوشش کی گئی۔ اس مہلک وبا سے نبرد آزما ہونے کا مناسب سماجی رویہ اپنانے اور صحت انتظامات کو مؤثر کرنے کی حکمت عملی دیکھنے میں نہیں آئی۔

اس کا اندازہ سپریم کورٹ میں سو موٹو اختیا رکے تحت کورونا وائرس پر ہونے والی کارروائی سے بھی بخوبی کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں کوئی عدالت کورونا سے نمٹنے کے لئے ازخود اختیار کے تحت حکومت کی نگرانی کررہی ہے، اس پر ہونے والے اخراجات پر کسی ثبوت کے بغیر تبصرے کئے جارہے ہیں، عمومی تعصبات پر مبنی رائے کو مستحکم کیا جارہا ہے اور عدالت کورونا وائرس کو دیگر بیماریوں کے مقابلے میں رکھنے کی دیدہ دانستہ کوشش میں مصروف ہے۔ یہ سلسلہ سپریم کورٹ کی آج کی سماعت کے دوران بھی جاری رہا ۔ البتہ چیف جسٹس گلزار احمد نے فرمایا ہے کہ عید کے بعد 8 جون کی سماعت میں وہ پورا ہفتہ دکانیں کھلی رکھنے کے حکم پر نظر ثانی کریں گے کیوں کہ ان بقول یہ فیصلہ عید پر لوگوں کو خریداری کا موقع دینے کے لئے کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے آج سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل کی یہ درخواست مسترد کردی کہ عدالت اس حوالے سے رائے لینے کے لئے ماہرین کی ٹیم مقرر کردے تاکہ ان کے مشوروں سے استفادہ کیا جاسکے۔ عدالت نے یہ سمجھنے سے گریز کیا ہے کہ موجودہ حالات میں آئندہ دو ہفتے پاکستانی عوام کے لئے سنگین صورت پیدا کرنے کا سبب ہوسکتے ہیں۔

پاکستان کو شاید کسی بھی سطح پر ماہرین کی ضرورت نہیں ہے۔ ملک کا وزیر اعظم پہلے دن سے لاک ڈاؤن کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے لوگوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرتا رہا ہے کہ ملک کا استحصالی طبقہ اور اشرافیہ اس لاک ڈاؤن کو مسلط کررہی ہے لیکن لوگ بیماری کی بجائے بھوک سے مرجائیں گے۔ سندھ حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے وفاقی حکومت نے لاک ڈاؤن کو مسترد کیالیکن پھر پراسرا طور سے فوج کی خدمات طلب کرتے ہوئے لاک ڈاؤن نافذ بھی کردیا گیا۔ البتہ اب تمام معاشی و سماجی سرگرمیاں بحال کردی گئی ہیں۔ کچھ اقدام وفاقی حکومت کی خواہش پر ہوئے باقی کی راہ سپریم کورٹ کے گزشتہ روز کے حکم نے ہموار کردی ۔ ان اقدمات سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ حکومت اور باختیار حلقے اب ملک میں اجتماعی مدافعت کے طریقہ کا تجربہ کرنے کے راستے پر گامزن ہیں لیکن اس بارے میں کھل کر بات کرتے ہوئے کسی دوٹوک حکمت عملی کا اعلان سامنے نہیں آیا۔ اگر کوئی حکومت ایک مقصد حاصل کرنا چاہتی ہے لیکن عوام کو اس سے آگاہ کرنا ضروری نہیں سمجھتی تو اس کی کامیابی کا امکان بھی کم ہوجاتا ہے اور ناکامی کی صورت میں نقصان کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔

صرف اشاروں کنایوں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ معاشی بحالی، غریب کی مجبوری اور دہاڑی دار کی تنگ دستی کا حوالہ دیتے ہوئے دراصل کورونا کے حوالے سے ایک طویل المدت طبی تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس فیصلہ میں حکومت نے بھی سپریم کورٹ کی طرح ملک کے طبی ماہرین کو شریک بنانے اور ان کی مشورہ پر عمل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ حیرت انگیز طور پر اس حوالے سے سویڈن کی مثال دی جاتی ہے لیکن یہ بتانے یا سمجھنے کی کوشش نہیں کی جاتی کہ سویڈن میں کورونا وائرس کے حوالے سے فیصلے کرنے کا کام وہاں کے وبائی امراض کے مرکز اور صحت حکام نے باہمی مشاورت سے کیا تھا۔ کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے تمام فیصلے صحت حکام نے کئے اورو ہی میڈیا کو وائرس کی صورت حال سے آگاہ کرتے رہے تھے۔ پاکستان میں اس کے برعکس معاملہ کو پہلے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا ذریعہ بنایا گیا اور اب عدالت عظمی کے جج اپنے غیر معمولی اختیا رکے تحت لوگوں کی صحت کے بارے میں ایسے ریمارکس دے رہے ہیں جن کا حقائق اور وبا کی نوعیت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔

اجتماعی مدافعت یا ہرڈ امیونٹی کے بارے میں وفاقی وزیر برائے سائینس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ایک ٹویٹ پیغام میں بتایا ہے کہ کہ ان کی وزارت کے ماہرین کی ایک کمیٹی نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کئے بغیر لاک ڈاؤن میں نرمی کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ماہرین کے خیال میں ہرڈ امیونٹی کا طریقہ اندیشوں سے بھرپور ہے اور خطرناک ہوسکتا ہے۔ ایسا طریقہ اختیار کرنے سے گریز کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ملک میں کورونا وائرس کا عروج جون کے وسط تک سامنے آئے گا۔ اس دوران جناح سندھ یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے ’اگر صورت حال بدترین شکل اختیار کر گئی تو اس ماہ کے آخر میں ملک میں کیسز کی تعداد دو لاکھ تک جا پہنچے گی اور اموات کی تعداد چار ہزار ہو سکتی ہے۔ اگر مریضوں کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو بھی مئی کے آخر میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ سکتی ہے‘۔

ہرڈ امیونٹی یا اجتماعی مدافعت اس کیفیت کو کہا جارہا ہے جس میں کسی ملک کی آبادی کا کم از کم 60 فیصد کورونا وائرس سے متاثر ہوجائے گا جس کے نتیجے میں معاشرے میں اس وبا کے خلاف شہریوں کی دفاعی صلاحیت مستحکم ہوجائے گی۔ البتہ دنیا کے بیشتر ممالک وائرس کے دوسرے یا تیسرے مرحلے میں اس طریقہ کو اختیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ خیال ہے کہ ان مراحل میں ایک تو وائرس کی شدت کم ہوجائے گی اور وہ پہلے جیسی قوت سے حملہ آور نہیں ہوسکے گا۔ اس دوران  آبادی کے ان طبقات کو محفوظ کرنے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں جنہیں کووڈ۔ 19 سے سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ ان میں عمر رسیدہ افراد کے علاوہ سنگین بیماریوں کا شکار اور معاشرے کے ایسے طبقات شامل ہیں جنہیں طبی اور سماجی سہولتوں میں کمی کا سامنا ہے۔ مغربی ممالک اور امریکہ میں عمر رسیدہ افراد کے علاوہ سیاہ فام آبادی اور تارکین وطن کورونا کا سب سے زیادہ شکار ہوئے ہیں۔ ہرڈامیونٹی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے ان گروہوں کو محفوظ بنانے کے لئے اقدامات پر زور دیا جارہا ہے۔ کوئی بھی ملک محض عمر یا پس منظر کی وجہ سے معاشرے کے کمزور طبقات کو کسی وبا کا شکار بننے کی اجازت نہیں دے سکتا۔

سویڈن دنیا کا واحد ملک ہے جس نے اجتماعی مدافعتی طریقہ اختیار کرنے کے لئے جزوی طور سے اقدام کیا ہے۔ لیکن وہاں بھی حکام نے اسے باقاعدہ پالیسی کے طور پر نہیں اپنایا اور وہاں حکومت اور شعبہ صحت کے ذمہ داروں کو بوڑھوں اور تارکین وطن کو مشکل میں ڈالنے کے الزام کا بھی سامنا ہے۔ سویڈن میں شہریوں کو سماجی دوری کی ذمہ داری کا مشورہ دیا گیا اور بڑے اجتماعات پر پابندی لگاتے ہوئے سماجی سرگرمیوں کو محدود کیا گیا لیکن ساتھ ہی اوسط طریقے سے سماجی اور معاشی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔ سویڈن کی ایک کروڑ کی آبادی میں اب تک 31 ہزار افراد متاثر اور 3800 ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس کے مقابلے میں اس کے ہمسایہ ممالک ناروے اور ڈنمارک نے چند ہفتوں کے لئے سخت لاک ڈاؤن کی حکمت عملی اختیا رکی تھی ۔ ناروے 55 لاکھ آبادی کا ملک ہے لیکن وہاں آٹھ ہزار لوگ اس وائرس سے متاثر ہوئے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 233 رہی۔ 58 لاکھ آبادی کے ڈنمارک میں وائرس سے متاثرین کی تعداد 11 ہزار اور ہلاکتیں 548 رہیں۔

سویڈن کے حکام کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے ہونے والی غلطیوں اور کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہوئے طبی سہولتوں کو بہتر بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ دنیا میں چونکہ سویڈش ماڈل کی باتیں ہورہی ہیں اور کہا جارہا ہے کہ دوسرے مرحلے میں شاید اسی طریقہ کو اختیار کرنا پڑے۔ اس پر سویڈن کے ماہرین کا مؤقف ہے کہ سب ممالک شاید سویڈن کی طرح کورونا کا مقابلہ کرنے کے لئے نرم حکمت عملی اختیار نہیں کرسکتے۔ اس حوالے سے تین اہم وجوہات بیان کی جاتی ہیں:

1)سویڈن کے شہری پڑھے لکھے اور قانون و قواعد کی پابندی کرنے کے عادی ہیں۔ وہاں ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ ہے ا س لئے دی گئی ہدایات پر سوال اٹھانے کی بجائے ان پر عمل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی لئے جب سماجی دوری کا مشورہ دیا گیا تو ریستوران کھلے ہونے کے باوجود وہاں جانے والے لوگوں کی تعداد آدھی رہ گئی۔

2)سویڈن کے شہری عام طور سے صحت مند ہیں اور مختلف بیماریوں کے مقابلے میں ان کی قوت مدافعت بہت بہتر ہے۔ اس لئے آبادی کی کثیر تعداد کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کی بہتر صلاحیت سے مالامال ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں سماجی و طبی سہولتیں بھی مناسب طور سے دستیاب ہیں۔

3) سویڈن اپنے بوڑھوں اور کمزور طبقات کی نگہداشت کرنے اور انہیں فوری علاج کی بہتر سہولت فراہم کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہے۔ اس کے باوجود پہلے مرحلے میں غلطیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے ہلاکتوں اور متاثرین کی تعداد ہمسایہ ملکوں کے مقابلے میں بہت زیادہ رہی۔ دوسرے مرحلے میں اس طریقہ کو اختیار کرنے والے ممالک کو طبی لحاظ سے کمزور طبقات کی مناسب دیکھ بھال کرنے کا اہتمام کرنے کی ضرورت ہے۔

کورونا وائرس کے بارے میں اب تک جو تحقیقات سامنے آئی ہیں ، ان میں صرف عمر رسیدہ افراد ہی اس کا شکار نہیں ہوتے۔ متعدد جوان لوگ اور بچے بھی اس کا شکار ہو کر ہلاک ہوئے ہیں۔ اس بارے میں حتمی اور مکمل تحقیق سامنے آنے میں کئی برس صرف ہوسکتے ہیں۔ اس وقت تک کورونا کے بارے میں کسی بھی وضاحت کو محض ایک رائے کی حیثیت حاصل ہوگی۔ پاکستان سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق ، وہاں کورونا کا شکار ہونے والوں کی اکثریت کی عمر چالیس برس سے کم تھی۔

اس پس منظر میں اگر پاکستان میں ہرڈ امیونٹی کا تجربہ ناگزیر ہوچکا ہے تو ضروری ہے کہ اس کے لئے ٹھوس اور واضح حکمت عملی بنائی جائے۔ صحت کے شعبہ کو کثیر تعداد میں مریضوں کی دیکھ بھال کے لئے تیا رکیا جائے اور حکومت اس بات کا اعلان کرے کہ وہ متاثرین کو ضروری علاج فراہم کرنے اور ان کی دیکھ بھال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ نظام کو تیار کئے بغیر کورونا وائرس کو ’غیر سنجیدہ خطرہ ‘ قرار دینے سے لوگوں کی بڑی تعداد کو موت کے منہ میں دھکیلا جاسکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1624 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply