کرونا اور گلگت بلتستان کی ٹوارزم اکانومی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہار آ گئی، چیری اور خوبانی کے پھولوں سے شاخیں لد گئیں، ہریالی نے جگہ بنالی، برف پگھل گئی اور چشموں اور جھرنوں سے مترنم آوازیں پھوٹنے لگیں لیکن گلگت بلتستان کی حسین وادیاں، نیلگوں پانی والی جھیلیں، سیرگاہیں اور بلندیاں سیاحوں کے قدموں کے چاپ کی منتظر۔ اک سکوت ہے، خاموشی ہے۔ کووڈ 19  نے یک دم دنیا ہی بدل ڈالی اور پورے ملک کی طرح گلگت بلتستان بھی لاک ڈاؤن میں ہے فیض نے کیا خوب کہا تھا کہ

”عجیب رنگ میں اب کے بہار گزری ہے“

کرونا وائرس نے چین کے شہر ووہان سے نکل کر ایک ان دیکھے عفریت کی مانند پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ جہاں اموات میں نہ صرف دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے بلکہ وہیں پہ پوری دنیا کی معیشت بھی سخت دھچکے کھا رہی ہے۔ ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کو تو چھوڑیں ترقی یافتہ ممالک خاص طور پر امریکہ، برطانیہ، اٹلی، چین اور اسپین تک کی اکانومی نہ صرف لڑکھڑا رہی ہے بلکہ معاشی ماہرین کے مطابق لاکھوں افراد بیروزگاری کا شکار ہوں گے کیونکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملازمتیں ختم ہو رہی ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اب تک کئی ٹریلین ڈالر کا خسارہ ہوا ہے اور یہ وبا ہے کہ ختم ہونے کا نام نہی لے رہی۔

پاکستان بھی اس وبا کی چیرہ دستیوں کا شکار ہے گو کہ ابھی اموات کی شرح بہت کم ہے لیکن وائرس سے متاثرہ افراد کی بڑھتی تعداد اور لاک ڈاؤن نے جہاں روزانہ کی بنیاد پر مزدوری کرنے والوں کے منہ سے نوالہ چھینا ہے وہی پر ملکی سطح پر دیگر شعبوں کے طرح سیاحت بھی اپنا دم توڑ رہی ہے۔

سال 2020 کا آغاز تو اچھی خبروں سے ہوا تھا۔ برطانیہ کا میگزین ”Wanderlust“ جو کہ ایک مشہور ٹریول رسالہ ہے، نے دنیا کے بہترین سیاحتی مقامات کی ایک فہرست جاری کی تھی جس میں گلگت بلتستان کے خاص طور پر دیوسائی، ٹرانگو ٹاور و دیگر کچھ جگہوں کو نہایت پرکشش قرار دے کر بین الاقوامی سیاحوں کو پاکستان کا رخ کرنے کی ترغیب دی تھی ساتھ ساتھ پاکستان کو اہم ٹورسٹ مقام کا درجہ دیا گیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی ایک ٹویٹ میں ”وانڈرلسٹ“ میگزین کا حوالہ دیتے ہوئے پورے ملک میں اور خاص طور پر گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ لیے اپنی ترجیحات کا بھی ذکر کیا تھا۔

اسی پر اکتفا نہیں رہا بلکہ امریکی کاروباری میگزین ”فوربز“ جو کہ لاکھوں کی تعداد میں چھپتا ہے اور ہر سال دنیا کے امیر ترین کاروباری اور سیلبریٹیز کی آمدن کی فہرست جاری کرنے کے حوالے سے خاص طور پر مشہور ہے نے بھی گلگت بلتستان کو سیاحوں کے لئے جنت گردانا تھا۔ مزید خوش آئند خبر یہ تھی کہ برطانیہ نے اپنی ٹریول ایڈوائزری میں بھی پاکستان کو سیاحت کے لیے منتخب کیا تھا، یوں امید کی جا رہی تھی کہ 2020 کا سال پاکستان کی سیاحت کے لیے نہایت اہم رہے گا۔

سیاحت کیوں نہ بڑھتی کیونکہ گلگت بلتستان کا سارا کا سارا علاقہ ایڈونچر ٹورازم، کلچرل ٹورازم اور دیگر جیالوجیکل سٹڈیز کے لئے نہایت پرکشش اور منفرد ہے۔ یہاں کے ٹو، ننگا پربت، مشہ بروم اور راکاپوشی جہاں کوہ پیماؤں کو کھلا چیلنج دے رہی ہیں وہیں پر دیوسائی کا دیومالائی میدان، شمشال وچپرسن، راما و داسخرم، باشہ و برالدو، درکوت و پھنڈر، پھوگچ و بوٹ گاہ، چھپروٹ و ہوپر، شنگوشغر و طورمک کی حسین گاؤں اور وادیاں تمام دنیا کے آوارہ گردوں کو دعوت شیراز دے رہی ہیں۔ یہاں کا تعمیراتی ورثہ۔ خپلو پیلس، شوگر فورٹ، کھرپوچو فورٹ، کھرمنگ فورٹ، التت و بلتت فورٹ روایتی طرز تعمیر کی زندگی مثالیں ہیں جن میں سے اکثر کو آغا خان کلچرل سروس پاکستان نے تجدیدی کام کے بعد سیاحوں کے لئے کھول دیا ہے۔

سنٹرل ایشیا، تبت، کشمیر، پامیر اور افغانستان سے سرحدی طور پر منسلک ہونے کی وجہ سے قدیم ایام سے ہی گلگت بلتستان crossroadکی حثیت اختیار کر گیا تھا یوں برٹش انڈیا سے ترکستان و سنٹرل ایشیا اور سلک روٹ پر تجارت کرنے والوں کو یہاں کی سنگلاخ وادیوں سے گزرنا پڑتا تھا۔ اس علاقے کی جغرافیائی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں کی چٹانی تصاویر میں براہمی، خروشتی، تبتی اور چائینز تحریروں کے ساتھ ساتھ پتھروں اور چٹانوں پر حجری، نو حجری اور بعد ازاں بدھ مت دور کے نقش و نگار کندہ ہیں۔

جرمنی کی ہائیڈل برگ یونیورسٹی تقریباً بیس سال سے زائد عرصے سے بھاشا دیامر ڈیم ایریا سے لے کر بلتستان تک مختلف وادیوں میں پھیلے ان نقوش کو ڈاکومینٹ کر رہی ہے۔ مجھے بھی بلتستان کی ریسرچ کے دوران پروفیسر ڈاکٹر ہیرالٹر ہافمین کے ساتھ کچھ کام کرنے کا موقع ملا تھا۔ جرمن یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق گلگت بلتستان میں ہخامشی، ساکا، گندھارا تہذیبوں سے لے کر بدھ مت دور تک کی تحریریں اور مذہبی و سفری تذکرے موجود ہیں یوں گلگت بلتستان کی قدیم تہذیب دنیا بھر کے سکالرز اور ماہرین کے لیے خاص کشش رکھتی ہے۔

ایڈونچر ٹورازم تو کئی عرصے سے جاری تھی لیکن گزشتہ چند سالوں سے ڈومیسٹک ٹورازم بھی بہت پھلنے پھولنے لگی تھی۔ کراچی، فیصل آباد، لاہور، پشاور، ملتان، اسلام آباد سمیت دیگر چھوٹے بڑے شہروں سے اپنے ہم وطن بڑی تعداد میں یہاں کا رخ کرنے لگے تھے۔ اس طرح مقامی سطح پر معیشت فروغ پا رہی تھی۔ کرائے کے لئے گاڑیاں، پورٹر، ٹور آپریٹرز کی خدمات، مقامی پراڈکٹس کی خریداری اور ہوٹل و گیسٹ ہاؤسز کا قیام غرض کہ enterprise کا ایک بڑا موقع ہاتھ آیا تھا جس میں پڑھے لکھے نوجوان آ گے آرہے تھے۔ گو کہ پورے ملک میں قابل اعتماد ڈیٹا بیس موجود نہیں لیکن پھر بھی گلگت بلتستان کی گورنمنٹ کے مطابق گزشتہ چند سالوں سے تقریباً دس لاکھ سے زائد سالانہ ملکی و غیر ملکی سیاحوں نے یہاں کا رخ کیا اور یہ تعداد بڑھ رہی تھی۔

ٹورازم کے فروغ کے لیے کس بھی ملک کی ٹورازم پالیسی نہایت اہم ہوتی ہے جہاں تک گلگت بلتستان کی ٹورازم پالیسی کا تعلق ہے تو شاید بنی بھی ہے کہ نہی۔ سیاحت کے فروغ کے لیے کیمونٹی کو براہ راست شامل کرنا ضروری ہوتا ہے یوں مقامی لوگوں کو مختلف ترغیبات دے کر اور حکومتی سطح پر سہولیات فراہم کر کے کیمونٹی ٹورازم کے ذریعے معاشی خوشحالی لائی جا سکتی ہے۔ ملک کے تمام سفارت خانوں پر بین الاقوامی سیاحوں کے لئے ویزہ اور پرمٹ ون ونڈو آپریشن کے ذریعے فراہم کر کے آسانیاں پیدا کی جاسکتی ہیں۔

کیمونٹی سطح پر شعور و آگہی پیدا کر کے کہ ان کے اردگرد پھیلا ہو یہ خوبصورت لینڈ اسکیپ، جھیلیں، چراگاہیں، پہاڑ، طرز تعمیر یہ سب بیش بہا خزانے ہیں جن کی قدر کرتے ہوئے انہیں مربوط انداز میں اشتراک عمل کے ذریعے کام میں لا کر تنگ دستی کو ختم کرنے کے علاوہ بزنس انٹرپرائز کھڑی کی جاسکتی ہیں۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ماڈل کو بروئے کار لاکر مقامی تہواروں، کھیل تماشوں، موسیقی اور روایتی کھانوں کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ٹورسٹ سپاٹ کی بحالی و بہتری اور منیجمنٹ کی ذمہ واری کے علاوہ راستوں اور گزر گاہوں کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ نیز ٹورازم منیجمنٹ سے منسلک افراد مثلاً ٹور آپریٹرز، ہوٹل اور ہاسپیٹیلٹی منیجمنٹ کی کپیسٹی بلڈنگ کے علاوہ انہیں انٹرسٹ فری قرضے دے کر اس شعبے کو انڈسٹری میں بدلا جاسکتا ہے۔

یہ سب تو بہت ضروری تھا مگر اچانک کرونا نے سب کچھ تلپٹ کر کے رکھ دیا۔ ناصرف بین الاقوامی سیاح آنے سے رہ گئے بلکہ ڈومیسٹک ٹورازم بھی ختم ہوگی۔ اب کیا ہوگا، ہزاروں پورٹر، گائیڈ، سردار بے روزگار اور گھر کے گھر متاثر، ٹور آپریٹرز نے اپنی محنت شاقہ سے وسائل خرچ کر کے جو مارکیٹنگ کی تھی وہ گئی۔ ٹرانسپورٹر اور گاڑی مالکان حیران، جنہوں نے اپنی جمع پونجی سے گیسٹ ہاؤسز بنائے یا کرائے پہ لیے تھے ہاتھ مل رہے ہیں۔ اسے حالات میں کیا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے پاس کوئی پلان ہے؟ کہ کس طرح ان متاثرین کی معاشی بحالی کی جائے اور انہیں ریلیف دیا جائے تاکہ وہ اسی کام کے لئے کمر بستہ رہیں ورنہ تو وہ کاروبار ہی بدل دیں گے تو پھر سیاحت کا کیا ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *