تین عام آدمی۔ تین خاص کہانیاں

روایتی طرز پر بنے آتش دان سے دھوئیں کے مرغولے آٹھ اٹھ کر نہ صرف چمنی سے نکل کر چھت میں بادل کی صورت اختیار کر رہے تھے بلکہ کمرے کو بھی گھیر رہے تھے۔ بیچ بیچ میں شہتوت کی لکڑی کے چٹکنے سے کوئی چنگاری اڑ کر سرخ لکیر سی بنا کر غائب ہو جاتی اور ملگجے اندھیرے میں سبز چائے سڑکنے کی آوازیں وقفے وقفے سے آتی رہتی تھی۔ پھر یک دم آتش دان میں آگ کا جھماکا

Read more

وہ ایک عبوری صوبہ

وہ ایک عبوری صوبہ ۔۔۔ جو کب سے خواب میں ھے 2009 کے صدارتی پیکج کے تحت گلگت بلتستان کو دیا گیا سیلف گورننس امپاورمنٹ آرڈر اب ایک دہائی سے زائد کی عمر گزار چکا ہے۔ گو کہ اس آڈر کے ذریعے ملنے والے اختیارات ہر لحاظ سے دیگر چاروں صوبوں کے اختیارات سے مختلف ہیں اور اس کی بڑی وجہ یہ بتائی گئی کہ گلگت بلتستان  چونکہ آئینی طور پر پاکستان میں شامل نہیں ہے لھذا عبوری انتظام کیا

Read more

ماؤنٹین ہیریٹیج ٹورازم سیاحت کا نیا دریچہ

حالیہ سانحہ مری جس میں بیس کے قریب سیاح برف اور بدانتظامی کے باعث ہلاک ہوئے سے یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ اگر بہتر اور حقیقت پر مبنی منصوبہ بندی نہ کی گی تو سیاحت عذاب جاں بن جاتی ہے۔ اطلاعات اور انکوائری رپورٹ کے مطابق اس غفلت میں کئی اداروں کو ذمہ وار قرار دیا گیا ہے جس سے اداروں کی نام نہاد کارکردگی کی قلعی اتر گئی ہے نیز ٹورازم کے لئے ہماری سنجیدگی

Read more

کتاب کا المیہ

کچھ دن پہلے اپنے کسی کام سے لاہور جانے کا اتفاق ہوا تو مال روڈ پر واقع ماورا پبلشرز جا کر خالد شریف کے پاس حاضری دی۔ خوش قسمتی سے مقبول شاعر محبوب ظفر بھی وہاں موجود تھے۔ دونوں شاعر سکردو آ چکے ہیں اور انہیں لانے کا سہرا میر اسلم سحر کے سر ہے۔ کچھ دیر تک سکردو کی خوبصورتی اور مہمان نوازی پر گفتگو رہی اور پھر دور حاضر میں کتاب بینی کے رجحانات کی طرف موضوع کا

Read more

شینا زبان پر ڈکشنریاں۔ منفرد کاوشیں

اسلام آباد میں قیام کے دوران کچھ منتخب تقریبات میں جانے اور بل المشافہ ملاقاتوں کا اتفاق ہوا جو زیادہ تر کلچر اور ہسٹری سے متعلق تھیں۔ ان میں سے تین کا تذکرہ خاص ہے کیوں کہ تینوں کا تعلق گلگت بلتستان کی زبانوں سے ہے۔ فورم فار لینگویج انیشٹیوز ( FLI) کا ادارہ کافی عرصے سے گلگت بلتستان اور چترال میں بولی جانے والی تمام چھوٹی بڑی بے زبانوں اور ان کے مختلف لہجوں پر ریسرچ، متعلقہ کیمونٹیز کی

Read more

کرونا کے خلاف جدوجہد

کوڈ۔ 19 نے چین کے شہر وہان سے سر کیا اٹھایا کہ پوری دنیا گزشتہ تین سالوں سے لرزہ براندام ہے اور تو اور پوری دنیا کا نہ صرف ہیلتھ سسٹم بیٹھ گیا بلکہ جانی اور مالی نقصان بھی ناقابل برداشت سطح تک پہنچ گیا ہے۔ ترقی پذیر ممالک کو تو چھوڑیں بلکہ مستحکم معیشت والے ممالک بھی بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا نظر آئے۔ ایسے میں جنوبی ایشیاء میں پاکستان جیسا ملک جس کی معیشت پہلے سے زبوں

Read more

راجہ محمد علی شاہ صبا: وہ لوگ بھی بچھڑے جو بچھڑنے کے نہیں تھے

وہی خبر جس کے سننے کی تاب مشکل تھی وہ آ گئی۔ کہ راجہ محمد علی شاہ صبا اس جہان رنگ و بو جس کو واہمہ، عارضی، سراب، ناپائیدار اور نہ جانے کیا کیا کہا گیا ہے سے اس سفر پر جا نکلے جہاں سے کبھی کوئی لوٹ کر نہیں آیا۔ بلتستان کے مشہور شاعر راجہ محب علی خان نے بے ثباتی دنیا کا کیا خوب نقشہ کھینچا ہے ”آخر پو نا عنقا نہ خپیرا سونگسے ستروے سنگ دی دوں

Read more

اگر ہو جذبہ تعمیر زندہ

آغا خان رورل سپورٹ پروگرام گزشتہ تین دہائیوں سے گلگت بلتستان اور چترال میں اپنی بساط کے مطابق دیہی ترقی کے لئے کوشاں ہے۔ اپنے بنیادی مینڈیٹ جس کا تذکرہ اے کے آر اس پی کے پہلے جنرل منیجر جناب شعیب سلطان خان نے کتابThe Aga Khan Rural Support Programme۔ A Journey through Grassroots Development میں کیا ہے کے مطابق ادارہ نے ہز ہائنس آغا خان کے حکم پر تنظیم، ہنر اور بچت کے عنوان سے آغاز کیا۔ لوگوں کو

Read more

سکردو اندھیروں میں۔ کوئی تو خبر لے صاحب

جہاں مہنگائی کے شدید جھکھڑ چل رہے ہیں اور عوام زندگی کی سانسیں برقرار رکھنے کے لئے جاں بلب ہے وہیں پر واپڈا اور پی ڈبلیو ڈی کی مہربانی سے سکردو شہر اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔ سردیوں کا ابھی آغاز ہے اور نومبر کے مہینے سے بجلی عنقا ہوتی چلی جا رہی ہے اور سب لوگ پریشان حال ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں سے رسد و طلب کے بے رحم پنجوں کے بیچوں بیچ عوام کی گردن پھنسی ہوئی ہے

Read more

سکولی شگر۔ ویرانی نہیں دیکھی جاتی

یکم نومبر کی سرد شام کو میں اسکولی میں تھا اور میرے ذہن کے نہاں خانے میں اس گاؤں کے وہ نقوش ابھر رہے تھے جسے یانگ ہسبنڈ، ایرک شپبٹن، لینو لیسیڈلی، رونالڈ میسنر، گیلن راول اور دوسرے متعدد مہم جو حضرات نے تحریر کیے تھے۔ میں خود کئی بار اسکولی آیا ہوں اور دیکھا ہے کہ اس چھوٹے سے گاؤں میں کوہ پیماؤں اور سیاحوں سے لدی پھندی گاڑیاں آ کر رکتی اور قراقرم کے اس آخری گاؤں میں

Read more

بختاور شاہ۔ آزادی گلگت بلتستان کا متوالا

نوکیلی بڑی بڑی مونچھیں، چہرے پر سختی اور آنکھیں لال لال، تصویر دیکھ کر ہی ہیبت طاری ہوجاتی ہے نہ جانے سامنا کرنے والوں پر کیا بیتی ہوگی۔ بختاور شاہ کا تعارف کچھ اور انداز سے ہوا ہے مگر لمحوں میں دنیا بدل گئی اور پھر تاریخ میں اپنا نام رقم کر گئے۔ گلگت میں چھٹی جموں و کشمیر انفینٹری کے شیر دل حریت پسند کرنل مرزا حسن خان، کرنل احسان علی، کیپٹن محمد جرال، لیفٹیننٹ محمد حیدر وغیرہ آزادی

Read more

سکردو میں خود کشی کا رجحانٍ

؎صحت کے بارے میں ہمارا روایتی تصور درست نہیں، ہم اس کو صحت مند سمجھتے ہیں جو بہ ظاہر ہٹا کٹا دکھائی دے اور خوش خوراک ہو۔ مگر حقیقت ایسی نہیں ہے۔ بدنی صحت ایک پہلو ضرور ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ذہنی اور نفسیاتی بالیدگی بھی نہایت اہم ہے ورنہ زندگی کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ بدنی بیماریوں کے لئے تو ہم بڑی تگ و دو کرتے ہیں بڑے سے بڑے ڈاکٹر اور ہسپتال کا انتخاب کرنے میں

Read more

موسمیاتی تبدیلی اور ژے ژے تھنگ گاؤں کی ویرانی

ابراہیم اپنے کھیت کی منڈیر پہ کھڑا ہے اور اس کی نگاہیں دور خلا میں گم ہیں۔ اس کے چہرے پر مہیب ویرانی چھائی ہوئی ہے اور ماتھے کی جھریاں عمر گم گشتہ کی کہانی سنا رہی ہیں۔ وہ ستر کے پیٹے میں ہے اور اس نے اتنی بے بسی پہلے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔ دفعتاً اس نے نگاہیں خلا سے ہٹا دیں اور سامنے پھیلے ہوئے پہاڑی کھیتوں پر ڈالی جو گول گول پتھروں سے بنے ہوئے تھے اور ویران پڑے تھے۔

Read more

گنوخ۔ خالص آرین بستی

( مل مل کھٹو میں رقص جاری ہے، شرکاء اونچی پرسوز آواز میں گا رہے ہیں، کبھی آواز مدہم، کبھی درد انگیز اور کبھی سریلی ہو جاتی ہے، یہ کوئی عام گیت نہیں ہے، قبیلے کی دربدری، زندگی اور موت کا رقص، دیوتاؤں کے ساتھ آبائی وطن سے انخلا اور طویل سفر کی داستان کہی جا رہی ہے۔ لیکن یہ گنوخ کے مل مل کٹھو میں نہیں بلکہ ڈاہ گرکون، ہنو لداخ کے مل مل کٹھو میدان میں ہو رہا

Read more

شنگو شغر۔ مٹتی” درد تہذیب“

روزی مات اب سکردو شہر کی مغرب میں واقع شق تھنگ کالونی میں آباد ہے۔ یہ جگہ ہر گیسہ نالہ جو کہ سدپارہ جھیل کے پانی کی گزرگاہ ہے کے کنارے کنارے موجود ہے جسے زیادہ تر کھرمنگ اور گلتری سے کارگل جنگ کے دوران آئے ہوئے لوگوں نے آباد کیا ہے۔ آبادی نئی ہے اور سہولیات بھی بہت کم ہیں۔ زمین بھی پتھریلی اور دریائی خشت و سنگ سے بنی ہوئی ہے لیکن انسانی ہاتھوں کی محنت نے اس

Read more

محمد حسن ٹیچر اور لائن آف کنٹرول پر قائم سکول کی کہانی

5 اکتوبر کے دن کو عالمی سطح پر ”استاد کا دن“ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں تعلیمی شعبے کو ویسے ہی خاص توجہ حاصل نہیں ہے اس پر مستزاد اساتذہ کو نہ ہی سماجی اور معاشی کوئی خاص مقام حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پڑھے لکھے لوگ استاد کی ملازمت کو آخری ترجیح دیتے ہیں۔ جس کا افسوس ناک نتیجہ یہ نکلا کہ معیار تعلیم بھی وہ نہ رہا جس کا وہ متقاضی ہے۔ ادھر

Read more

دریائے سندھ کی ”آب بیتی“ ۔ ڈاکٹر مظفر انجم کا فنی کمال

پچھلے دنوں ضلع کھرمنگ بلتستان کے آخری گاؤں واژرہ (wachra) جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ گاؤں دریائے سندھ کے بائیں کنارے بلتستان کی طرف سے لائن آف کنٹرول کی سمت آخر میں واقع ہے اور یہیں سے دریائے سندھ پاکستان کی حدود میں داخل ہوتا ہے۔ واژرہ کی دوسری جانب خیبر اور ڈانسر گاؤں موجود ہیں۔ بعد ازاں مرول گاؤں کے پاس دریائے سندھ میں دریائے دراس اور دریائے سورو کارگل کا مشترکہ پانی آ کر شامل ہوجاتا ہے اور کھرمنگ کی وادی میں چٹانوں سے پرشور ٹکراتا ہوا سکردو کی جانب تیزی سے گامزن ہو جاتا ہے۔ کر یس کے مقام پر نوبرا سے آنے والا دریائے شیوک اس سے گلے ملتا ہے اور گرمیوں میں پانی کی سطح اونچی ہوجاتی اور گہرے مٹیالے رنگ میں ڈھل جاتا ہے۔

Read more

کیا بلتستان نے الیکشن میں ”سٹیٹس کو“ توڑ دیا؟

گلگت بلتستان میں ہر جگہ 15 نومبر والے الیکشن زیر بحث ہیں۔ پہلی بار آزاد امیدوار بڑی تعداد میں جیت کر سامنے آئے ہیں۔ باقی اضلاع سے قطع نظر صرف بلتستان ریجن جس کے چار ڈسٹرکٹ ہیں، پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 04 آزاد امیدواروں نے معرکہ سر کر لیا اور پہلی بار اسمبلی کی سیڑھیاں چڑھ گئے ہیں۔ اس کو یار لوگ ”سٹیٹس کو“ کی شکست سے تعبیر کر رہے ہیں۔ آئے دیکھتے ہیں کہ

Read more

گلگت بلتستان الیکشن کے دلچسپ نتائج

15 نومبر کو منعقد ہونے والے گلگت بلتستان کے الیکشن کے نتائج نے سب اندازے، تبصرے اور تجزیے الٹ کر دیے۔ گلگت بلتستان کے الیکشن کے حوالے سے عموماً یہ بات کی جاتی تھی کہ یہاں اس پارٹی کی جیت ہوتی ہے جس کی وفاق میں حکومت ہو۔ یہ بات اس حوالے سے بھی درست تھی کہ 2009 میں گلگت بلتستان کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کی جیت ہوئی اور وفاق میں بھی پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ 2015 کے

Read more

گلگت بلتستان الیکشن: موسیقی، ترانے اور تقریری زبان

جلسے، جلوس، کارنر میٹنگز اور ریلیوں کو انتخابی سیاست کی جان سمجھا جاتا ہے۔ نوے کی دہائی کے بعد تو اس میں ترانے اور موسیقی کا تڑکا بھی لگایا گیا تاکہ عوام کو اور زیادہ راغب کیا جاسکے۔ ملکی سطح پر سنا تھا کہ سیاسی جلسوں میں مجلس احرار کے شورش کاشمیری اور بعد ازاں ذوالفقار علی بھٹو کی تقریریں سامعین کو اپنے سحر میں جکڑ لیا کرتی تھیں۔ خصوصاً بھٹو صاحب کا عوامی انداز خطاب جلسے میں موجود افراد کو جذباتی طور پر اچھلنے پر مجبور کر دیتا تھا۔

پھر آمریت کا دور آیا اور صرف نمائشی اسلام کا لبادہ اوڑھے جنرل ضیا الحق نے ٹی وی سے لے کر فلم انڈسٹری تک کو برقعہ پہنایا تاکہ مذہبی حلقوں میں اپنی واہ واہ ہوں اور اقتدار کو طول ملے۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف آئے ان کی تقریروں کے تو ہم خود شاہد ہیں، اول اول بے نظیر بھٹو کی اردو کمزور تھی اس لئے اپنا موقف جامع انداز میں بیان کرنا مشکل ہو رہا تھا، انگلش میڈیم میں ابتدائی تعلیم اور پھر آکسفورڈ یونیورسٹی کی پڑھائی اردو بولنے میں مخل تھی۔ لیکن بعد ازاں انہوں نے لب و لہجہ میں گرفت حاصل کر لیا اور جلسوں میں گھنٹوں خطاب کر لیتی تھی۔ نواز شریف چونکہ پنجاب سے ہیں اور تعلیم بھی ملک میں ہی حاصل کی ہے لہذا اردو بولنا مشکل نہیں تھا مگر تقریروں میں کبھی عوامی انداز در نہیں آیا۔

Read more

گلگت بلتستان الیکشن۔ خواتین کی آواز کتنی شامل ہوگی

گو کہ ملک کا آئین اس بات کی ضرور گارنٹی دیتا ہے کہ ریاست کے ہر شہری کو انتخابات میں آزادی سے حصہ لینے اور ووٹ دینے کا مکمل حق حاصل ہے مگر عملاً ایسا دکھائی نہیں دیتا ہے۔ رائے دہی کے استعمال میں کئی رکاوٹیں حائل ہیں ان سے صرف نظر کرتے ہوئے صرف ملکی سطح کی فیصلہ سازی میں خواتین کے حصہ پر نظر ڈالی جائے تو صورتحال کوئی حوصلہ افزا نہیں ہے۔ 1956 سے لے کر 1972

Read more

گلگت بلتستان الیکشن۔ مذہبی جماعتیں کس موڑ پر ہیں؟

یوں تو ملک بھر میں مذہبی جماعتوں کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود ہے۔ ان جماعتوں نے اخلاقی بالیدگی، اصلاح معاشرہ کے ساتھ ساتھ سیاست کو بھی اپنے دائرہ کار میں شامل کیا ہے اور ملک میں رائج مغربی طرز جمہوریت میں اپنی من پسند تعبیر کے تحت الیکشنز میں حصہ لیتی رہی ہیں۔ اس سلسلے میں جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کا نام سر فہرست ہے۔ جماعت اسلامی کے بانی سید مودودی صاحب نے تو باقاعدہ اسلامی ریاست

Read more

سید جعفر شاہ: سیاست میں وضع داری اور شرافت کی روشن علامت

سائل نے ہاتھ بڑھا کر فیس حوالے کر دی۔ بغیر گنے رقم جیب میں ڈال دی، تو سائل نے ہچکچاہٹ کے ساتھ کے ساتھ رقم کم ہونے کا اعتراف کیا۔ شاہ صاحب ہنسے اور کہا کہ آج تک ہم نے کسی سے نہ فیس کا تقاضا کیا اور نا ہی کبھی پوری فیس ملی، جو ملا اسی پہ اکتفا کیا۔ میں حیران ہوا کہ اتنا بڑا وکیل اور اتنی درویشی۔ یہ غالباً 1999ء کی بات ہے، جب میں اپنے چچا، ممتاز کاروباری اور سماجی شخصیت حاجی محمد اکبر خان کے ساتھ شاہ صاحب کے نگرل میں واقع لیگل چیمبر میں موجود تھا اور سید جعفر شاہ صاحب سے پہلا پہلا بالمشافہ تعارف تھا۔

ان کی ذات کے حوالے سے بہت کچھ سن رکھا تھا۔ ہمارے خاندان کے بیش تر افراد کا شاہ صاحب سے قریبی خاندانی تعلقات اور نیاز مندی کا رشتہ رہا ہے۔ ان عزیزوں میں خاص طور پر حاجی محمد اکبر خان کے ذریعے شاہ صاحب کا غائبانہ تعارف اور ان کی شخصیت کے کئی پہلو سے آگہی حاصل تھی اور پھر 1999ء میں ان کے دفتر میں ملاقات ہوئی اور پھر ہمیشہ کے لئے ان کے گرویدہ ہوئے۔

Read more

گلگت بلتستان الیکشن: پارٹی بدلنے کا رجحان

گلگت بلتستان کے 15 نومبر کو ہونے والے الیکشن کے لئے، تمام وفاقی جماعتوں نے اپنے اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا۔ یوں سیاسی میدان میں اب خوب میلہ جمے گا۔ ٹکٹوں کے اعلان سے پہلے یوں لگ رہا تھا کہ سیاسی جماعتیں اب شاید پاور پالیٹکس سے تائب ہو گئیں ہیں اور الیکشن میں حقیقی اور مخلص کارکنوں کو بطور امیدوار سامنے لائیں گی۔ لیکن وہ سیاست ہی کیا جس میں کوئی سیاست نہ ہو۔

گلگت بلتستان کے پارٹی بنیادوں پر الیکشن کی تاریخ پر اگر نگاہ ڈالی جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں عموماً اس پارٹی کی حکومت بنتی ہے یا بنا دی جاتی ہے، جو وفاق میں صاحب اقتدار ہو۔ اس ضمن میں ملکی سطح کے سیاسی تجزیہ نگاروں اور الیکشن کے امور کے ماہرین کا بغیر کسی تردد کے یہ تجزیہ رہتا ہے کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے الیکشن میں کوئی خاص بات نہیں ہوتی ہے، بلکہ وہی ہوتا ہے جو وفاق چاہتا ہے۔ اگر ہم 2009ء سے لے کر 15 نومبر کے متوقع الیکشن تک کے ٹکٹوں کی تقسیم اور پارٹی بدلنے کے رجحان پر نظر ڈالیں، تو تجزیہ نگاروں کی بات درست لگتی ہے۔

Read more

گلگت بلتستان صوبہ۔۔۔۔ عبوری، آئینی، مشروط یا کچھ اور؟

گلگت بلتستان کے الیکشن قریب ہیں اور ایسے میں وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان گنڈاپور کے بیان پر کہ تحریک انصاف کی حکومت نے گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے، رکی ہوئی بحث پھر سے چھیڑ دی ہے۔ لوگوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ یہ بیان بھی الیکشن کو جیتنے کے لیے ایک سلوگن کے طور پر استعمال کیا جائے گا جیسے کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔ گلگت بلتستان کی عوام نے

Read more

گلگت بلتستان الیکشن: کیا کسی پارٹی کے پاس منشور بھی ہے؟

وہ زمانے لد گئے جب سیاسی جماعتوں کی لیڈرشپ ایک طویل جدوجہد کے بعد اس قابل ہوتی تھیں کہ زمام کار سنبھالے ابھی تو نو دولتیے اور موقع پرست ہی اقتدار کے فوائد سمیٹ رہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے ارتقاء اور مقبولیت میں صرف خالی خولی نعرے نہی ہوتے بلکہ مستقبل کی باقاعدہ منصوبہ بندی ہوتی ہے، جس کا خمیر عوام کی سماجی، معاشی اور سیاسی ترقی کے عنوان سے اٹھایا جاتا تھا۔ اس ضمن میں منشور خشت اول کا

Read more

بچوں پر بڑھتا جنسی تشدد اور معاشرتی رویہ

پاکستان میں جنسی تشدد کے واقعات تواتر سے وقوع پذیر ہو رہے ہیں تاہم اس سلسلے میں نہ تو سکول اور کالج کی سطح پر کوئی تعلیم دی جارہی ہے اور نہ ہی مدرسہ کی سطح پر کوئی تدارک کا رحجان ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم اس طرح کے اہم معاشرتی مسائل سے کنی کتراتے ہیں اور بقول شخصے اگر کوئی ایسا واقع ہو بھی تو کچرے کو قالین کے نیچے چھپا دیتے ہیں۔ اس روش کا بڑا

Read more

گلگت بلتستان الیکشن اور سیاسی ہجرت کا رحجان

کسی ایک آئیڈیالوجی کو تھامے رکھنا اور اسی کے اندر رہ کر سیاسی جدوجہد کرنے کی پاکستان میں تاریخ کچھ شاندار نہی۔ گو کہ اس ملک کا قیام ایک سیاسی جد وجہد کا نتیجہ تھا مگر بانی پاکستان کی رحلت کے بعد عنان اقتدار زیادہ تر طالع آزماؤں کے ہاتھ رہا اور انھوں نے سیاست کی پنیری میں اپنی پسند اور مرضی کے سیاست دان اگائے۔ اس طرح ایک دور ادوار کو چھوڑ کر پاکستان کی مجموعی سیاسی صورتحال ایک

Read more

گلگت بلتستان نگران حکومت۔۔۔ توقعات اور امتحان

2009 ء کا آڈر نافذ ہونے کے بعد سے اب تک گلگت بلتستان کی دوسری حکومت اپنا مدت پورا کرنے کے بعد گھر سدھار گئی ہے۔ اس حکومت کے اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں پر بحث اور تجزیے ابھی جاری ہے اور اگلا الیکشن بتائے گا کہ عوام کی اکثریت انہے کیا مقام دیتی ہے۔ 28 جون 2020 ء کو نئے نگران وزیر اعلیٰ اور اس کی کابینہ کا انتخاب مکمل ہوا اور اس پر سوشل میڈیا اور چوپالوں میں گفتگو

Read more

بنات گل آفریدی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تجھ سا کہاں ڈھونڈیں

بنات گل آفریدی سے پہلا تعارف ڈگری کالج سکردو کے توسط سے ہوا کیونکہ کالج بلڈنگ کی مرکزی انٹرنس کے اوپر سنگ مرمر کی مٹیالی سی تختی پر ان کا نام کندہ ہے کہ سکردو میں کالج کی بنیاد انھوں نے رکھی تھی۔ بعد ازاں کالج کی لائبریری میں جب شوق کے ہاتھوں کتابوں کے شیلف کو الٹ پلٹ کرتے رہے تو ایک کتاب ہاتھ لگی ”Baltistan in History“ تو معلوم ہوا کہ اس کی مصنف بھی بنات گل آفریدی ہیں یہ ان سے دوسرا تعارف تھا۔

انگریزوں نے جب گلگت بلتستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا شروع کیا تو پہلے پہل گلگت میں 1889 ء میں گلگت ایجنسی کا باقاعدہ قیام عمل میں لایا اور وہاں پر پولیٹیکل ایجنٹ متعین کیے جو زیادہ تر انگریز ہی تھے۔ بلتستان، کارگل اور لداخ چونکہ اس پولیٹیکل ایجنسی سے باہر کی حدود میں تھے لہذا ان علاقوں میں وزیر وزارت کے ذریعے انتظامی کام چلایا جاتا رہا۔ 1947 / 48 ء کی جنگ آزادی کے بعد جب گلگت بلتستان کا انتظام و انصرام حکومت پاکستان نے سنبھال لیا تو گلگت میں ریزیڈنٹ اور بلتستان میں اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ متعین ہوا جن کے پاس تمام انتظامی اور عدالتی اختیارات ہوتے تھے۔

Read more

گلگت بلتستان کی انتخابی سیاست کا مذہبی بیانیہ

غالباً ایک ہفتے بعد گلگت بلتستان کی صوبائی اسمبلی اپنی مدت پوری کر کے رخصت ہو رہی ہے لہذا نگران سیٹ اپ کا غلغلہ بلند سے بلند ہوتا جا رہا ہے۔ نگران وزیر اعلیٰ اور کابینہ کے لئے سوشل میڈیا میں ایک ریس جاری ہے کوئی لکھ رہا ہے کہ فلاں صاحب میں تمام اوصاف حمیدہ پائے جاتے ہیں جو کہ ایک شفاف منتظم کے لئے درکار ہے تو کوئی ہا ہا کار مچا رہا ہے کہ فلاں صاحب تو

Read more

فدا محمد ناشاد اور مرثیہ نگاری

” متاع فکر“ میرے ہاتھوں میں ہے اور میں اس میں گم ہوں۔ مرثیہ ہے ”مدینہ سے کربلا تک“ مسدس کا وھی کرافٹ، الفاظ کے چناؤ میں وھی شائستگی اور احتیاط، عقیدت کا وھی انداز، وھی حفظ مراتب کا خیال جو کلاسیکل شعراء کے ہاں مستعمل ہیں اور پھر کربلا کی وھی دردناک داستان جس کے پڑھنے سے جگر لخت لخت ہو جاتا ہے۔ اردو میں لکھے گئے اس مرثیے میں سلاست، طرزبیاں اور فکری روایت مجھے میر ببر علی

Read more

مستنصر حسین تارڑ۔۔۔ تمھارا قرض کس طرح چکائیں

سوشل میڈیا پر ایک کلپ نظروں سے گزرا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کا منعقدہ لٹریری فیسٹیول 2014 ہے، سٹیج پر گلگت بلتستان کے رائٹر اور شاعر براجمان ہیں جبکہ آمنہ سید جو کہ ڈائریکٹر ہیں آکسفورڈ پریس کی وہ بھی ساتھ ہیں۔ لیکن خاص بات یہ ہے کہ نیچے سامعین میں پچھلی بینچوں سے ایک شخص جس کے برف کے گالوں کی طرح سفید بال ہیں، بڑی بڑی غلافی آنکھیں جن کے ارد گرد اب جھریوں نے مکڑی کے جالے بنائے

Read more

کرونا اور گلگت بلتستان کی ٹوارزم اکانومی

بہار آ گئی، چیری اور خوبانی کے پھولوں سے شاخیں لد گئیں، ہریالی نے جگہ بنالی، برف پگھل گئی اور چشموں اور جھرنوں سے مترنم آوازیں پھوٹنے لگیں لیکن گلگت بلتستان کی حسین وادیاں، نیلگوں پانی والی جھیلیں، سیرگاہیں اور بلندیاں سیاحوں کے قدموں کے چاپ کی منتظر۔ اک سکوت ہے، خاموشی ہے۔ کووڈ 19  نے یک دم دنیا ہی بدل ڈالی اور پورے ملک کی طرح گلگت بلتستان بھی لاک ڈاؤن میں ہے فیض نے کیا خوب کہا تھا کہ

”عجیب رنگ میں اب کے بہار گزری ہے“

Read more

گلگت بلتستان الیکشن، سپریم کورٹ کا فیصلہ اور انڈیا

گو کہ اس وقت پورا ملک ”کورونا“ کی وجہ سے لاک ڈاؤن میں ہے اور ساری نظریں ڈیش بورڈ پر لگی ہیں وہیں پر سیاسی اور معاشی معاملات بھی پس منظر میں چلے گئے ہیں لیکن سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک فیصلے نے پاکستان اور انڈیا کو سفارتی محاذ میں آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ معاملہ ہے گلگت بلتستان کے ہونے والے الیکشن۔ تفصیل یوں ہے کے وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے اپیل کی تھی کہ چونکہ گلگت بلتستان کے الیکشن متوقع ہیں اسمبلی کی میعاد جون کو ختم ہو رہی ہے اور نگران سیٹ اپ کے لئے کوئی طریقہ کار موجود نہیں لہذا گورننس آرڈر 2018 میں ترمیم کی اجازت دی جائے تاکہ نگران حکومت کا قیام عمل میں لایا جاسکے۔

Read more

طلباء کا مستقبل برائے فروخت۔۔۔۔۔ 16 روپے فی کلوگرام

وقتاً فوقتاً اخبارات اور دیگر میڈیا میں خبریں آتی رہتی ہیں کہ اندرون سندھ، رورل پنجاب اور بلوچستان کے پس ماندہ علاقوں میں سرکاری سکولوں کی عمارتوں پر وڈیروں، سرداروں اور نوابوں نے جانوروں کے باڑے بنا رکھے ہیں۔ کبھی یہ خبریں بھی گرم تھیں کہ ملک بھر میں ہزاروں ”گھوسٹ سکول‘‘ کاغذات کی حد تک موجود ہیں تو ہمیں حیرت ہوتی تھی کی کیا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ملک کے مستقبل کے ساتھ اس طرح کا سلوک ہو۔

Read more

رضا علی عابدی , بی بی سی, اسکردو

اب کی بار 30سال بعد 2018میں رضا علی عابدی سکردو آئے تو بہت کچھ بدل چکا تھا۔ معاشی حالت، تعلیمی ماحول اور معاشرتی قدریں۔ نئی سڑک بن رہی ہے۔ شہر میں کسٹم کے بغیر ملنے والی نئی نکور گاڑیوں کی بہتات ضرور ہے لیکن چلانے کے لئے نہ سڑکیں ہیں اور نہ پارکنگ کا انتظام، بنک، دفاتر، سکول، کالج، یونیورسٹی، شاپنگ سنٹر اور ہوٹل کیا کیا غم روزگار نے نہیں دیا ہے اور پھر اخبارات، ٹی وی، کیبل، انٹرنیٹ اور

Read more

دیامر کے پہاڑوں سے ابھرتا فتنہ

ان دنوں گلگت بلتستان عالمی میڈیا اور ملکی خبروں کی مسلسل ہیڈ لائن میں ہے۔ یہ نام گلگت بلتستان کے قدرتی حُسن اور سیاحوں کے لئے جنت کے حوالے نہیں بلکہ دیامر میں شدت پسندوں کی جانب سے برپا فتنہ کی وجہ سے ہے جس کے تحت 12سے زائد لڑکیوں کے سکول جلا دیے گئے ہیں۔ دلیل وہی طالبان کی آئیڈیالوجی کہ لڑکیوں کی تعلیم حرام ہے۔ کہانی بہت دراز ہے دیامر کے واقعہ کو سمجھنے کے لیے امریکہ کی

Read more