علامہ اقبالؒ نے کس کی فرمائش پر عید پر شعر لکھے تھے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علامہ اقبال وہ خوش قسمت تخلیق کار ہیں جن کی زندگی کا تخلیقی سفر تقریباً چالیس برس پر محیط ہے۔ اقبالؒ کے بارے میں یہ خیال کرنا کہ وہ باقاعدہ پیشہ ور شاعر تھے یا اپنے اردگرد شاگردوں کا ایک ہجوم دیکھنا چاہتے تھے درست نہیں ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے مفکرین نے بنی نوع انسان کو اپنا پیغام شاعری کے ذریعے پہنچایا ہے، اسی وجہ سے اقبالؒ نے بھی اپنے پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے شاعری کو ہی وسیلہ اظہار بنایا ہے۔ اقبالؒ کی آنکھیں خاک مدینہ و نجف کے سرمے سے مزین تھیں۔ ان کی آنکھوں میں بڑے بڑے تاجوروں کے چمکتے دمکتے تاجوں کی کوئی حیثیت نہیں تھی، نہ وہ فرمائش پر شعر کہتے تھے اور نہ ہی ان کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ مشاعروں میں جا کر محض داد کو سمیٹا جائے۔ بانگ درا کے آخری دور میں شامل ایک نظم جس کا عنوان :

”عید پر شعر لکھنے کی فرمائش کے جواب میں“ ہے۔ اس کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں ہمارے درمیان پائی جاتی ہیں، اس پر بے شمار لوگوں نے خامہ فرسائی کی ہے اور مختلف من گھڑت دیو مالائی کہانیاں گھڑی ہیں۔ کسی نے لکھا ہے کہ یہ نظم عطیہ فیضی کے کہنے پر لکھی گئی ہے تو کسی نے اسے کسی اور سے منسوب کیا ہے۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں سننے کو ملتی ہیں۔ یہ چھوٹی سی نظم دراصل مسلمانوں کے زوال کا ایک پر تاثیر مرثیہ ہے۔
خزاں میں مجھ کو رلاتی ہے یاد فصل بہار
خوشی ہو عید کی کیونکر کہ سوگوار ہوں میں

اقبال نے یہ نظم کب اور کس کی فرمائش پر لکھی یہ ایک معمہ ہی بنا رہا۔ اس لیے کہ اقبالؒ فرمائشوں پر بہت کم توجہ دیتے تھے۔ وہ شخص کتنا خوش بخت ہو گا کہ جس کی فرمائش پر علامہ نے یہ نظم لکھی ہو گی۔ حقیقت احوال یہ ہے کہ یہ نظم علامہ اقبالؒ نے بدایوں کے مولوی نظام الدین حسین نظامی مدیر ہفتہ وار ذوالقرنین کی فرمائش پر لکھی تھی۔ مولوی نظام الدین حسین بدایونی نے اگست 1915 ء میں عید الفطر کے موقع پر اپنے ہاں عید ملن کی تقریب کا اہتمام کیا جس میں ایک مشاعرہ بھی کروایا کیا گیا تھا۔ اس مشاعرے کے لیے یہ ”طرح“ تجویز کی گئی تھی،

”اے دل پر داغ بیتابی سے کچھ حاصل نہیں“

اس مشاعرے کی صدارت بدایوں کے ہی ایک شاعر سید محفوظ علی علیگ نے کی تھی مقامی شعرا کے علاوہ باہر سے بھی چند بزرگ شعرا کو دعوت دی گئی تھی جن میں اکبر الہ آبادی اور علامہ اقبالؒ کو خاص طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ ان دونوں شعراء نے اپنی اپنی مجبوریوں کے تحت مشاعرے میں شریک نہ ہونے کا عذر پیش کیا تھا، البتہ اپنی اپنی نظمیں بھیج دی تھیں۔ جو خاص عید کے موضوع پر مولوی نظامی کی فرمائش کے جواب میں تھیں۔ یہ نظمیں مذکورہ مشاعرے میں پڑھنے کے بعد 21۔ اگست 1915 ءکے ہفت روزہ ”ذوالقرنین“ میں پوری روداد کے ساتھ شائع کی ہوئی تھیں۔ ”ذوالقرنین“ کی روداد میں یہ درج ہے کہ:

”اس مشاعرے میں علامہ اقبالؒ اور اکبر الہ آبادی کو بھی دعوت دی گئی تھی مگر وہ شرکت نہ کر سکے اور ان کے قطعات ڈاک سے وصول ہوئے تھے۔ جو اس اشاعت (“ ذوالقرنین 21۔ اگست 1915 ء میں شائع کیے جاتے ہیں۔

اصل میں یہ پہلی عالمی جنگ کا زمانہ تھا، ترکی اور دیگر اسلامی ریاستیں آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں تھیں۔ مسلمان اپنے بھائیوں کی اس بربادی پر نوحہ کناں تھے۔ اقبالؒ کا دل بھی خون کے آنسو رو رہا تھا۔ اس لیے اس نظم میں ان کے دلی جذبات کی ترجمانی بھی ملتی ہے۔ شروع میں اس نظم کے آٹھ اشعار تھے بانگ درا کی اشاعت کے وقت اس کے دو شعر متروک کر دیے گے ایک میں فرمائش کرنے والے کا نام بھی درج تھا جب وہ شعر متروک ہو گیا تو اس کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہوئیں اگر یہ شعر نظم میں شامل رہتا تو شاید اتنی غلط فہمیاں پیدا نہ ہوتیں۔

مجھے قسم ہے نظامی! مدینے والے کی
ہمیشہ ماتم ملت میں اشک بار ہوں میں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply