ساری مردانگی بیوی پر ہی نکلتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مردانگی کا لغوی معنی بہادری ہے۔ بہادری ایک صفت ہے جس کا تعلق ہر بہادر انسان سے ہے۔ انسان کی تعریف پر مرد و زن دونوں پورے اترتے ہیں لہذا اصولا مردانگی کا تعلق کا بھی مرد و زن دونوں سے ہونا چاہیے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں اس کو صرف مرد کی میراث سمجھا جاتا ہے۔ عورت کے ساتھ مردانگی کا تصور بھی گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم عورت کو انسان کا درجہ نہیں دیتے۔ اسے ایک کم تر مخلوق سمجھتے ہیں۔ عملاً بھی دیکھا جائے تو ایسا ہی ہے۔ مرد چاہے کسی بھی نوع کا کیوں نہ ہو، پڑھا لکھا، ان پڑھ، مذہبی سوچ رکھنے والا یا پھر آزاد خیال، جہاں معاملہ عورت کا آتا ہے وہاں مرد ایک اکائی بن جاتا ہے۔

چلیں ہم اس معاملے کی تفصیل میں نہیں جاتے، اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ مردانگی۔

جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوچکا کہ مردانگی کا لغوی معنی بہادری ہے اور ہمارے معاشرے میں اسے مرد کی میراث سمجھا جاتا ہے تو ہم کچھ دیر کے لیے اسی نظریے کو مان لیتے ہیں کہ مردانگی صرف مرد میں پائی جاتی ہے کیونکہ بہادری کے سارے کارنامے مرد ہی سرانجام دیتا ہے۔

لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟
کیا واقعی مرد بہادر ہوتا ہے؟
آئیے اس نظرئیے کو عملی مثالوں سے سمجھتے ہیں۔

مرد سارا دن دفتری امور میں سر کھپا کر تھکا ہارا گھر واپس پہنچا۔ دفتر، جہاں ہر گھنٹے بعد باس کی جھڑکیاں سننے کو ملیں۔ ذرا ذرا سی بات پر باس نے فائل اٹھا کر اس کے سامنے پھینکی۔ قدم قدم پر انا کو ٹھیس پہنچی۔ واپسی پر ٹریفک کا بے ہنگم رش۔ گاڑیوں کے ہارن، دھواں وغیرہ کیا نہیں تھا جس نے اس بیچارے مرد کا حال، بے حال نہ کر دیا ہو۔

جب وہ بیچارا گھر پہنچا، تو پہلی ہی کال بیل پر بیوی لپک کر دروازہ نہ کھول سکی۔ اسے کچھ دیر دروازہ کھلنے کا انتظار کرنا پڑا۔ جب دروازہ کھلا تو ایک لمبا سانس کھینچ کر وہ اپنے غصے کا اظہار کرتا ہے اور پھر بات بے بات بیوی پر برس پڑتا ہے۔ آخر اسے بھی تو اپنا غصہ کسی پر نکالنا ہے۔ اپنی ٹھیس زدہ انا کو کہیں تو تسکین پہنچانی ہے۔ اپنی مردانگی کہیں تو دکھانی ہے۔ دفتر میں تو مردانگی کا مظاہرہ کرنے سے رہا کہ مقابل میں طاقتور باس ہے۔ ہاں یہاں تسکین کے سارے سامان موجود ہیں کہ مقابل میں بیوی جو ہے۔ تابع فرمان بیوی۔ سو دل کھول کر اپنی مردانگی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔

اب ذرا انصاف کیجیے کہ کیا واقعی ایک مرد کی شان اسی میں ہے۔ یا پھر اس کی شان بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے طاقتور منفی جذبوں کو شکست دینے میں ہے۔ وہ طاقتور جذبے کون سے ہیں۔ انا، غصہ اور شیطان۔

پھر مردانگی کیا ہوئی؟ اپنے ان جذبات کو لگام ڈالنا یا انہیں بے لگام چھوڑ کر کمزور مقابل پر چڑھ دوڑنا؟
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
مطلوب الرسول قمر کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *