میں (بھی) کرنل کی بیوی ہوں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

‘میں کرنل کی بیوی ہوں’ نامی وائرل ہوتا وڈیو کلپ دیکھ کے دل اندر ہی اندر کلس رہا ہے۔ رہے نا ہم پھسڈی کے پھسڈی! مشہور ہونے کا ایک اور موقع گنوا دیا۔ گھر میں ایک چھوڑ، تین تین کرنل موجود اور ہم اس طنطنے سے بات کرنا سیکھ ہی نہ سکے کہ آج ہماری بھی وڈیو وائرل ہوتی اور ہم لاکھوں سکرینز پہ جلوہ فگن ہوتے۔ اب دل چاہ رہا ہے کہ لہرا لہرا کے گائیں،

میں کرنل کی بیٹی ہوں، میں کرنل کی بہن ہوں، میں کرنل کی بیوی ہوں.

دیکھیے اب آپ سے ہم امید رکھتے ہیں کہ ایسی ٹھسے والی وڈیو شئیر ضرور کیجیے گا جس میں تین کرنل موجود ہوں۔ آپ جانتے تو ہیں کہ وطن عزیز میں دو طرح ہی کی تو خواتین بستی ہیں، پہلی کرنلوں کی قرابت دار اور دوسری ہما شما۔ اب اس بہتی گنگا میں ہاتھ نہ دھونا تو زیادتی ہو گی نا جہاں ہم قسمت کی مہربانی سے آ بیٹھے ہیں۔

ویسے یہ کرنیلی والے پھول ہمارے کندھوں پہ بھی سج سکتے تھے۔ لیکن ٹوٹی کہاں کمند کے مصداق ایک تو زبان کو بے وقت جنبش کا شوق فراواں تھا اور کچھ منہ در منہ حساب بے باق کرنے کا شوق بہت تھا۔ انجم رومانی یاد آ گئے۔

اوروں سے کچھ زیادہ روانی زباں میں تھی

سمجھے کہ ہم کو مسند ارشاد مل گئی

ہمیں خوب یاد ہے ہمارے بچپن میں جو استانی ہمیں تقریری مقابلوں میں حصہ لینے کی تیاری کروایا کرتی تھیں ان کی زندگی کسی کرنل کی بیوی بننے کے خواب کے گرد گھومتی تھی۔ ان کا زور اور تو کہیں نہ چلتا، بس ہماری ہر تقریر میں ایک شعر ضرور فٹ کر دیتیں،

محبت مجھے ان جوانوں سے ہے

ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

ایک تو یہ کہ استاد کا مرتبہ مانع سوال تھا اور دوسرے یہ کہ ہمیں معلوم نہیں تھا کمند ایک ستارے پر ڈالی جائے، دو پر یا چار پر، مآل سوز غم ہائے نہانی شعیب بن عزیز نے لکھ رکھا ہے

بکھر جائے گا ان گلیوں میں نیلے کانچ کی صورت
یہ زعم ِ آسماں سارا ستارے ٹوٹنے تک ہے

سچ پوچھیے تو اس تناظر میں کرنل کی بیوی کا ایسا خاص قصور بھی نہیں۔ کرنیل کی بیوی ہونا ایسا اعزاز ہے جو ہر راہ چلتی کے حصے میں تو نہیں آیا کرتا نا۔ نور جہاں نے بھی تو کچھ اعلیٰ حضرت شاعروں کے ساتھ مل کے اپنی سریلی آواز میں ایسے گیت سنائے کہ قوم کی لڑکیوں کی آنکھوں میں جو خواب بسے، ان کے ہیرو صرف کرنیل یا جرنیل ہی ہو سکتے تھے،

 میرا ماہی چھیل چھبیلا، کرنیل نی، جرنیل نی

اب بتائیے, اب اگر اس گیت میں کرنیل کی جگہ ماہی ڈاکٹر ہو جاتا یا انجنیئر ہو جاتا تو بھلا کیا لطف آتا۔ نہ نور جہاں لہک لہک کے گا سکتیں اور نہ وہ خاتون بار بار کہہ سکتیں ” میں کرنل کی بیوی ہوں “۔ ٹریفک پولیس کو کرنیل کی بیوی ہونے کے ناتے آنکھیں دکھانے میں جو مزا ہے وہ “میں ڈاکٹر کی بیوی ہوں” کہنے میں کہاں؟

وہ گیت “اے وطن کے سجیلے جوانو، میرے نغمے تمہارے لئے ہیں” تو یاد ہی ہو گا۔ اگر نور جہاں ان جوانوں کے تذکرے سے شہرت کما سکتی ہیں تو ان سجیلے حضرت کی بیگم زمین پہ پاؤں کیوں دھریں؟ چلا چلا کے کیوں نہ کہیں کہ نور جہاں جن کا دم بھرتی رہیں، میں اسی کرنل کی بیوی ہوں۔

کچھ نور جہاں نے رستوں میں پھول بچھائے تھے، رہی سہی کسر ڈرامہ سیریلز “سنہرے دن” اور”الفا براوو چارلی” نے پوری کر دی۔ ان پرنس چارمنگز کے ساتھ زندگی بسر کرنے والیاں کیوں ہر طرف سے یہ کہتی ہوئی نہ گزریں، ” ہٹو بچو، رستہ چھوڑو، مابدولت کی سواری باد بہاری آتی ہے”۔ چھوڑیے، وہ دن تو گزر گئے، اب ہم ڈرامے کے “عہد خلیل الرحمن قمر” میں زندہ ہیں۔ شاعرہ نے کیا خوب کہا،

میں باز آئی تری بدعہدیوں سے

ترے کوچے کے کوؤں، قمریوں سے

مسئلہ ایک اور بھی ہے! کرنیل کی بیوی ہونے کے ناطے سے انہیں انکار سننے کی نہ عادت ہے اور نہ ہی کرنیلی کا کلچر اس کا روادار ہوتا ہے!  معلوم ہوتا ہے کرنل صاحب کی بیوی اپنے شوہر نامدار سے بیعت ہیں۔ اعلیٰ حضرت بھی کچھ عرصہ پہلے سی گاڑی سے بنکارتے سنائی دیے تھے۔ شوہر بے درنگ ہیں اور بیوی دھانسو۔ بےچارہ پولیس کا صوبیدار صاحب کیا بیچتا ہے۔

میں نہیں مانتی، میں نہیں جانتی

کسی قانون کو، کسی تہذیب کو

یہ قواعد و ضوابط، یہ رکاوٹیں

میں نہیں مانتی، میں نہیں جانتی

ایسا محسوس ہوتا ہے گالم گلوچ کرتی، رکاوٹوں کو اٹھا اٹھا پھینکتی، پولیس پہ گاڑی چڑھانے کی دھمکی دیتی کرنل کی بیوی کو تاریخ کے ایک کردار سے بے انتہا غائبانہ عقیدت ہے۔چونکہ وہ کردار اپنے اوپر اوڑھے پھرتی ہیں سو اصل میں تو وہ کہنا چاہتی تھیں، ” میں پھولن دیوی ہوں” ۔ لیکن کہہ نہ سکیں کہ شاید ایسی صورت میں پولیس فیصلہ کرنے میں ایک پل بھی نہ لگاتی۔ پاکستان میں پولیس کی نوکری فیض کے شعر سے جا ملی ہے۔

اک ہتھیلی پہ حنا ایک ہتھیلی پہ لہو

اک نظر زہر لیے ایک نظر میں دارو

ساہیوال میں چار بے گناہوں کا قتل ناحق اور نوشہرہ چھاؤنی میں حنا بندی۔ لاہور جیل سے قیدی خاتون کی ویڈیو صدائے ناشنیدن رہتی ہے اور راؤ انوار کی چھاتی پہ اعزاز کے پھول کھلتے ہیں۔

وہ جو تیرے فقیر ہوتے ہیں

آدمی بے نظیر ہوتے ہیں

جن کو قدرت نے حسن بخشا ہو

قدرتاً کچھ شریر ہوتے ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *