مئی میں “دسمبر کی رات” اور کتابوں کی چھانٹی کا غم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کتابوں کی چھانٹی اور انہیں لائبریری بدر کرنا میرے لیے ایسا ہی عمل ہوتا ہے جیسا نئی کتابوں کا آنا اور انہیں لائبریری میں سجانا۔ آجکل میں اسی عمل سے گزر رہا ہوں۔ چاہے کوئی عام سی کتاب ہو مجھے اس کو چھانٹی کا مال بناتے ہوئے بڑا دکھ ہوتا ہے۔ کتاب دوست کی طرح ہوتی ہے اور اسے لائبریری سے رخصت کرتے ہوئے یوں لگتا ہے جیسے دوست کو رخصت کر رہے ہوں۔ میری عادت ہے کہ چھانٹی کے دوران پرانی کتابوں کو پھر سے پڑھنا شروع کر دیتا ہوں۔ یوں چھانٹی کم اور مطالعہ زیادہ والی صورتِ حال بن جاتی ہے۔ میرے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ میں مزاجاً شہرت گریز ہوں۔ جس طرح زندگی میں مجھے نامی گرامی اور شہرت زدہ لوگوں کی نسبت عام اور گمنام لوگ زیادہ اچھے لگتے ہیں اسی طرح بڑے بڑے مشہور و معروف ناموں کے بجائے عام اور کم یا غیر معروف یا فراموش ہو جانے والے ناموں کی کتابیں مجھے زیادہ متوجہ کرتی ہیں۔

اِس وقت نثری نظموں کی ایک کتاب “دسمبر کی رات” میرے سامنے پڑی ہوئی ہے۔ حسبِ عادت، چھانٹی کردہ کتابوں کے ڈھیر میں رکھنے سے پہلے، میں نے اس کی ورق گردانی شروع کی اور پھر پوری پڑھ ڈالی۔ شاعرہ کا نام ماورا ہے اور کتاب اسلام آباد سے 1984ء میں شائع ہوئی تھی۔ یہ وہی زمانہ تھا جب میں اور میرے کچھ معاصر شاعر دوست اسلام آباد کی خوبصورت اور ٹریفک سے خالی سڑکوں پر پھرا کرتے تھے اور یہ ہماری ادبی اٹھان کا ابتدائی دور تھا۔ مجھے یاد آ رہا ہے کہ یہ کتاب میں نے صدر سے پرانی کتابوں کے تھڑے سے معمولی قیمت پر خریدی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کتاب پر قیمت درج نہیں۔ شاید کتاب فروخت کے لیے شائع نہیں کی گئی تھی۔ اس سے آپ یہ بھی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اُس دور میں ہم ہر نئی کتاب پڑھا کرتے تھے۔ غزل، نظم، نثری نظم، افسانہ، تنقید، ناول، فلسفہ، نفسیات، مذہب، غیر ملکی تراجم ، جو علمی و ادبی کتاب نظر آتی تھی “پڑھ ڈالتے” تھے اور جیب خالی ہونے کے باوجود خرید کر پڑھتے تھے یا کوئی ایک دوست خریدتا تھا اور باقی سب باری باری اس سے لے کر پڑھ لیتے تھے۔

وہ صحیح معنوں میں مطالعے کے سال تھے۔ ایک اتوار کو ہم دو تین دوست راولپنڈی صدر میں پرانی کتابیں دیکھ رہے تھے، ایک کتاب مجھے اچھی لگی (کتاب کا نام اب یاد نہیں) لیکن خریدنے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ دوست بھی میری طرح مفلوک الجیب تھے۔ میں نے وہیں فٹ پاتھ پر بیٹھ کر کتاب پڑھنا شروع کر دی۔ دوست اِدھر اُدھر کتابیں دیکھتے رہے اور میں پڑھنے میں مگن رہا یہاں تک کہ پوری کتاب پڑھ لی۔ کتب فروش نے بھی اعتراض نہ کیا کہ مفت میں کیوں پڑھ رہے ہو، کیونکہ کتابوں کے تھڑوں والے، شاعروں ادیبوں کی مالی حالت اور کتابوں کی چوائس تک سے آگاہ ہوتے تھے۔ اتوار کو پرانی کتابوں کی “تھڑا شاپنگ” ایک باقاعدہ ادبی سرگرمی اور ادبی عیاشی ہوتی تھی۔ یہ ایک ایسا ادبی رومانس تھا جس کی لذت سے، مطالعاتی ہجر و وصال سے گزرے بغیر تکمیلِ کتاب تک پہنچ جانے والی، آج کی متمول نسل آشنا نہیں۔

ماورا کی “دسمبر کی رات” چھتیس سال میری لائبریری میں پڑی رہی اور آج، مئی کے ایک عام سے بے کیف دن میں، چھانٹی شدہ کتابوں میں رکھنے سے پہلے مَیں نے اسے دوسری اور آخری بار پڑھا ہے۔ اس کے بعد یہ کہاں جائے گی، کسی اولڈ بک شاپ میں، یا کسی کی ذاتی لائبریری میں یا ردی فروش کے ترازو میں تلے گی یا ری سائیکل ہو کر کسی اور کتاب کا کاغذ بن جائے گی، معلوم نہیں۔ لیکن اپنی طرف سے میں اسے بہت سی دوسری کتابوں کے ساتھ صریر پبلی کیشنز شو روم میں قائم “فری بک کارنر” کی نذر کر رہا ہوں جہاں سے کوئی بھی اسے مفت میں لے جا سکتا ہے۔ تاہم آجکل کتابوں کی جو صورتِ حال ہے اس میں ممکن ہے کوئی اسے بِن داموں لے جانا بھی پسند نہ کرے۔

میری لائبریری کی شیلف پہ 36 سالہ سرما خوابی (ہائبرنیشن) کے بعد اس “کتاب” کا مستقبل مخدوش اور غیر یقینی ہے۔ میں کتاب بدری کے اس عمل پر خوش نہیں لیکن مجبوری ہے، کچھ کتابوں کو نکالنا ہے اور ان کی جگہ نئی جمع ہو جانے والی کتابوں کو رکھنا ہے۔ کتاب میں کچھ نظمیں اچھی ہیں، کچھ غیر شعری بیانیہ لگتی ہیں اور کچھ معمولی ایڈٹنگ سے بہت اچھی نظمیں بن سکتی ہیں۔ ظاہر ہے یہ شاعرہ کی ابتدائی رودادِ عشق ہے، وہ عشق جو تخلیقی، روحانی، بدنی، مطالعاتی اور سماجیاتی تلخ و شیریں تجربوں کو لفظ عطا کرتا ہے۔ معلوم نہیں ماورا اب کہاں ہیں۔ شاید وہ اس ایک کتاب کے بعد شعری منظر سے غائب ہو گئیں جیسا کہ اکثر شاعرات کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر وہ لکھتی رہتیں تو یقیناً آج نثری نظم کی بہت عمدہ شاعرہ ہوتیں کیونکہ اس کتاب کے عقب میں احساسات کی شدت و حدت اور ایک متحرک تخلیقی روح باآسانی دیکھی جا سکتی ہے۔ قارئین کے لیے ماورا کی دو نظموں کے ساتھ ، مئی کے اِس بے کیف دن میں الوداع اے “دسمبر کی رات” الوداع!

                       زندہ درگور

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں روایت پسند نہیں ہوں

اسی لیے سفید کی بجائے

نیلے سرخ پیلے کفن پہنتی ہوں

اور قبر کی بجائے لائبریری میں بیٹھتی ہوں

کون کہتا ہے

موت منجمد کر دیتی ہے

میں متحرک ہوں

روز گھر سے یونیورسٹی

آتی جاتی ہوں

میں نئی طرز سے مرنے کا

تجربہ کر رہی ہوں

جب بھی تھک جاؤں گی

اپنی قبر میں جا کے

لیٹ جاؤں گی۔

٭٭٭٭   ٭٭٭

                           تجربہ

تجربہ

کمرے کی دیوار گرا کر

اندر آتا ہے

تجربہ

گوشت میں گھس کر

ہڈیوں تک پھیل جاتا ہے

تجربہ

ذہن کے وقت کو

ہزار ہا سال آگے گھما دیتا ہے

تجربہ

روح کی سرشاری کے لیے

شراب سے بہتر نشہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *