بھارت میں نئے رنگ کا رمضان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1۔ کل ایک دوست جو مفتی ہیں اور ایک مسجد میں اعتکاف میں بیٹھے ہیں کے پاس بیٹھا تھا دو سات آٹھ برس کے بچے ائے اور کہا کہ ہم روزہ سے ہیں میرے اس دوست نے میرے اوپر اچانک پانی کا بوچھار کر دیا اور پانی میرے حلق میں چلا گیا میرا روزہ رہا یا ٹوٹ گیا؟

ان بچوں کی معصومیت اور ایمانی جذبے پر دل عش عش کر گیا اور دور نبوی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا زمانہ یاد آ گیا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی شاید اسی طرح کے ایمانی جذبے سے معمور تھے جب ہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوتے تھے اور کہتے تھے کہ مجھ سے بہت بڑا گناہ سرزد ہوگیا مجھے سنگسار کرنے کا حکم دیں میں جوش جوانی پر قابو نہیں رکھ پایا اور زنا کر لیا۔

2۔ پچھلے سال مدرسے کے ایک محصل نے بتایا تھا کہ جنوبی ہند میں ہر سال وہ چندہ کے لئے جاتے ہیں اس سال ایک عجیب و غریب معاملہ پیش آیا ایک بہت بڑے تاجر جو مدارس کو بہت سخاوت کے ساتھ چندہ دیتے ہیں ہر سال رمضان المبارک میں ان کے پاس محصلین کی بھیڑ لگی ہوتی ہے انہوں نے اعلان کیا کہ یو پی بہار جھارکھنڈ اور مغربی بنگال کے وہ محصلین جنہوں نے یا جن کے والدوں نے بہنوں کا حصہ نہیں دیا ہے وہ براہ کرم تشریف لے جائیں۔

محصلین کے گروہ میں ہنگامہ ہو گیا انہوں نے کہا سر اس غلطی کی وجہ سے مدارس کو کیوں محروم کرنا چاہتے ہیں مدارس کا اس میں کیا قصور ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس کے ذریعے ہم مدارس اور علماء کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ یہ ان کی کوتاہی ہے کہ جس بات کو صراحت کے ساتھ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان کر دیا للذکر مثل حظ الانثیین۔ باپ کی جائیداد میں ترکہ میں جسے وہ چھوڑ کر مرا اس میں سے اس کے قرض، اگر ہو، یا ایک ثلث کی حد میں وصیت اگر کیا ہو، اسے ادا کرنے کے بعد جو بھی زمین جائیداد ہے اس میں دو حصے ہر بیٹے کا اور ایک حصہ ہر بیٹی کا ہے۔ ۔ ۔ لیکن جیسا کہ مجھے اطلاع ملی ہے بر صغیر ہند میں بالخصوص شمالی ہند میں عوام تو عوام علماء بھی بہنوں کا حصہ مار لیتے ہیں۔ افسوس صد افسوس۔

حقیقت حال یہی ہے کہ اللہ کے اس فرمان کو علماء کرام نے نہ عام کیا اور نہ ہی خود اس پر عمل کیا۔ ہندوانہ رسم و رواج کے مطابق بعض مقامات پر جیٹھوت یعنی بڑا بھائی اپنے لئے جتنا رکھ لے اس کے بعد جو بچے وہ دوسرے بھائیوں میں تقسیم کر لیتے ہیں اور بہنوں کو محروم کر دیتے ہیں۔ بہنیں بھی اس ڈر سے کہ کہیں میکے نہ چھوٹ جائے مطالبہ نہیں کرتیں۔

بعض مقامات پر یہ جواز پیش کیا جاتا ہے کہ بہنوں کی شادی اور جہیز پر خطیر رقم کا صرفہ ہوتا ہے اسی لئے ان کا دختری حق منہا ہو جاتا ہے۔

بعض نا خلف اولاد ( بھائی) اللہ کے فرمان سے بخوبی واقف ہوتے ہوئے بھی بہنوں کو ’بطور ان کا حق نہیں‘ بطور خیرات یا مدد چند ہزار روپے دے کر جان چھڑا لیتے ہیں اور sentimental black mail کر کے ”معاف“ کرا لیتے ہیں!

لیکن ایسے والدین کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ بہنوں کا حق مار کر باپ کی جس جائیداد کو اپنی اولاد کے لئے رکھتے ہیں وہ اولاد ان کے بڑھاپے میں کس حد تک بیساکھی بنے گی اس کی کوئی گارنٹی نہیں اور اگر گارنٹی بھی ہو تو اولاد کے لئے سکھ چین اور اپنے لئے جہنم کیوں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *