امارات اور کرونوی عید

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا کے خونی پنجوں میں آئی یہ دنیا اب پھڑپھڑا رہی ہے اور پھر سے اپنی اصل کی طرف لوٹنے کو بے تاب لیکن نجانے یہ کیسا پنجہ ہے کہ ڈھیلا پڑنے کا نام تک نہیں لے رہا۔ اگر چہ کہیں پر اس کے پنجے کچھ ڈھیلے پڑتے نظر آ رہے ہیں لیکن وہاں پر بھی اس عفریت سے مکمل خلاصی کب ہو گی کسی کو نہیں معلوم۔ جس طرح دنیا اب آہستہ آہستہ اپنے بند کواڑوں کو کھولنا شروع کر رہی ہے اسی طرح متحدہ عرب امارات میں بھی زندگی نے رینگنا شروع کر دیا ہے۔ اگر چہ دبئی ائرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو کا یہ کہنا ہے کہ زمانہ قبل از کرونا والے معمولات پر دوبارہ پہنچنے تک دو سال کا عرصہ درکار ہو گا۔ غضب خدا کا، کیا کبھی سوچ کے کسی دریچے سے بھی یہ بات جھانک سکتی تھی کہ دبئی جیسے شہر پہ بھی یہ دن آ سکتا ہے۔ اے کاش کوئی تو ہو جو اس شہر بے مثال کا نوحہ لکھے۔

متحدہ عرب امارات کی حکومت اس وبا کا بھر پور مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ لاک ڈاؤن کو صرف رات کے اوقات تک محدود کر چکی ہے۔ دبئی کی پبلک ٹرانسپورٹ یعنی کہ میٹرو، ٹرام اور بسیں وغیرہ سماجی دوری کے اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے دوبارہ رواں دواں ہو چکی ہیں۔ یہاں کے شاپنگ مالز، ساحل سمندر اور پارکس بھی کافی حد تک کھل چکے ہیں لیکن اس سب کے باوجود ایک انجانا ڈر اور خوف لوگوں کے درمیان موجود ہے۔ ایک خاموشی ہے جو پوری طرح چیختی ہے اور اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔

اب کچھ بات ہو جائے متحدہ عرب امارات میں ہونے والے تہواروں کی۔ یہ بات کسے نہیں معلوم کہ یہاں کے مقبول عالم شہر دبئی کو دنیا کے ان چند شہروں میں شمار کیا جاتا ہے جہاں زندگی ہر دم نہ صرف مسکراتی بلکہ دوڑتی پھرتی ہے۔ اس شہر کو Happening City بھی کہا جاتا ہے یعنی یہاں ہر وقت کچھ نہ کچھ منعقد ہوتا رہتا ہے لیکن اس سب کے باوجود بھی کچھ تہوار اپنی موجودگی کا نہ صرف بھرپور احساس دلاتے ہیں بلکہ اس شہر کی رعنائی اور دلکشی میں چار مزید چاندوں کا اضافہ کرتے ہیں۔ ان تہواروں میں عیدین، کرسمس، اور نئے سال کے تہوار خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ یہاں رمضان المبارک کا ماہ ایک خاص اہتمام سے منایا جاتا ہے۔ چوراہوں اور سڑکوں کو دیدہ زیب روشنیوں سے سجایا جاتا ہے اور عید کی چھٹیوں میں یہاں کے ساحل اور تفریحی مقامات پر تل دھرنے کی جگہ نہیں بچتی۔

لیکن یہ سب باتیں تو زمانہ قبل از کرونا کی ہیں یا ایک نارمل زمانے کی کہ لیں۔ اور ابھی تو ہم کیونکہ اس وبا سے گزر رہیں ہیں اس لیے وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ زمانہ مابعد کرونا کیسا ہو گا۔ اور ایک بات تو طے ہے کہ اس دفعہ عید کا تہوار گزرے رمضان کی طرح جتنا پھیکا ہو گا اس کا کبھی اس ملک میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔

راقم گزشتہ بہت سے عید کے تہوار یہاں گزار چکا اور ہر عید پر ہم دوستوں کا مستقل ڈیرہ ہمارے دوست خلیل کا ٹھکانہ ہوتا ہے۔ راقم ابو ظہبی سے سفر کرتا خلیل کے ہاں پہنچتا تھا تو کوئی شارجہ سے آ رہا ہوتا اور کوئی عجمان سے۔ غرض یہ پانچ دن خوب دھماچوکڑی میں گزرتے تھے اور پھر خلیل کے ساتھ ان چھٹیوں میں ہم یہاں کی سڑکیں خوب ماپتے پھرتے تھے کیونکہ یہ میرا دوست ایک کٹر لاہوری کی طرح عید کے دنوں میں گھر بیٹھنے کو گناہ سمجھتا ہے۔

لیکن اس دفعہ خلیل میاں فاختہ بالکل بھی نہیں اڑا پائیں گے۔ یہاں کی حکومتوں نے عید کے دنوں میں بالکل بھی رعایت نہیں دی بلکہ ان دنوں میں سختیاں مزید بڑھا دی ہیں۔ ایک جگہ پر اکٹھے ہونا اور پارٹیاں کرنا کم از کم اس عید پر تو ختم سمجھئیے۔ عید کے دنوں میں ایک امارات سے دوسری امارات کا سفر کرنے کے لیے ایک تگڑا سا جواز موجود ہونا چاہیے نہیں تو ایک تگڑا سا جرمانہ آپ کو تھما دیا جائے گا۔ آئیے ان تمام سائنسدانوں کے لیے دست دعا بلند کریں جو اس بلا کے خاتمے کے لیے ہمہ تن مصروف ہیں اور آخر میں میری طرف سے آپ سب کرونوی عید کی مبارکباد قبول فرمائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *