خانہ کعبہ خالی کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب سے کرونا وائرس کی وبا آئی ہے مسجدیں ویران ہیں حتی کہ عارضی طور پر کچھ عرصے کے لیے خانہ کعبہ اور مسجد نبوی شریف کو بھی بند کر دیا گیا تھا۔ اب رمضان المبارک کا آخری عشرہ بھی گزرنے کو ہے لیکن خانہ کعبہ کی وہ رونقیں بحال نہیں ہو سکی ایسے وقت میں کچھ لوگ متفکر ہیں کہ خانہ کعبہ اور مسجدوں کی رونقیں دوبارہ بحال ہوجائیں اور کچھ لوگ خوشیاں منا رہے ہیں کہ مسجدیں سنسان ہو گئی ہیں۔ حدیث پاک ہے کہ ہر آدمی کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔ ( صحیح بخاری: 1 )

حرم خالی کیوں ہے؟ تو اس کے جواب میں عرض یہ ہے کہ جو لوگ اللہ رب العزت کو مانتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ بات مسلم ہے کہ کوئی بھی کام اللہ رب العزت کے حکم کے بغیر نہیں ہوتا۔ یعنی یہ بیماری بھی اللہ رب العزت کے حکم سے آئی ہے اور اس میں اللہ کی مشیت شامل ہے جب یہ بیماری ہے اور اللہ کے حکم اور مشیت سے ہے تو وہ خود بہتر جانتا ہے کہ اس کی مصلحت کیا ہے؟ ہمارا تو یہ ایمان ہے کہ اللہ کے حکم کے بغیر کوئی ذرہ بھی حرکت نہیں کرتا۔ ارشاد خداوندی ہے :

درخت سے گرنے والا کوئی پتہ ایسا نہیں کہ جس کا اسے علم نہ ہو۔ (الانعام: 59 )
اور ہر کام اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے۔ ارشاد ربانی ہے :
بیشک تمہارا رب جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ ( ہود: 107 )
بیماری بھی اللہ کے حکم سے ہے اور موت بھی، چنانچہ ارشاد ربانی ہے :
اور کوئی جان مر نہیں سکتی مگر اللہ کے حکم سے۔ (آل عمران: 145 )

اور اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ کہ اس بیماری کی وجہ سے حرم خالی ہوگیا ہے یعنی اللہ رب العزت کی عبادت میں کوئی کمی آ گئی ہے اور اس کی سلطنت یا خدائی کو نقصان پہنچ گیا ہے تو ایسا شخص سخت غلطی پر ہے ہے کیونکہ اگر ساری دنیا بھی اس کی عبادت کرنے والی بن جائے تو بھی اس کی شان میں اضافہ نہیں ہوگا اور اگر ساری دنیا کفر اختیار کر کے اس کی عبادت سے منہ موڑ لے تو بھی اس کی شان میں کوئی کمی نہیں آ جائے گی۔

حدیث قدسی ہے کہ اے میرے بندو تم مجھے ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکتے اور نہ ہی ہرگز مجھے نفع پہنچا سکتے ہو اے میرے بندو اگر تم سب اولین و آخرین اور جن و انس اس آدمی کے دل کی طرح ہو جاؤ جو سب سے زیادہ تقوی والا ہو تو بھی تم میری سلطنت میں کچھ بھی اضافہ نہیں کر سکتے اور اگر سب اولین اور آخرین اور جن و انس اس ایک آدمی کی طرح ہو جاؤ کہ جو سب سے زیادہ بدکار ہے تو پھر بھی تم میری سلطنت میں کچھ کمی نہیں کر سکتے اے میرے بندو اگر تم سب اولین اور آخرین اور جن اور انس ایک صاف چٹیل میدان میں کھڑے ہو کر مجھ سے مانگنے لگو اور میں ہر انسان کو جو وہ مجھ سے مانگے عطا کر دوں تو پھر بھی میرے خزانوں میں اس قدر بھی کمی نہیں ہوگی جتنی کہ سمندر میں سوئی ڈال کر نکالنے سے۔

اے میرے بندو یہ تمہارے اعمال ہیں کہ جنہیں میں تمہارے لیے اکٹھا کر رہا ہوں پھر میں تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا تو جو آدمی بہتر بدلہ پائے وہ اللہ کا شکر ادا کرے اور جو بہتر بدلہ نہ پائے تو وہ اپنے نفس ہی کو ملامت کرے حضرت سعد فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ادریس خولانی جب یہ حدیث بیان کرتے تھے تو اپنے گھٹنوں کے بل جھک جاتے تھے۔ (مسلم: 6664 )

یعنی ایسی سوچ و فکر درست نہیں بلکہ اسلامی نظریات و عقائد سے متصادم ہیں۔ اسی لیے شیخ شہاب الدین احمد بن حجر ہیتمی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص یہ اعتقاد رکھتا ہو کہ اللہ کو کسی شے کی ضرورت ہے تو یہ عقیدہ کفر ہے۔ (الإعلام بقواطع الإسلام ص 139 )

تاریخ عالم میں ایسے بہت سے مواقع موجود ہیں کہ جب پوری کائنات اللہ رب العزت کی ماننے والی تھی۔ ابتدائے آفرینش میں بھی ایسا ہی تھا اور اسی طرح قرب قیامت میں ایک وقت ایسا آئے گا کہ کہ ساری دنیا اللہ رب العزت کی ماننے والی ہوگی اور دنیا میں کوئی بھی کافر باقی نہیں رہے گا، پھر دوبارہ دنیا واپس کفر کی طرف لوٹ جائے گی اور کوئی ایک بھی اللہ رب العزت کا نام لیوا باقی نہیں رہے گا۔ (انظر:جامع تر مذی : 2240 ) تو اس کی عبادت کرنے سے یا نہ کرنے سے سے اللہ رب العزت کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جو لوگ یہ سمجھے ہوئے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں۔ بلکہ اللہ تو بے پرواہ ہے اسے ہماری عبادتوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے ارشاد ربانی ہے :

اور جو شخص محنت کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے محنت کرتا ہے اور اللہ تو تمام جہان سے بے پرواہ ہے۔ (عنکبوت: 6 )

اس کے تاریخی شواہد بھی موجود ہیں کہ اللہ رب العزت کے حکم سے عذاب آیا اور خانہ کعبہ میں ہونے والی عبادت رکی رہی۔ اس کی مثال حضرت نوح علیہ السلام کی قوم پر آنے والا وہ عذاب ہے جس کی وجہ سے خانہ کعبہ لوگوں کی نگاہوں سے مستور ہو گیا اور صدیوں تک لوگوں کی آنکھوں سے چھپا رہا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے دوبارہ تعمیر کیا تو اس عرصے کے دوران بھی کعبہ میں عبادت نہیں ہوتی رہی ( سبل الھدی و الرشاد: 1 / 105 ) کفار قریش نے خانہ کعبہ میں 360 بت رکھے ہوئے تھے تو لوگ بتوں کی عبادت کرتے تھے۔ اس وقت بھی اللہ رب العزت کا گھر تھا۔ پتہ چلا کہ عبادت کوئی کرے یا نہ کرے اس سے اللہ رب العزت کی شان میں فرق نہیں پڑتا۔ تاہم جو شخص عبادت کرتا ہے وہ اپنے بھلے کو ہی عبادت کرتا ہے ہے جیسا کہ قرآن مقدس میں ہے :

کہہ دو کہ لوگو! تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس حق آ چکا ہے تو جو کوئی ہدایت حاصل کرتا ہے تو ہدایت سے اپنے ہی حق میں بھلائی کرتا ہے، اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے، تو گمراہی سے اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ (یونس: 108 )

یہی مضمون قرآن مقدس کی دیگر متعدد آیات میں بیان گیا ہے۔ اب یہ فیصلہ کرنا ہمارا کام ہے کہ ہم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نبی آخر الزمان ﷺ کے طریقے پر چلتے ہوئے خانہ کعبہ یا مسجدوں کو آباد کرنے میں اور رجوع الی اللہ میں اپنی سعی کو صرف کرنا ہے یا ایام یونہی غفلت میں گزارنے ہیں۔ اللہ تعالی نے ہمیں یہ رہنمائی فراہم کی ہے جب انسان کسی مشکل میں پھنس جائے تو وہ اللہ کی مدد طلب کرے اور اس کا یہ طریقہ بتایا گیا ہے :

اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ: 153 )

یہی تمام انبیا کرام کا طریقہ تھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا انبیاء کرام علیہم السلام کا معمول رہا ہے کہ ان پر جب بھی کوئی پریشانی آتی تو وہ نماز کی طرف متوجہ ہو جاتے۔ (مسند احمد: 18937 ) ہمارے نبی پاک ﷺ کا طرز عمل بھی یہی تھا۔ حضرت علی فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے موقع پر حضرت مقداد کے علاوہ ہم میں گھڑ سوار کوئی نہ تھا اور ہمارے درمیان ہر شخص سو جاتا تھا، سوائے نبی ﷺ کے جو ایک درخت کے نیچے نماز پڑھتے جاتے تھے اور روتے جاتے تھے یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ (مسند احمد: 1023 )

یعنی بدر کے مشکل موقع پر سرکار ﷺ ساری رات نماز پڑھتے رہے اور دعا کرتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ یعنی نبی پاک ﷺ کے اسوہ حسنہ میں بھی ہمارے لئے یہ رہنمائی موجود ہے کہ کس بھی مشکل صورتحال میں ہمیں پہلے سے زیادہ اللہ رب العزت کی عبادت کرنی چاہیے۔ آج ہمیں اطباء کی بتائی ہوئی ہدایات پر عمل کرنا ہے لیکن اپنے خالق و مالک کو نہیں بھولنا بلکہ اسی کی بارگاہ سے رحمت و کرم کی بھیک مانگنی ہے تا کہ وہ ہماری اس مشکل کو دور فرمائے اور پوری دنیا سے کرونا وائرس کا خاتمہ ہو۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply