شرمسار باپ کا خواجہ سرا کو آخری پیغام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے گھر میں خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ لوگ مبارک باد دیتے ہیں۔ مٹھائیاں تقسیم ہوتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے۔ فلاں کے گھر بچہ ہوا ہے۔ کئی خوبصورت نام ڈھونڈنے کے بعد سب سے خوبصورت نام رکھا جاتا ہے۔ اور جب تک وہ انسان اس دنیا میں زندہ رہتا ہے اسے اسی نام سے پکارا جاتا ہے۔ میرا نام تو رکھا گیا پر عارضی کہا نام تو بڑے ہوتے ہی اس نے تبدیل کرلینا ہے میں وہ بچہ تھا جسے پیدا تو کیا گیا مگر اس کے آنے پہ خوشیاں نہیں منائی گئی پہلے تو میرے پیدا ہونے کو چھپایا گیا اور جب بات پھیلی تو لوگوں نے مبارک باد کی جگہ میرے گھر والوں سے افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا۔

میرے پیدا ہوتے ہی گھر میں طوفان برپا ہوگیا۔ ابو نے تو اسی وقت کہا مار دو اسے۔ لیکن وہ کہتے ہیں نہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔ سو یوں زندگی میں درد برداشت کرنے کے کے لئے میں زندہ بچ گیا۔ میں وہ زندہ انسان تھا جسے نہ زندوں میں شمار کیا جاتا ہے نہ مردوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ جب ہم یہ کہتے ہیں ہر شخص کو اللہ پیدا کرتا ہے اور کائنات کی ہر شے کو بنانے والا اللہ ہے تو پھر ہم جیسوں کو بنانے پہ اعتراض کیوں ہوتا ہے لوگوں کو؟

کیوں یہ دنیا ہمیں تسلیم نہیں کرتی ہے۔ خیر دنیا کو چھوڑیں ہمیں تو اپنے بھی نہیں تسلیم کرتے ہیں۔ غلط کہتے ہیں لوگ خون کے رشتوں میں طاقت ہوتی ہے۔ خون کے رشتوں میں وفا ہوتی ہے۔ ہم جیسوں کے لئے تو خون کے رشتے ہمیشہ سے سفید رہے ہیں۔ میں جوں جوں بڑا ہوتا گیا۔ مجھے احساس دلایا گیا کہ مجھ میں کوئی تو کمی ہے جو میرے دوسرے بہن بھائیوں میں نہیں۔ خیر اس وقت کہاں پتہ تھا۔ کہ مجھ میں وہ کمی ہے جس کا احساس مجھے یہ معاشرہ آخری سانس تک کراتا رہے گا۔

ابو کا رویہ میرے ساتھ بالکل الگ تھا۔ کبھی کبھی مجھے لگتا تھا میں ان کی سگی اولاد نہیں ہوں ایسا نہیں تھا کے میرے ابو پڑھے لکھے نہیں تھے۔ پڑھے لکھے اور اچھی ملازمت کرنے والے تھے پر وہ کہتے ہیں نہ بعض باتوں میں پڑھے لکھے اور جاہل سب برابر ہوتے ہیں۔ روز میری وجہ سے گھر میں لڑائیاں ہوتی میرے بڑے بہن بھائیوں کے طعنے وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے جا رہے تھے۔ باقی سب ساتھ کھیلا کرتے تھے لیکن پتہ نہیں کیوں وہ مجھے علیحدہ کردیتے تھے۔ میں دور بیٹھے روتا رہتا تھا۔

پھر ایک روز میں خود ہی کھیلنے لگا۔ میری بہنیں اکثر کھیلتے ہوئے امی کے دوپٹے اوڑھا کرتی تھیں۔ ابو نے کبھی انہیں منع نہیں کیا۔ لیکن میرے اوڑھتے ہی میرے ابو نے مجھے مارنا شروع کر دیا۔ اتنا مارا کے میرے ہاتھوں پیروں پہ نشان پڑ گئے۔ میرے وہ ہونٹ جن پہ بڑی بہن کی لپ سٹک چرا کے لگائی تھی وہاں ابو ہاتھوں سے تھپڑ مارنے لگے۔ اور کہتے جا رہے تھے کہا بھی تھا مار دیتی اسے۔ میری نظروں سے اسے غائب کر دو۔ کل بھی اسے یہی کرنا ہے۔ بہتر ہے اسے آج ہی نکال دو گھر سے۔ میں نو سال پہلے تو چپ رہ گیا پر آج نہیں رہوں گا۔

لڑائی بڑھتی جا رہی تھی میں یہی سوچ رہا تھا میں نے ماں سے آج تک جو کہانیاں سنی تھیں ان میں کبھی کسی ماں نے آج تک اپنی اولاد کو بے آسرا نہیں چھوڑا تو میری کہانی میں بھی میری ماں مجھے تنہا کبھی نہیں چھوڑے گی۔ میں نے تو اب تک باہر کی دنیا دیکھی بھی نہیں تھی۔ میرے بہن بھائی سکول جاتے تھے باہر کھیلنے جاتے تھے مجھے تو پہلے دن سے ہی قید کیا گیا۔

شاید اسی لیے قید کیا گیا تھا آگے کی ساری زندگی باہر ہی گزارنی تھی۔ امی پہ پورا بھروسا تھا۔ مجھے وہ کبھی خود سے جدا نہیں کریں گی اور آج بھی جب لڑائی ہو رہی تھی میں اسی خوش فہمی میں تھا میری ماں مجھے بچا لے گی وہ کبھی مجھے گھر سے نہیں نکالے گی۔ لیکن یہ سب تو ان ماؤں کے لیے ہوتا ہے جو مکمل انسان پیدا کرتی ہیں خواجہ سراؤں کی ماؤں میں یہ صفت نہیں ہوتی ہے۔ گھر کا ہر فرد مجھے نکالنے پہ تلا ہوا تھا میری ماں رو رہی تھی پر اس رونے کا کیا جو مجھے بچا ہی نہیں رہا تھا۔

میرے ابو نے چند سکے ہاتھوں میں تھما کے گھر سے باہر نکال دیا۔ مجھے نکلتے ہوئے اتنا بھی موقع نہیں ملا جو کھیلتے ہوئے میں نے لپ سٹک لگائی اور دوپٹہ اوڑھا تھا اتار سکوں۔ میں روتا رہا مجھے گھر سے باہر نہ نکالیں میں نے تو باہر کی دنیا دیکھی بھی نہیں پر وہ اور بچے ہوتے ہیں جن کے رونے پہ ماں باپ تڑپ اٹھتے ہیں۔ اس روز اس بات کا احساس تو ہوگیا۔ خواجہ سراؤں کے کوئی ماں باپ نہیں ہوتے۔ خیر وہ چند روپے کے سکے میں ہاتھوں میں تھامے چلنے لگا۔

اس راستے پہ جس کے نہ راستے کا پتہ تھا نہ منزل کا پتہ تھا۔ کہتے ہیں نہ اللہ کبھی اپنے بندے کو تنہا نہیں چھوڑتا ہے ایسے ہی مجھے ایک ایسے شخص نے دیکھا جو مجھے اس دنیا میں اپنے جیسا لگا۔ کل تک میں یہ سمجھتا تھا کہ شاید میں اس دنیا میں کچھ الگ سا پیدا ہو گیا ہوں اسی لیے لوگوں کا رویہ میرے ساتھ ایسا ہے لیکن اس شخص کے ملنے کے بعد مجھے لگا میں اکیلا نہیں ہوں یوں میں ان لوگوں سے ملا جو میری پہچان جیسے تھے پھر مجھے وہ اپنے ساتھ اس دنیا میں لے گئے جہاں مجھ جیسے بہت سے بچے گھر سے نکالنے کے بعد رہ رہے تھے۔

ہر ایک کی کہانی مجھ سے ملتی جلتی تھی یوں رہنے کو چھت ملی پیار کرنے والے لوگ ملے پتہ ہی نہیں چلا وقت کیسے گزر گیا۔ یہاں نہ کسی کو میرے دوپٹہ اوڑھنے پہ اعتراض تھا نہ لپ سٹک لگانے پہ اور نہ ہی اونچا گانے پہ۔ بلکہ ہم تو دو وقت کی روٹی بھی یہی کام کر کے کھاتے تھے۔ بہت سے لوگوں کی باتیں سننی پڑی۔

اکثر بیٹھ کے سوچا کرتا تھا۔ ایک بچہ جسے نہ تعلیم دی جائے جسے کم عمری میں ہی گھر سے نکال دیا جائے۔ جس کے پاس کوئی ہنر نہ ہو۔ کوئی رہنے کا ٹھکانا نہ ہو تو یہ معاشرہ کیسے کہہ سکتا ہے یہ ناچنا اور مانگ کے کھانا ٹھیک نہیں۔ یہ مانگ کے کھانے پہ مجبور کون کرتا ہے؟ یہی معاشرہ ہمیں مجبور کرتا ہے۔

پھر سمجھ میں آنے لگا جیسے کسی ملک میں دوسرے مذاہب کے لوگوں کو اقلیت میں شمار کیا جاتا ہے ایسے ہی انسانوں میں ہمیں اقلیت میں شمار کیا جاتا ہے۔ میرے اندر اپنوں کی نفرت بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ اپنوں میں میری ماں بھی شامل تھی۔ میری نفرت ان کے لئے بھی تھی۔ کیونکہ مجھے جب گھر سے نکالا جا رہا تھا تو میری ماں نے مجھے نہیں روکا۔ جس پہ مجھے بھروسا تھا کہ ساری دنیا بھی اگر میرے خلاف ہو جائے تو میری ماں میرے ساتھ کھڑی ہوگی۔ وہ مجھے اپنے آنچل میں چھپا لے گی۔ پر احساس ہوگیا خواجہ سراؤں کی کوئی ماں نہیں ہوتی ہے۔

روز کڑی دھوپ میں سڑکوں پہ اور سگنل پہ کھڑے ہو کر مانگنا بہت مشکل تھا۔ پر اپنوں کی بے وفائی سے کم تھا۔ میں چیخ کے اس معاشرے کو بتانا چاہتا تھا یہ جو ہم سگنل پہ کھڑے مانگ رہے ہیں یہ تم سب کا قصور ہے پر۔ کس کو بتاتا۔ وہاں تو لوگوں کی نظریں ہی الگ تھی۔ ہر ایک نظر کاٹ کھانے کو دوڑتی تھی۔ آج تو دل بہت اداس تھا۔ ایسے ہی بوجھل قدموں سے میں اپنے اس گھر پہنچا جہاں ہم سب ایک شناخت رکھنے والے لوگ رہتے تھے۔ گھر پہنچا تو پتا چلا
سب ایک فنکشن ہے وہاں جا رہے ہیں۔ میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا۔ پر جہاں ہم گئے وہاں میں نو برس کی عمر میں چند روپے کے سکے ہاتھوں میں تھام کے چلا تھا۔ جس فنکشن میں گئے پڑوس ہی میں میرا گھر تھا۔ دل بہت کیا کہ ایک دفعہ جا کے دیکھوں لیکن نفرت اتنی تھی کے جانے نہیں دے رہی تھی۔ وہ گھر والوں کا مجھے گھر سے نکالنا یاد آ رہا تھا۔ میں ابھی یہ باتیں سوچ ہی رہا تھا کہ میرے پاس چاندنی آئی اور کہنے لگی۔ یہاں ساتھ والے گھر میں ایک بچہ پیدا ہوا ہے چلو چلیں مبارک باد دینے۔

میرے ہاتھ کانپ رہے تھے پتہ ہی نہیں چلا کیسے گھر تک پہنچا۔ جب دروازے پہ دستک دی تو میرے ابو نے دروازہ کھولا جب ہم نے بتایا کہ ہم مبارک باد دینے آئے ہیں تو گھر کے اندر لے گئے۔ وہ منظر دیکھنے والا تھا۔ جس بچے کو اس گھر سے نکالا تھا آج اس گھر میں ایک دوسرا بچہ پیدا ہونے پہ اس سے دعائیں لی جا رہی تھی۔ میرے بڑے بھائی کے گھر بیٹا پیدا ہوا تھا۔

میری نظریں ادھر ادھر امی کو ڈھونڈ رہی تھی۔ سوچا کہ امی کا ضرور یہ بتاتا جاؤں۔ جسے آپ نے گھر سے نکالا تھا۔ وہ اب تک زندہ ہے اور آپ کے گھر میں دعائیں دینے آیا ہے۔ گھر سے نکلنے لگے تو میری نظر ایک کمرے میں پڑی جہاں میری ماں بستر پہ لیٹی ہوئی تھی یوں لگ رہا تھا بہت عرصے سے بیمار ہے۔ میں چپکے سے اس کمرے میں گیا۔ میری ماں نے مجھے پہچان لیا۔ انہوں نے اٹھنا چاہا۔ لیکن وہ اٹھ نہ سکیں میں گیا پاس اور کہا جا کے۔ دیکھ لیں۔ جس بچے کو آپ نے روتا ہوا ہوس بھری دنیا کے حوالے کر دیا تھا۔ لیں دیکھ لیں وہ بچ گیا۔ اور آج آپ جو اس حال میں ہیں یہ میری بد دعاؤں کا نتیجہ ہے۔

یہ کہتے ہی میں وہاں سے باہر نکلا۔ جب میں گھر سے باہر نکلا تو اندر سے رونے کی آوازیں آنے لگی میں پلٹا جب پیچھے تو بھائی کی آواز آ رہی تھی۔ امی علی سے ملنے کی خواہش اپنے ساتھ ہی لے کر اس دنیا سے چلی گئی۔ یہ الفاظ سننے تھے کے برسوں سے جو سوالات میرے پاس تھے ان سب کا جواب ملنے لگا۔ میری ماں اب تک زندہ ہی مجھے دیکھنے کے لئے تھی۔ میں جو آج صحیح سلامت تھا یہ میری ماں کی دعا تھی کہ میں محفوظ تھا۔

میں چلا جا رہا تھا پتہ نہیں کون سے رستے پر مجھے اس رستے پہ برسوں جن سوالات کو میں میں لے کے نکلا تھا۔ ان سب کے جوابات مل رہے تھے۔ میں روتا رہا مجھ سے یہ کیا ہوگیا۔ دور کھڑے میں اپنی ماں کا جنازہ پڑھتے دیکھتا رہا۔ جب سب واپس گئے تو دوڑ کے ماں کی قبر کے پاس گیا بہت معافی مانگی میں نے لیکن یہ وہ وقت نہیں تھا معافی مانگنے کا۔

میں روز قبر پہ آتا قبر کو صاف کرتا دیر تک قرآن کی تلاوت کرتا۔ ایک پودا بھی میں نے لگایا میں روز اس پودے کو پانی دیتا اس پودے سے میری ماں کی قبر پہ سایہ پڑ رہا تھا۔ پر آج جب میں قبرستان آیا تو مجھے ایسا لگ رہا تھا کوئی مجھے دیکھ رہا ہے۔ کوئی اپنا دیکھ رہا ہے مجھے لگا میری ماں مجھے دیکھ رہی ہے۔

قبر کے پاس گیا بیٹھا اور رونے لگا روتے روتے آنکھ لگ گئی جب آنکھ کھلی تو پاس ایک خط تھا۔ خط کو کھولا تو دیکھا کہ یہ تو ابو کی لکھائی ہے۔ جس پہ لکھا تھا۔ میں بہت شرمندہ ہوں مجھے نہیں پتہ تھا جس بچے سے میں اپنا سایہ اٹھا رہا ہوں وہ تو ہمارے جانے کے بعد ہماری قبروں تک کو سائے میں رکھے گا۔ میں نے ہیرے کو پتھر سمجھ کے پھینک دیا۔ مجھے معاف کر دینا۔ میں آج سوچتا ہوں اگر اللہ مجھے دوسری زندگی دے تو میں اپنے لیے ساری اولاد تم جیسی اللہ سے مانگوں۔

یہ الفاظ سننے تھے کہ میری آنکھیں بند ہونے لگی میری ماں کی آواز مجھے سنائی دے رہی تھی میری ماں مجھ سے کہہ رہی تھی آؤ بیٹا۔ میرے ساتھ چلو۔ ہم ساتھ رہیں گے اس دنیا میں جو کبھی نہ ختم ہونے والی ہے۔ میری سانسیں رکنے لگی اور آنکھیں بند ہونے لگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *